خوابوں کے صورت گر احفاظ الرحمن کا شکریہ
ہم پہ بہت سے لوگوں کے احسان ہوتے ہیں جن کی شکرگزاری کا کبھی ہم اظہار کرتے ہیں اور کبھی اپنا حق سمجھ کے نہیں بھی کرتے۔ لیکن جب کوئی آپ کی پہلی کتاب اس وقت چھپوائے جب آپ کو یقین ہی نہ ہو کہ کتاب چھپنے کا یہ خواب کبھی پورا بھی ہو سکتا ہے تو وہ احسان معمولی نہیں ہوتا۔ اور ہم سب کو پتا ہے کہ صحافی احفاظ الرحمن ہر کام غیر معمولی ہی ہوا ہے۔ آخرکار انہوں نے پاکستان میں جمہوری سوچ پہ کاری وار کرنے والی فوجی حکومت کے خلاف آزادی صحافت کی جنگ بے جگری سے لڑی اور پھر اس جدوجہد کو اپنی کتاب ”سب سے بڑی جنگ“ میں رقم کیا۔ جو ہماری پاکستانی صحافت کی وہ تاریخی دستاویز ہے کہ جس پہ ہم ہی نہیں ہماری آنے والی نسلیں بھی ان کی احسان مند رہیں گی۔
مجھے ہمیشہ سے بے غرض، انسان دوست، سچے، جرات مند اور محنتی لوگوں سے عشق ہے، وہ جو مفاد کے خاطر اپنے اصولوں پہ کوئی معاہدہ نہ کریں۔ انصاف کے لیے ڈٹ جائیں، خواہ کتنا ہی ذاتی نقصان کیوں نہ ہو۔ احفاظ بھائی میں یہ ساری خصوصیات بدرجہ اتم موجود ہیں۔ خوش بختی سے وہ میری دوست اور مینٹر مہناز رحمن کے شوہر ہیں۔
میری پہلی کتاب بچوں کے لیے لکھی گئی جو والٹ ڈیزنی کی زندگی پہ تھی۔ میں اس وقت امریکہ منتقل ہو چکی تھی، جہاں کی شاندار لائبریریوں سے اپنے بچوں کے لیے کتابیں کھنگالتے اور پڑھتے ہوئے مجھے بچوں کے لیے والٹ ڈزنی کی سوانح عمری لکھنے کی تحریک ہوئی۔ میں نے لائبریری میں جاکر نوٹس بنانے اور پھر اس کو لکھنے کا کام شروع کر دیا۔ کچھ ماہ کی عرق ریزی کے بعد ایک کتاب نما چیز تیار ہو گئی۔ احفاظ بھائی کو پتہ چلا کہ میں والٹ ڈزنی پہ اپنی کتاب چھپوانا چاہتی ہوں تو انہوں نے بخوشی اپنی تمام تر مصروفیات کے باوجود پورے اہتمام سے یہ کتاب 2005 ء میں چھپوائی۔ بچوں کے ادب سے خود انہیں بھی دلچسپی رہی ہے۔ اور اکثر لوگوں کے علم میں ہو گا کہ انہیں نے خود بھی بچوں کے لیے کئی کتابیں لکھی ہیں۔ مہناز رحمن نے بتایا کہ کس طرح دن بھر کی نوکری سے آنے کے بعد وہ اس کتاب کے کام میں جت جاتے تھے۔ آخر کار ان کی محنت رنگ لائی اور جلد ہی انہوں نے پوری نک سک سے رنگین تصویروں سے مرصع خوبصورت کتاب کو فرید پبلشر کے زیر اہتمام چھپوایا۔ جب میں نے شکریے کے چند ٹوٹے پھوٹے سے الفاظ ادا کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے پیار بھری ڈانٹ سے مجھے خاموش کر دیا ”تم میری چھوٹی بہن ہو۔ آئندہ کبھی شکریہ مت ادا کرنا۔“ تمام تر بے تکلفی کے باوجود میں ان سے کچھ ڈرتی بھی تھی کہ کہیں خفا نہ ہو جائیں۔ اور میں اس پیارے رشتے کو کھونا نہیں چاہتی تھی۔ لہٰذا اس شکریے کو اسی وقت ادا کر رہی ہوں کہ جب ان کے روٹھنے کا امکان نہیں۔
پہلی کتاب کے بعد میری کتابوں کا سلسلہ چل پڑا تھا۔ ہم دونوں کی تاریخ پیدائش (چار اپریل) ہی ایک نہیں تھی، سماج میں تبدیلی سے متعلق خیالات اور آدرش بھی ایک سے تھے۔ جب میری کتاب ”کوئی خواب ڈھونڈیں“ جو سماجی مسائل پہ تھی میں نے بہت چاہ سے ان کی ایک نظم ”سورج نکلے گا“ کو کتاب کی ابتدا میں، فہرست مضامین سے پہلے، نمایاں طور پہ شامل کیا۔ میری خواہش تھی کہ احفاظ بھائی اس کتاب کی تقریب رونمائی کی صدارت کریں۔ تقریب کے کارڈ چھپ چکے تھے۔ میں پاکستان آ چکی تھی، لیکن ان کی طبیعت اچھی نہ تھی۔ گلے میں بہت درد تھا۔ آواز بمشکل نکل رہی تھی۔ فون پہ انہوں نے بہت دکھ سے کہا۔ ”میری بہت خواہش ہے کہ تقریب میں آؤں مگر طبیعت بہت خراب ہے مجھے بولنے میں دقت ہے۔ بہت افسوس ہے مگر کیا کروں۔“ ان کے لہجہ میں دکھ اور تاسف تھا۔ مجھے بہت افسوس تھا مگر اس وقت مجھے ( یا کسی کو بھی) یہ نہیں پتہ تھا کہ میرے سب سے اولین خواب کے صورت گر کی زندگی کی گھڑیاں کم ہو رہی ہیں۔ پتہ چلا کہ احفاظ بھائی کے گلے کا درد موسمی نہیں بلکہ جان لیوا بیماری کی شروعات تھیں۔ وہ گلے کے سرطان میں مبتلا تھے۔
میں کبھی فون اور کبھی ای میل پہ ان سے رابطہ میں رہتی۔ بیماری کے بعد ان کی آواز بند ہوئی الفاظ گنگ ہوئے تو قلم میں توانائی اور نظموں کی گویائی پہ کچھ اور شباب آیا۔ فیس بک پہ پوسٹ ہونے والی ان کی احتجاجی نظمیں مجھ جیسے لوگوں کی آواز بنتی رہیں۔ انہوں نے اپنی شاعری کی کتابیں مجھے امریکہ بھجوائیں۔ صحافت کی تاریخ اور آمریت کے خلاف جدوجہد پہ چھپنے والی ان کی کتاب نے ہمارے حوصلے بڑھائے۔
میری دلچسپی کا ایک خاص موضوع جسمانی اور ذہنی معذوری ہے۔ ایک معذور سوچ رکھنے والے سماج میں اس موضوع کی اہمیت کچھ اور بھی زیادہ ہے۔ اس حوالے سے لکھی گئی میری کتاب ”اجالوں کے سفیر“ چھپنے کو تیار تھی۔ میں نے کم ہی لوگوں کو اپنی کتابوں پہ لکھنے کی زحمت دی ہے۔ مگر جی چاہا کہ احفاظ بھائی سے فلیپ کے لیے دو یا تین جملے لکھواؤں۔ ان کی طبیعت خراب تھی۔ میں نے ہمت کر کے محض چند جملوں کی درخواست کی۔ انہوں نے جواب دیا ”میں اس کتاب پہ دو، تین جملے تو نہیں، پورا مضمون لکھوں گا۔“ یہ میرا اعزاز تھا کہ انہوں نے بہت دل سے بہت اچھا مضمون لکھا۔ میری یہ بھی خوش نصیبی ہے کہ اسی کتاب کے لیے ڈاکٹر حسن منظر نے بھی ”سارے جہاں کا درد“ کے عنوان سے طویل اور اہم تعارفی مضمون لکھا۔ ان مضامین کی بات ہی کیا کہ جو بغیر فرمائش کے اور بہت دل سے لکھے جائیں۔ ان دونوں گرانقدر دردمند ادیبوں کے شکریے کے لیے میرے الفاظ گونگے ہو چکے تھے۔
احفاظ بھائی نے اپنے مضمون کا اختتام ان الفاظ میں کیا ”گوہر کے دل میں دردمندی کا سمندر لہریں مارتا ہے، اور انہیں اس درد کو بیان کرنے کا سلیقہ بھی خوب آتا ہے۔ میرے تمنا ہے کہ گوہر کا یہ غم سدا بہار رہے، اور اس غم سے پھوٹنے والے پھولوں کی مہک ان کے اندر ہمیشہ آباد رہے۔“
احفاظ بھائی آپ سے میرا یہ وعدہ پکا ہے کہ میں اپنے اندر انسانیت کے غم کو سدا بہار رکھوں گی، امید کے ان الفاظ کے ساتھ جو آپ نے اپنی نظم ”سورج نکلے گا“ میں رقم کیے۔
انسانوں کے بیچ محبت کی خوشبو
چمکے گی، خوشیاں ہر سو پھیلائے گی
اونچ نیچ کے بندھن سارے ٹوٹیں گے
رنگ، نسل، مذہب اور جنس کی دیواریں
گر جائیں گی، پھول پیار کے مہکیں گے
سورج نکلے گا
(احفاظ الرحمن کی نظم ”سورج نکلے گا“ سے اقتباس)




