ناول ”الکیمسٹ“ فرد کو ملنے والے غیبی اشارات پر عمل کرنے کا پیغام دیتا ہے


جائزہ نگار: لبابہ نجمی

ناول الکیمسٹ پاؤلو کوہیلو کی زندگی کی اس روحانی بیداری کا عکس کہا جاسکتا ہے جو اس کے کہنے کے مطابق شمالی اسپین کا سفر تھا جو اس نے 1986 ء میں کیا۔ یہیں سے اس کی زندگی کے ایک نئے موڑ کا آغاز ہوتا ہے۔ مصنف ایک برازیلی مصنف ہیں ان کا ناول 56 سے زائد زبانوں کے ساتھ اردو میں بھی شائع ہو چکا ہے اور نوجوان نسل میں نہایت مقبولیت حاصل کرچکا ہے۔ کہانی بظاہر عیسائیت کے پس منظر میں تحریر کی گئی ہے مگر اس میں اسلامی حوالے بھی کثرت سے ملتے ہیں۔

ناول کی کہانی نوجوان سان تیاگو گڈریے کی کہانی ہے اور اس خواب کی تکمیل ہے۔ وہ خزانے کی تلاش کے لیے دنیا کے سفر پر نکلتا ہے وہ اسپین سے ٹنگیر جا تا ہے وہاں سے مصر کے صحرائے اعظم، جہاں اس کی ملاقات کیمیا گر سے ہوتی ہے۔ نوجوان خزانے کی تلاش میں صحرا نوردی کرتا ہے۔ تمام سفر میں ہونے والے تجربات اس کی ذات پر یہ افشا کرتے ہیں کہ انسان کی عقل و شعور اور پیہم جدوجہد کے سامنے کچھ دشوار نہیں۔ اس کہانی کا ہیرو اسپین کا ایک گڈریا ہے جو خوابوں اور غیبی اشاروں کی روشنی میں زمین میں دفن خزانے کی تلاش میں نکلتا ہے۔

وہ خزانہ جو اس نے خواب میں مصر کے صحرا میں دیکھا تھا۔ تمام تر کوشش و بسیار کے بعد جب واپس اسپین کی سرزمین پر اسی گرجا گھر میں پہنچتا ہے تو وہاں کے انجیر کے درخت کی جڑ میں کھدائی کے دوران سونے کے سکوں سے بھرا صندوق پا لیتا ہے جس میں بیش قیمت جواہرات، سونے کا تاج جو سرخ اور سفید پروں سے سجا ہوا تھا اور پتھر کے بت جس پر جواہرات لگے ہوئے تھے اس کے علاوہ فتوحات سے حاصل ہونے والی تباہ حال اشیا ء جسے ملک بہت پہلے بھول چکا تھا اور فاتحین۔

جن کے بارے میں موجودہ قوم کے افراد اپنے بچوں کو بتانا بھول چکے تھے۔ ناول کے مرکزی کردار جسے ہم ناول کا ہیرو کہہ سکتے ہیں۔ اختتام میں یہ محسوس کرتا ہے کہ اب ہوا پھر چلنے لگی۔ بحیرہ روم سے چلنے والی تیز ہوا تھی۔ افریقہ سے آنے والی ہوا۔ اس کے ساتھ صحرا کی بو نہیں تھی نہ ہی موروں کے حملے کی دھمکی تھی۔ اس کے بجائے ہیرو نے اس پیار کے لمس کو محسوس کیا، جسے وہ صحرا میں چھوڑ آیا تھا اور وہ لمس اس لڑکی کا تھا جس کی طرف وہ چل پڑا۔

ناول نگار اس کہانی کے ذریعے جو نوجوانو میں سب سے زیادہ مقبول رہی میں یہ پیغام دیتا ہے کہ زندگی میں ملنے والے غیبی اشاروں کو سمجھا جائے اور اس پر عمل کیا جائے۔ مزید یہ بھی کہ قوانین فطرت انسان کے اس سفر میں اس کے خلاف برسر پیکا ر رہتے ہیں اور بغاوت کرتے ہیں اس لیے کہ فرد کی راہ میں رکاوٹ بن کر اسے اپنی صلاحیتوں کی پہچان اور قوتوں کے استعمال کو اس کے لیے اتنا ناگزیر بنا دیں کہ پائے رفتن نہ جائے مانند۔

پھر یہی وہ راہ ہوتی ہے جس کی منزل انسان پاتا ہے اور کندن کی مانند خالص ہو کر دنیا میں اپنا مقام بناتا ہے۔ ناول کی ایک معنویت یہ بھی سامنے آتی ہے کہ بسا اوقات تقدیر میں انسان کو منزل تک پہنچنے کی راہ میں بھٹکانا بھی لکھا گیا ہوتا ہے تاکہ دنیا کے ریگ زاروں پر کوشش کے لیے آمادہ کیا جا سکے اور جو حاصل ہو اس کی قدر ہو سکے تب ہی انسان وہ پارس بنتا ہے جس کا ساتھ دوسرے کو بھی سونا بنا دے۔ ناول نگار نے اس کہانی میں مختلف علامات اور استعارات سے اپنے قاری کے ذہن کو ناصرف محظوظ کیا بلکہ اسے دعوت فکر و عمل بھی دی گئی ہے۔ یورم اور تھیومم دو ایسے سیاہ اور سفید پتھر جو نوجوان کو ملنے والے غیبی اشاروں پر عمل اور نا عمل کرنے کا عندیہ دیتے ہیں۔ ایک مقام پر کہانی نگار لکھتا ہے :

” خوشیوں کا راز یہ ہے کہ دنیا کے تمام عجائبات دیکھے جائیں لیکن چمچے میں موجود تیل کو فراموش نہ کیا جائے۔“

ہوا سے محو گفتگو ہونا، استعارہ ہے کہ غیبی اشارے کی بھی ایک زبان ہوتی ہے اور وہ کچھ دکھانے کے لیے تیار رہتی ہے جو آنکھیں دیکھنے سے قاصر ہوتی ہیں۔ نخلستان دنیا کے پر پیچ راستوں پر صحرا میں موجود سرسبز و شاداب خطہ جو فرد کی آسودگی اور کام یابی بھی کہا جاسکتا ہے۔ مزید برآں انجیر کا درخت مذہبی حوالے کا استعارہ ہے۔ ناول نگار کہانی میں غیبی اشارات اور قلبی واردات، کوآنٹم فزکس سے منسلک کرتا ہے جو اس دنیا میں بسنے والے چند افراد پر ظاہر ہوتے ہیں۔

ناول نگار کی اس کاوش کا مقصد یہی نظر آتا ہے کہ زندگی کی حقیقتوں کو سمجھا جائے اور با عمل زندگی ہی انسان کے اس دنیا میں بھیجے جانے کا اولین مقصد ہے جسے فراموش نہ کیا جائے۔ تب ہی ذاتی کام یابی اور انسانیت کی فلاح ممکن ہے۔

Facebook Comments HS