جنگ کے خلاف طلبا تحریکیں
گزشتہ کئی دنوں سے اسرائیل اور حماس جنگ کے خلاف امریکی ٹی وی پہ دکھائے جانے والے طلبا کے احتجاج نے میرے ان آنسوؤں کو پونچھنے میں مدد کی ہے جو سات ماہ پہلے شروع ہونے والی اسرائیل حماس جنگ کے ہاتھوں فلسطینیوں کی نسل کشی پہ بہنے شروع ہوئے تھے۔ اس طلبا احتجاج سے مجھے اپنی طالب علمی کا دور بھی یاد رہا ہے کہ جب میں نے این ایس ایف (طلبا تنظیم) کے دوسرے طالب علموں کے ساتھ جنرل ضیاء کی فوجی حکومت کے خلاف پریس کلب میں نعرے لگائے، پریس ریلیز جاری کی، پمفلٹ نکالے، پارٹی کی میٹنگز میں شرکت کی۔ ترقی پسند رسالوں (پرچم اور آدھی دنیا) کے لیے مضامین لکھے۔ ان کارروائیوں کی بنا پہ مجھ سمیت کتنے ہی طلبا آمر حکومت کی بلیک لسٹ میں شمار کیے گئے۔ کیونکہ ہم نوجوان ان کے لیے خطرہ تھے۔ یقیناً نوجوان طلبا ایک ایسا طبقہ ہے جو اگر باشعور اور منظم ہو تو کسی بھی حکومت کی چولیں ہلا سکتا ہے۔ چاہے وہ پاکستان کی فوجی حکومت ہو یا امریکہ کی جمہوری حکومت۔
آج سات مئی 2024ء ہے۔ اسرائیل کے ہاتھوں فلسطین میں سات ماہ سے جاری جنگ کی تباہ کاریوں کے واقعات اور اعداد و شمار دنیا سے ڈھکے چھپے نہیں۔ نہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی ظالمانہ ہٹ دھرمی، غیر انسانی فوجی خونریزی، فلسطین پہ ناجائز تسلط اور مغرب بالخصوص امریکہ کی اسرائیل کے شانے پہ ”بلینک چیک“ کی تھپکی۔ وہ چاہے ڈیموکریٹ ہو یا ری پبلیکن، بائیڈن سے لے کے، ٹرمپ، اوباما اور دوسرے حکمران، سب ہی نے اپنے بیانات میں امریکی مفادات اور قدروں کو اسرائیل کے مماثل قرار دیا۔ گویا اس حمام میں سب ننگے ہیں۔
لیکن حکومتوں کی غیر منصفانہ اور سفاک پالیسیوں اور خودغرض مفادات کی شدت سے مخالفت کرتے ہوئے کولمبیا یونیورسٹی کے طلبا نے اپنی احتجاجی تحریک کا آغاز کیا۔ جلد ہی تحریک کا یہ الاؤ، جس میں میں بلا تخصیص ہر مذہب، رنگ و نسل اور طبقے طلبا شامل ہیں، دنیا بھر میں آگ کی طرح پھیل گیا۔ اس وقت ڈھائی ہزار امریکی طلبا پولیس کی حراست میں ہیں۔ جنہیں اس بات کی پرواہ نہیں کہ ان کا مستقبل کیا ہو گا۔ وہ فلسطین کے آزادی اور جنگ بندی کی تحریک کو اپنا اولین اخلاقی فریضہ سمجھتے ہیں۔ کولمبیا کی پندرہ مئی کو ہونے والی تقریب اسناد کی تاریخ بھی موخر ہو چکی ہے۔
یہ درست ہے کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔ بہت سوں کو یاد ہو گا کہ ماضی میں بھی جنگ کے خلاف امن کے الاؤ کو سب سے پہلے کولمبیا یونیورسٹی کے باشعور طلبا نے روشن کیا، اس طرح احتجاج اس ادارے کی تاریخی روایت ہے۔
آج سے ٹھیک چھپن سال قبل ماہ اپریل 1968 ء میں اسی کولمبیا یونیورسٹی کے ہزاروں طلبا نے ویتنام اور امریکہ کی طویل جنگ کے خلاف تحریک کا آغاز، احتجاجی مظاہرے اور دھرنے کی صورت کیا۔ اس سلسلے میں کیمپس میں طلبا نے ویتنام ڈے کمیٹی آرگنائز کی گئی۔ جس نے کئی اینٹی وار ایکشن کمیٹیوں کو منظم کیا۔ 23 اپریل کو ہزاروں طلبا نے لائبریری کے باہر دھرنا دیا اور کولمبیا یونیورسٹی کے صدر کو اپنے مطالبات پیش کیے۔ اس زمانے میں امریکہ میں سول رائیٹس، نسل پرستی کے خلاف اور عورتوں کے حقوق کی تحریکیں پہلے ہی اپنے زوروں پہ تھیں۔ طلبا کے ہاتھوں میں بینرز، سلوگن تھے اور وہ بے خوفی سے ارباب اختیار کو چیلنج کر رہے تھے۔
”ہے ہے ایل بی جانسن آج کتنے بچے مارے تم نے۔“
اس تحریک میں کئی پارٹیوں کا اتحاد تھا۔ لیکن نمایاں اسٹوڈنٹس فار دی ڈیموکریٹک سوسائٹی Students for The Democratic Society تھی۔ اس وقت ان تحریکوں کو بائیں بازو کی تحریکیں کہا گیا۔ حالانکہ اس میں مذہبی، کالوں کے حقوق، سول رائٹس گروپس اور ویتنام جنگ سے لڑ کے واپس آنے والے سپاہی بھی شامل تھے۔
تیس اپریل کو نیویارک کی پولیس نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دھرنا ڈالنے والے طلبا کو چا بکیں ماریں، پتھریلی زمین پہ گھسیٹا اور ہتھکڑیاں پہنا کر سات سو بارہ طلبا کو حراست میں لیا۔ اس میں سو سے زیادہ طلبا اور اساتذہ زخمی ہوئے۔ اور یوں پورے ملک کے کئی سو دوسرے تعلیمی کیمپسوں میں بھی اینٹی وار مظاہرے آگ کی طرح پھیل گئے۔ اس طرح ویتنام کی جنگ کو روکنے میں طلبا کا اہم کردار تھا۔
ایسی ہی احتجاجی تحریک 1985ء اپریل میں جنوبی افریقہ کی نسل پرست حکومت اور اس کی امریکی سپورٹ کے خلاف ہوئی۔ جو کامیاب ہوئی۔ پھر کچھ سال قبل بلیک لائف میٹرز کی تحریک نے بھی کالوں کے حقوق کے لیے امریکی طلبا نے جارج فلائیڈ کی موت ( 2020 ء) کے بعد شدت پکڑی اور اس بات کا ثبوت دیا کہ انسان ابھی جاگ رہا ہے۔
اس طرح حالیہ تحریک بھی اس بات کا اعادہ ہے کہ انسانیت زندہ ہے۔ اور انسان رنگ، نسل، جنس اور مذہب کی تفریق سے ماورا ہے۔ آخر فوری جنگ بندی کے علاوہ حالیہ تحریک کے طلبا کا اہم مطالبہ کیا ہے؟
جنگ بندی کے لیے فلسطین کے حق میں احتجاج کرنے والے گروپس کا سب سے اہم مطالبہ بی ڈی ایس (یعنی بائیکاٹ، ڈائی ویسمنٹ اینڈ سینکشنز) ہے۔ یعنی یونیورسٹیز اپنے سرمائے کو براہ راست یا بلاواسطہ ان کمپنیوں میں سرمایہ کاری بالکل ختم کر دیں کہ جس سے اسرائیل کو فوجی ایکشن میں مدد مل رہی ہے۔ امیزون، گوگل، فورڈ، ائر بی این بی، کیٹرپلرز جیسی کمپنیاں چند مثالیں ہیں۔ اس معاشی منافع کو اسرائیل، جنگ کے لیے ہتھیاروں کی خرید، ملٹری ٹیکنالوجی کی سروسز اور یہودی آبادکاری اور فلسطین نسل کشی میں بے دریغ خرچ کر رہا ہے۔ واضح رہے کہ اسرائیل کے بننے کے گیارہ منٹ بعد ہی سب سے پہلے امریکی صدر ٹرومین کی حکومت نے قبول کیا۔
امریکہ نے ہمیشہ اسرائیل کو اپنے پارٹنر اور ان کی جمہوری قدروں کو اپنی قدروں سے قریب جانا اور ہر موقعہ پہ اپنے تعاون کا ”بلینک چیک“ دیا۔ ڈیموکریٹ صدر اوباما ہوں یا ری پبلکن صدر ٹرمپ یا دوسرے سیاسی شاطر سب ہی اسرائیل کی قدروں کو امریکی قدروں کے مماثل جانتے ہیں۔ اس حالیہ جنگ میں ابھی تک امریکہ نے اسرائیل کی پشت پناہی میں 1948 ء سے اب تک کھربوں ڈالرز کی رقم دی ہے۔ بائیں جانب کے رجحان رکھنے والے امریکی سینیٹر برنارڈ سینڈرز، جو یہودی نسل سیاست دان ہیں، اسرائیل اور امریکہ کی جنگی پالیسی کے سخت مخالف ہیں۔ وہ بے خوفی سے کھل کے اس کا اظہار بھی کرتے ہیں۔ انہوں نے اس جنگ کر بائیڈن کی ”ویتنام جنگ“ قرار دیا ہے۔ وہ جنگ بندی، اور فلسطین کی آزادی کو سختی سے سپورٹ کرتے ہیں۔
اپنی گفتگو میں وہ پوری دردمندی سے جنگ سے متعلق اعداد و شمار کو بیان کرتے ہیں۔ اب تک ساڑھے پینتیس ہزار سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں۔ جن میں سے ستر فی صد بچے اور عورتیں ہیں، آدھی آبادی بے گھر ہو چکی ہے، چارسو ہیلتھ کیئر ورکرز کو مار دیا گیا ہے، 6، 25000 بچے اسکول سے باہر ہیں۔ ہسپتال اور یونیورسٹیاں تباہ ہو چکی ہیں۔ قحط، بھوک اور بیماریاں ہیں۔ جو زندہ ہیں وہ ہڈیوں کا ڈھانچہ ہیں۔ مسٹر سینڈرز نے میڈیا سے اپیل کی ہے کہ بجائے تعلیمی کیمپس جانے کے فلسطین جائیں وہاں تصاویر لیں اور دنیا کو دکھائیں۔
طلبا نے امریکہ سے اس کے اسرائیلی تعلقات کو چیلنج کیا ہے۔ اور فوری طور پہ حماس اسرائیل جنگ بندی کے ساتھ اسرائیل کے ساتھ اقتصادی، تجارتی اور فوجی معاہدوں کو توڑنے کا مطالبات کیا ہے۔ لیکن جنگ کو روکنے کے لیے طلبا نے جو مطالبہ رکھا ہے اس کا معاملہ بہت پیچیدہ ہے اور مغربی مفاد کے خلاف جاتا ہے۔ سالہا سال کا اخلاقی کوڑا اتنی آسانی سے کیسے نکالا جائے؟ مغربی معیشت کی کمر پہ کاری ضرب پڑے گی۔ ویسے دیکھا جائے تو ماسوا چند کے اس حمام میں سب ننگے ہیں۔ کاش سچ کی راہ پہ چلنے والے اور حق کی بات کہنے والے طلبا کی تحریک کا آئینہ ان سب سیاسی اور تجارتی سرمایہ کاروں کو اپنا وجود دیکھ کر شرمسار ہونے پہ مجبور کر سکے۔ وہ ان نوجوانوں فلسطین کی خودمختاری، جنگ بندی، اقتصادی اور فوجی معاہدے کی ڈوریاں کاٹنے کے مطالبات کو تسلیم کرسکیں۔ یہ پیچیدہ اور مشکل امر ضرور ہے مگر شروعات کہیں سے تو ہوں۔
حبیب جالب نے ٹھیک ہی تو سوال پوچھا تھا۔
ظلم رہے اور امن بھی ہو
کیا ممکن ہے تم ہی کہو؟






