ناول: زوربا یونانی کا تعارف


Shahzad Hussain Bhatti Lahore

زوربا یونانی نامور یونانی ناول نگار نیکوس کیزنزاکیس ( 18 جنوری 1883۔ 26 جنوری 1957 ) کا شہرہ آفاق ناول ہے۔ نیکوس کیزنزاکیس سلطنت عثمانیہ کے شہر اکلیون میں پیدا ہوا تھا جو اب یونان کے پاس ہے۔ زوربا یونانی پہلی بار 1946 میں یونانی زبان میں چھپا۔ 1953 میں کارل وائلڈ مین نے اس کا انگریزی زبان میں ترجمہ کیا اور اب یہ اردو سمیت دنیا کی تمام بڑی زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ اردو میں اس اہم ناول کا ترجمہ مخمور جالندھری نے 1967 میں کیا۔

اس ناول میں انسانی جبلت میں موجود ابہام کی کیفیت، مادیت اور خوشی کے حصول کی کھوج کو موضوع بنایا گیا ہے۔ ناول میں بیان کیا گیا ہے کہ انسانی زندگی بے شمار سوالات کا مجموعہ ہے اور ہم ان سوالات کی کھوج میں اتنے مگن ہیں کہ ان لمحات سے بھی لطف اندوز نہیں ہو پاتے جو لمحہ موجود میں میسر ہیں۔ ہم یا تو ماضی میں الجھے رہتے ہیں یا پھر مستقبل کے بارے میں فکر مند ہیں۔ ہم مادہ پرست بھی ہیں اور اسی میں سکون تلاش کرتے ہیں اور جو نعمتیں اور خوشیاں دسترس میں ہیں انہیں نظر انداز کر دیتے ہیں۔

ناول کا انداز تحریر بیانیہ اور کہانی بیان کرنے والا ذہین اور رجعت پسند مصنف ہے جو بدھا پر کتاب تحریر کر رہا ہے۔ اسے وراثت میں کچھ سرمایہ حاصل ہوتا ہے جس سے وہ کریٹ کے خوب صورت جزیرے میں لگنائٹ کی کان خرید لیتا ہے اور مرکزی کردار الیکس زوربا کو مزدوروں کا سربراہ بنا کر ساتھ لے جاتا ہے جہاں وہ آزاد مزاج زوربا کے ساتھ زندگی بدل دینے والی دوستی میں الجھ جاتا ہے۔

دی گارڈین اخبار کے مطابق: ”یہ ناقابل فراموش ناول آپ سے مطالبہ کرتا ہے کہ آپ اسے ایک طرف رکھیں اور مکمل زندگی گزارنے میں اس عظیم یونانی کردار کی تقلید کریں۔“

زوربا یونانی کے بارے میں ورلڈ پریس سے اٹھایا ہوا جملہ: ”یووربا یونانی صرف ایک ناول نہیں اور نہ ہی زوربا صرف ماضی کا رومانوی کردار ہے بلکہ یہ دور حاضر کا بھی اتنا ہی پسندیدہ کردار ہے جتنا یہ ماضی میں تھا اور مستقبل میں بھی یہ اپنی حیثیت برقرار رکھے گا۔“

مترجم مخمور جالندھری کے اس ناول کے بارے میں تاثرات: ”آپ کے ہاتھوں میں اس وقت جو ناول ہے وہ دنیا کے عظیم ترین نالوں میں سے ہے۔ اس کے چھپتے ہی ساری دنیا میں ہنگامہ برپا ہو گیا کہ ایک طویل مدت کے بعد ایسی کتاب لکھی گئی ہے جو قوموں کی زندگی اور تقدیر بدل دیتی ہے۔ اس ناول میں انسان کی نیکی اور ذہانت کے پھول ہیں۔ انسان کی بد اعمالیوں اور شیطنت کے انگارے ہیں۔ شعلہ و گل کے امتزاج سے یونانی ناول نگار نیکوس کیزنزایکس نے ایک ایسا شاہکار تخلیق کیا ہے جس کو دوام حاصل کو چکا ہے۔“

ناول کا آغاز ایک بے نام راوی سے ہوتا ہے جو ساحل سمندر پر ایک کیفے میں اپنے جہاز کا انتظار کر رہا ہے۔ اس نے پرانی زندگی کو خیرباد کہہ دیا ہے اور کریٹ کے جزیرے پر لگنائٹ کی کان خرید لی ہے اور جلد از جلد وہاں پہنچ کر کام شروع کرنا چاہتا ہے۔ وہ پڑھا لکھا نوجوان ہے جو ادب سے جڑا ہوا ہے اور اس نے وسیع مطالعہ بھی کر رکھا ہوتا ہے۔ اسی کیفے میں اس کی ملاقات زوربا سے ہوتی ہے جو کرشماتی خوبیوں کا مالک ہے۔ وہ شوخ مزاج اور ہنس مکھ بھی ہے۔ زوربا جلد ہی اپنے ماضی کے مشاہدات اور متاثر کن رویے کی وجہ سے جہاں راوی کی زندگی میں مرکزی حیثیت اختیار کر جاتا ہے وہیں ناول کا مرکزی کردار بھی بن جاتا ہے۔

زوربا یونانی پرجوش روح کا مالک ہے۔ وہ لمحہ موجود کی طاقت سے بخوبی واقف ہے۔ وہ بے لگام جوش و خروش کے ذریعے زندگی کو گلے لگاتا ہے۔ وہ ہر لمحے کو جیتا ہے چاہے وہ موسیقی، رقص، محبت یا خوراک کے ذریعے ہو۔ وہ اپنے ماضی کے تجربات و مشاہدات کو اپنے حال پر اثرانداز نہیں ہونے دیتا۔ وہ موت سے نہیں ڈرتا اور نہ ہی اس کے بارے میں سوچتا ہے اور نہ ہی مستقبل کے بارے میں کوئی منصوبہ بندی کرتا ہے۔ وہ اس حقیقت کو پہچان چکا ہے کہ وہ ایک انسان ہے اور اس کے لیے انسان ہونا ہی کافی ہے۔ وہ ساٹھ سالہ بوڑھا ہے لیکن اس نے بڑھاپے کو کبھی اپنی کمزوری نہیں بنایا اور جو ذمہ داری اٹھاتا ہے اسے بخوبی نبھاتا ہے بغیر نتائج کی پروا کیے۔

زوربا یونانی کثیر الجہتی ناول ہے جس میں مصنف نے بھرپور اور قابل تعریف داستان قلم بند کی ہے۔ اس نے بڑی مہارت سے کرداروں کی رنگین اور متحرک تصویر کشی کی ہے۔ ناول کا ہر کردار آزادی، محبت، انسانی فطرت اور خوشی کی تلاش جیسے اہم موضوعات کی کھوج میں ہے۔ ناول میں موجود کرداروں کی متضاد شخصیات، ان کی فلسفیانہ اور فکر انگیز گفتگو کے ذریعے ناول نگار نے قارئین کو اپنی زندگیوں کو بھرپور جینے اور لمحہ موجود کی طاقت پر غور کرنے کی طرف توجہ دلائی ہے۔ اس ناول کے ذریعے مصنف ہمیں اپنی اقدار اور نقطہ نظر پر سوال اٹھانے کی دعوت دیتا ہے۔ یہ ناول انسان کو جذبے،

حوصلے اور مہم جوئی کے احساس کے ساتھ زندگی گزارنے کی ترغیب دلاتا ہے۔

Facebook Comments HS