جبلی تقاضے، شعوری ارتقا اور تعلیم

آدمیت، انسانیت اور روحانیت؛ ہم سب شعور کی انہی تین سطحوں پر جیتے ہیں اور یہی تین سطحیں ہمارے شعوری سفر کی ارتقائی منزلیں، درجے یا مرحلے بھی ہیں۔ تعلیم و تربیت وہ ذرائع ہیں جو ان مراحل کو طے کرنے میں ہمارے ممد و معاون ثابت ہوتے ہیں۔
خلقت کے اعتبار سے آدمی ایک حیوانی وجود ہے۔ انسانی معاشرے میں جنم لینے پر اسے اپنے آدمی ہونے کا شعور ملتا ہے۔ ماں کی گود اس کی پہلی درسگاہ اور زمانہ فطری استاد ٹھہرتا ہے۔
پہلے درجے میں ہم میں سے جو جو آدمیت کے مرحلے سے گزر رہے ہوتے ہیں وہ جبلتوں کے تابع ہوتے ہوئے اپنی تمام تر فطری ضرورتوں کو پورا کرنے میں مصروف عمل رہتے ہیں۔
ہمارے جیسے ملکوں کی کثیر آبادی اپنی پوری زندگی؛ خوراک کے لیے دو وقت کی روٹی، پوشاک کے لیے چار گز کپڑا اور بود و باش کے لیے چھت کی تلاش میں گزار دیتی ہے۔
شعوری سفر کے دوسرے درجے پر جو انسانیت کی منزل پر پہنچ چکے ہوتے ہیں وہ بشری تقاضوں سے نمٹنے میں مگن رہتے ہیں۔
انسانی شعور پانے پر آدمی اپنے خارج سے رابطہ استوار کرتا ہے۔ کائنات سے اپنے رشتے کی نوعیت، معنویت و افادیت بارے سوچتا ہے۔ اس مرحلے پر جاننے کی جستجو آدمی کو تحریک دیتی اور تحقیق پر آمادہ کرتی ہے جس سے نت نئے جہان دریافت ہوتے ہیں، سائنسی ایجادات ہوتی ہیں اور علوم و فنون کو فروغ ملتا ہے۔
تیسرا و آخری درجہ روحانی و اخلاقی ہے۔ جو روحانی منزل تک رسائی حاصل کر چکے ہوتے ہیں وہ اخلاقی و خلاقی مقاصد کے حصول میں مستغرق ہوتے ہیں۔
روحانی و اخلاقی مقاصد کے حصول میں آدمی صلح کل، فلاح عامہ، دینی و دنیاوی خوشحالی، اخروی نجات الغرض اپنے اور دوسروں کے لیے خیر کثیر کا سامان کرنے میں جیتا اور اسی فکر میں مرتا ہے۔
تعلیم و تربیت کی ہیئت، اہداف اور حکمت عملی ہر منزل کے مسافروں کے لیے الگ الگ ہو تو ہی یہ ارتقائی سفر با مراد ہو سکتا ہے۔ المیہ یہ ہے ہمارے یہاں جبلی سطح پر جینے والوں کو اخلاقی و روحانی تعلیم دیے جانے کا رواج ہے، انسانی سطح پر پہنچنے والے بیشتر کارآمد انسان دیار غیر سے تعلیم پاتے اور وہیں کے ہو جاتے ہیں۔ جو یہیں سے انسانی شعور کے دریچے وا کرتے ہیں ان کی اکثریت حیوانی سطح پر رہ جانے والوں کی حالت حال کو کوستی اور ان سے دوری میں ہی اپنی عافیت سمجھتی ہے۔
روحانی سطح پر پہنچنے والے دعویدار تو بہت ہیں لیکن حقیقتاً گنے چنے ہیں۔ اکثریت کی تعلیم کا بندوبست بھی ان کا اپنا ہی ہے جو ایک طرف زمینی و زمانی تقاضوں سے عدم مطابقت میں ہے تو دوسری طرف الوہی و الہامی منشاء کے بھی برعکس یعنی غیر فطری۔ ایک قلیل تعداد ہے جس کی روحانیت اور خیر کثیر، آدمیوں اور انسانوں کے جم غفیر کے لیے اونٹ کے منہ میں زیرہ برابر بھی نہیں۔ اس سارے ماحول کے عمومی نتائج اور مظاہر اپنی اپنی درجاتی سطح پر حیوانی کشمکش، انسانی چپقلش اور روحانی پرستش کی صورت نمودار ہوتے رہتے ہیں۔
ہر درجے پر موجود اور ہر مرحلے سے گزرنے والوں کی اپنی اپنی احتیاج اور ضروریات ہیں جنہیں پورا کیے بغیر ترقی کے سفر کو جاری رکھنا محال ہے۔
ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ ہم میں سے کون کون، کن کن مراحل میں ہیں۔ یہ طے ہو جائے پھر حسب حال ضرورتوں کا خیال اور تعلیم و تربیت کا اہتمام کیا جائے۔ یوں جسمانی نشوونما، شعوری ترقی اور اخلاقی و روحانی بالیدگی کو یقینی بنانا دشوار نہیں ہو گا۔ بصورت دیگر، ”سٹیٹس کو“ برقرار رہے گا۔

