امید بہار

امید کے گھڑیال کے گرد کوہلو کے بیل کی طرح گھومتی یہ نسلیں کون جانے کتنے سالوں کا سفر صدیوں میں طے کریں گی۔ سانحہ 9 مئی کے محرکات اور نقصانات پر پچھلے ایک سال سے اتنی بحث ہو چکی کہ یہ سبق اب ہر کسی کو ازبر ہو چکا۔ لیکن جتنی جگہ ہنسائی اس سانحے کے بعد اس ملک اور اس ملک سے جڑے ہر محب وطن کی ہوئی یہ داغ مٹتے ابھی کئی سال مزید لگیں گے۔ پہلے تو یہ واقعی ہونا ہی ایک شرمندگی کی علامت تھا اوپر سے جس طرح اس کو پولیٹکلی اور مینٹلی ہینڈل کیا گیا اس نے معاملات سلجھانے کی بجائے اور الجھا دیے۔ اور یہ گتھی آج تک نہ سلجھی کہ جس کے سر خود بڑی چاہ سے سہرا سجایا گیا تھا پھر ایسی کیا آفت آن پڑی کہ خود اپنے ہاتھوں اسے رخصت کرانا پڑ گیا۔ شاید اسی لئے کہتے ہیں کہ ہاتھوں سے لگائی گرہیں دانتوں سے کھولنی پڑتی ہیں۔
اس ایک سال میں بہت کچھ بدل گیا۔ جس بساط پر سارا کھیل رچایا گیا بس اس کے کردار ادھر سے ادھر کر دیے گئے ہیں۔ صیاد خود اپنے دام میں آ گیا۔ کایا ایسی پلٹی کہ جو چور تھے وہ ہیرو بن گئے اور جو ہیروز تھے وہ زیرو اور رہ گئی عوام تو اس کی تقدیر میں ازل سے غلامی ہے۔ اس غلامی کے خدو خال البتہ ہر دور میں بدلتے رہے۔ لیکن گورا راج کی ذہنی غلامی سے شروع ہونے والا یہ سفر کبھی موروثیت کی بھینٹ چڑھا کبھی جاگیر داروں کے ہاتھوں تباہ ہوا اور کبھی شخصیات کے سحر میں ذہنی توازن کھوں بیٹھا۔
تخت پر براجمان اصل اور ریپلیکا دونوں اقسام کے حکمرانوں کے ذاتی و سیاسی مفاد اور کبھی ریاستی فلاح پر سمجھوتے کی وجہ سے کی گئی غلط، ویژن سے مبراء اور ریاست مخالف پالیسیوں کی بدولت ریاست اپنی ترقی کی صحیح سمت کا تعین ہی نہ کر سکی لیکن ضرب تقیسم کے اس سارے سلسلے کے بعد عوام کے حصے میں آئی کبھی مایوس تو کبھی امید کی ایک کرن!
الیکشن کے نتائج پر تحفظات اپنی جگہ لیکن نام کو ہی سہی بہت جانفشانی سے معرض وجود میں آنے والی حکومت کے ثمرات بہرحال ملنا شروع ہو گئے ہیں۔ قوم کو اب امید کی ٹھنڈی ہوائیں چند لمحوں کے لیے ہی سہی لیکن ریاست کی ترقی و خوشحالی اور مہنگائی میں کسی حد تک کمی کی صورت میں محسوس ہو رہی ہیں۔ سیاسی استحکام کے باعث سفارتی و معاشی شعبوں میں دیگر ممالک کے ساتھ تعاون کی راہیں کافی حد تک ہموار ہو چکی ہیں۔
ایران، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چین جو پاکستان کے سابق ادوار میں حکومتی پالیسیوں سے نالاں تھے ان سے تعلقات میں گرمجوشی پیدا ہوئی ہے۔ ایسے میں سعودی وزیر خارجہ کے وفد اور ایرانی صدر کا دورہ پاکستان خوش آئند ہے۔ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے جو وعدے کیے تھے وہ پورے ہونے کی امید روشن ہو چکی ہے۔ امریکہ نے بھی پاکستان کو ایک اہم ترین شراکت دار ہونے کا عندیہ دیا ہے۔ سی پیک کا وہ منصوبہ جو پی ٹی آئی دور حکومت میں تعطل کا شکار ہو گیا تھا ایک بار پھر پایہ تکمیل کی جانب گامزن ہے اور دوسرے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔
گاڑیوں، سریا، سیمنٹ اور آٹے کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے کو ملی ہے جس کی بدولت مجموعی طور پر مہنگائی میں کمی واقع ہوئی ہے اور آنے والے دنوں میں مزید کم ہونے کا امکان ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر جو 4 ارب ڈالر کی کم ترین سطح پر آ گئے تھے، 9 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے ہیں۔ روپے کی قدر میں بہتری اور اسٹاک مارکیٹ کا بلند ترین 72 ہزار انڈیکس پاکستان کی بہترین معاشی پالیسی کا آئینہ دار ہے۔ وطن عزیز کی ایک سیاسی جماعت اگرچہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری سے روک رہی ہے جو افسوسناک ہے کیونکہ ذاتیات کو ریاست کے اوپر ترجیح دے کر اپنی ترقی میں خود رکاوٹیں کھڑی کرنا کسی طور بھی دانشمندی نہیں۔
ترقی و خوشحالی کی سب کوششیں قابل ستائش ہیں لیکن یہ سب ابھی آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ تعلیم اور صحت ابھی بھی بنیادی مسائل ہیں۔ محکمہ جاتی اصلاحات نہ ہونے کی وجہ سے عوام آج بھی بیزار ہیں۔ پینے کا صاف پانی ابھی بھی میسر نہیں ہے۔ خوشحال پاکستان کی امید اپنی جگہ لیکن حقیقت میں ہم نے ابھی تک نہ ایک پختہ سوچ کی حامل قوم اور نہ ہی ایک مضبوط سیاسی و جمہوری ملک کی ہی بنیاد رکھی۔ ہم ایک ایسی نسل کی وہ پنیری لگانے میں بھی ناکام رہے جو اخلاقیات کے معیار پر پورا اتر سکے۔ اور آنے والے وقتوں میں میچور سیاسی، سماجی اور اخلاقی رویؤں کا سنگ میل بن سکے۔ بہرحال شجر کی جڑیں سلامت رہیں اور امید قائم تو بہار آنے سے کون روک پائے گا؟

