طاہرہ کاظمی کا حقائق سے دور سوال؟


naseer ahmad

گر پوری دنیا کی عورتیں یہ فیصلہ کر لیں کہ وہ بچے نہیں پیدا کریں گی تو سوچیے کیا ہو گا؟ ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

ہمارے ایک بڑے اچھے دوست ہیں اور ان کا بحث کا طریقہ کار یہ ہے کہ وہ بذریعہ ’اگر‘ بنیادی بات پر متفق کرا لیا کرتے ہیں اور اس کے بعد بحث کے نتائج اپنی مرضی کے حاصل کر لیا کرتے ہیں۔ اور ہم ششدر سے رہ جاتے ہیں کہ ہم بات بھی ٹھیک کہہ رہے ہیں لیکن ابھی تو غلط ثابت ہو رہے ہیں۔ بھائی نے چکر کیا چلایا ہے؟ چکر سوچیں تو سمجھ آتے ہیں اور ایک دو دفعہ ششدر ہونے کے بعد ہم نے مفروضہ قائم کرنے کی وجوہات مانگنا شروع کر دیا اور بنیادی بات پر متفق ہونے سے انکاری ہو گئے، تب سے بحثیں رکی ہوئی ہیں۔ انھیں بھی اپنے کیسز کے لیے سوچنا پڑتا ہے اور ہمیں ان کا توڑ کرنے کے لیے بھی سوچنا پڑتا ہے۔

یہ بھی اسی قسم کا سوال ہے۔ یہاں پر دنیا بھر کی خواتین کی اپنی مرضی سے بچے فیصلہ کرنے کی بات ہو رہی ہے۔ اب مرضی پر اختیار نہیں تو کیسے اربوں خواتین میں سے ہر کسی کو قائل کیا جا سکتا ہے کہ وہ بچے نہ پیدا کرے؟

آپ ایک کیس تو بنا سکتے ہیں کہ انسان ہیں ہی بد اس لیے اس کا خاتمہ ضروری ہے اور اس سلسلے میں خواتین کو اپنا فرض ادا کرنا چاہیے اور بچے نہیں پیدا کرنے چاہییں؟ کیا اس طرح کے کیس پر دنیا بھر کی خواتین متفق ہو جائیں گی؟ وہ اچھے انسانوں کی فہرست بنا کر دے دیں گی اور انسانوں کی نیکیاں گنوانے لگیں گی۔ پھر اپنے تجربے بتائیں گی کہ ہم نے تو نیکی کی لیکن وہ گھٹیا نکلا، وہ تو اس کا قصور ہے، ہم تو اچھے ہیں، ہیں ناں؟ سارے انسانوں کے بد ہونے کا کیس پارہ پارہ ہو گیا۔

ہم کہیں گے چلو ٹھیک ہیں کہ سارے انسان بد نہیں ہیں لیکن یہ خواتین کے روزگار، صحت، معاشی اور معاشرتی مفادات کے لیے ضروری ہے کہ بچے نہ پیدا کریں۔ تو ایسی خواتین کی تعداد بھی کافی ہے جنھوں نے بچے بھی پالے ہیں اور کیرئیر میں بھی ترقی کی ہے۔

اتنی زیادہ خواتین ہیں، ان کے اپنے حالات ہیں، مجبوریاں ہیں، ترجیحات ہیں، بہت ساری بچوں سے محبت کرتی ہیں اور بہت ساری بچے پالنا پسند کرتی ہیں اور اس سلسلے میں اپنے ہی بچے کو بہت ساری خواتین ترجیح دیتی ہیں، اور یہ ان کا حق بھی ہے اور ان میں سے اگر ایک بھی اپنے ان حقوق پر اصرار کرے تو ہمارے سوال کا سفر رک جاتا ہے۔ دیکھو وہ متفق ہی نہیں ہو رہیں؟ پھر بھی فرض کر لیتے ہیں؟ گپ شپ کے لیے تو فرض کر لیتے ہیں لیکن کوئی بات نہیں بن رہی؟

ایک تو ہمارے پاس ساری خواتین کے بچے پیدا نہ کرنے کے لیے اچھے دلائل نہیں ہیں۔ ہاں ہم اس معاملے میں قنوطی ہو سکتے ہیں لیکن کسی بھی احساس کی شدت دلیل نہیں بن پاتی۔

دوسرا ہمارے پاس یہ اختیار بھی نہیں ہے کہ ساری خواتین ہمارے دلائل مانیں ہی مانیں۔

جو دلائل ہم دے سکتے ہیں ان کے توڑ بھی ہیں اور خواتین کے حقوق بھی ہیں۔ اس وجہ سے یہ فی الحال یہ بات ممکن نہیں ہے کہ پوری دنیا کی خواتین یہ فیصلہ کر لیں کہ وہ بچے نہیں پیدا کریں گی۔ پھر کیا سوچنا؟

شرح پیدائش کا بھی پوری دنیا کے حوالے سے مکس ریکارڈ ہے ایک جگہ اگر گھٹی ہے تو دوسری جگہ بڑھی ہے لیکن ختم کہیں نہیں ہوئی ہے۔

اب اگر اس مفروضے کو مستقبل بعید میں لے جائیں تو اس وقت کے حقائق دستیاب نہیں ہیں اور موجودہ حالات میں اس بات کے امکانات نظر نہیں آ رہے کہ ساری خواتین اس بات کا فیصلہ کر لیں کہ وہ بچے نہیں پیدا کریں گی۔ ابھی تو ساری خواتین فیصلے کر ہی نہیں رہیں۔ ان کے فیصلے کے حق کے لیے کوشش کی جا سکتی ہے جو ڈاکٹر صاحبہ کر رہی ہیں۔ اچھی بات ہے۔ یہاں تو ایک کو بھی حق مل جائے تو پتا نہیں ہوتا اب آگے ہو گا کیا؟ اربوں کا کیسے اندازہ لگائیں۔

حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے مفروضے مان لینا اور ان کے مطابق نئے حقائق کی تشکیل کرنا کچھ عرصہ پہلے مقبول تھا، جس کے نتائج دنیا میں سامنے آ رہے ہیں۔

لیکن ہمارا کیا ہے کہ ہم نے کون سا دنیا سنبھالنی ہے۔ ڈاکٹر صاحبہ کی مان لیتے ہیں۔ چلیں جی خواتین نے فیصلہ کر لیا وہ بچے نہیں پیدا کریں گی تو نسل انسانی کی بقا کے لیے انسانوں کو کچھ سوچنا پڑے گا یا انسان ختم ہو جائیں گے اور وہ ساری خواتین اس خاتمے کی اور وہ انسان جو کوئی حل نہیں ڈھونڈ سکے کہ نسل انسانی جاری رہے اس بات کے ذمہ دار ہوں گے۔ یہاں یہ سوال ابھرتا ہے کہ کیا کسی زمانے میں انسانیت کا خاتمہ خواتین چاہتی تھیں یا موجود میں دنیا بھر کی خواتین چاہتی ہیں کہ نسل انسانی ختم ہو؟ ابھی تو ساری خواتین انسانیت کی اتنی بڑی دشمن نہیں ہیں، کبھی بھی نہیں رہی ہیں اور آئندہ بھی نہیں ہوں گی۔

بنیادی بات میں دم کی کمی کی وجہ سے یہ گفتگو معنی انگیز طریقے سے جاری نہیں رہ سکتی۔ گپ شپ کے لیے ٹھیک ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).