خراب امپائرنگ اور سلیکشن بورڈ


ہر کھیل کے اپنے اصول ہوتے ہیں خواہ اکھاڑے میں کھیلا جانے والا کبڈی کبڈی ہو یا گلی کوچوں میں لڑکوں بالوں کے درمیان گلی ڈنڈا ؛ مار دھاڑ سے بھرپور کھیلوں کے بھی قواعد ہیں جیسے فری ریسلنگ۔ اصول اور قواعد کیوں؟ سلیکشن بورڈ 2013 کے تناظر میں تو یہی کہا جاسکتا ہے کہ اصول اور قواعد فیصلوں کو متنازعہ ہونے سے بچانے کے لیے بنائے جاتے ہیں۔ ہر شعبے کے فیصلوں کی درستگی اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جانے لگا ہے اگرچہ کہ اس کے نت نئے استعمالات پر گو ناگوں سوالات بھی اٹھتے رہتے ہیں۔

نیشنل ٹیسٹنگ سروس (این ٹی ایس، خواہ کسی کی اور میری رائے اس کے حق میں نہیں ) لیکن یہ کسی شعبے میں امیدواران کی ذہنی استعداد کی جانچ کی تصدیق کا مشینی طریقہ ہے جو مقداری نتائج دیتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی کے استعمال سے شفافیت کو قائم کرنے کے لیے متعارف کرایا گیا اور اختیار کیا گیا ہے۔ اس پر بھی بہت اعتراضات اور سوالات اٹھے تھے کہ جو امتحانات امیدوار دے کر بورڈ کی ڈگری حاصل کر کے آ رہا ہے، اس کو ایک اور ٹیسٹ سے گزارنا، بورڈ کی ساکھ کو مشکوک بناتا ہے، لیکن یہ نافذ کر دیا گیا جس کی ایک وجہ اداروں کی اپنی کارکردگی ہے۔ معیاری جانچ کے لیے انٹرویو کا طریقہ عرصے سے رائج ہے۔

معاشرے میں مروج فکری مغالطوں میں ایک بڑا مغالطہ ”نظام بدلو، چہرے نہیں“ ہے۔ اس مغالطے کا ادراک سوچ کو درست سمت دیتا ہے۔ ”نظام“ ، دفتری کمرے، میز، کرسی، فائلوں کے طومار کا نام نہیں ہے، ”نظام“ نام ہے ”فرد“ کا ؛جو اس کو چلاتا ہے، نظام فرد کو نہیں چلاتا، فرد نظام کو چلاتا ہے۔ کمیٹی کی کمیٹیاں یہ کہیں کہ یہ اصول، یہ ضابطہ، یہ قانون، یہ طریقہ۔ ”فیصلہ“ ان سب کو سامنے رکھتے ہوئے فرد اپنی فراست کی روشنی میں کرے گا۔

مذہبی قضیہ ہو گا تو سب سے پہلے قرآن حکیم، پھر حدیث، فقہ، اجماع، قیاس اور کسی مذہبی عالم کا اجتہاد؛ اجتہاد بڑی فکر ہے۔ یہ وقت بھی آتا ہے کہ فرد یا افراد کے کیے گئے فیصلے نظیر بن جاتے ہیں اور یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ فرد یا افراد کے کیے گئے فیصلوں کو تاریخ نے رد کیا ہے، وقت نے نہیں، وقت میں رد کرنے کی طاقت نہیں، یہ طاقت صرف تاریخ میں پائی جاتی ہے۔ تاریخ اپنا کیا فیصلہ دے گی؟ یہ نہ سمجھیں کہ یہ سوچا نہیں جاسکتا۔ فرد فیصلہ کرتے وقت مستقبل میں جھانکنے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے، وہ ذاتی زندگی کے فیصلے ہوں یا پیشہ ورانہ زندگی کے۔ آراء کی بنیادوں کو سمجھتے ہوئے آراء کی نوعیت کو اور فیصلے کے اثرات کو سمجھتے ہوئے فیصلے کی نوعیت کو سمجھا جاسکتا ہے۔

تاریخ کے پہیے کو الٹا نہیں گھمایا جاسکتا، یہ کوشش کرنے والے اپنی بیش بہا توانائیاں اور وقت کارِ بے کار میں صرف کر رہے ہوتے ہیں اور ایسے فیصلے جن پر پہلے ہی بیش بہا توانائیاں، وقت اور سرمایہ خرچ ہو چکا ہوتا ہے۔ یوں بھی ہو سکتا ہے کہ اس کوشش میں دوسرا بڑا نقصان ہو اور ادارے کی ساکھ کے ساتھ ساتھ فیصلہ ساز کی ساکھ بھی داؤ پر لگ جائے، اس کے بعد اس ساکھ کو دوبارہ جمانا، جمے ہوئے دہی کو دوبارہ دودھ میں بدلنے جیسا ہے۔

یہ بار بار واپس پلٹنے جیسا ہے، دوبارہ ان ہی لوگوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا کہ اب اس بھنور سے کیسے نکلوں، بھنور میں پھنسا فرد اپنے نکلنے کے لیے ہاتھ ان کی طرف بڑھائے گا جو اس بھنور میں دھکیلنے کا سبب بنے تھے، غلط فیصلہ بھنور میں پھنسنے جیسا ہی ثابت ہو گا، تعمیری و ترقیاتی کام حسرت ِناتمام بن کر رہ جائیں گے۔

اقوالِ زرّیں زندگی میں بڑا کردار ادا کرتے ہیں۔ ایک قول کہیں پڑھا تھا کہ آنکھیں سر کے سامنے ہوتی ہیں تاکہ مستقبل پر نظر رکھیں، نا کہ سر کے پیچھے کی جانب کہ ماضی کو دیکھتی رہیں۔ جو ہو چکا ہے، جہاں تک پہنچ چکے ہیں، اب آگے کیا کرنا ہے؟ کیا بہتر کیا جاسکتا ہے؟ یہ سوچنے اور کرنے کی باتیں ہیں ناکہ یہ سوچا جائے کہ جو ہو چکا ہے اس کو کیسے واپس کیا جائے۔ گھر میں بن بلائے مہمانوں نے آ کر ماہانہ بجٹ پر اثر نہیں ڈالا ہے، یہ تقرریاں ہیں، افراد کا روز گار، ان کی زندگی کا معاشی پہیہ چلانے کا ذریعہ ؛ چلیں کسی کو لگے کہ یہ جذباتی باتیں ہیں، غیر جذباتی اور استدلال کی بنیاد پر بات کرتے ہیں۔ ان کو ادارے کے لیے بوجھ نہ سمجھا جائے۔ جس طرح فرد کی آزادی اس کی معاشی خود مختاری کے ساتھ وابستہ ہے، اور جس طرح پاکستان کی خارجہ پالیسی امریکہ اور بین الاقوامی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) کے زیر حراست ہے، اسی طرح ادارے کی خود مختاری اور آزادانہ فیصلوں کا انحصار اس کی معاشی حریت سے مشروط ہے۔ ہمیں ہاتھ پاؤں مار کر کمانے سے زیادہ سیاسی داؤ پیچ لگا کے کھانے میں دل چسپی ہے، اور اس میں بس میری ہنڈیا پکتی رہے دوسرے کی خواہ لگتی رہے۔ نقل کرنے کے لیے جتنی عقل کی ضرورت ہے، اتنی تو ہم ضرور رکھتے ہیں۔ نقل کی عادی عقل تنگ راہ داریوں کی متلاشی رہتی ہے بلکہ اس کو ان کے علاوہ کچھ سوجھ ہی نہیں سکتا، یہ مجبور دماغ ہیں، اپنی حدود میں محدود معذور دماغ۔

لیکن ان پر ترس نہیں کھایا جاسکتا، کیوں کہ یہ اپنے لیے ہمیشہ پورے پڑتے ہیں، یہ رخ ان کو خوں خوار بھیڑیا بناتا ہے۔ اگر کسی شیر یا بھیڑیے کے بچے کو پال لیا جائے تو وہ آدمیوں سے اور اپنے مالک سے مانوس ہی نہیں ہوتا اس پر مہربان بھی ہوتا ہے، اف! یہ سیاسی بھیڑیوں کی دوطرفہ مہربانیاں۔ اصول کوئی نہیں، جو ہمارا کنبہ ہے، وہ ہے، وہ بوجھ نہیں، ہمارے کنبے کی شرح پیدائش پر انگلی اٹھاؤ گے تو۔ اب آپ کو ایک غراہٹ سنائی دے گی۔ ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی تماشا کرنے میں دل چسپی ہونی چاہیے، اگرچہ کہ تماشا دل چسپ ہی ہو گا۔

گھر کے معاملے کو تھانے لے جانے میں کون رائے رکھتا ہے؟ کوئی شریف نہیں رکھتا۔ ادارے کے معاملے کو کچہری لے جانے کے بارے میں کون سوچتا ہے؟ کوئی معقول نہیں سوچتا۔ صادق و سچا ہونا عدالت جانے کی کافی وجہ نہیں، اس سچائی اور صداقت کا اظہار کیسے ہوتا ہے، یہ اپنی جگہ اتنا ہی اہم ہے جتنا خود سچائی اور صداقت کا وجود۔

میں سلیکشن بورڈ لپیٹنے پر نہ عدالت جاؤں گی اور نہ احتجاج کروں گی۔ یہ فیصلہ ادارے کی ساکھ کو متاثر کرے گا اور بالا آخر فیصلہ ساز کی فراست پر مہر تصدیق ثبت کرے گا۔

Facebook Comments HS