ڈاکٹر طاہرہ کاظمی صاحبہ سے گزارش


میں ہر روز ڈاکٹر طاہرہ کاظمی صاحبہ کی ایک نئی پوسٹ دیکھتا ہوں، جس سے روز ایک نہ ختم ہونے والی مرد و زن کی کشمکش شروع ہوتی محسوس کرتا ہوں، تو مجھے تاریخ کی سب سے متنازعہ کہانیوں میں سے خاص طور پر عورتوں اور مردوں کی نفسیات کے بیچ آراء کی کشمکش پر امریکی مصنف فرینک اسٹاکٹن کی کہانیThe Lady، or the Tiger یاد آجاتی ہے۔ امریکی مصنف فرینک اسٹاکٹن انیسویں صدی کا ایک ایسا ناکام امریکی افسانہ نویس تھا، جس کا تمام ادبی کام بے کار گیا، مگر یہ ایک ایسا شاہکار لکھ گیا۔

جس نے فرینک اسٹاکٹن کو ادبی دنیا میں ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیا۔ موجود ڈیجیٹل دنیا سے پہلے مصنف یا ناول نگار کی پذیرائی اس کے قارئین خطوط کے ذریعے کرتے تھے۔ اس نے جب بھی کوئی مقبول مصنف کوئی کتاب لکھ دیتا تو لوگ اسے خطوط لکھتے تھے، امریکی مصنف فرینک اسٹاکٹن کی اس کہانی کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ صرف اس ناول کی بدولت دنیا کی تاریخ میں کسی ایک ناول پر کسی مصنف کے سب سے زیادہ خطوط موصول ہوئے، کہا جاتا ہے کہ یہ تعداد لاکھوں یا کروڑوں میں تھی، یہ کہانی بار بار پڑھی گئی سنی گئی، دہرائی گئی، ناقدین نے اس پر بہت کلام کیا، اس ناول کی کہانی میں ایسا کیا تھا، شاید ناول میں ایسا کچھ خاص نہیں تھا لیکن اس کا سب سے بڑا کلائمکس اس کہانی کا اختتام تھا، یہ دنیا کی واحد کہانی تھی، جس کے اختتام نے اس ناول کو کلاسک کا درجہ دے دیا تھا۔

اس ناول کی کہانی کا خاصہ ہوں ہے کہ اس میں ایک بادشاہ کے بارے میں بتایا گیا ہے، وہ کسی ریاست کا بادشاہ تھا قدیم ریاستوں میں بادشاہوں کی مرضی ہی ان کا آئین ہوتا تھا، وہ بادشاہ بیک وقت نین وحشی و انصاف پسند تھا، مگر مجرموں پر ظلم کرنے میں اسے لطف آتا تھا۔ وہ اکثر ایسی سرگرمیوں کا انعقاد کرواتا رہتا تھا، جس میں قتل و خون ہو۔ جب سماجی اور سیاسی منصوبوں میں ہر کام اس کی مرضی اور فیصلے سے ہوتا تو اس کی طرح کا حلیم مزاج، نرم اور ملنسار بادشاہ بھی کہیں نظر نہیں آتا تھا، اس نے ایک عظیم الشان عوامی میدان بنوایا تھا، جہاں اس کے وحشی پن کا مظاہرہ کبھی کبھار دیکھنے کو ملتے تھا۔

یہ صرف ایک میدان نہیں تھا۔ بادشاہ کی عدالت بھی تھی۔ جو انصاف کا میدان کہلاتا تھا، جہاں بادشاہ انوکھے طریقے سے انصاف کرتا تھا۔ اس وسیع و عریض میدان میں چاروں جانب گیلریاں بنی ہوئی تھیں جن پر بڑی بڑی نشستیں اور خوبصورت پردے لہراتے تھے، اس عظیم الشان میدان میں سزائیں دی جاتی تھیں۔ جب کسی شخص پر فرد جرم عائد ہوتی، اور اگر اس شخص میں یا اس شخص کے جرم کی نوعیت میں بادشاہ کو دلچسپی رہتی تو بادشاہ کی جانب سے فرمان جاری کر دیا جاتا کہ فلاں تاریخ کو فلاں وقت مجرم کو بادشاہ کے میدان میں انصاف دیا جائے گا۔

یو جو تاریخ طے ہوتی تو پورے ریاست کے لوگوں کے لئے یہ ایک دلچسپی کا موقع ہوتا، اس تاریخ کو مقامی لوگ جوق در جوق میدان میں آ جاتے، اور میدان میں بنی گیلریوں میں بیٹھ جاتے، بادشاہ اپنے تخت پر براجمان ہوتا، اور عین نمتخت کے نیچے بنائے گئے تین دروازوں میں سے درمیان والے دروازے سے مجرم یا ملزم میدان میں داخل کیا جاتا۔ مجرم یا ملزم جس دروازے سے نکلتا، اس کے عین سامنے یعنی میدان کی دوسری جانب بالکل ایک جیسے بنے ہوئے دو دروازے ہوتے تھے، جنہیں لوگ جڑواں دروازے کہتے تھے۔

اب مجرم کو یہ فیصلہ کرنا ہوتا تھا کہ وہ دونوں میں سے کسی ایک دروازے کو چن لے، اس فیصلے پر اس کے گناہ گار یا بے گناہ ہونے کا فیصلہ ہوجاتا تھا، اپ مجرم کی زندگی کا فیصلہ ان دونوں دروازوں میں سے کسی ایک پر ہونا تھا، اس کی آئندہ زندگی کا فیصلہ ان دونوں دروازوں میں سے کسی ایک پر تھا۔ اپنی قسمت کا فیصلہ کرنا مجرم کے ہاتھ میں ہوتا، مجرم اپنا منتخب کردہ دروازہ کھولتا تو دو باتیں ہوتیں : ان میں سے ایک دروازے کے پیچھے ایک خونخوار اور بھوکا شیر رکھا جاتا تھا، تو وہ دروازہ کھلتے ہی بھوکا شیر اس ان کا جھپٹ پڑتا، چند منٹوں میں شیر اس مجرم یا ملزم کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا، اس کے فوراً بعد چاروں جانب سے آہنی گھنٹیوں کی آوازیں آنے لگتیں، اور پھر بادشاہ کے تخت کے نیچے بنے تین دروازوں میں سے بائیں جانب والے دروازے سے کرائے کے ماتم کرنے والے روتے پیٹتے، آہ و بکا کرتے ہوئے میدان میں داخل ہوتے، سامعین بالکل خاموش ہو جاتے۔ چاروں جانب سے کرائے کے ماتم کرنے والوں کی رونے پیٹنے کی آوازیں سنائی دیتیں، اور یوں یہ فیصلہ ہو جاتا کہ مجرم گنہگار تھا اور اسے اس کی سزا مل گئی۔

ہاں اگر مجرم دوسرا دروازہ کھولتا تو اس میں سے تقریباً اس کی ہم عمر ایک خوبصورت لڑکی نکلتی، جس کا انتخاب بادشاہ خود کرتا تھا۔ پھر اس لڑکی سے ملزم کی شادی کروا دی جاتی۔ بادشاہ کے قانون کے مطابق اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کہ ملزم شادی شدہ تھا یا غیر شادی شدہ، وہ واقعی بے گناہ تھا یا گناہگار تھا، اس کے بچے ہیں یا نہیں، یا وہ شادی کے لئے تیار بھی تھا یا نہیں، بس یہ فیصلہ بادشاہ کا انصاف تھا، جس نے ملزم یا مجرم کو بے گناہ بھی ثابت کر دیا اور وہ ایک خوبصورت لڑکی کا شوہر بھی بن گیا، بس یہ ملزم کی قسمت تھی کہ جیسے ہی وہ اس دروازے کا انتخاب کر لیتا تو دروازے سے لڑکی نکلتے ہی دوسری قسم کی آہنی گھنٹیاں بجنے لگتیں اور پھر بادشاہ کے تخت کے نیچے بنے تین دروازوں میں سے دائیں جانب کے دروازے سے ایک مذہبی رہنما، ڈھول، تاشے و باجے والوں سمیت داخل نکلتا، ان کے ساتھ ڈھیر ساری لڑکیاں اور لڑکے ہوتے، جو اچھلتے کودتے، خوشی مناتے ہوئے میدان میں آتے اور پھر مجرم یا ملزم کی اس لڑکی سے شادی کر دی جاتی۔ نوعمر لڑکیاں اور لڑکے میدان سے لے کر مجرم کے مکان تک پھولوں کی پتیاں بکھیرتے اور نیا شادی شدہ جوڑا اس پر چلتا ہوا اپنے گھر پہنچتا۔

بادشاہ کے عدل و انصاف کا یہ بالکل نیا اور انوکھا وضع کردہ طریقہ تھا۔ کسی کو بھی یہ نہیں معلوم ہوتا کہ کون سے دروازے میں سے شیر اور کون سے دروازے میں سے لڑکی نکل سکتی ہے، شیر اور لڑکی والے دروازے کی ترتیب بھی بدلتی رہتی تھی، اپنے تئیں بادشاہ کے اس عمل میں اگر مجرم قصوروار ہے تو اسے فوری سزا مل جاتی تھی اور اگر بے قصور ہے تو اسے موقع ہی پر انعام مل جاتا تھا، رعایا کو بھی اس بات کا بالکل اندازہ نہیں ہوتا تھا کہ وہ آج ایک خونی کھیل دیکھیں گے یا ایک مضحکہ خیز شادی، بس یہ عمل بے عوام کے لئے ایک دلچسپ تفریح کا عمل تھا اور بادشاہ کے لئے یہ انصاف کا عمل تھا۔

خیز اسی بادشاہ کی ایک جوان اور خوبصورت بیٹی تھی، جو اسے دنیا میں سب سے زیادہ عزیز تھی۔ اس کے بغیر بادشاہ کو کسی پل چین نہ آتا تھا۔ بادشاہ کے درباریوں میں ایک نہایت ہی خوبرو نوجوان تھا جس کا تعلق کسی بھی شاہی خاندان کے فرض سے نہیں تھا نہ ہی وہ کسی اعلی خاندان سے تعلق رکھتا تھا۔ اتفاق ایسا ہوا اور شہزادی اور اس نوجوان درباری کو ایک دوسرے سے محبت ہو گئی، عشق و مشک کہاں چھپائے چھپتا ہے، کچھ ہی عرصے میں بادشاہ کو اس کی خبر ہو گئی جیسے ہی اسے معلوم ہوا اس نے فوری طور پر نوجوان کو قید میں ڈلوا دیا اور پھر بادشاہ نے اپنے وضع کردہ انصاف کے معیار پر اسی میدان میں نوجوان کے لئے انصاف کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس دفعہ پوری رعایا کے لئے یہ ایک الگ معاملہ تھا کیونکہ اس سے پہلے تک عشق میں گرفتار کوئی مجرم اس میدان میں نہیں لایا گیا تھا۔ اس سے پہلے کسی بھی شخص کو بادشاہ کی چہیتی بیٹی سے محبت کرنے کی ہمت بھی نہیں ہوئی تھی۔

بادشاہ نے اس انصاف کے لیے خصوصی طور پر ریاست میں موجود سب سے وحشی و خونخوار شیر کو منتخب کیا، اور انعام کے لیے بھی سلطنت میں سب سے خوبصورت لڑکیاں تلاش کی گئی، بادشاہ نے بہت سوچ سمجھ کر عجیب سا فیصلہ کیا تھا کیونکہ اس انصاف کے تماشے میں ملزم یا مجرم کوئی بھی دروازہ کھولتا، جیت بادشاہ کی ہی ہونی تھی، بادشاہ کو اس بات کی پرواہ نہیں تھی کہ نوجوان کی قسمت میں کیا لکھا ہے، اگر شیر والا دروازہ کھلتا تو اس نوجوان کی موت ہو جائے گی، اور اگر لڑکی والا دروازہ کھلے گا تو اس صورت میں اس لڑکی سے اس کی شادی ہو جانی تھی اور وہ نوجوان درباری اس کی بیٹی کی زندگی سے دور ہو جاتا، بالآخر فیصلے کا دن آ گیا، اور تماشا دیکھنے کے لیے لوگوں کا ایک جم غفیر میدان میں پہنچ چکا تھا۔

میدان کی تمام گیلریاں بھر چکی تھیں، میدان میں جگہ نہیں تھی لوگ دیواروں پر چڑھ گئے، آج کا دن ایک عجیب دلچسپ تماشے کا دن تھا بادشاہ بھی اپنے درباریوں سمیت اپنے مخصوص تخت پر آن بیٹھا تھا۔ سبھی لوگوں کی نگاہیں ان جڑواں دروازوں پر جم گئی تھیں، بس بادشاہ کا اشارہ ملنا تھا کہ تخت کے نیچے موجود تین دروازوں میں سے درمیان والا دروازہ کھلا اور شہزادی کے محبوب نوجوان مجرم کو میدان میں داخل کر دیا گیا، اب لوگوں نے اس خوبصورت نوجوان درباری کو دیکھا، وہ اس وقت کافی میلے لباس میں تھا لیکن اس کے باوجود اس کے میلے لباس کے اس کی وجاہت کم نہیں تھی۔

نوجوان اس وقت میدان میں تھا، اور انصاف کے تقاضے پورے ہونے سے پہلے رسم کے مطابق وہ نوجوان بادشاہ کے سامنے جھکنے کے لیے مڑا تو اس کی نگاہیں شہزادی سے ملی، جو اپنے بادشاہ باپ کے ساتھ بیٹھی تھی، اس وقت شہزادی کی کیا کیفیت تھی یہ کوئی نہیں جانتا تھا، لیکن شہزادی کا شاہی محل میں اتنا اثر و رسوخ تھا کہ وہ یہ بات ضرور جانتی تھی کہ اس وقت کون سے دروازے کے پیچھے شیر ہے اور کون سے دروازے کے پیچھے لڑکی ہے، لیکن اسے بھی نہیں معلوم تھا کہ وہ لڑکا کون سے دروازے کا انتخاب کرے گا، شہزادی یہ بھی جانتی تھی کہ اس نوجوان کے لیے جس لڑکی کا انتخاب کیا گیا ہے وہ شاہی محل کی سب سے خوبصورت کنیز تھی جس کے حسن کا کوئی ثانی نہیں تھا، اس لڑکی کو سب لوگ پسند کرتے تھے ما سوائے شہزادی کے کہ شہزادی اس سے شدید نفرت کرتی تھی، شہزادی کے محبوب نوجوان درباری کے ساتھ ساتھ یہ شہزادی کا بھی امتحان تھا، شہزادی یہ کیسے برداشت کر پاتی کہ جس نوجوان سے وہ محبت کرتی ہے اس نوجوان کو شیر چیر پھاڑ دے، شہزادی یہ بھی برداشت نہیں کر سکتی تھی کہ جس سے وہ محبت کرتی ہے۔

وہ اسے ایک ایسی لڑکی کے کیسے کر سکتی تھی جس سے وہ شدید نفرت کرتی ہے۔ کسی بھی دروازے کا انتخاب شہزادی کے لیے ایک تکلیف دہ معاملہ تھا، لیکن شہزادی اپنا فیصلہ کر چکی تھی، کہ وہ اپنے محبوب کو اشارہ کرے گی جب شہزادی کے محبوب نوجوان درباری نے شہزادی کی طرف دیکھا تو اسے شہزادی کی آنکھوں میں حد سے زیادہ فکر مندی نظر آئی، شہزادی جانتی تھی کہ ان میں سے کس دروازے کے پیچھے شیر اور کس دروازے کے پیچھے خوبصورت لڑکی موجود ہے۔ جس سے وہ نفرت کرتی ہے، شہزادی کا محبوب نوجوان درباری بھی یہ بات جانتا تھا کہ شہزادی اس بات سے آگاہ ہے، کہ کس دروازے کے پیچھے کیا ہے، اور اس کی خواہش تھی کہ شہزادی دروازے کا انتخاب کرنے میں اس کی مدد کرے، شہزادی کے محبوب نوجوان درباری کی آنکھوں میں اس وقت مدد کا سوال تھا۔

شہزادی نے اپنے محبوب نوجوان درباری کو دیکھ کر آنکھوں سے اشارہ کرتے ہی اپنا دایاں بازو گاؤ تکیے سے ٹکا دیا، نوجوان درباری محبوب کو شہزادی کی طرف سے جواب مل گیا یہ عمل سیکنڈ کے ہزارویں لمحے میں ہو گیا تھا، کوئی بھی اس اشاراتی عمل کو نہیں جانچ سکا تھا، ہر شخص کی نظر نوجوان اور ان جڑواں دروازوں پر ٹکی ہوئی تھی، نوجوان بہت اعتماد سے مڑا اور انتہائی مضبوط قدموں سے چلنا دروازے کی جانب بڑھنے لگا، انصاف کے میدان میں موجود ہر شخص کا سانس رک رہا تھا سب کی نظریں اس خوبصورت نوجوان درباری پر جمی ہوئی تھیں، ہر طرف سناٹا چھایا ہوا تھا، سب لوگ دیکھنا چاہتے تھے کہ اس نوجوان کی قسمت میں کیا نکلے گا اس پورے میدان میں بادشاہ کے علاوہ صرف شہزادی کو معلوم تھا کہ نوجوان درباری جو اس کا محبوب تھا وہ کون سا دروازہ کھولے گا، نوجوان درباری کو یقین تھا کہ شہزادی اس سے پیار کرتی ہے اور چاہے گی کہ وہ زندہ رہے، اس لیے یہ ناممکن ہے کہ وہ اسے ایسا دروازہ دکھائے، جس کے پیچھے شیر ہو۔ وہ یقیناً وہی دروازہ بتا رہی ہے، جس کے پیچھے خوبصورت لڑکی ہے، جس سے اسے لامحالہ شادی کرنا ہوگی! شہزادی کا محبوب نوجوان درباری دونوں جڑواں دروازوں کے سامنے پہنچ چکا تھا اور پھر اس نے دائیں دروازے کا رخ کیا، اور اگلے ہی لمحے اس نے بغیر کسی خوف کے اس دروازے کو کھول دیا۔ اس دروازے سے کیا نکلا؟

اس ناول کا اختتام یہی کلائمکس ہے، اختتام کا نتیجہ مصنف نے قارئین پر چھوڑ دیا۔ جس نے ایک لامتناہی بحث کا آغاز کر دیا، مصنف کو لاکھوں خط لکھ کر مصنف سے اس کے اختتام کا پوچھا گیا۔ مصنف راہ چلتے کسی بازار میں پہنچتا تو لوگ اسے گھیر کر کے اس کا اختتام پوچھنا چاہتے، اس کے گھر پہنچ جاتے، لوگ اس کہانی کی بابت مصنف کا خیال جاننا چاہتے تھے کہ اگر وہ اس کہانی کا اختتام کرتا تو کیا اختتام کرتا؟

اس ناول کا مصنف فرینک اسٹاکٹن اس کے اختتام کی بابت کہتا ہے کہ

”مجھے افسوس ہے کہ میں نتیجہ کی پیشین گوئی نہیں کر سکتا، اور میں نہیں جانتا کہ دروازے سے کون نکلا، لڑکی یا شیر؟“

بس کہانی ختم ہو گئی۔
یہاں وہی سوالات پیدا ہوتے ہیں جو مرد وزن کے بیچ تعلق میں ایک نفسیاتی جنگ شروع کرتے ہیں۔

کہ کیا شہزادی کے اندر ایک رحم دل عورت جیت گئی، یا محبت کرنے والی عورت نے فتح حاصل کی؟ یا فطری طور پر مرد کو شیئر نہ کرنے والا جذبہ جیتا؟

کیا شہزادی کے محبوب نوجوان درباری شہزادی کی بات کو حقیقتاً یہ سمجھ کر قبول کر لیا کہ وہ اس کی جان ہر صورت میں بچائے گی؟ اس نوجوان کو اپنی محبت پر اتنا یقین تھا کہ اسے کامل طور پر اعزاز تھا کہ شہزادی نے جو اشارہ دیا ہے اس کی جان بچ جائے گی، وہ خود بھی اس احساس کو جانتا تھا کہ شہزادی اسے کسی اور عورت کے ساتھ شیئر ہوتا ہوا نہیں دیکھ سکے گی، اس لیے اس نے دوسرے دروازے کا انتخاب کرنا تھا؟

اس نامکمل کہانی نے قارئین کو بہت غصہ دلایا اور مرد و زن کی جنسی تقسیم کے درمیان بڑے پیمانے پر ایک تنازعہ کھڑا کر دیا

کیونکہ خواتین کے نزدیک عورتیں فطری طور پر قربانی دینے والی ہوتی ہیں اور اس بات کو ترجیح دیتی ہیں کہ ان کا عاشق یا محبوب چاہے دوسری لڑکی کی صحبت سے لطف اندوز ہو جائے مگر وہ صرف اس سے محبت کی پاداش میں ایسی دردناک موت نہ مرے ایسے حالات میں وہ اپنے محبوب کو دوسری عورت تک رسائی دے دے گی۔

جبکہ اکثریتی مردوں کا ماننا ہے کہ یہ عورت کی فطرت ہے کہ وہ کسی دوسری عورت کے ساتھ رہنے کے بجائے اپنے عاشق کو جنگلی شیر کا نوالہ بنا ڈالے گی۔

یہ ایک مرد اور ایک عورت کے رویوں اور نفسیات کے مابین ایک لامتناہی بحث کا آغاز فراہم کرنے والا ناول تھا، جس کا ہر قاری اس کہانی کے اختتام کا خود انتخاب کر سکتا ہے جیسے وہ اس معاشرے کو دیکھتا ہے۔

ڈاکٹر طاہرہ کاظمی بھی ہر روز بظاہر ایک سوال داغ دیتی ہیں اور ہر روز ایک ایسی ہی پیچیدہ بحث جو مرد وزن کے حقوق و فرائض، مرد و زن کی زندگی، نفسیاتی کیفیات اور معاشرتی عوامل کے اس کے متعامل ہونے پر ایک لامتناہی سوشل میڈیا پر بحث کا آغاز فراہم کرتے ہیں۔ اور ہر شخص اپنے نفسیاتی ادراک کے طور پر ان کا جواب دیتا ہے۔

تحریر : منصور ندیم

نوٹ: آپ چاہیں تو اس کہانی کا اختتام بھی لکھ سکتے ہیں، اور اپ چاہیں تو ڈاکٹر طاہرہ کاظمی صاحبہ کی کسی بھی پوسٹ پر اپنی رائے کسی بھی حوالے سے لکھ سکتے ہیں لیکن ایک بات کا ضرور خیال رکھیے گا کہ میری وال پہ ڈاکٹر طاہرہ کاظمی صاحبہ کے لیے کوئی بھی غیر مناسب جملہ مت لکھیے گا۔ میں ان کی بہت عزت کرتا ہوں، آپ یا میں کوئی بھی فرد کسی بھی شخص اختلاف ضرور کر سکتا ہے لیکن ذاتی حیثیت میں کوئی بھی نامناسب جملہ نہیں لکھ سکتا۔

Facebook Comments HS