ساجن پور کی رادھیکا
اس نے اب دن گننا چھوڑ دیے تھے۔ ایسا نہیں کہ کبھی حساب نہیں رکھا۔ کچھ مہینے تک وہ گنتی رہی۔ شاید چھ یا سات مہینے لیکن اب اسے مکمل یقین تھا کہ وہ مر چکی ہے اور سزا کے طور پر وہ مسلسل ایک ہی دن کو بار بار جیئے جا رہی ہے۔ ہر صبح اٹھ کر وہی دن اس کے سامنے ہوتا جس کو وہ کئی عرصے سے روز گزارتی تھی۔ اس دن ہونے والے تمام واقعات اسے رٹ چکے تھے لیکن یہ دن کبھی ختم نہ ہوتا تھا۔ وہ وقت کے ایک چکر میں پھنس چکی تھی۔
دن بھی کون سا کہ جب اس کی دوسری بہن بھی گھر سے بھاگ رہی تھی۔ بھاگتی نہ تو کیا کرتی۔ باپو نے تو سوائے نشے میں دھت رہنے کے ان کے لیے کچھ نہیں کرنا تھا اس لیے پہلے شویتا اور اب سمیتا بھی اپنے یار کے ساتھ گھر سے بھاگ نکلنے والی تھی۔ اس نے سمیتا کی پوری مدد کی تھی گھر سے بھاگنے میں۔ شاید اسی کارن ایشور اسے سزا دے رہا تھا۔ اس نے سوچا شاید ماں زندہ ہوتی تو جیون اتنا کٹھن نہ ہوتا۔
اس دن سویرے جب وہ سو کر اٹھی تھی تب سے ہی اس کا جی گھبرا رہا تھا۔ اسے رات کو ہی سمیتا نے بتا دیا تھا کہ کل شام رمیش اسے لینے آ جائے گا۔ اس نے سمیتا کے کپڑے، دو چار برتن اور لوگوں کے گھر کپڑے دھونے اور صفائی ستھرائی کے کام سے جمع ہونے والے کچھ پیسے باندھ دیے تھے۔ وہ دونوں بہنوں سے بڑی تھی۔ یہ ذمہ داری تو بنتی ہی تھی اس کی۔ باپو کا خیال اب اسے اکیلے ہی رکھنا ہو گا۔ وہ اکثر سوچتی تھی، شکل صورت کی تو میں اچھی ہوں، ان دونوں سے پہلے بھلا میں خود کیوں نہ بھاگ گئی۔
سارا دن سب معمول کے مطابق رہا تھا۔ دوپہر میں وہ جلدی گھر آ گئی تھی اور دونوں بہنوں نے خوب باتیں کیں اور روتی رہیں کہ اب جانے کب ملاقات ہو۔ باپو رات گئے آتا تھا اور کبھی کبھار نہیں بھی آتا تھا۔ شام کو رمیش آ گیا۔ بہن کو وداع کرنے کے بعد وہ چھت پر چڑھ کر دونوں کو دور جاتا دیکھتی رہی۔ غم غلط کرنے کو اس نے باپو کی ایک پرانی بوتل اٹھا لی جس میں دو گھونٹ بچے ہوئے تھے۔
سمیتا اور رمیش اب اسے نظروں سے اوجھل ہوتے محسوس ہو رہے تھے یا شاید بوتل کے نشے کا اثر تھا۔ اسی لمحے آسمان پر اس نے ایک ٹوٹتا ہوا تارا دیکھا جو کچھ دور کلیان پور کے کھیتوں کی جانب گرتا جا رہا تھا۔ وہ حیرانی سے یہ منظر دیکھتے ہوئے سن ہو کر رہ گئی تھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے آگ کا ایک بگولا کلیان پور کے کھیتوں میں نمودار ہوا اور ہوا میں ایک لہر پیدا ہوئی۔ وہ لہر اس کی طرف بڑھتی آ رہی تھی۔ اس نے سوچا لہر تو پانی میں اٹھتی ہے لیکن یہ کیسی لہر ہے جو ہوا میں آٹھ رہی ہے۔ پھٹی ہوئی آنکھوں سے اس نے ہاتھ میں پکڑی بوتل کو دیکھا اور پھر سوچا باپو بہت مست چیز پیتا ہے رے۔ وہ لہر آندھی کی طرح رادھیکا تک پہنچ گئی۔ گھر کی کھڑکیاں ٹوٹ گئیں، دروازے اکھڑ گئے اور رادھیکا دیوار سے ٹکرا کر بے ہوش ہو گئی۔ اس کی آنکھ کھلی تو پھر وہی صبح تھی اور اس کا جی گھبرا رہا تھا۔
پھر کئی مہینے گزر گئے۔ رادھیکا نے اس ایک دن میں سب کچھ کر کے دیکھ لیا مگر سویرے آنکھ کھلتی تو وہی دن سامنے ہوتا۔ تنگ آ کر اس نے پھانسی لی، چھت سے کودی لیکن بے سود۔ مر کے بھی اٹھتی تو وہی دن منہ پھاڑے سامنے کھڑا ہوتا۔ اس کی بڑی خواہش رہی کہ ڈوب کے مر جاتی لیکن نہر اتنی گہری نہیں تھی۔ سمیتا کو روز گھر سے بھگاتے اور آسمان سے تارا ٹوٹتے دیکھ دیکھ کر وہ تھک گئی تھی۔
پھر ایک دن وہ کلیان پور کے کھیتوں میں جا کر کھڑی ہو گئی۔ اس دن اسے معلوم ہوا کہ تارا نہیں یہ تو کوئی اور چیز ہے۔ شاید کوئی آسمانی بلا۔
ساجن پور میں مشرا جی کا ایک بہت بڑا گودام تھا جہاں اس کا باپو کام کرتا تھا۔ لوہے کی چادروں سے ڈھکا ہوا لمبا اور چوکور گودام۔ رادھیکا کو لگا کہ آسمان سے ویسا ہی لمبا اور چوکور لوہے کا گودام گر رہا ہے۔ اس دن تو گودام کے گرنے سے وہ مر گئی لیکن اگلے روز وہ رات کو کلیان پور کے کھیتوں کی طرف نکل گئی اور تباہ شدہ گودام کا جائزہ لیا۔ آگ بجھ چکی تھی لیکن دھواں کافی پھیلا ہوا تھا۔ گودام میں کئی دروازے اور کھڑکیاں تھیں جن میں سے سریے نکلے ہوئے تھے اور ان پر لال پیلے بلب ٹمٹما رہے تھے۔
رادھیکا ملبے کے قریب ہوئی تو اچانک ایک دروازہ کھل گیا۔ اندر بہت سی مشینیں موجود تھیں جن پر بتیاں جل بجھ رہی تھیں۔ وہ ہمت کر کے اندر چلی گئی۔ فرش پر بہت سی تاریں بکھری پڑی تھیں اور کہیں کہیں ان میں بجلی کے شعلے بھی چمک رہے تھے۔ اندر ایک بڑا سا ٹی وی لگا ہوا تھا جس پر ایک لال ڈبہ بنا ہوا تھا جو بار بار سکرین پر نمودار ہو رہا تھا۔ وہ تھوڑا اور آگے بڑھی تو اچانک ایک اور دروازہ کھلنے کی آواز آئی۔ اس نے پلٹ کر دیکھا تو ایک اور دروازہ آدھا کھلا ہوا تھا۔ اس نے زور لگا کر دھکیلا تو وہ پورا کھل گیا۔ اندھیرے میں اس کو محسوس ہوا کہ فرش پر کوئی سیدھا لیٹا ہوا ہے۔
اس نے آس پاس نظر دوڑائی اور ایک لوہے کا ٹوٹا ہوا ڈنڈا ہاتھ میں پکڑ لیا۔ اس نے ڈرتے ہوئے ڈنڈے سے فرش پر لیٹے ہوئے انسان کو ہلایا۔ اس میں کوئی جنبش نہ ہوئی۔ تھوڑی دیر کوشش کرنے کے بعد رادھیکا نے جھنجھلا کر ڈنڈا اس کی طرف اچھال دیا۔ اچانک سے ایسا لگا جیسے کوئی مشین چل پڑی ہو۔ ایک دم ہر طرف روشنی ہو گئی۔ جسے وہ انسان سمجھ رہی تھی وہ نیلے رنگ کی کوئی عجیب سی چیز تھی جس کے ہاتھ اور ٹانگیں بھی تھیں۔
اس نے ایک چیخ ماری اور باہر کی طرف بھاگی لیکن اس کے پاؤں تاروں میں الجھ گئے اور اس کا سر ٹی وی کے پاس والی میز سے ٹکرا گیا۔ رادھیکا بے ہوش ہو گئی۔ ٹی وی پر نمودار ہونے والا لال ڈبہ اب ہرا ہو گیا تھا۔ رات کا پچھلا پہر گزر چکا تھا چناں چہ اگلا دن شروع ہو گیا تھا اور اس کی آنکھ کھل گئی۔ رادھیکا اپنی چارپائی پر اٹھ کر بیٹھ گئی۔ اس کا جی آج نہیں گھبرا رہا تھا۔
رادھیکا گھر کا دروازہ کھول کر باہر نکلی تو ایک خوب صورت آدمی کو مسکراتے ہوئے دیکھا۔ بالکل جیسے وہ اسی کے انتظار میں کھڑا تھا۔ یہ تو انہونی تھی۔ اس نے آس پاس دیکھا تو ساری گلی خالی تھی اور ہوا بھی بند تھی۔ اسے لگا کہ وقت رک گیا ہے۔ شانوں تک لمبے بالوں والا وہ وجیہ اس کی طرف بڑھنے لگا تو وہ دو قدم پیچھے ہٹتے ہوئے بولی ”تو کون ہے؟“ ۔ آدمی رک گیا۔ اس کے ہونٹوں میں جنبش ہوئی اور وہ رک رک کر بولا ”میں وہی نیلی بلا ہوں جسے تم نے رات کو آسمان سے گرنے والے گودام میں دیکھا تھا“ ، اور پھر مسکرانے لگا۔ رادھیکا کی آنکھیں حیرت سے پھٹ گئیں۔ اس کے ذہن میں کئی سوال تھے لیکن وہ کچھ بول نہیں پا رہی تھی۔ وہ سر پکڑ کر زمین پر بیٹھ گئی۔
آدمی نے دوبارہ بولنا شروع کیا۔ ”مجھے تم سے معافی مانگنی ہے رادھیکا، میری وجہ سے تم وقت کے چکر میں پھنس گئی ہو۔ آج میں یہاں سے چلا جاؤں گا سو کل نیا دن ہو گا تمہارے لیے“ ۔ رادھیکا زمین سے اٹھتے ہوئے کہنے لگی، ”کہاں چلا جائے گا تو، آیا کہاں سے ہے؟ اور تجھے میرا نام کیسے معلوم؟“ آدمی نے آسمان کی طرف اشارہ کیا اور بولا، ”میں تمہاری زمین پر نہیں رہتا“ ۔ پھر رادھیکا کا ہاتھ پکڑ کر کہنے لگا ”میں نے تمہارا ذہن پڑھ لیا ہے، میں سب جانتا ہوں اور اگر تم چاہو تو میرے ساتھ بھی چل سکتی ہو“ ۔
رادھیکا کے پیٹ میں تتلیاں دوڑنے لگیں لیکن اچانک اسے نیلی بلا کا خیال آیا جسے اس نے رات کو دیکھا تھا۔ جیسے ہی اسے یہ خیال آیا وہ آدمی بول پڑا، ”تم نے میری جان بچائی ہے رادھیکا۔ میں تمہارے لیے ہمیشہ ایسا ہی رہوں گا لیکن کوئی زبردستی نہیں ہے، جیسا تم چاہو“ ، اور پھر رادھیکا کا ہاتھ چھوڑ کر مسکرانے لگا۔
اگلا دن چڑھ گیا تھا۔ رادھیکا کی چارپائی خالی تھی۔ گاؤں میں شور مچا تھا کہ شانتی لعل کی باقی دو بیٹیاں بھی گھر سے بھاگ گئی ہیں۔ کسی نے شانتی لعل کو ڈھونڈ کر خبر کی جب وہ مشرا جی کے گودام کے پچھواڑے میں اوندھے منہ پڑا سو رہا تھا۔ اس نے یہ خبر سن کر پاؤں میں پھنسی چادر کھینچی اور زمین کی طرف دیکھ کر کہنے لگا، ”یہ سسرا گاؤں کا نام ہی غلط ہے، سارے ساجن میری بیٹیوں کو ہی کیوں مل جاتے ہیں“ ۔ اور موٹی سی گالی دے کر چادر منہ تک تان کر پھر سو گیا۔


