حرکت کا سائنسی تصور – حصہ سوم
نیوٹن کے آفاقی کشش ثقل کے قانون نے سیاروں کے مداروں کا حساب لگانا اور فلکیاتی واقعات کی پیش گوئی کرنا ممکن بنایا جس کے نتیجے میں نیپچون کی حتمی دریافت اور بیرونی خلا کی تلاش شروع ہوئی۔ نیوٹن کے حرکت کے قوانین انجینئرنگ کے بنیادی اصول ہیں، جو ہمیں پلوں سے لے کر خلائی جہاز تک ہر چیز کو درستگی کے ساتھ ڈیزائن کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ اس کے تحقیق کے طریقوں اور ریاضی کی مشق نے سائنس میں سائنسی طریقہ کار اور تنقیدی سوچ کی بنیاد رکھی۔ نیوٹن کے قوانین اب بھی ہر فزکس کلاس روم میں پڑھائے جاتے ہیں اگرچہ آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت اور کوانٹم میکانکس کی آمد سے ان میں بہتری آئی ہے تاہم وہ روزمرہ کے حالات میں ناقابل یقین حد تک درست رہتے ہیں۔
سترہویں صدی عیسوی میں نیوٹن کے کام اور تجرباتی طریقے کار پر زور دینے کی وجہ سے نت نئے آلات سامنے آنے لگے اور ساتھ ہی ساتھ سائنس انتہائی مخصوص حلقوں اور افراد سے نکل کر زیادہ عام ہونے گی۔ سائنسی ادارے پروان چڑھنے لگے۔ اسی صدی کے ابتدائی سالوں میں اٹلی میں سائنسی سوسائٹیز کا آغاز ہونے لگا جس سے مغربی دنیا میں بتدریج دو عظیم قومی سائنسی ادارے سامنے آئے جو سائنسی انقلاب کے عروج کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ایک رائل سوسائٹی آف لندن برائے قدرتی علم تھا جسے ایک شاہی معاہدے کے ذریعے 1662 میں تشکیل دیا گیا اور دوسرا اکیڈمی ڈی سائنسز آف پیرس تھی جو 1666 میں قائم ہوئی۔ ان اداروں نے سائنسی مقالے شائع کرنا شروع کر دیے۔ بہرحال، رائل سوسائٹی کا جریدہ ’فلسفیانہ ٹرانزیکشنز‘ اس نوعیت کا پہلا پیشہ ور سائنسی جریدہ تھا۔ اس کے بعد جلد ہی فرانسیسی اکیڈمی نے ’میموئرز‘ نامی سائنسی جریدہ نکالا۔
یاد رہے یہ دور ہندوستان میں مغلیہ سلطنت کے بادشاہ اورنگزیب عالمگیر کا تھا۔ ہمارے یہاں کی سب سے بڑی کتاب ’فتاوٰی عالمگیریہ‘ اسی دور کی یادگار ہے جس کی تدوین میں شاہ ولی اللہ کے والد بھی شامل تھے مگر اس عظیم مغلیہ سلطنت میں کوئی بڑی سائنسی تھیوری یا تجربہ گاہ سامنے نہیں آئی۔ برصغیر کے سلاطین اور علماء مغرب میں برپا ہونے والے سائنسی انقلاب سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکے ماسوا یہ کہ ان سے اسلحہ اور دیگر ٹیکنالوجی کی چند اشیاء خرید سکیں۔
بادشاہ مغرب سے لی گئی توپوں اور دوربینوں کو جنگوں ہی میں استعمال کرتے رہے اس کو بہتر بنانا اور اس کے کام کرنے کے اصول سیکھنے پر توجہ نہیں دی گئی۔ ادھر ایران میں صفوی حکومت قائم تھی جس کی بنیادوں میں تصوف پر مبنی لٹریچر موجود تھا اور شاہ عباس دوم کا دور تھا۔ ملا صدرا (متوفی 1640 ) اسی عہد میں اپنے فلسفہ اصالت وجود کو پیش کر چکا تھا جسے صفوی عہد کا سب سے بڑا کارنامہ قرار دیا جاتا ہے۔ اس کا فلسفہ حرکت جوہری بھی فلوطین کے تصوف اور قیاس آرائیوں پر مشتمل تھا جسے اس نے اپنی مشہور کتاب ”اسفار اربعہ“ میں پیش کیا جس میں اس نے قدیم یونانی تصور جوہر پر سارا وقت ضائع کیا اور جدید سائنس کی بنیاد یعنی تجربات اور ریاضیاتی تعقل سے دور رہا۔
جبکہ اسی دور کے مغرب میں سائنسی انقلاب آنے کے بعد بہت سے نئے شعبوں میں ترقی ہوئی۔ یہ نیوٹن ہی تھا جس نے آگے کا راستہ دکھایا۔ میکروسکوپک دنیا یا انسانی آنکھ کے مشاہدے میں آنے والی اشیاء کو سمجھنے کے لیے نیوٹن کی کتاب پرنسپیا کافی تھی۔ نیوٹن کے حرکت کے تین قوانین اور عالمگیر کشش ثقل کا اصول روزمرہ کی اشیاء کے مکینیکل تعلقات کا تجزیہ کرنے کے لیے ضروری ہیں جس کے لئے کیلکولس نے ضروری ریاضیاتی اوزار فراہم کر دیے تھے۔
خوردبینی دنیا کے لیے نیوٹن نے دو طریقے فراہم کیے ہیں۔ اس نے چھوٹے پیمانے کی اشیاء کو بھی ذرات پر مشتمل قرار دیا اور ان کے درمیان مختلف قوتوں کو فرض کیا جن سے پھر ان اشیاء کے قوانین دریافت ہو سکے۔ ان قوتوں کو دوسرے مظاہر کی پیشین گوئی کے لیے استعمال کیا گیا جیسے ہوا میں آواز کی رفتار معلوم کرنا۔ دوسرا، نیوٹن کے طریقہ کار نے میکروسکوپک دنیا کے قوانین کی دریافت کو ممکن بنایا جن کا حساب خوردبین قوتوں سے کیا جا سکتا ہے۔
یہاں بنیادی کام پرنسپیا نہیں بلکہ نیوٹن کا تجرباتی طبیعیات کا شاہکار Opticks تھی جو 1704 میں شائع ہوئی جس میں اس نے دکھایا کہ کس طرح کسی موضوع کو تجرباتی طور پر جانچا جائے اور اس میں چھپے ہوئے قوانین کو دریافت کیا جائے۔ نیوٹن نے دکھایا کہ مفروضوں کا منصفانہ استعمال اس وقت ہی مزید تجرباتی تحقیقات کا راستہ کھول سکتا ہے جب کہ ایک مربوط نظریہ حاصل ہو۔ آپٹکس پر نیوٹن کے کام نے اٹھارہویں اور انیسویں صدی کے اوائل میں حرارت، روشنی، بجلی، مقناطیسیت اور کیمیائی ایٹموں کی تحقیقات کے لیے اولین ماڈل کے طور پر کام کیا۔
بہت سے میکانکی مسائل کو ریاضیاتی مسائل میں بدل دیا گیا جو تیزی سے جدید ترین تجزیاتی طریقوں سے حل کرنے کے قابل ثابت ہوئے۔ سوئٹزرلینڈ کے اؤلر نے ریاضیاتی طبیعیات میں تغیرات کی کیلکولس Calculus of variation دریافت کی جس نے انتہائی پیچیدہ مسائل سے نمٹنے کے لیے ایک طاقتور ذریعہ فراہم کیا۔ فرانس میں ڈی المبرٹ اور لگرانج نے مکینکس کو مکمل طور پر ریاضیاتی شکل میں ڈھالنے میں کامیابی حاصل کی اور اسے بدیہیات axioms کے نظام میں تبدیل کر دیا۔
لیپلاس نے نیوٹن کے کام کو بڑھاتے ہوئے بتایا کہ سیاروں کی کشش ثقل کے تعامل کی وجہ سے سیاروں کے مداروں کی ہنگامہ آرائی درحقیقت متواتر periodic ہوتی ہے اور اس لئے نظام شمسی مستحکم ہے۔ 1780 کی دہائی میں کولمب نے ٹارشن بیلنس ایجاد کیا اور پھر اس کا استعمال کرتے ہوئے برقی اور مقناطیسی قوتوں کی پیمائش کی اور ثابت کیا کہ یہ قوتیں نیوٹن کے عالمگیر کشش کے قانون کی پیروی کرتی ہیں۔ 1820 میں اورسٹیڈ Oertsedنے بجلی اور مقناطیسیت کا باہمی تعلق اس طرح سے ثابت کیا کہ تار کے ذریعے برقی رو کے گزرنے سے قریبی مقناطیسی سوئی متاثر ہوتی ہے۔
اس بنیادی دریافت کو مائیکل فیراڈے نے استعمال کیا اور برقی رو اور مقناطیس سے پیدا ہونے والی قوتوں پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے فیلڈ تھیوری کی بنیاد رکھی۔ ایک اہم سوال اس دور میں یہ بھی اٹھا کہ جب برقی توانائی مقناطیسی توانائی میں بدل جاتی ہے، یا حرارت یا روشنی یا کیمیائی تعلق یا مکینیکل طاقت میں بدل جاتی ہے تو کیا کوئی چیز ضائع ہوتی ہے؟ فیراڈے نے اپنے تجرباتی مشاہدات کی بنیاد پر بتایا کہ مخصوص مقدار میں برقی ”قوت“ مخصوص مقدار کے کیمیائی مادوں کو ڈی کمپوز کرتی ہے۔ اس کام کے بعد جیمز جول، رابرٹ مائر، اور ہیلم ہولٹز وغیرہ نے فزکس کے مشہور بنیادی تصور یعنی ”قانون برائے توانائی“ کو کھوج نکالا۔
انیسویں صدی میں حرارت کے مطالعہ کو تھرموڈائنامکس یا حرحرکیات کی سائنس میں تبدیل کر دیا گیا جس کی بنیاد ریاضیاتی تجزیہ پر تھی۔ فریسنل نے ریاضیاتی طور پر روشنی کے قوانین کو فیلڈ تھیوری سے بدل دیا۔ اور بجلی اور مقناطیسیت کے مظاہر کو ولیم تھامسن، لارڈ کیلون اور جیمز کلرک میکسویل نے چند سادہ ریاضیاتی مساواتوں کی شکل میں تبدیل کر دیا۔ صدی کے آخر تک، قانون بقائے توانائی اور تھرموڈینامکس کے دوسرے قانون کی بدولت، طبعی دنیا عین ریاضیاتی شکلوں کے لحاظ سے مکمل طور پر قابل فہم دکھائی دینے لگی۔
فزکس کے علاوہ دوسرے علوم میں منظم ہونے اور تنقیدی نظام فکر کی کوشش شروع میں اتنی تیزی سے کامیاب نہیں ہو سکی۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ ان میں حقائق کی تعداد بے حساب تھی اور اتنے زیادہ حقائق کو کسی سادہ نظریہ میں پرونا ایک مشکل کام تھا۔ مثال کے طور پر کیمیا میں قرون وسطیٰ اور ابتدائی جدید کیمیا دانوں کے کام سے اہم نئے مادے اور عوامل جیسے معدنی تیزاب اور کشید کا طریقہ برآمد ہوئے لیکن اس شعبے میں بھی صوفیانہ باتوں نے جدید سائنسی نظریات کی دریافت کو پس پشت ڈال رکھا تھا۔
قدیم یونانیوں بالخصوص ارسطو کے زیر اثر قدرتی اشیاء کو صرف چار بنیادی عناصر پر مشتمل سمجھا جاتا تھا یعنی زمین، ہوا، آگ اور پانی اور ان کو ’تاثیر‘ کے اعتبار سے گرم، سرد، خشک اور تر میں تقسیم کیا جاتا تھا۔ ہومیوپیتھی اور دیسی دوا خانے آج بھی ایسی جہالت کا شکار ہیں۔ اگرچہ ارسطو سے قبل چوتھی صدی قبل مسیح میں دو یونانی فلسفیوں ڈیموکریٹس اور لیوکیپس نے تجویز کر رکھا تھا کہ مادہ لامحدود طور پر چھوٹے ذرّات میں تقسیم نہیں ہوتا بلکہ بنیادی ناقابل تقسیم ذرات پر مشتمل ہوتا ہے جسے ایٹم کہتے ہیں۔
مگر بدقسمتی سے ان قدیم فلسفیوں کے پاس اپنے مفروضے کو جانچنے کے لیے ٹیکنالوجی نہیں تھی اور نہ ہی قدیم یونانیوں کے ہاں تجربات یا مظاہر سے اصول یا نظریہ اخذ کرنے کا سائنسی طریقہ کار موجود تھا۔ قرون وسطیٰ اور نشاۃ ثانیہ کے دوران الکیمی کے نام سے قیاس آرائی پر مبنی فلسفے کے زیر اثر کیمیا دان بعض عناصر کو دوسرے قیمتی عناصر میں تبدیل کرنے کی کوشش کرتے رہے جسے وہ ٹرانسمیوٹیشن کہتے تھے۔
سائنسی انقلاب اور نیوٹن کے میکانکی فلسفے کے زیر اثر پہلی مرتبہ انگلینڈ میں رابرٹ بوئل نے تجربات کی پیداواری صلاحیت اور کیمیائی عمل کے مکینیکل تصورات پر زور دے کر کچھ فکری پست روی کو دور کرنے کی کوشش کی۔ کیمیائی توازن کے وسیع اور محتاط استعمال سے جوزف بلیک نے معلوم کیا کہ مخصوص خصوصیات والی ہوا، ان بجھے چونے quicklime جیسے ٹھوس مادوں کے ساتھ مل سکتی ہے اور ان سے الگ کی جا سکتی ہے۔ اس دریافت نے ”ہوا“ کی خصوصیات پر توجہ مرکوز کرنے کا کام کیا۔
جدید کیمیا دانوں نے بہت سی مخصوص گیسیں دریافت کیں اور ان کی مختلف خصوصیات کی چھان بین کی۔ کچھ گیسیں آتش گیر تھیں اور کچھ شعلوں کو بجھانے کا کام کرتی تھیں۔ کچھ گیسوں کے استعمال نے جانوروں کو مار ڈالا جبکہ دوسری گیسوں نے انہیں زندگی بخشی۔ یوں گیسوں کے ”جوہر“ کے بجائے ان کی ماہیت یا ظاہری خصوصیات سامنے آئیں۔ اور قدیم یونانیوں کے برعکس مادے کی نئی تعریف سامنے آئی جس میں افلاطونی مثل آئیڈیاز یا ارسطوئی ہیولے کے بجائے عناصر اور ایٹم یا مالیکیول سے چیزوں کو سمجھا گیا۔
کیمسٹری کا نیوٹن، فرانس کے لاوئہزے کو کہا جاتا ہے۔ پہلے پہل یہ خیال تھا کہ جسم جلنے کے عمل میں ایک مادہ بنام ”سوزش“ چھوڑتا ہے (جسے فلوجسٹن کہا جاتا ہے ) ۔ لاوئہزے نے کثیر تجربات سے ثابت کیا کہ جلنے کا عمل دراصل ایک مخصوص گیس کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے جسے اس نے آکسیجن کا نام دیا۔ لاوئہزے نے ہی یہ اصرار کیا کہ عناصر کی صفات کو منطقی اور مستقل طور پر درجہ بندی کرنا تب ہی ممکن ہے اگر ان کو اجزاء (جیسے ایٹم یا ملیکیول ) میں تحلیل کیا جائے۔
جان ڈالٹن کے اس بنیادی مفروضے کی بنیاد پر کہ ایٹموں سے بنی اشیاء صرف اپنے وزن میں ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہیں، کیمیا دان عناصر کی بڑھتی ہوئی تعداد کی نشاندہی کرنے اور ان کے تعاملات کو بیان کرنے والے قوانین قائم کرنے کے قابل ہو گئے۔ عناصر کو ان کی ایٹمی کمیت اور ان کے تعاملات کے مطابق ترتیب دیا گیا جس کا نتیجہ مینڈیلیف کا پیریاڈک ٹیبل یا دوری جدول تھا۔ اس سے یہ بھی واضح ہو گیا کہ عناصر کی خصوصیات ان میں موجود ایٹمی ساخت پر منحصر ہوتی ہیں۔
حیاتیات کے شعبے میں ترقی فزکس اور کیمسٹری کی نسبت قدرے دیر سے ہوئی۔ نباتات اور حیوانیات دونوں میں نئے نمونوں کی بھرمار نے درجہ بندی کی طرف توجہ دلائی۔ اٹھارہویں صدی میں ایک سویڈش ماہر فطرت کارل وون لین نے جو کہ اپنے لاطینی نام لینیس کے نام سے جانا جاتا ہے، نے binomial nomenclature کا نظام متعارف کرایا۔ لینیس کا نظام صرف چند کلیدی ڈھانچوں پر مشتمل تھا اس لئے اس کے مصنوعی پن پر شدید تنقید کے نتیجے میں یہ خیال ابھرا کہ تمام انواع کسی نہ کسی قسم کے جینیاتی تعلق سے جڑی ہوئی ہیں۔
یہ خیال سب سے پہلے فرانسیسی باشندے لامارک نے سائنسی طور پر واضح کیا کہ وقت کے ساتھ انواع میں تبدیلی آتی ہے۔ لامارک کا نظام بڑی حد تک عمومی قبولیت حاصل کرنے میں ناکام رہا کیونکہ اس نے ایک قدیم ارسطوئی تصور حرکت پر انحصار کیا تھا جس کے مطابق ہر جاندار نقص سے کمال کی طرف حرکت کرتا ہے۔ ارسطو نے جن چار علتوں یعنی مادی، صوری، فاعلی اور غائی علت کی بات کی تھی وہ اب جدید سائنس میں اپنا مقام کھو چکیں تھیں۔
تاہم ارتقاء کا تصور آگے بڑھتا رہا اور آخر کار چارلس ڈارون نے اسے سائنسی حیثیت تک پہنچا دیا۔ ڈارون نے نہ صرف انواع کی تبدیلی کے تصور کی حمایت کرنے والے اعداد و شمار کا ذخیرہ اکٹھا کیا بلکہ وہ ایک ایسا طریقہ کار بھی تجویز کرنے میں کامیاب رہا جس کے ذریعے ماورائی طاقت کا سہارا لیے بغیر خالصتاً قدرتی اسباب کے ذریعے ارتقاء ہوتا ہے۔ ارتقاء کا یہ طریقہ نیچرل سلیکشن کہلاتا ہے جس کے مطابق اولاد میں لمحہ بہ لمحہ ہونے والے تغیرات، بقا کی جنگ میں یا تو اگلی نسل کو راس آ جاتے ہیں یا ختم ہوتے جاتے ہیں۔
انیسویں صدی کی حیاتیات میں سب سے بڑا انقلاب بیماری کی وجہ جراثیم قرار دیا جانا تھا۔ یہ نظریہ فرانس میں لوئس پاسچر اور جرمنی میں رابرٹ کوچ نے پیش کیا۔ ان کی تحقیقات کے ذریعے بہت سی بیماریوں کی وجہ مخصوص بیکٹیریا قرار پائے۔ پاسچر کے وضع کردہ مدافعتی طریقوں کے ذریعے بنی نوع انسان کی کچھ اہم بیماریوں کو قابو میں لایا گیا۔ 1928 میں الیکزینڈر فلیمنگ کی پنسیلین کی دریافت نے بیکٹیریا کی انفیکشن سے لگنے والی بیشتر بیماریوں کا علاج کیا۔
آج کے دور میں جینیاتی انجینئرنگ اور اس کے نتیجے میں جین ایڈیٹنگ کی ترقی ڈی این اے کو تبدیل کرنے کا ایک انتہائی درست اور موثر ذریعہ بن چکے ہیں۔ اگرچہ سائنس کے کرشمات کی تاریخ بہت گھنی ہے مگر اس کا طریقہ کار انتہائی سادہ اور چند بنیادی فکری تصورات پر مبنی ہے جنہیں اختیار کرنے سے آج بھی کوئی ملک یا قوم تیزی سے ترقی کر سکتی ہے اور تقلید پرست روش سے ہٹ کر علمی میدان میں نئے کارنامے سرانجام دینے میں مدد کر سکتا ہے۔


