کشمیر جل رہا ہے


نام نہاد ”آزاد“ کشمیر گزشتہ دو دن سے کشمیر کی تاریخ کے شدید ترین احتجاج کی لہر دیکھ رہا ہے۔ پچھلے دو دنوں سے کشمیر میں تمام تعلیمی ادارے بند، دفاتر میں تالے اور دکانوں کے شٹر ڈاؤن ہیں۔ آزاد کشمیر کی تاریخ میں پہلی بار ایک ساتھ دس میں سے سات اضلاع میں دفعہ 144 نافذ کی گئی ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ دیکھنے کو نہیں مل رہی اور کشمیر کے تمام اضلاع سے لوگ گروہ در گروہ مظفر آباد کی طرف مارچ کر رہے ہیں۔

اس عرصے میں پولیس کی جانب سے رکاوٹ بننے پر عوام مشتعل ہو کر پر تشدد کارروائیوں پر بھی اتر آئے جس کا شکار ہو کر کئی پولیس والے جان کی بازی ہار بیٹھے اور بہت سے زخمی ہو کر ہسپتالوں میں جا پہنچے۔ یہی صورتِ حال سویلینز کے ساتھ بھی ہے۔ یہ خون ریزی قابلِ مذمت ہے۔ نہیں ہونی چاہیے مگر اس سب کی تمام تر ذمہ دار آزاد حکومت ہے جو احتجاج کرنے والوں کی بات سننے میں سنجیدہ نہیں۔ احتجاج کنندگان کے مطالبات پر بات چیت کی بجائے، حکومت نے ریاستی پولیس کی مدد کے لئے پاکستان سے رینجرز اور ایف سی کی فورسز منگوائی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق رینجرز کو پہلے کوہالہ سے واپس مڑنا پڑا۔ بعد ازاں دوبارہ مظفر آباد کی طرف پیش قدمی کا حکم ملا مگر انہیں کوہالہ سے نو دس کلو میٹر بعد شاہدرہ کے مقام پر ایک بار پھر مقامی نوجوانوں نے سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کر کے روک دیا اور تاحال انہیں آگے نہیں بڑھنے دیا گیا۔

آخر یہ معاملہ کیا ہے؟ کس بات پر احتجاج ہو رہا ہے۔ اس کا پسِ منظر کیا ہے۔ آئے دیکھتے ہیں۔

یہ مئی 2023 کی بات ہے جب آزاد کشمیر کے ایک خوبصورت شہر راولاکوٹ میں، جو کہ ضلع پونچھ کا صدر مقام ہے ٫ چند رضاکاروں نے آٹے اور بجلی کی بڑھتی قیمتوں کے خلاف ایک دھرنا شروع کیا جو جلدی ہی مقبول ہو گیا، اس کے بعد بجلی کے بلوں کا بائیکاٹ ہوا۔ اور لوگوں کی بڑی تعداد نے اپنے بلز نذرِ آتش کر دیے۔ آزاد کشمیر کے محکمہ بجلی کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، کئی ماہ تک مسلسل 70 سے 80 فیصد صارفین نے بلوں کا بائیکاٹ کیا، کچھ علاقوں میں بلوں کے بائی کاٹ کی شرح 93 فیصد تک بھی پہنچ گئی۔

ابتدائی طور پر، یہ تحریک پونچھ ڈویژن تک محدود رہی مگر پھر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی تشکیل کے ساتھ ہی یہ تحریک میرپور اور مظفرآباد تک پھیل گئی۔ آزاد کشمیر کی حکومت نہ صرف اس احتجاج کو ہینڈل کرنے بلکہ اس تحریک کے نوجوان رہنماؤں کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کا مقابلہ کرنے میں بھی ناکام رہی، جنہوں نے احتجاج کے دوران کشمیر کی روایتی قیادت کی مقبولیت کو کوسوں پیچھے چھوڑ دیا۔

ابتدائی طور پر حکومت نے حسبِ معمول دھونس سے کام لینے کی کوشش کی، لوگوں پر ایف آئی آرز کاٹیں۔ اور تحریک کے رہنماؤں کو گرفتار کیا، مگر پھر عوامی دباؤ کے تحت انہیں رہا بھی کر دیا۔ بعد ازاں آزاد کشمیر کی حکومت نے پاکستان سے بھی اس معاملے پر مدد مانگی۔ مگر اسلام آباد والوں کے اپنے مسائل ایسے ہیں کہ ان کے پاس اس ”ثانوی“ مسئلے کے حل کے لئے، وقت ہے نہ نیت٫ کہ کشمیری لوگوں کے مسائل کا حل اسلام آباد کی ترجیح کبھی بھی نہیں رہا۔

گزشتہ مارچ میں شروع ہونے والی احتجاج کی یہ نئی لہر اسی مئی 2023 والے احتجاج کا پارٹ ٹو ہے۔ عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت میں لوگ دوبارہ سڑکوں پر نکل پڑے ہیں۔ کمیٹی کی کال پر ہر ضلعے سے لوگ گروہ در گروہ مظفر آباد کی طرف رواں دواں ہیں۔ اس احتجاجی تحریک کو جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی لے کر چل رہی ہے۔ کمیٹی نے ایک چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کر رکھا ہے جس کی منظوری تک احتجاج جاری رکھا جائے گا۔ اس احتجاج کے دوران پر تشدد واقعات کا جنم لینا ایک افسوس ناک امر ہے۔ تشدد کی ان لہروں میں پولیس اور عوام دونوں جانب کے لوگ مارے گئے اور زخمی بھی ہوئے۔ حکومت کا کام ہے کہ وہ تحمل اور ہم دردی سے لوگوں کے مطالبات سنے اور جو مطالبات واقعی جینیوئن ہیں، انہیں فی الفور پورا کرے۔

حکومت نے بہت وقت ضائع کرنے کے بعد کمیٹی سے کل مذاکرات کیے مگر اطلاعات کے مطابق مذاکرات ڈیڈ لاک کا شکار ہو کر ناکام ہو چکے ہیں۔ اب صورتِ حال یہ ہے کہ تمام اضلاع سے آنے والے قافلے مظفر آباد کی طرف رواں دواں ہیں۔ عوام کا ایک سیلِ بلا خیز ہے جو دار الخلافہ کی جانب امڈا چلا آ رہا ہے۔ لوگ انتہائی چارجڈ ہیں۔ اگر حکومت نے انہیں سختی سے روکنے کی کوشش کی تو ایک خونیں ہنگام برپا ہو جانے کا قوی خدشہ ہے۔ خاص طور پر اگر پاکستان سے آئے ہوئے رینجرز نے کوئی کارروائی کی تو اس کا نتیجہ بہت بھیانک نکل سکتا ہے۔

آزاد کشمیر پولیس کے ایک سینئر افسر کے بقول، بات چیت کے علاوہ کسی اور ایکشن کا نتیجہ، آزاد کشمیر کی تاریخ کے سیاہ ترین دن کی صورت میں بھی دیکھنا پڑ سکتا ہے۔ مکمل انارکی، اور سول نافرمانی ریاست کے دروازے پر دستک دے رہی ہیں۔ ہندوستان کا میڈیا اچھل اچھل کر ادھر کے حالات پر رپورٹنگ کر رہا ہے۔ یہ صورتِ حال پاکستان کے لئے بین الاقوامی سطح پر ایک بار پھر سبکی اٹھانے کا باعث بن سکتی ہے۔ لہذا یہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے کہ کشمیریوں کے تمام جائز مطالبات مان کر یہ احتجاج ختم کروایا جائے تاکہ گزشتہ دو دنوں سے مفلوج ریاست کا کاروبار پھر سے بحال ہو۔ یہاں زندگی ایک بار پھر رواں دواں ہو اور گلشن کا کاروبار پھر سے چل اٹھے۔

عوامی چارٹر آف ڈیمانڈ تصویر میں ملاحظہ کریں۔

Facebook Comments HS

مظفر حسین بخاری

ایم ایچ بخاری ڈیویلپمنٹ پروفیشنل ہیں اور ایک ملٹی لیٹرل ترقیاتی ادارے سے منسلک ہیں۔ کوہ نوردی اور تصویر کشی ان کا جنون ہے۔ مظہر کے تخلص سے شعر کہتے ہیں۔

muzzafar-hussain-bukhari has 32 posts and counting.See all posts by muzzafar-hussain-bukhari