آر پار کشمیری برسرِ پیکار


تقسیم ہند کے برطانوی فارمولے کی ٹیڑھی کھیر آج 2024 میں بھی جوں کی توں ہے۔ خطہ جموں و کشمیر کے کروڑوں باشندے گزشتہ سات دہائیوں کے پیہم سیاسی و سماجی بحرانوں سے دوچار ہیں۔ جنت نظیر وادی! سات لاکھ سے زیادہ بھارتی افواج کے بہیمانہ سلوک اور بھارت کے غاصبانہ تسلط سے آزادی کی جدوجہد کرنے والوں کے درمیان پستے کشمیریوں کی بربادی اور تباہی کی داستان بن چکی ہے۔ مودی حکومت کی جانب سے بھارت کے آئین میں دی گئی جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد جہاں ایک طرف امریکہ، برطانیہ اور یورپی یونین سمیت مغربی ممالک کی جانب سے کوئی مذمتی ردعمل دیکھنے کو نہیں ملا وہیں اسلامی دنیا نے بھی مذکورہ مدعے پر اپنے دیرینہ موقف کے بارے کسی حساسیت کا اظہار ضروری نہ سمجھتے ہوئے بات آئی گئی کر دی۔

ایٹمی اسلحے سے لیس روایتی حریفوں کے مابین کشمیر تنازعے کے حل کے لیے ماضی میں ہونے والی سفارتی پیش رفت کے تحت لائن آف کنٹرول کے آر پار کشمیریوں کی آمد و رفت اور باہمی تجارت بھی کئی سالوں سے بند پڑی ہے۔ بی جے پی کی مودی سرکار کے آرٹیکل 370 کے خاتمے کو عمومی طور پر دونوں ممالک کے درمیان جاری کسی خفیہ ڈیل سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کشمیر تنازعے پر محاذ آرائیوں کے نتائج بھگتے اربوں انسان اب اس قضیے سے جان چھڑا کر امن و ترقی کے راستے پر آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔

پاکستان کے زیر انتظام آزاد کشمیر کی سیاست کے بارے عام تاثر یہی ہے کہ اسے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد اور عسکری مرکز، راولپنڈی سے براہ راست کنٹرول کیا جاتا ہے۔ آزاد جموں کشمیر سرکار نے حالیہ دنوں کی سیاسی افراتفری کے دوران جس غیر سنجیدگی اور انتظامی ناکامی کا مظاہرہ کیا اس کی وجہ سے مقامی معاملات پر مشتمل مطالبات کا مدعا عالمی میڈیا کی توجہ حاصل کر چکا ہے۔

آزاد کشمیر کے ضلع کوٹلی کے علاقے ڈھیڈیال میں اسسٹنٹ کمشنر کے ساتھ ہوئے واقعے نے گزشتہ سال مئی کے مہینے میں عمران خان کی گرفتاری کے بعد کور کمانڈر لاہور کی وردی کے ساتھ ہوئے سلوک کی یاد تازہ کر دی۔ توجہ طلب نکتہ یہ ہے کہ کشمیریوں کی تقریباً نصف آباد مستقل یا جزوی تارکین وطن پر مشتمل ہے جو برطانیہ سمیت یورپ امریکہ اور مڈل ایسٹ میں مقیم ہیں۔ برطانیہ میں آباد زیادہ تر کشمیری میرپور، کوٹلی بھمبر وغیرہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ برطانوی پارلیمنٹ میں بھی کشمیری نژاد اراکان کی نمائندے اپنا سرگرم ادا کرتے ہیں۔ یورپین یونین کشمیر قضیے کو خصوصی اہمیت دیتی ہے۔

موجودہ صدر آزاد کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری گھاٹ گھاٹ کا پانی پی چکے ہیں۔ جبکہ وزیر اعظم انوار الحق کا تعلق پی ٹی آئی کے فارورڈ بلاک سے ہے جو ایک عدالتی حکم کے تحت نا اہل قرار دیے جانے والے سردار تنویر الیاس کی جگہ اچانک نمودار ہو کر وزارت عظمیٰ تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے تھے۔ اے جے کے میں بجلی اور آٹے کی قیمتوں پر شروع ہوئے گزشتہ ایک سال کی بے چینی اور احتجاج کا تسلسل ہے جس میں انجمن تاجران کے علاوہ وکلاء، سول سوسائٹی، طلبہ، روایتی نیشنلسٹ پارٹیوں کے علاوہ خطے میں سرگرم دیگر سیاسی جماعتیں بھی شامل ہیں۔

احتجاج کی چلتی لہر کے دوران پورے کشمیر میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال اور ٹرانسپورٹ کی بندش جاری ہے۔ مظفر آباد حکومت کی جانب سے امن و امان قائم رکھنے کے لیے پولیس کے علاوہ پنجاب اور فرنٹیئر کانسٹیبلری کو بھی سٹینڈ بائی کیا گیا ہے۔ شہریوں سے جھڑپوں کے دوران پرتشدد واقعے میں ایک اے ایس آئی کے جانبحق ہونے کے بعد صورت حال مزید کشیدہ دکھائی دیتی ہیں۔ احتجاجی مظاہرین مظفر آباد پہنچ کر اپنے مطالبات پیش کرنا چاہتے ہیں جسے روکنے کی کوشش نے معاملات کو مزید خراب کیا ہے۔

برطانیہ سمیت اوورسیز کشمیری کیمونٹی میں آزاد کشمیر کی صورتحال کے حوالے سے گہری تشویش پائی جاتی ہے جبکہ بگڑتی صورتحال کے متعلق صدر پاکستان جناب آصف علی زرداری نے بھی آج بروز اتوار اسلام آباد میں ایک اعلی سطح کا اجلاس طلب کر رکھا ہے۔

پاکستان اپنے داخلہ سیاسی اور معاشی چیلنجز اور خارجہ تعلقات کے ضمن میں کمزور پوزیشن پر دکھائی دیتا ہے، مشرقی سرحدوں پر فوجی کشمکش کے وقفے کے باوجود دونوں ممالک کے مابین تعلقات کا آئس برگ جوں کا توں ہے ادھر جنوب مشرقی ہمسائے افغانستان کے ساتھ ڈیورنڈ لائن کے آر پار کشیدگی گھٹتی بڑھتی رہتی ہے، اسی حالیہ مہینوں میں بلوچستان سے ایرانی حملے اور اس کے جواب میں پاکستان کی طرف سے جوابی وار کے بعد فی الحال صورت حال نارمل ہے۔ مگر

داخلی سیاست میں عمران نیازی اور تحریک انصاف کی جانب سے جاری مزاحمتی پراپیگنڈے کے تابڑ توڑ وار سہتی پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے لیے آزاد کشمیر کا بحران مزید پریشانی کا باعث بنے گا۔

عمران نیازی اور اس کی سیاسی جماعت کی عالمی دارالحکومتوں اور ارکان پارلیمان کو پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، سیاسی و شہری آزادیوں پر قدغن اور الیکشن میں دھاندلی جیسے سنگین الزامات کے تحت منظم مہم چلائی جا رہی ہے، لابنگ فرمز کے ذریعے مغربی ممالک میں رائے عامہ اور عوامی نمائندوں کو متحرک کیا جا رہا ہے، اس تناظر میں آزاد کشمیر کا احتجاج غیر معمولی اہمیت حاصل کر سکتا ہے۔ مزید برآں بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے حد درجہ ناخوشگوار ویژولز اور خبروں کے مقابل پاکستانی کشمیر کے معاملات کا موازنہ بھی کیا جائے گا۔ پاکستان کے داخلی سیاسی اور معاشی خلفشار کو انگیخت کرنے میں بیرونی فنڈنگ و سرپرستی کے سنگین الزامات بھی لگائے جاتے ہیں، جس کی تحت سماجی و معاشی عدم استحکام سے دوچار پاکستان کو چاروں اطراف سے گھیرنے اور الجھانے کا مذموم ایجنڈا کچھ ایسا بعید از قیاس بھی نہیں ہے۔

بلوچستان، خیبر پختونخوا پہلے ہی سیاسی عدم استحکام اور پرتشدد کارروائیوں کے سبب شورش زدہ علاقوں میں شمار کیے جانے لگے ہیں، چند ماہ پہلے اسلام آباد میں بلوچ مسنگ پرسنز کے معاملے پر ماہ رنگ بلوچ دھرنے کی بازگشت ابھی تھمی نہیں ہے جسے عالمی اور مقامی میڈیا نے نمایاں کوریج دے کر کئی ہفتوں خبروں، تجزیوں اور تبصروں کا مومینٹم بنائے رکھا۔ سچ تو یہ ہے کہ میڈیا کے ڈیجٹل عہد میں سٹیٹ کنٹرول نکتہ نظر کی اجارہ داری ممکن ہی نہیں ہے، بلکہ اس کے برعکس سوشل میڈیا ایکٹو ازم نے ہر طبقہ فکر کو اپنے نکتہ نظر کے اظہار کا موثر پلیٹ فارم مہیا کر دیا ہے۔ جہاں پہلے سے سرگرم ڈیجیٹل واریئرز کے لیے آزاد کشمیر میں پولیس اور سول انتظامیہ کے ساتھ عام پبلک کی مڈبھیڑ کا معاملہ ایک سنہری موقع ہے جس کے بل پر پاکستان کی حکومت خاص طور پر طاقتور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو لتاڑنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔ احتجاجیوں کے مطالبات میں ملٹری کی جانب سے آزاد کشمیر میں زمینوں پر قبضے کا معاملہ اگرچہ زبان زد عام نہیں ہے مگر بہرحال اس بارے عوامی ناپسندیدگی اور سوالات کا اظہار سنائی دے رہا ہے۔

پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے سیاسی اور انتظامی معاملات میں مداخلت سے جڑی خرابیوں کا شاخسانہ عوامی غم و غصے سے آگے بڑھ کر منظم چھوٹے بڑے احتجاجوں کا روپ دھار رہا ہے۔ کیا پاکستان کے طاقتور ملٹری فیصلہ سازوں کو درپیش چیلنجز کا ادراک نہیں ہے؟ یا ان کے سیاسی و معاشی مفادات کا منہ زور گھوڑا اپنے راستے میں آنے والی عوامی رکاوٹوں کو روند کر آگے بڑھنے کی سوچی سمجھی پالیسی پر عمل پیرا ہے؟

کراچی سے خیبر اور گوادر سے کشمیر تک تیزی سے پھیلتے ملٹریا کے مفادات نے درپیش چیلنجز کے سیاسی حل کو مشکل بنا دیا ہے۔ اب بھی وقت ہے! کہ عوامی جذبات کے منتشر مگر واشگاف اظہار کو نوشتہ دیوار سمجھ کر ہوش کے ناخن لیے جائیں۔

آزاد کشمیر کے عوام کے جائز مطالبات کو پوری ذمے داری اور سنجیدگی سے ایڈریس کیا جائے۔ کوٹلی، میرپور یا راولاکوٹ میں ہوئے چھوٹے سے واقعے کو بھی معمولی سمجھ کر نظر انداز نہ کیا جائے۔

آر پار کے کشمیری یوں بھی زخم خوردہ اور غم زدہ ہیں۔ دہائیوں کے ظلم و ستم، بٹوارے کے عذاب کو جھیلتے منقسم خاندان، ہجرت کے درد سہتے اور سب سے بڑھ کر پاکستان اور بھارت کی جانب سے قضیے کے حل میں کشمیریوں کی شمولیت کو اگنور کرنے سے ان کے اعتماد کو شدید دھچکا لگا ہے۔ پاکستان کے ارباب اختیار خاص طور پر عسکریہ کو کشمیری عوام کی امن و سکون اور ترقی و خوشحالی سے جینے کی شدید خواہش کا احترام کرتے ہوئے ان سے جڑے مسائل اور مصائب کو اولین ترجیح کے طور پر حل کرنا ہو گا۔ بصورت دیگر سیاسی و سماجی فالٹ لائنز مزید گہری ہوتی چلی ہوتی چلی جائیں گی۔ ضروری ہے کہ عوامی مطالبات پر کان دھرتے ہوئے صورت حال کو سنبھال لیا جائے۔

Facebook Comments HS