آئزک نیوٹن اور ایڈمنڈ ہیلی کا دم دار ستارہ: کائنات (3)


ہم ایک اسرار میں پیدا ہوئے تھے، جو ہمیں کم از کم اس وقت تک پریشان رکھے گا جب تک کہ ہم انسان ہی۔ ہم ستاروں کی چادر تلے اس چھوٹی سی دنیا پر بیدار ہوئے، جیسے ایک لاوارث بچہ بغیر کسی نوٹ کے دہلیز پر چھوڑ دیا گیا ہو، کہ ہم کہاں سے آئے ہیں، ہم کون ہیں، ہماری کائنات کیسے وجود میں آئی۔ ہمیں اس بات کا بھی کوئی اندازہ نہیں کہ ہماری کائناتی تنہائی کو کیسے ختم کیا جاسکتا ہے۔ ہمیں اپنے لیے یہ سب کچھ خود معلوم کرنا پڑے گا۔

ہمارے لیے سب سے اچھی چیز ہماری ذہانت تھی، خاص طور پر پیٹرن (مثالی نمونوں ) کی شناخت کے لیے ہماری خصوصیت، جو ارتقاء کے مختلف ادوار میں نکھرتی چلی گئی۔ وہ لوگ جو شکار اور شکاری کو پہچاننے میں طاق تھے، صحت بخش اور زہریلے پودوں کا فرق بتا سکتے تھے، ان کے پاس زندہ رہنے اور اولادیں پیدا کرنے کے بہتر مواقع تھے۔ وہی زندہ رہے اور ان جینز کو پیٹرن کی شناخت کے واضح فوائد کے لیے اگلی نسلوں میں منتقل کیا۔ پورے کرہ ارض کی ثقافتوں نے اوپر ایک ہی طرح کے ستاروں کو دیکھا اور وہاں مختلف تصویریں تلاش کیں۔

ہم نے اس تحفے کو آسمانی کیلنڈر پڑھنے کے لیے فطرت کے نمونوں کو پہچاننے کے لیے استعمال کیا۔ ستاروں میں لکھے گئے پیغامات نے ہمارے آبا و اجداد کو بتایا کہ کب ٹھہر جانا ہے اور کب کوچ کرنا ہے۔ کب نقل مکانی کرنے والے ریوڑ چلیں گے، کب بارش ہوگی اور کب سردی آئے گی۔ اور کب انہیں کچھ وقت کے لیے سکونت اختیار کرنی چاہیے۔ جب انہوں نے ستاروں کی حرکات اور زمین پر زندگی کے موسمی چکروں کے درمیان براہ راست تعلق کا مشاہدہ کیا، تو انہوں نے قدرتی طور پر یہ نتیجہ اخذ کیا کہ جو کچھ وہاں اوپر ہوتا ہے وہ ہم نیچے والوں کے لیے ہی اشارہ ہے۔

یہ سمجھ میں آتا ہے۔ اگر آسمان ایک کیلنڈر تھا اور کسی نے اس کے اوپر ایک نوٹ کو چسپاں کر دیا ہے تو یہ پیغام کے علاوہ اور کیا ہو سکتا ہے؟ اور اس طرح، جب آسمان کے اس نظم کی کومٹ (دم دار ستارہ) کے بھوت نے خلاف ورزی کی تو انسانوں نے اسے ذاتی طور پر لے لیا۔ کیا ہم واقعی ان لوگوں پر الزام لگا سکتے ہیں؟ اس وقت، ان کے آس پاس جو کچھ ہو رہا تھا اس کی کوئی اور منطقی وضاحت نہیں تھی۔ یہ اس سے بہت پہلے کی بات ہے کہ کسی نے ابھی تک زمین کو سورج کے گرد گھومتے ہوئے، جھکے ہوئے محور کے ساتھ گھومنے والے سیارے کے طور پر تصور نہیں کیا تھا۔ ہر قدیم انسانی ثقافت نے ایک ہی غلطی کی ہے، ایک کومٹ کو ایک پیغام ہونا چاہیے، جو دیوتاؤں یا کسی خاص خدا کی طرف سے بھیجا گیا ہو۔ اور تقریباً ہمیشہ، ہمارے آبا و اجداد نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ خبر اچھی نہیں تھی۔

اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کہ آپ قدیم جنوبی میکسیکو کے ایزٹیک (Aztec) ، اینگلو سیکسن (Anglo۔ Saxon) ، بابلی، ہندو تھے۔ کومٹ سب کے لیے عذاب کے اشارے تھے۔ ان میں فرق صرف آنے والی تباہی کی صحیح نوعیت کا تھا۔

”Disaster“، جیسا کہ یونانی لفظ ”خراب ستارہ۔“
مشرقی افریقہ کے مسائی (Masai) کے لیے، ایک کومٹ کا مطلب قحط تھا۔
جنوب میں زولو (Zulu) کے لیے اس کا مطلب جنگ تھا۔
مغرب کے ایگھاپ (Eghap) لوگوں کے لیے اس کا مطلب بیماری تھا۔
زائر کے جاگا (Djaga) کے لیے خاص طور پر ”چیچک۔“
ان کے پڑوس میں، لوبا (Luba) کو، ایک کومٹ ایک رہنما کی موت کی پیش گوئی کرتا تھا۔
قدیم چینی نمایاں طور پر منظم تھے۔ تقریباً 1400 قبل مسیح میں شروع کرتے ہوئے، انہوں نے کومٹ کی ظاہری شکلوں کو ریکارڈ اور کیٹلاگ کرنا شروع کیا۔
تین دم والے کومٹ کا مطلب ریاست کے لیے آفت ہے۔
چار دم والا کومٹ اس بات کی نشاندہی کرتا تھا کہ کوئی وبا پھیلنے والی ہے۔

پیٹرن کی شناخت کا انسانی ہنر دو دھاری تلوار ہے۔ ہم پیٹرن تلاش کرنے میں خاص طور پر بہت اچھے ہیں، یہاں تک کہ جب وہ واقعی وہاں نا بھی ہو۔ جسے ”غلط پیٹرن کی شناخت“ کہا جاتا ہے۔ ہم انسان، اہمیت کے خواہاں ہیں۔ ان علامات کے ذریعے ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارا وجود کائنات کے لیے خاص معنی رکھتا ہے۔

اس مقصد کے لیے، ہم سب اپنے آپ کو اور دوسروں کو دھوکہ دینے، بھنے ہوئے پنیر کے سینڈوچ میں ایک مقدس تصویر کو دیکھنے یا کومٹ میں الوہی انتباہ تلاش کرنے کے لیے بہت بے چین رہتے ہیں۔ آج، ہم صحیح سے جانتے ہیں کہ کومٹ کہاں سے آتے ہیں اور وہ کس چیز سے بنتے ہیں۔

ہمارے تخیل کا جہاز، سائنس اور حیرت کے مساوی حصوں سے ایندھن لیتا ہوا، ہمیں زماں و مکاں میں کہیں بھی لے جا سکتا ہے۔ یہ روشنی سے زیادہ تیز سفر کر سکتا ہے اور ان چیزوں کو بھی نظر انداز نہیں کر سکتا ہے جو نہیں دیکھی جا سکتیں۔ یہ ہمیں ایک پراسرار دنیا میں لے جا رہا ہے جو سورج سے ایک نوری سال کے فاصلے پر ہے۔ یہ دنیاؤں کا کیسا غول ہے؟ کیا یہ کسی اجنبی مخلوق (ایلین) کی طرف سے منظم کیا گیا تھا؟ نہیں۔ صرف کشش ثقل۔

Jan Oort

یہ پرانے زمانوں کی برفیں ہیں، برف اور چٹان کے بہتے پہاڑ، یہ نظام شمسی کی پیدائش کی محفوظ باقیات ہیں۔ اسے اورٹ بادل (Oort Cloud) کہا جاتا ہے، جان اورٹ (Jan Oort) ، ڈچ ماہر فلکیات، جس نے 1950 میں اس کے وجود کی پیش گوئی کی تھی۔ وہ ایک تضاد (paradox) کو حل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ کومٹ کے مرنے کے بہت سے طریقے ہیں۔ چونکہ وہ سیاروں کے مدار کو عبور کرتے ہیں، اس لیے کومٹ اکثر ان سے ٹکراتے رہتے ہیں۔ کومٹ زیادہ تر برف سے بنے ہوتے ہیں، اس لیے جب بھی وہ سورج کے قریب آتے ہیں، وہ بخارات کے ذریعے اپنا کچھ حصہ کھو دیتے ہیں۔ کئی ہزار چکروں کے بعد ، اس کی ساری برف ختم ہو جاتی ہے، اور کومٹ کی باقیات اب ایک سیارچہ (asteroid) ہیں۔

کومٹ کو کشش ثقل کی مدد سے نظام شمسی سے نکال کر خلا میں جلاوطن کر دیا جاتا ہے۔ لیکن پھر بھی، کسی نہ کسی طرح، کومٹ آتے ہی رہتے ہیں۔ اورٹ اور دیگر ماہرین فلکیات حیران ہوتے تھے کہ، ”تمام کومٹ کہاں سے آتے ہیں؟“ اورٹ نے اس شرح کا حساب لگایا جس پر نئے کومٹ نمودار ہوتے ہیں اور یہ نتیجہ اخذ کیا کہ سورج کے گرد چند نوری سال کے فاصلے پر ان کی ایک وسیع، کروی بھیڑ ہونا چاہیے۔

ان تمام دریافتوں کے بعد جو ہم نے کئی دہائیوں میں کومٹ اور نظام شمسی کے بارے میں کی ہیں، اورٹ کی منطق اب بھی برقرار ہے۔ لیکن پھر بھی، اورٹ کلاؤڈ ایک ایسا نظارہ ہے جسے کسی نے کبھی نہیں دیکھا اور نہ ہی ہم دیکھ سکتے تھے۔

یہاں اندھیرا ہے۔ اور ہر کومٹ اپنے قریبی پڑوسی سے اتنا ہی دور ہے جتنا کہ زمین زحل سے۔ لیکن سائنس ہمیں اپنی خاص طاقتیں دیتی ہے۔ اس نے جان اورٹ کو پیش گوئی کا تحفہ دیا۔ اورٹ ہی وہ پہلا شخص تھا جس نے سورج اور ہماری کہکشاں کے مرکز کے درمیان فاصلے کا صحیح اندازہ لگایا۔ یہ ایک بڑی بات ہے۔ یہ معلوم کرنا کہ ہم کہکشاں میں کہاں ہیں۔ ہمارا ستارہ کہکشاں کے مرکز سے تقریباً تیس ہزار نوری سال کے فاصلے پر ہے۔ اورٹ وہ پہلا شخص تھا جس نے کہکشاں کے پیچ دار ڈھانچے کا نقشہ بنانے کے لیے ریڈیو دوربین کا استعمال کیا۔ اور اس نے دریافت کیا کہ ہماری کہکشاں کا مرکز دیو قامت دھماکوں کی جگہ ہے، یہ پہلا اشارہ ہے کہ وہاں کوئی بہت ہی بڑا بلیک ہول چھپا ہوا ہو گا۔

Great London Fire

کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ ہم میں سے اکثر بڑے پیمانے پر آمروں اور قاتلوں کے نام تو جانتے ہیں، لیکن جان اورٹ کے بارے میں کبھی نہیں سنا۔ یہ رویہ ہمارے بارے میں کیا بتاتا ہے؟ اورٹ کلاؤڈ اتنا بڑا ہے کہ اس کے ایک کومٹ کو سورج کے گرد ایک سفر مکمل کرنے میں تقریباً دس لاکھ سال لگتے ہیں۔

یہاں سے باہر، نظام شمسی کے بہت دور، گزرتے ہوئے ستارے کی کشش ثقل سے تھوڑا سا دھکا بھی ان میں سے کچھ کومٹ کو سورج اور اس کی کشش ثقل کی غلامی سے آزاد کر سکتا ہے۔ کچھ کومٹ کو نظام شمسی سے باہر پھینک دیا جاتا ہے اور وہ بین السیاراتی خلا میں بھٹکتے پھرتے ہیں۔ لیکن کئی کومٹ کے لیے، ایک مختلف قسمت ہوتی ہے۔

جیسے یہ سامنے نظر آنے والا کومٹ سورج کی طرف جا رہا ہے۔ رفتار بڑھتی جا رہی ہے جو لاکھوں سال تک جاری رہے گی۔ جب نیپچون کی کشش ثقل اسے ایک دھکا دیتی ہے، تو یقیناً ایک چھوٹی سی تبدیلی اس کے مدار میں آتی ہے۔ پھر عظیم زحل، ہمارے نظام شمسی میں سورج کے علاوہ سب سے بڑی چیز، کومٹ کو اپنی طاقتور کشش ثقل کے ساتھ اپنی طرف متوجہ کرتا ہے اور اس کا راستہ موڑتا ہے۔ جب ہمارا کومٹ اندرونی نظام شمسی تک پہنچتا ہے تو سورج کی حرارت اسے پکاتی ہے۔ ایک خوبصورت تبدیلی شروع ہوتی ہے۔ یہ بنجر، غبار آلود برف کا گولا اب ایک چمکتا ہوا ہالہ اور دم کھلاتا ہے۔ یہ پرتیں اس کہانی کو بیان کرتی ہیں کہ تقریباً چار ارب سال پہلے یہ کومٹ کیسے بنایا گیا۔

انسانیت کی چالیس ہزار نسلوں کے دوران، یہ روشن کومٹ تقریباً ایک لاکھ بار ظہور پذیر ہوئے ہوں گے۔ اس سارے عرصے میں، ہم سب سے بہتر یہ کر سکتے تھے کہ ہم بے بس حیرت میں ڈوبی نظر اوپر کی طرف ڈالیں۔ وہ زمین کے قیدی جن کے پاس اپنے جرم اور اپنے خوف کی وضاحت کے لیے کوئی جائے پناہ نہیں تھی۔

Edmond Halley

لیکن پھر دو آدمیوں کے درمیان دوستی شروع ہو گئی جس نے انسانی فکر میں مستقل انقلاب کی راہ ہموار کی۔ آئزک نیوٹن اور ایڈمنڈ ہیلی (Edmond Halley) بھی اسے نہیں جان سکے، لیکن ان دونوں کا ایک دوسرے سے تعاون بالآخر ہمیں اس چھوٹی سی دنیا میں اپنی طویل قید سے آزاد کرانے والا تھا۔ 1664 کے کومٹ نے پورے یورپ میں خوف کا لرزہ طاری کر دیا اور یہ دہشت اس وقت جائز لگ رہی تھی کیونکہ اس کے فوراً بعد لندن کو طاعون اور اس کے بعد عظیم آگ نے آ لیا۔

وہاں، لمبے خونی بالوں کے ساتھ، ایک چمکتا ہوا ستارہ دنیا کو قحط، طاعون اور جنگ کے خطرات سے دوچار کر گیا۔ شہزادوں کے لیے، یہ سلطنتوں کی موت کا سحر تھا، تمام املاک کو قبروں میں بدلنا، چرواہوں کے لیے ناگزیر نقصانات، سڑنا، ہل چلانے والوں کے لیے بے بس موسم، ملاحوں کے لیے طوفان اور شہروں میں، طوائف الملوکی۔ لیکن ایک بچے کے لیے، کومٹ کم سے کم خوفناک نہیں تھا۔ اس کے لیے یہ حیرت کی بات تھی۔

ہم سب کی طرح ایڈمنڈ ہیلی بھی متجسس پیدا ہوا تھا۔ وہ خوش قسمت تھا کہ اس کا ایک ایسا باپ تھا جس نے اس کے تجسس کی حوصلہ افزائی کی اور اس کی پرورش کی۔ اسے بہترین سائنسی آلات خرید کر دیے اور یہاں تک کہ جنوبی نصف کرہ کا پہلا درست ستاروں کا نقشہ بنانے کے لیے اس کی مہم کے لیے سرمایہ بھی فراہم کیا۔ ہیلی کو بیس سال کی عمر میں آکسفورڈ سے نکال دیا گیا، اور وہ سینٹ ہیلینا ( خط استوا کے نیچے افریقہ کے مغربی ساحل سے دور ایک جزیرہ) ، کے لیے روانہ ہوا۔

مسئلہ یہ تھا کہ کسی نے ہیلی کو نہیں بتایا تھا کہ سینٹ ہیلینا پر موسم عام طور پر مددگار نہیں ہوتا۔ اسے جنوبی ستاروں کا مشاہدہ اور مکمل نقشہ بنانے کے لیے بارہ مایوس کن مہینے صرف کرنے پڑے۔ جب ہیلی آسمان کے آدھے حصے کے ساتھ گھر واپس آیا تو اس کے نقشے نے ایک سنسنی پیدا کر دی۔ اب تاجر اور مہم جو زمین پر کہیں بھی نظر آنے والے ستاروں کے ذریعے آ اور جا سکتے ہیں۔ اس وقت، ورلڈ سوسائٹی آف لندن سائنسی دریافتوں کے ضمن میں دنیا کا واحد ادارہ تھا جس کی منشاء کے بغیر کوئی سائنسی کام عوام تک نہیں پہنچ سکتا تھا۔ اس کا نعرہ تھا، ”Nullius in verba،“ یہ سائنسی طریقہ کار کا خلاصہ کرتا ہے۔ لاطینی میں اس کے معنی ہیں : خود سے جانو۔ دوسرے الفاظ میں : اختیار و اقتدار سے سوال۔ ہیلی کے ستاروں کے نقشوں نے سوسائٹی کے تجربات کے مہتمم کی توجہ حاصل کر لی تھی۔

اگر میں دکھا سکتا تو آپ کو ضرور دکھاتا، لیکن رابرٹ ہک (Robert Hooke) کا اس کے زمانے سے کوئی پورٹریٹ موجود نہیں ہے، صرف اس کے ہم عصروں کی زبانی تفصیل موجود ہے۔ انہوں نے اسے دبلا، جھکا ہوا اور بدصورت کہا۔ وہ ممکنہ طور پر اس وقت کا سب سے زیادہ ایجادات کرنے والا شخص تھا۔ اور اپنی ظاہری شکل کے باوجود، وہ پورے لندن میں دعوتوں میں سب سے زیادہ مطلوب مہمان ہوا کرتا تھا۔ کیوں؟

ہک کا ناقابل تسخیر تجسس ہر چیز پر محیط تھا۔ ہک نے ایک چھوٹی سی کائنات دریافت کی، اور ہم اسے اب بھی اسی نام سے پکارتے ہیں جو اس نے اسے دیا تھا، سیل۔ ہک نے اپنی ہی ایک ایجاد، کمپاؤنڈ مائیکرو سکوپ کے ذریعے کارک کے ایک ٹکڑے کو دیکھ کر سیل کو دریافت کیا۔ اس نے ڈارون کے نظریہ ارتقاء کے مختلف پہلوؤں کی تقریباً 200 سال پہلے پیش گوئی کی۔ ہک نے دوربین کو بھی بہتر کیا۔ اس نے فلکیاتی اجسام کے جو خاکے بنائے ہیں وہ اس کی غیر معمولی مہارت کی تصدیق کرتے ہیں۔

Robert Hooke

1666 کی عظیم آگ میں وسطی لندن کی تباہی کے بعد ہک نے شہر کو دوبارہ ڈیزائن اور دوبارہ تعمیر کرنے کے لیے معمار کرسٹوفر رین (Christopher Wren) کے ساتھ شراکت کی۔ ہک اپنے عصر کا سب سے بڑا تجربے کرنے والا تھا۔ کنڈلی دار سپرنگ (coiled springs) کا استعمال کرتے ہوئے، اس نے ”لچک کا قانون“ اخذ کیا، جسے آج ہک کے قانون (Hooke’s Law) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس نے ائر پمپ کو جو اس کے زمانے میں ٹیکنالوجی کی انتہا تھی، مکمل کیا، اور اسے سانس اور آواز پر تجربہ کرنے کے لیے استعمال کیا۔ اور اس نے بھنگ پر بھی تجربات کیے۔ اس نے رائل سوسائٹی کے ایک اجلاس میں اطلاع دی کہ اس کے ایک سمندری کپتان دوست نے اکثر اس کے ساتھ تجربہ کیا ہے، اور یہ کہ خوف کی کوئی وجہ نہیں ہے، اگرچہ ممکنہ طور پر ہنسی ہو سکتی ہے۔

کافی 17 ویں صدی میں انگلینڈ کے لیے پسندیدہ نشہ تھی۔ کافی ہاؤسز پورے لندن میں پھیل گئے۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں لوگ خبریں لینے، نئے منصوبے شروع کرنے اور خیالات پر بحث کرنے آتے تھے۔ کافی ہاؤس طبقاتی جنون والے معاشرے میں مساوات کا نخلستان تھا۔ یہاں، ایک غریب آدمی کو اپنی نشست کسی امیر آدمی کے حوالے کرنے کی ضرورت نہیں تھی، اور نہ ہی اس کی رائے کا تابع ہونے کی مجبوری تھی۔ یہ ایک قسم کی جمہوریت کی تجربہ گاہ تھی۔

اس انتہائی کیفین زدہ ماحول میں، ہیلی اور ہک نے کرسٹوفر وین سے ایک گہرے اسرار پر بات کرنے کے لیے ملاقات کی۔ سیارے کیوں ایسے حرکت کرتے ہیں جیسا کہ وہ کرتے ہیں؟ ماہر فلکیات جوہانس کیپلر نے تقریباً اسی سال پہلے یہ ثابت کیا تھا کہ سورج کے گرد سیاروں کے مدار کامل دائرے میں نہیں ہیں بلکہ درحقیقت بیضوی ہیں، اور یہ کہ کوئی سیارہ سورج کے جتنا قریب ہوتا ہے، اتنی ہی تیزی سے حرکت کرتا ہے۔ کیوں؟ کیا سورج کی کوئی پوشیدہ قوت حرکت میں اس تبدیلی کی ذمہ دار ہو سکتی ہے؟ اگر ایسا ہے تو، یہ کیسے ہوتا ہے؟ کیا اس کی وضاحت کے لیے کوئی سادہ ریاضیاتی قانون ہو سکتا ہے؟ ہو سکتا ہے کہ ہک کے لچک کے قانون جیسا کچھ ہو؟ شاید۔

لیکن کوشش کے باوجود کرسٹوفر رین اس کا پتہ نہیں لگا سکا۔

”اگر میں نے کوشش نہیں کی تو لعنت ہے مجھ پر۔ یہ میری طاقت سے باہر ہے۔ میں اس آدمی کو چالیس شلنگ مالیت کی کتاب دوں گا جو اسے حل کر سکے! “

”وہ کتاب میری ہے جناب رین۔ میں نے پہلے ہی حساب کتاب کر لیا ہے۔“ ہیلی بھی بہت خوش ہوا۔
”ہمیں دکھائیں، مسٹر ہک۔“

لیکن مہینے گزر گئے، اور ہک وہ دکھانے میں ناکام رہا۔ وہ ریاضی نہیں کر سکتا تھا۔ ان میں سے کوئی بھی نہیں کر سکتا تھا۔ آخر کار، ہیلی، ہک کے بہانوں سے اکتا گیا۔

ہیلی جانتا تھا کہ اس چیلنج کو قبول کرنے والا کہیں کوئی ہونا چاہیے۔ کیمبرج کا ریاضی دان؟ ہوشیار آدمی۔ اس نے برسوں پہلے روشنی کی نوعیت کے بارے میں مرکزی سوالات حل کیے تھے، جب وہ صرف بائیس سال کا تھا۔ اور اس نے عکاسی کرنے والی دوربین ایجاد کی۔ ہک اور روشنی کے بارے میں اس کی دریافت پر جھگڑتے ہوئے یہ عجیب پرندہ نظروں سے اوجھل ہو گیا تھا۔ وہ تھک گیا تھا اور تب سے کیمبرج میں چھپا ہوا ہے۔ ہیلی نے سوچا کہ کیا یہ عجیب، اور انتہائی مشکل آدمی، کامیاب ہو سکتا ہے جہاں ہک اور دیگر ناکام ہو گئے تھے۔ ہیلی نہیں جان سکتا تھا اور اس وقت کوئی بھی تصور نہیں کر سکتا تھا کہ 1684 میں اگست کے ایک دن اس ملاقات سے دنیا ہمیشہ کے لیے بدل جائے گی۔

Isaac Newton

آئزک نیوٹن 1642 میں کرسمس کے دن انگلینڈ میں پیدا ہوا۔ اس کے آنکھیں کھولنے سے پہلے ہی اس کے والد مر چکے تھے۔ جب وہ صرف تین سال کا تھا تو اس کی ماں نے اسے چھوڑ دیا اور وہ گیارہ سال کی عمر تک واپس نہیں آئی۔ جب وہ واپس آئی تو ایک نئے خاندان اور شوہر کے ساتھ آئی، ایک سوتیلا باپ جس سے آئزک نیوٹن نفرت کرتا تھا۔ نیوٹن نے اپنی دکھی خاندانی زندگی سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے اس جذبے میں پناہ لی کہ چیزیں کیسے کام کرتی ہیں، خاص طور پر خود فطرت۔

1661 میں، باصلاحیت نوجوان آئزک نے کیمبرج یونیورسٹی کے ٹرینٹی کالج میں داخلہ لیا جہاں وہ ایک مستقل طور پر برا طالب علم تھا، بغیر کسی دوست یا محبت کرنے والے خاندان کے جو گرمجوشی یا حوصلہ فراہم کر سکتا تھا۔ نیوٹن زیادہ تر اپنے آپ میں رہتا، اپنے کمرے میں الگ قید رہتا، قدیم یونانی فلسفیوں، جیومیٹری اور زبانوں کا مطالعہ کرتا، اور مادے، جگہ، وقت اور حرکت کی نوعیت پر گہرے سوالات پر غور کرتا تھا۔ یہ ابھرتا ہوا سائنسدان ایک پرجوش صوفی بھی تھا۔

نیوٹن کا خیال تھا کہ کیمیا نامی ایک خفیہ علم، جو صرف قدیم فلسفیوں کے ایک چھوٹے سے گروہ کو معلوم تھا، دوبارہ دریافت ہونے کا انتظار کر رہا ہے۔ اس نے عام دھاتوں کو چاندی اور سونے میں تبدیل کرنے کا طریقہ سیکھنے اور زندگی کے امرت کو پکانے کی کوشش بھی کی، جو ابدیت کی کلید تھی۔ اسے بائبل کے الفاظ میں چھپے ہوئے پیغامات تلاش کرنے کا بھی جنون تھا۔ اس نے خدا کی طرف سے کوڈ شدہ ہدایات کو سمجھنے کی امید میں کئی مختلف زبانوں کے تراجم کو کھنگال ڈالا۔

اس نے عیسیٰ کی دوسری آمد کی تاریخ دریافت کرنے کی کوشش میں وسیع حساب کتاب کیا۔ کیمیا اور انجیل کی تاریخ کی اس کی زندگی بھر کی تحقیق اسے کہیں نہ لے جا سکی۔ جب ہیلی نے نیوٹن کو اس بامراد دن پایا، تو وہ ایک مجازی اعتکاف میں تارک الدنیا کی طرح رہ رہا تھا۔ نیوٹن تیرہ سال پہلے روپوش ہو گیا تھا، جب رابرٹ ہک نے سرعام نیوٹن پر روشنی اور رنگ پر اپنا اہم کام چوری کرنے کا الزام لگایا تھا۔

درحقیقت، یہ آئزک نیوٹن تھا جس نے روشنی کے سپیکٹرم کے اسرار کو حل کیا، رابرٹ ہک نے نہیں۔ یہ زخم تکلیف دہ اور گہرا تھا، اور نیوٹن نے عزم کیا تھا کہ وہ دوبارہ کبھی بھی خود کو اس قسم کی عوامی تذلیل کا شکار نہیں ہونے دے گا۔

جناب، مجھے نہیں لگتا کہ آپ کو کچھ سال پہلے ہماری ملاقات یاد ہے؟
جی ہاں، مسٹر ہیلی۔
آپ کو تکلیف دینے پر معذرت قبول کیجیے۔
تکلف کی کوئی ضرورت نہیں، اپنے مقصد پر آئیے۔
میں اپنے دوستوں سے بات کر رہا تھا، جناب رین اور جناب ہک۔
وہ بدمعاش ہک میرا دوست نہیں ہے۔
جی ہاں، میں سمجھتا ہوں، جناب۔

لیکن بات یہ ہے کہ ہم سیاروں کی حرکت کے پریشان کن سوال پر بحث کر رہے تھے۔ ہم سب اس بات پر متفق ہیں کہ سورج کی طرف سے کھچاؤ کی کوئی قوت سیاروں کی حرکات کو کنٹرول کرتی ہے۔ ہمیں امید ہے کہ یہ بیان کرنے کے لیے ایک ریاضیاتی قانون ہونا چاہیے کہ یہ قوت فاصلے کے ساتھ کیسے بدلتی ہے۔ اور آپ کی مہارت کے بارے میں جان کر۔

ہاں، ہاں، ثقل کی کشش فاصلے کے مربع کے ساتھ کمزور ہو جاتی ہے۔ اسی لیے سیارے بیضوی شکل میں حرکت کرتے ہیں۔

جناب آپ یہ کیسے جان سکتے ہیں؟
میں نے اس کا حساب کچھ پانچ سال پہلے لگا لیا تھا۔
میں آپ سے التجا کرتا ہوں، مجھے دکھائیں۔

حساب یہیں کہیں ہے۔ ٹھیک ہے، کوئی بات نہیں۔ میں اسے دوبارہ کر دوں گا اور اسے آپ کو بھیجنا یقینی بناؤں گا۔

یہ شاندار ہے! اس سے پہلے ہم نے اس کا ذکر کیوں نہیں سنا؟

نیوٹن کو بہت اچھی طرح یاد تھا کہ آخری بار جب اس نے کوئی خیال پیش کیا تھا تو ہک نے اس کے ساتھ کیا کیا تھا۔

جب ہیلی نے سوچنا شروع کر دیا ہو گا کہ نیوٹن بھی ہک کی طرح جھوٹ بول رہا ہے، نیوٹن کا ایک لفافہ لے کر ایک پیغامبر آن پہنچا۔

یہاں جدید سائنس کے ابتدائی صفحات تھے جن میں فطرت کے آفاقی قوانین حرکت، کشش ثقل نہ صرف زمین کے لیے بلکہ کائنات کے لیے تمام اپنانے والے نظریات تھے۔

ہیلی واپس کیمبرج کی طرف بھاگا۔

مسٹر نیوٹن، میں آپ سے التجا کرتا ہوں کہ یہ سب کچھ جلد از جلد ایک کتاب کی صورت میں کر دیں۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ رائل سوسائٹی اسے شائع کرے گی۔

لیکن ایک چھوٹا سا مسئلہ تھا۔

”ہم اس بات پر متفق ہیں کہ مسٹر نیوٹن نے ایک شاہکار تیار کیا ہے۔ تاہم ہمیں افسوس ہے کہ رائل سوسائٹی کی مچھلی کی تاریخ کی کتاب کی فروخت ہماری مالی توقعات پر پوری نہیں اتری۔ یہ ایک متاثر کن کتاب ہے۔ انتہائی جامع۔ واقعی۔ یہ مچھلی کی شاندار خاکوں سے بھری ہوئی ہے۔ مایوس کن فروخت نے ایک بڑا مسئلہ پیدا کر دیا ہے۔“ رائل سوسائٹی نے مچھلی کی تاریخ پر اپنا کل سالانہ بجٹ کافی حد تک اڑا دیا تھا۔ درحقیقت، وہ نقدی کے لیے اتنے تنگ دست تھے کہ انہیں ہیلی کی تنخواہ ان کی سب سے زیادہ ناقص فروخت ہونے والی کتابوں کی کاپیوں کے ساتھ ادا کرنی پڑی۔

نیوٹن کی پرنسپیا (Principia) کو پرنٹ کرنے کے لیے پیسے نہ ہونے کی وجہ سے سائنسی انقلاب تاخیر کا شکار ہونے لگا۔ ہیلی کی بہادرانہ کوششوں کے بغیر، نیوٹن کا شاندار کام شاید کبھی دن کی روشنی نہ دیکھ سکتا۔

لیکن ہیلی ایک مشن پر تھا، جو نیوٹن کے جینیس کو دنیا کے سامنے لانے کے لیے پوری طرح پرعزم تھا۔

Isaac Newton

وہ قبل از سائنسی دنیا، جس پر خوف کی حکمرانی تھی، ایک انقلاب کے کنارے پر کھڑی تھی۔ ہر چیز کا انحصار اس بات پر تھا کہ ایڈمنڈ ہیلی نیوٹن کی کتاب کو وسیع تر دنیا تک پہنچا سکتا ہے یا نہیں۔ ہیلی نے نہ صرف نیوٹن کی کتاب میں ترمیم کرنے بلکہ اسے اپنے خرچ پر شائع کرنے کا عزم کیا۔ نیوٹن نے حرکت کی طبیعیات کے لیے ریاضیاتی فریم ورک ترتیب دیتے ہوئے پہلی دو جلدیں مکمل کر لیں۔ تیسری جلد ہمیشہ کے لیے یہ طے کردے گی کہ کافی ہاؤس کی شرط کون جیتے گا۔ نیوٹن نے زمین، چاند اور سیاروں کی تمام معلوم حرکات کی وضاحت کے لیے اپنے اصولوں کا اطلاق کیا۔

بدقسمتی سے، ایک اور مسئلہ بھی تھا۔ اب ہیلی نے نیوٹن کے سائیکو تھراپسٹ کا کردار بھی نبھانا شروع کر دیا۔

”آئزک، مسٹر ہک چاہتے ہیں آپ کی تیسری جلد کے دیباچے میں ایک اعتراف کی ضرورت ہے۔“

”میں نے ایسا ہی کیا ہے۔ مسٹر رین اور آپ کا شکریہ مجھے فلکیاتی معاملات پر دوبارہ سوچنے کے لیے اکسانے کے لیے۔ مسٹر ہک بار بار یہ کہتے ہوئے لندن جا رہے ہیں کہ آپ کو کشش ثقل کا قانون اس سے ملا ہے۔ میں تیسری جلد کو جلا دوں گا بجائے اس کے کہ اسے اس طرح کے جھوٹ سے خراب کر دوں۔ “

”ہک جہنم میں جائے۔ ہک بہت جلد بھلا دیا جائے گا لیکن جبکہ تمہارے نظریات زندہ رہیں گے۔“
ہیلی اور رین نے ہک کے جھوٹے دعووں کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
”یہ قانون میرا ہے، میں آپ کو بتاتا ہوں! میں نے پہلے یہ ثابت کیا ہے۔“
” تو اپنے ثبوت یہاں لائے۔ آئیے اسے دیکھتے ہیں۔ ہم نے اس کا کافی انتظار کیا ہے۔“
”آپ کو صرف میرے الفاظ پر اعتبار کرنا پڑے گا۔“
”خالی دعوے کہیں اور چل سکتے ہیں، لیکن یہاں نہیں۔ ثابت کیجیے یا خاموش رہیے مسٹر ہک۔“
”نیوٹن پر لعنت ہو، میں اسے دیکھ لوں گا۔“

اگر ایڈمنڈ ہیلی نہ ہوتا تو نیوٹن کی عظیم کتاب کا تصور ہوتا، نہ لکھی جاتی اور نہ ہی چھپتی۔ لیکن اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ 1642 میں جب آئزک نیوٹن پیدا ہوئے تو دنیا بہت مختلف تھی۔ ہر ایک نے آسمان میں سیاروں کی گھڑی کی طرح حرکات کو دیکھا اور اسے صرف ایک ماہر گھڑی بنانے والے کے کام کے طور پر سمجھا جا سکا۔ اس کی کسی دوسری طرح وضاحت کیسے ممکن ہے؟ ان کے تصور میں ایسی چیز صرف ایک ہی راستہ سے ممکن تھی۔ ان کے لیے صرف ایک ہی جواب تھا۔

خدا۔ ہماری سمجھ سے باہر وجوہات کی بنا پر، خدا نے نظام شمسی کو اسی طرح تخلیق کیا تھا۔ لیکن یہ وضاحت دروازوں کا بند ہونا ہے۔ یہ دوسرے سوالات کی طرف راہنمائی نہیں کرتی۔ پھر نیوٹن آیا، ایک خدا سے محبت کرنے والا آدمی جو ایک جینیس بھی تھا۔ وہ فطرت کے قوانین کو کامل ریاضیاتی جملوں میں لکھ سکتا تھا۔ ایسے فارمولے جو سیب، چاند، سیاروں اور بہت کچھ پر، عالمی طور پر لاگو ہوتے ہیں۔ قرون وسطی میں ایک پاؤں رکھے ہوئے، آئزک نیوٹن نے پورے نظام شمسی کا تصور کیا۔

نیوٹن کے کشش ثقل اور حرکت کے قوانین نے انکشاف کیا کہ سورج کس طرح دور دراز کی دنیاؤں کو قید کر رکھتا ہے۔ اس کے قوانین نے نظام شمسی کی درستی اور خوبصورتی کی وضاحت کے لیے ایک ماہر گھڑی ساز کی ضرورت کو ختم کر دیا۔ اصل میں وہ گھڑی ساز کشش ثقل ہی ہے۔ مادہ ان ہدایات کا تابع ہے جو ہم دریافت کر سکتے تھے، ایسے قوانین جن کا انجیل میں کوئی ذکر نہیں۔

نیوٹن کا جواب کہ نظام شمسی اس طرح کیوں ہے، لامحدود سوالات کا راستہ کھولتا ہے۔ پرنسپیا میں کیلکولس کی ایجاد بھی شامل تھی، اور ہماری زمین پر قید کے خاتمے کی پہلی درست نظریاتی بنیاد بھی تھی۔ خلائی سفر۔

نیوٹن نے زیادہ دھماکہ خیز زور کے ساتھ توپ کے گولے کو پھینکنے کا تصور کیا۔ اس نے استدلال کیا کہ زیادہ رفتار کے ساتھ، کشش ثقل کی حدود کو توڑا جا سکتا ہے، اور توپ کا گولہ زمین کے گرد چکر لگانے کے لیے مدار میں فرار ہو سکتا ہے۔

اس نے سب کچھ بدل دیا۔ نیوٹن کی پرنسپیا ریاضی (Principia Mathematica) نے ہمیں ایک اور طریقے سے آزاد کیا۔ کومٹ کے آنے اور جانے کے فطری قوانین کو تلاش کر کے، اس نے آسمانوں کی حرکات کو اور ان سے جڑے ہمارے قدیم خوف کو الگ کر دیا۔ اگر ہیلی ان تمام سالوں میں نیوٹن کے ساتھ کھڑا نا ہوتا تو شاید دنیا اسے صرف اپنی کامیابیوں اور دریافتوں کے لیے یاد کرتی۔

صرف ایک چیز جو زیادہ تر لوگوں کے ذہن میں آتی ہے وہ ہے کومٹ۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ کومٹ کو دریافت کرنا دراصل ان چند چیزوں میں سے ایک ہے جو ہیلی نے کبھی نہیں کیں۔ پرنسپیا کی اشاعت کے بعد ہیلی کو بادشاہ نے برطانوی بحریہ کے لیے بحری مسائل کو حل کرنے کے لیے سائنسی مہمات کے تین سمندری سفر، کی قیادت کرنے کا حکم دیا۔ ہیلی نے اس موقع کو زمین کے مقناطیسی میدان کا پہلا نقشہ بنانے کے لیے استعمال کیا۔ اس نے موسم کا نقشہ بھی ایجاد کیا۔ ہواؤں کی نشاندہی کرنے کے لیے ہیلی نے جو علامتیں وضع کیں وہ آج بھی استعمال میں ہیں۔ ہیلی نے آبادی کے اعداد و شمار کی سائنس کی بنیاد رکھی۔

کیسے؟ اس نے لندن اور پیرس کی پیدائش، شادی، موت اور آبادی کی کثافت کا موازنہ کیا۔ اسے درحقیقت پیرس کی حقیقی جہتوں کو سمجھنے کے لیے پورے شہر کو پیدل چل کر سیکھنا پڑا۔ وہ اس نتیجے پر پہنچا کہ چونکہ تمام بالغوں میں سے تقریباً نصف بچے پیدا کرنے میں ناکام رہتے ہیں، اس لیے آبادی کو برقرار رکھنے کے لیے ہر شادی شدہ جوڑے کے چار بچے پیدا کرنے چاہئیں۔ یہ ایڈمنڈ ہیلی ہی تھا جس نے ہمیں نظام شمسی کی اصل پیمائش دی۔ اس نے زمین سے سورج تک کا فاصلہ تلاش کرنے کا ایک شاندار طریقہ تلاش کیا۔ اس میں سیارہ زہرہ کو سورج کی ڈسک کو عبور کرنے میں لگنے والے وقت کی درست پیمائش کرنا شامل تھا۔

Johannes Kepler

ہیلی کی موت کے ستائیس سال بعد ، کیپٹن جیمز کک نے سورج کے پار زہرہ کی آمدورفت کے دوران ہیلی کے طریقہ کار کو جانچنے کے مقصد کے لیے تاہیٹی (Tahiti) کا پہلا سفر کیا۔ سورج کو براہ راست دیکھ کر اپنے نظر کو تباہ ہونے سے بچانے کے لیے ایک خاص فلٹر کا استعمال کرتے ہوئے، کک اور اس کے آدمیوں نے ہمارے لیے یہ جاننا ممکن بنایا کہ سورج زمین سے ترانوے ملین میل دور ہے۔ اور ہیلی وہ پہلا شخص تھا جس نے یہ سمجھ لیا کہ نام نہاد ”مقررہ“ ستارے بالکل بھی مقررہ نہیں ہیں۔

وہ یہ کیسے کر گزرا؟ اس نے روشن ترین ستاروں کے قدیم یونانی ماہرین فلکیات کے مشاہدات پر نظر ڈالی۔ اس نے ان کے مشاہدات کا موازنہ ان سے کیا جو اس نے خود اٹھارہ سو سال بعد انہی ستاروں کے بنائے تھے۔ پہلے کسی نے اس پر توجہ کیوں نہیں دی؟ ہیلی نے اندازہ لگایا کہ یہ صرف اس صورت میں ممکن ہو گا جب آپ مشاہدات کے درمیان کافی وقت انتظار کریں۔ دور کی چیزوں کی حرکات کو سمجھنا مشکل ہے۔

اور ستارے بہت دور ہیں، کہ آپ کو کئی صدیوں تک ان کی حرکت کا سراغ لگانے کے لیے انتظار کرنا ہو گا۔

ہیلی نے ایک شاندار حقیقت کا پہلا اشارہ دریافت کیا۔ تمام ستارے حرکت میں ہیں، ایک دوسرے کے پاس سے گزر رہے ہیں، ہماری کہکشاں کے مرکز میں اپنے نیوٹونین رقص میں اٹھ رہے ہیں اور گر رہے ہیں۔ اور، ہاں، کومٹ کے بارے میں وہی چیز تھی۔ وہ عجیب و غریب اور خوبصورت آسمانی زائرین کیا تھے جو وقتاً فوقتاً بغیر کسی انتباہ کے نمودار ہوتے تھے؟ ہیلی اس معمہ کو حل کرنے کے لیے نکلا جیسا کہ ایک جاسوس، تمام معتبر عینی شاہدین کی گواہیوں کو جمع کر نے کے لیے۔

ایک کومٹ کا ابتدائی درست مشاہدہ جو ہیلی کو مل سکا وہ قسطنطنیہ میں ایک بازنطینی ماہر فلکیات اور راہب نیکیفوروس گریگورس (Nikephoros Gregoras) نے جون 1337 میں کیا تھا۔ ہیلی نے 1472 اور 1698 کے درمیان یورپ میں ریکارڈ کیے گئے کومٹ کے ہر فلکیاتی مشاہدے کا پیچھا کیا۔ اور یاد رکھیں، اس وقت کوئی سرچ انجن یا کمپیوٹر جیسی کوئی چیز نہیں تھی۔ ہیلی کے پاس اس کی کتابیں اور اس کا دماغ تھا۔ اب یہاں ایک مشکل حصہ آتا ہے، ہیلی کو ہر کومٹ کے لیے کیے گئے مشاہدے کو لینا پڑا اور خلا میں اس کے اصل راستے کی شکل تلاش کرنی پڑی۔

نیوٹن کے علاوہ کسی اور نے ابھی تک اپنے نئے قوانین کو فلکیاتی سوال پر لاگو کرنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ ہیلی نے دریافت کیا کہ کومٹ لمبے بیضوی مداروں میں سورج سے جڑے ہوئے تھے۔ اور وہ پہلا شخص تھا جسے معلوم ہوا کہ 1531 میں نظر آنے والا کومٹ ایک ہی تھا۔ ایک ہی کومٹ جو ہر 76 سال بعد واپس آتا ہے۔ یہ حقیقی پیٹرن کی شناخت کی ایک شاندار مثال ہے۔ اس نے پیش گوئی کی کہ یہ مستقبل میں پچاس سال سے زیادہ میں دوبارہ دیکھا جائے گا۔

ہزاروں سالوں سے، کومٹ صوفیاء کے لیے سہارا رہے تھے، جو انھیں محض انسانی واقعات کا شگون سمجھتے تھے۔ ہیلی نے ان کی اجارہ داری کو توڑ دیا۔ انہیں ان کے اپنے کھیل میں شکست دی۔ ایک ایسا کھیل جسے کسی سائنسدان نے معجزوں سے پہلے کبھی نہیں کھیلا تھا۔ ہیلی نے صاف صاف کہا کہ کومٹ 1758 کے آخر میں آسمان کے ایک خاص حصے سے ایک مخصوص راستے پر چلتے ہوئے واپس آئے گا۔ صوفیاء کی طرف سے شاید ہی کوئی پیش گوئی کی کوشش کی گئی ہو جو کبھی بھی تقابلی درستگی پر منحصر ہو۔ یہ ہیلی کا کومٹ (Halley ’s Comet) ہے۔

یہاں سے نظام شمسی کے کنارے پر، یہ زیادہ نظر نہیں آتا۔ خلا میں برف اور چٹان کا صرف ایک بڑا ٹکڑا۔

Captain James Cook

اس کی وجہ یہ ہے کہ نیپچون کے مدار سے باہر، سورج سے تقریباً پانچ ارب کلومیٹر کے فاصلے پر، کومٹ بہت پرسکون زندگی گزارتے ہیں۔ جیسے ہی یہ اپنے مدار کے انتہائی سرے پر پہنچتا ہے، یہ اس وقت تک سست رہتا ہے جب تک کہ سورج اسے مزید آگے نہ جانے دے۔ پھر یہ اندرونی نظام شمسی میں اپنی طویل گراوٹ شروع کر دے گا۔ ہیلی کا کومٹ سورج کے گرد ایسے گھومتا ہے جیسے کوئی پتھر تیزی سے زمین کی طرف آتا ہے۔ ہمارے نظام شمسی میں سب کچھ : زمین، چاند، دوسرے سیارے، کومٹ، سیارچے، یہ سب سورج کے گرد ایسے ہی گھومتے ہیں۔ کشش ثقل سیاروں کو سورج کی طرف کھینچتی ہے، لیکن ان کی مداری رفتار کی وجہ سے، وہ سورج کے گرد گھومتے رہتے ہیں، کبھی اس میں نہیں گرتے۔

رابرٹ ہک برسوں پہلے مر گیا تھا، جس نے افیون اور پارے کی روزانہ کی خوراک کے ساتھ اپنی صحت کو خراب کر دیا تھا۔ چند ماہ بعد ، نیوٹن کو اس کی جگہ رائل سوسائٹی کا صدر منتخب کیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ رائل سوسائٹی کی ان دیواروں پر ہک کا ایک پورٹریٹ آویزاں ہوتا تھا۔

ہیلی نے اور بھی بہت سے حیران کن کارنامے انجام دیے۔ اس نے پچاسی سال کی عمر میں اپنی موت تک کام کیا۔ اس کا آخری کام شراب کا گلاس مانگنا تھا۔ اس نے خوشی سے اسے حلق میں انڈیلا اور اپنی آخری سانس لی۔

کچھ کا خیال ہے کہ یہ اس طرح کی رات تھی جب آئزک نیوٹن نے بالآخر رابرٹ ہک سے بدلہ لے لیا۔ اس نے ہک کا پورٹریٹ نذر آتش کر دیا۔ لیکن ہیلی کی پیش گوئی کو فراموش نہیں کیا گیا۔ 50 سال بعد ، جیسے کہ پیش گوئی کی گئی تھی، کومٹ کی واپسی کا وقت قریب آیا، دنیا کے ماہرین فلکیات نے اس کے کومٹ کو دیکھنے والا پہلا شخص بننے کی کوشش کی۔ وہ مایوس نہیں ہوئے۔ اس کے بعد سے ہر 76 سال بعد اس کا خیرمقدم کیا جاتا ہے۔

جب ہیلی کا کومٹ ہمارے آسمانوں پر واپس آئے گا تو سورج کی روشنی اس کی سطح پر موجود برف کو گرم کر دے گی، جس سے ایک بار پھر اندر پھنسی دھول اور گیسیں آزاد ہو جائیں گی۔ ہیلی کے کومٹ نے حال ہی میں 1986 میں ہمارے پڑوس کا دورہ کیا تھا۔ اور اگر آپ اسے 2061 میں دیکھ رہے ہیں، تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ یہ واپس آ گیا ہے۔ آپ ان تمام لوگوں کی حیرت محسوس کریں جو آپ سے پہلے آئے تھے اور کسی کو خوف نہیں تھا۔

نیوٹن کے قوانین نے ایڈمنڈ ہیلی کے لیے مستقبل میں تقریباً پچاس سال دیکھنا اور ایک کومٹ کے رویے کی پیش گوئی کرنا ممکن بنایا۔ سائنس دان تب سے ان قوانین کو استعمال کر رہے ہیں، چاند اور یہاں تک کہ ہمارے نظام شمسی سے باہر کے راستے کھول رہے ہیں۔ ٹوکری میں موجود بچے نے چلنا اور کائنات کو جاننا شروع کر دیا ہے۔

یہ سب مجھے ایک آخری پیش گوئی تک لے آیا ہے۔ نیوٹن کے کشش ثقل کے قوانین کے علاوہ کچھ نہ استعمال کرتے ہوئے، ہم ماہرین فلکیات اعتماد کے ساتھ پیش گوئی کر سکتے ہیں کہ اب سے کئی ارب سال بعد ، ہماری گھر کہکشاں، ملکی وے، ہماری پڑوسی کہکشاں اینڈرومیڈا (Andromeda) کے ساتھ ضم ہو جائے گی۔ چونکہ ستاروں کے درمیان فاصلے ان کے حجم کے مقابلے میں بہت زیادہ ہیں، کسی بھی کہکشاں میں کسی بھی ستارے کا دوسرے ستارے سے ٹکرانے کا امکان بہت کم ہے۔ اس دور دراز مستقبل کی دنیا میں کوئی بھی زندگی محفوظ ہونی چاہیے، لیکن ان کے ساتھ ایک حیرت انگیز، ارب سال طویل قمقموں کا منظر جس میں ڈیڑھ ٹریلین ستاروں کا رقص دکھایا جائے گا جو پہلی بار ایک چھوٹی سی دنیا میں ایک آدمی نے دیکھا تھا۔ جس کا صرف ایک سچا دوست تھا۔

(نیل ڈی گراس ٹائسن، ایسٹرو فیزیسیسٹ، مصنف اور سائنسی رابطہ کار، کی مشہور دستاویزی فلم کوسموس کی تیسری قسط کا ترجمہ جاوید صدیق نے کیا ہے۔ )

Facebook Comments HS

One thought on “آئزک نیوٹن اور ایڈمنڈ ہیلی کا دم دار ستارہ: کائنات (3)

  • 16/05/2024 at 12:43 صبح
    Permalink

    Awesome! Splendidly translated.

Comments are closed.