ممتا کا دکھ


بے شک ماں اس دنیا میں اللہ کی سب سے بڑی نعمت ہے۔ اس باغ قدرت میں سب سے خوبصورت پھول ہے جس کی عظمت بیان کرنا سمندر کو کوزے میں بند کرنے کے مترادف ہے ماں شفقت، خلوص، بے لوث محبت، ممتا، ایثار و قربانی کا پیکر ہوتی ہے۔ اور کائنات کے سب سے اچھے، سچے اور خوبصورت ترین رشتے کا نام ہے۔ جس کا کوئی نعم البدل نہیں ہو سکتا ہمارے کردار ہماری ماں کی تربیت سے تعمیر ہوتے ہیں کہتے ہیں جونہی کوئی خاتون ماں بنتی ہے اللہ کی تمام رحمتیں اس پر نچھاور ہو جاتی ہیں اور قدرت نے اس کے پاؤں تلے جنت رکھ کر اس کی عظمت کو سب سے بلند کر دیا ہے۔

ماؤں کی خوبیاں یکساں ہوتی ہیں اس لیے ہر شخص کے لیے اس کی ماں سب سے عظیم ہوتی ہے۔ یہ 1972ء کی بات ہے میں نے میٹرک پاس کر لیا تھا والد صاحب ہندوستان میں جنگی قیدی تھے قلیل تنخواہ اور نو بہن بھائی شاید یہ میری ماں کے لیے مشکل ترین وقت تھا۔ امی جان کو لوگوں کے کپڑے سی کر گزارہ کر نا پرتا تھا میں روز صبح تلاش روزگار میں نکلتا سینکڑوں انٹرویو دے ڈالے مگر روز شام کو منہ لٹکائے واپس آتا تو وہ میرا حوصلہ بڑھاتی اور اگلی صبح ایک نئے جذبے سے کوشش شروع کر دیتا۔

ہمارے ہمسایوں کو بھی میری ناکامیوں کی خبر تھی۔ ایک روز میں پھر ناکام واپس آیا تو مجھے پتہ چلا کہ امی جان رو ر رہی ہیں میں نے وجہ جاننا چاہی تو ٹال دیا لیکن میری چھوٹی بہن نے سارا واقعہ مجھے بتایا کہ وہ ہمسایوں کے گھر ملنے گئیں تھیں۔ ہمسائی اپنے خاوند کے ساتھ کسی کام سے بازار جا رہی تھی۔ اس لیے انہیں روانہ کر کے وہ ان کے بچوں کے ہمراہ گپ شپ کرنے لگیں تھوڑی دیر میں وہ دونوں میاں بیوی واپس آ گئے ان کی بچی نے پوچھا آپ تو احمد پور گئے تھے۔

اتنی جلدی واپس کیوں آ گئے؟ ہمسائی سمجھی کہ امی جان واپس اپنے گھر چلی گئیں ہیں۔ لیکن وہ ابھی اندر ہی بیٹھی ہوئی تھیں اور ان کی بات سن رہی تھیں۔ ہمسائی نے بتایا کہ وہ جا رہے تھے تو راستے میں گھر سے نکلتے ہی جاوید نظر آ گیا۔ جو احمد پور سے واپس آ رہا تھا۔ ہم نے کہا کہ یہ جہاں جاتا ہے ناکام ہوتا ہے۔ آج کل اس کے برے دن چل رہے ہیں۔ اس کی شکل دیکھ لی ہے اس لیے اب ہمارے کام بھی نہیں ہوں گے ؟ لہذا ہم واپس آ گئے ہیں۔

یہ بات امی جان کو بہت ہی بری لگی کوئی ماں اپنے بچے کو منحوس یا ناکام انسان سننا برداشت نہیں کر سکتی۔ وہ بڑے غصہ میں روتی ہوئی واپس آئیں اور بڑی دیر تک روتی رہیں۔ یہ رونا ہی تھا جس نے میرے لیے خوش قسمتی کے سارے دروازے کھول دیے اللہ کی رحمت برسنے لگی۔ وہ شاید میری زندگی کا آخری مشکل ترین دن تھا۔ پھر عروج ہی عروج رہا ترقی پر ترقی ہوتی چلی گئی اور میں ایک مزدور سے بینک ایگزیکٹیو تک جا پہنچا۔ میری ماں کو تمام زندگی یہ واقعہ یاد آتا تو وہ رونے لگتی تھی۔

وہ دل کی مریض تھیں میں انہیں انجیو گرافی اور بائی پاس کے لیے آغا خان ہسپتال کراچی لے جا رہا تھا۔ جس صبح ہماری روانگی تھی اس رات میں دیر سے واپس آیا تو جاگ رہی تھیں۔ ہم نے ساتھ کھانا کھایا پھر وہ بتانے لگیں کہ وہ آج سب سے مل کر آئیں ہیں اور اپنا کہا سنا معاف کر دیا ہے۔ پتہ نہیں اب زندگی ساتھ دے یا نہ دے؟ کراچی سے زندہ آونگی یا نہیں؟ پھر اپنی تیاری کے بارے میں بتایا اور بہت سی باتیں کیں میں نے کہا بہت دیر ہو گئی ہے آپ آرام کریں اور انہیں سہارا دے کر کمرے تک لے گیا جہاں وہ شائستہ بیٹی کے ساتھ سوتیں تھیں۔

میں واپس ہونے لگا تو بولیں جاوید میں نے آج اس ہمسائی کو بھی معاف کر دیا ہے۔ جس نے تمہیں منحوس کہا تھا۔ تم بھی معاف کردو! ان کی آواز لڑکھڑا رہی تھی۔ میں نے ان کے چہرے پر عظمت اور ممتا کے وہ جذبات دیکھے جو بیان نہیں کیے جا سکتے۔ اتنا بڑا عفو و درگزر، حوصلہ اور دل ایک ماں کا ہی ہو سکتا ہے۔ واقعی ماں رب کا ایک روپ اور پیکر وفا ہوتی ہے انہوں نے ساری عمر کا سنبھالا ہو اپنی ممتا کا یہ طویل دکھ آج دور کر دیا تھا۔

ان کی آنکھوں خوشی کے ستارے جھلملا رہے تھے۔ جو اس بات کا اظہار تھا کہ ان کا بیٹا دنیا کا خوش قسمت ترین انسان ہے۔ میں نے کہا جی امی جان بہتر ہے ایسا ہی ہو گا پھر ان سے نظر ملائے بغیر واپس آیا تو میری آنکھیں ان کی عظمت کی وجہ سے نم تھیں۔ دوسری پھر صبح وہ ہم میں نہیں تھیں دل کے شدید دورے نے ہم سے ہماری ماں کا یہ خوش بخت سایہ اس رات ہمیشہ کے لیے چھین لیا۔ کہتے ہیں دکھ مرنے کا نہیں۔ دکھ بچھڑنے کا ہوتا ہے انسان کو موت نہیں رلاتی۔

وہ پیا ر رلاتا ہے جو مرنے والے کے ساتھ ہوتا ہے۔ لیکن ہمارے دلوں میں وہ اور ان کا پیار آج بھی زندہ ہیں اور وہ کہہ رہی ہیں کہ لوگوں آوُ دیکھو! میں خوش قسمت اولاد کی ماں ہوں۔ میرا نام شمشاد ہے اور شمشاد اس گھنے لمبے، خوبصورت، سفید پھولدار، اور سایہ دار درخت کو کہتے جس کی گھنی چھاؤں تلے خوش قسمتی جنم لیتی ہے۔ میرا یہ سایہ سدا میرے بچوں پر قائم رہے گا۔ لیکن ہمیں ان کی کمی کا احساس ہر لمحہ رہتا ہے۔ کیونکہ دنیا میں سب کچھ ماں سے ہوتا ہے ماں کے بغیر کچھ نہیں ہوتا۔ ان کی محبت ایک بہتا دریا کی طرح تھی اور دریا اگر سوکھ بھی جائے تو ریت سے اس کی نمی کبھی نہیں جاتی۔

باغ کس کام کا جس میں گل ُ و شمشاد نہ ہو
لطف دیتی نہیں بے شیشہ و ساغر محفل

Facebook Comments HS