تشدد کا عالمی انڈکس، ہم کہاں کھڑے ہیں
عام الفاظ میں، تشدد کا مطلب بے رحمی، سخت رویہ اور وحشیانہ طاقت ہے۔ اگرچہ تشدد کا تصور معاشروں اور اشخاص کے ہاں الگ الگ ہے لیکن عمومی طور پر اس کی اقسام ہیں، جیسے جسمانی، نفسیاتی، زبانی، غیر زبانی، جنسی، صنفی، ذہنی، معاشرتی، مذہبی، سیاسی، معاشی، تعلیمی تشدد وغیرہ۔ انسانی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں تہذیبوں کا ارتقا تشدد سے شروع ہو کر عدم تشدد پر اپنے کمال کو پہنچا ہے۔ لیکن ہر دور کا ایک اپنا معاشرہ ہوتا ہے جس میں دیگر عوامل کے ساتھ ساتھ تشدد کا سلسلہ بھی ہوتا ہے۔
یہ تشدد شروع میں فطرت، ماحول اور سوچ کی پیداوار ہوتا ہے لیکن رفتہ رفتہ یہ لوگوں کی حیثیت اور طاقت کے حساب سے متعین ہوتا چلا جاتا ہے۔ جن جن خطوں کی تہذیب پرانی ہے اور ان تہذیبوں میں بیرونی اثرات بہت کم ہیں وہاں تشدد بہت کم ہے اور وہاں کے رہائشی تشدد سے پرہیز کرتے ہیں۔ لیکن جن معاشروں میں انسانوں کا رہن سہن زیادہ قدیم نہ ہو اور اس معاشرے میں مختلف الخیال لوگ رہتے ہوں تو وہاں تشدد زیادہ دیکھا گیا ہے۔
علم نفسیات کے آنے کے بعد تشدد کی وجوہات اور محرکات کا باریک بینی کے ساتھ جائزہ لیا گیا ہے۔ مگر نفسیاتی مطالعہ زیادہ تر ترقی یافتہ دنیا اور ان کے معاشروں اور اشخاص کو سامنے رکھ کر کیے گئے ہیں۔ پاکستانی معاشرے کو نفسیات کے ان اصولوں کی روشنی میں نہیں پرکھا جاسکتا۔ پاکستان اسی کے قریب مختلف زبانیں بولنے والے الگ الگ تشخص اور تمدن و تہذیب رکھنے والوں کا ملک ہے۔ اس کے باشندے جنیاتی طور پر بھی ایک جیسے نہیں ہیں۔
مذہبی اور مسلکی حوالے سے بھی بہت منقسم ہیں۔ یہاں کی جغرافیائی تقسیم بدترین ہے اور ہر حصہ میں رہنے والے ایک دوسرے کو اپنا مخالف اور حریف سمجھتے ہیں، سیاسی اور انتظامی تقسیم نا انصافی اور ایک فریق کی خوشنودی پر مبنی ہے۔ پنجاب کو چھوڑ کر باقی تمام علاقوں کے وسائل پر مقامی افراد کا کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ بلوچستان، خیبر پختونخوا اور داخلی سندھ میں روزگار کے ذرائع کو شعوری کوششوں اور بندشوں سے مسلسل ختم کیا گیا۔
یوں ان علاقوں سے آبادی کا ایک بڑا حصہ کراچی اور پنجاب کے صنعتی شہروں میں روزگار کے حصول کے لیے منتقل ہوتا گیا اور اب صورتحال یہ ہے کہ کراچی میں دو کروڑ سے زیادہ انسان جمع ہو گئے ہیں۔ جہاں شخصی، مذہبی، مسلکی، لسانی، صوبائی، اور مختلف سیاسی اور اقتصادی بنیادوں پر مختلف المزاج و نسل و رنگ و شناخت لوگوں کا اپنے معاملات حل کرنے کا واحد ذریعہ تشدد رہ گیا ہے۔ تشدد کو پروان چڑھانے میں حکومت اور خصوصاً وہاں تعینات پولیس کا بھی بڑا ہاتھ ہے اس لیے کہ اسی تشدد کی بنا پر ان کو مالی فائدہ پہنچتا ہے۔
جن صوبوں میں وسائل تو ہیں مگر ان وسائل کو استعمال میں لانے کے ذرائع اور اجازت نامے نہیں ہیں وہاں غربت اور انتشار بڑھ رہا ہے جس کی وجہ سے وہ تشدد کی طرف مائل ہیں۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے پشتون علاقے ستر کی دہائی کے بعد امریکن ساختہ جہاد اور سرد جنگ کے خاتمے کی پالیسی اور کوششوں کے نتیجہ میں ہتھیاروں، منشیات، سمگلنگ اور جرائم پیشہ افراد کے لیے جنت بنا دیے گئے تھے۔ اور ان علاقوں میں جہادی افرادی قوت تیار کرنے کے لیے مدارس کا قیام عمل میں لایا گیا اور جدید تعلیم سے ان کو دور رکھا گیا۔
سرحدی خطے کی تمام آبادی کا روزگار سمگلنگ سے وابستہ ہو گیا جس کے نتیجے میں تشدد بطور ہتھیار ان خطوں میں استعمال کیا جانے لگا۔ جب نوے کی دہائی میں ان تیار کردہ لوگوں کی ضرورت ختم ہو گئی تو ان لوگوں نے شہروں کا رُخ کیا جہاں ان کے پاس کوئی دوسرا ہنر نہیں تھا اس لیے ان لوگوں اور گروہوں نے تشدد کے ذرائع آمدن کو فروغ دیا جن سے ان کو مالی فائدہ ہو سکتا تھا۔ یہ لوگ پھر منشیات اور اسلحہ کی سمگلنگ میں مصروف ہو گئے یوں پاکستان بھر میں تشدد کا محرک بننے والے یہ دو اہم چیزیں دنیا میں کسی بھی ملک کے مقابلے میں زیادہ تعداد اور سہولت کے ساتھ دستیاب ہونی لگیں۔
پاکستان میں روزگار کے عمومی ذرائع جو جدید دنیا میں لوگوں کو مصروف اور مالی طور پر مستحکم رکھتی ہیں ان کا فقدان ہے۔ پاکستان کے دس شہروں کو چھوڑ کر کسی بھی جگہ صنعتیں نہیں ہیں، جن علاقوں میں اس سے پہلے کارخانے اور صنعتیں تھیں وہ اب تقریباً ختم ہو گئی ہیں۔ جبکہ پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جن میں شرح پیدائش بہت زیادہ ہے۔ آبادی کا ایک سیلاب ہے جس کے لیے رہائشی، خوردنی اور مواصلاتی ذرائع نا کافی ہیں۔
جو ذرائع دستیاب ہیں وہ ان کی قوت خرید سے باہر ہیں۔ آبادی کی اس بدترین اضافہ نے بھی تشدد کے رجحان کو پروان چڑھایا ہے۔ معاشرے میں اعتدال لانے کے لیے حکومتیں کچھ ضروری اقدامات کرتی ہیں۔ مگر پاکستان میں اس ضمن میں کوئی ایک بھی ایسا کام نہیں کیا جا رہا ہے۔ سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے نصابوں میں عدم تشدد کے حوالے سے کچھ نہیں ہے۔ ستر کی دہائی میں امریکن فنڈنگ سے تیار کردہ تشدد پر مبنی مذہبی بیانیہ اسی شدت سے اب بھی پھیلایا جا رہا ہے۔
مسلکی اور مذہبی اختلافات کو تنازعات کی شکل دے کر اس پر سیاست کرنے کا رجحان مسلسل بڑھ رہا ہے۔ سوشل میڈیا کی آمد کے بعد اس میں بتدریج اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اس ملک کی بدقسمتی دیکھیں کہ اس پرتشدد دور میں ان کو سرکاری سرپرستی میں ترکی کی پروپیگنڈا تاریخی پُر تشدد ڈرامے اردو زبان میں ڈب کر کے مسلسل دکھائے جا رہے ہیں۔ جس کے نتیجے میں لوگ تشدد دیکھ کر اس جانب راغب ہو رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ہر طاقتور یا نو دولتیہ تشدد کو اپنی طاقت کی پہچان بنا کر پیش کر رہا ہے۔
اسلحہ کی نمائش پر ملکی قوانین کے ہوتے ہوئے کوئی پابندی نہیں ہے۔ ہر شادی کی تقریبات میں سینکڑوں گاڑیوں میں لوگ اسلحہ بردار محافظوں کی جھرمٹ میں شرکت کرنے آتے ہیں اور اپنی تشہیر کے لیے کہیں نہ کہیں تشدد کی فضا بنا کر اسے سوشل میڈیا پر پھیلا دیتے ہیں۔ ٹی وی اور اخبارات کی خبروں میں اسی فیصد تشدد کے مختلف واقعات کو ریٹنگ لینے کے لیے بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ اور سنسنی خیزی پیدا کرنے کے لیے اس واقعہ کو بار بار اور مختلف طریقوں سے مسلسل میڈیا پر چلایا جاتا ہے۔
جس کے نتیجے میں معاشرے میں تشدد کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ سیاسی جدوجہد اور عمل کو اب عملاً تشدد کا ہتھیار میسر آ گیا ہے۔ جس میں وقت کے ساتھ ساتھ تیزی آ رہی ہے۔ مارکیٹ میں دستیاب خوراکوں میں ملاوٹ اور کیمیکلز کے استعمال سے انسان اعصابی طور پر کمزور تر ہوتے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے ان میں قوت برداشت کم ہو رہی ہے جس کے نتیجہ میں گھریلو تشدد بڑھ رہا ہے۔ سوشل میڈیا کی وجہ سے اور ہر بچے کے ہاتھوں میں ڈیجیٹل سیل فون آنے کی وجہ سے معاشرتی خرابیوں تک ان کی رسائی بہت آسان بنا دی گئی ہے۔
جس کے نتیجے میں جو بگاڑ پیدا ہو رہا ہے وہ تشدد کی شکل میں سامنے آتا ہے۔ مگر ہماری حکومت اور ادارے اس ضمن میں کوئی حفاظتی اقدام اٹھانے سے گریزاں ہیں۔ بڑے بڑے شہروں کے کچی بستیوں میں رہائش پذیر اور شہروں کے اردگرد مضافات میں رہائش پذیر نوجوانوں میں تشدد کا رجحان بہت زیادہ بڑھ رہا ہے جس میں ان علاقوں کا ماحول، منشیات کی دستیابی، بدمعاشی کا فیشن، بڑھتی ہوئی آبادی، تعلیم اور روزگار کی سہولیات کا فقدان جیسے متعدد عوامل شامل ہیں۔
تشدد کا رجحان یونیورسٹیوں میں بہت زیادہ بڑھ رہا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یونیورسٹیوں میں سیاسی گروہوں کا بہت زیادہ عمل دخل اور منشیات کا بہت زیادہ استعمال ہے۔ یونیورسٹی کے کیمپسوں میں منشیات کا حصول اتنا آسان اور سہل ہو گیا ہے کہ آپ اس کا تصور تک نہیں کر سکتے۔ یونیورسٹی کے کیمپسوں میں ریڑھوں، ٹھیلوں، رکشوں اور ٹیکسیوں والے سرعام منشیات فروخت کرتے ہیں۔ اب تو ڈلیوری سروس والے بھی کھانوں کے ساتھ منشیات فراہم کرتے ہیں۔
یونیورسٹیوں کے ہاسٹلز سر شام ہی منشیات استعمال کرنے والوں کی آماج گاہ بن جاتے ہیں اور رات گئے تک یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔ نشے کے عادی یہ سٹوڈنٹس تشدد کی طرف بہت جلد مائل ہو جاتے ہیں۔ افغان شہری جو لاکھوں کی تعداد میں اس ملک میں رہتے ہیں ان کی وجہ سے بھی تشدد میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا ہے۔ یہ قانون کی گرفت اور دائرہ کار سے خود کو بالاتر سمجھتے ہیں اور ہر قسم کے جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں۔ معاشرے میں موجود جرائم پیشہ بھی ان کا استعمال کرتے ہیں۔
سمگلنگ اور منشیات کا کاروبار ان کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔ سوشل میڈیا پر آن لائن دنیا کا کوئی اسلحہ، منشیات اور نن کسٹم پیڈ گاڑی آپ کو درکار ہو تو ہزاروں کی تعداد میں افغانستانی شہری جو مستقل پاکستان میں آباد ہیں وہ آپ کو مہیا کرتے ہیں۔ وہ بلا کسی خوف خطر سوشل میڈیا پر خریدار کا نام لے لے کر ان کو بھیجا جانے والا اسلحہ دکھاتے ہیں اور فائرنگ کر کے چیک بھی کرتے ہیں۔ اب اس کے بعد بھی ان کو پکڑنے کے لیے کسی ثبوت کی ضرورت رہتی ہے مگر آج تک ان میں سے کسی کو بھی نہیں پکڑا گیا۔
اب تو رئیل سٹیٹ کے خود ساختہ ڈان ان افغانستانی شہریوں کی پوری پوری فوج بنا کر ساتھ پھراتے رہتے ہیں اور ان کی مدد سے زمینوں پر قبضے کرتے ہیں۔ کراچی، پنڈی اور پشاور میں گزشتہ کچھ عرصہ سے ہزاروں واقعات ایسے ہوچکے ہیں جہاں سینکڑوں کی تعداد میں یہ ہتھیاروں سے لیس افغانستانی شہری لوگوں کی زمینوں پر قبضے اور رہائشیوں کو بے داخل کرتے میڈیا پر بھی نظر آئے مگر چونکہ ان کو استعمال کرنے والے بہت طاقتور لوگ ہیں اس لیے ان کو کچھ بھی نہیں کہا جاتا۔
اس معاشرے میں تشدد جس رفتار سے بڑھ رہا ہے وہ بہت زیادہ باعث تشویش ہے۔ اس کو ختم تو نہیں کیا جاسکتا مگر اس کی بیشتر صورتوں کے آگے بند باندھا جاسکتا ہے۔ تشدد کو تحریک دینے اور پھیلانے کے ذرائع کو اگر روکا جائے یا ختم کیا جائے تو بہت بہتری آ سکتی ہے۔ سب سے بڑا حل روزگار کی فراہمی ہے۔ اس مقصد کے لیے جب تک سمگلنگ کا خاتمہ نہیں ہو گا مقامی طور پر کوئی بھی روزگار چل نہیں سکے گا۔ شہروں کے بجائے دیہی علاقوں کی ترقی کا سلسلہ شروع کیا جائے تو اس میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔
منشیات کی فراہمی ناممکن بنا دی جائے تو اس میں خاطر خواہ کمی آ سکتی ہے۔ ٹی وی اور میڈیا پر تشدد کو پروان چڑھانے والے فلموں، ڈراموں اور دیگر ذرائع پر پابندی لگا کر بھی اس کو کم کیا جاسکتا ہے۔ آبادی کو کنٹرول کر کے بھی اس پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ ہر شہر اور علاقے میں صحت مند تفریح یعنی کھیلوں کو فروغ دے کر بھی اس پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ ملاوٹ شدہ اشیائے خورد و نوش کو ختم کر کے بھی لوگوں کو اعصابی کمزوریوں سے بچا کر تشدد میں کمی لائی جا سکتی ہے۔
لیکن تشدد میں کمی لانے کا سب سے بڑا ذریعہ والدین کی توجہ میں مضمر ہے۔ اگر ہمارا خانگی نظام بہتر ہو جائے۔ والدین بچوں پر تشدد کرنا بند کر دیں۔ ان کو وقت دیں، ان کو ضرورت سے زیادہ پیسے نہ دیں، ان کو اپنی نگرانی میں رکھیں، ان کے دوستوں اور ماحول پر نظر رکھیں، انہیں منشیات اور دیگر برائیوں سے محفوظ رکھیں تو معاشرے میں تشدد کے رجحان میں بہت زیادہ کمی واقعی ہو سکتی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں تشدد مسائل حل کرنے کا ذریعہ سمجھا جانے لگا ہے اور ہر شخص اور ادارہ اس کو اپنے ضرورت اور مقصد کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ جس کا نتیجہ تشدد کے پھیلاؤ کی صورت میں نکل رہا ہے۔ ریاست، حکومت، عدالت، معاشرہ اور فرد اگر تشدد کے مقابلے میں مسائل کا کوئی دوسرا حل تلاش کریں تو یہ اس ملک پر ان کا احسان ہو گا۔ ورنہ تشدد کے نتیجے میں تاریخ گواہ ہے کہ سلطنتیں اور ریاستیں تباہ ہوئی ہیں۔ اور عدم تشدد کے ذریعہ ممالک عظیم طاقتیں بنی ہیں۔ یورپ، جاپان، چین، امریکہ اور مشرقی وسطی کے ممالک کو دیکھ لیں۔ ان ریاستوں نے جب جب تشدد کی جگہ مسائل کا حل روزگار، بہتر ماحول و سہولیات اور تعلیم و تحقیق و تجارت کو فروغ دینے ڈھونڈا ہے ان کے معاشرے میں ٹھہراؤ آیا ہے اور وہ ترقی کر گئے ہیں۔
تشدد سے عراق، افغانستان، صومالیہ، لیبیا، شام، سوڈان اور ان جیسے بہت سارے ممالک تباہ ہو گئے ہیں۔ ذرا تشدد کے حوالے سے عالمی انڈکس اٹھا کر دیکھ لیں ہم کہاں کھڑے ہیں اور جو ممالک تشدد سے تباہ ہوئے ان کے انڈکس ان کی تباہی سے ایک دو برس پہلے کے دیکھ لیں آپ کے رونگٹے کھڑے ہوجائیں گے۔ اس لیے کہ ہم اس تباہی کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ اگر صورتحال یہی رہی تو چند ماہ یا پھر ایک دو برس بعد ہمارا بھی وہی حال ہو گا جو ان ممالک کا ہوا تھا۔
جہاں جنگیں نہیں ہیں ان ممالک میں پاکستان سر فہرست ممالک میں آ گیا ہے۔ اس فہرست میں شامل وہ ممالک جہاں جنگیں چل رہی ہیں ان جنگوں سے پہلا کا گراف دیکھا جائے تو وہ بھی ہماری طرح بتدریج ترقی کرتے کرتے تباہی کا شکار ہوئے ہیں۔ ان ممالک کے مقابلے میں ہماری آبادی بہت زیادہ ہے، اور پاکستان میں افغان جنگ کے ثمرات کے نتیجے میں اتنا زیادہ اسلحہ لوگوں کے پاس ہے جتنا ان تمام شورش زدہ ممالک کے پاس کل ملا کر بھی نہیں ہے۔ اس لیے ہمیں ان سے سبق لے کر کچھ نہ کچھ کرنا پڑے گا۔


