تحریک تحفظ آئین پاکستان۔ یوسف کا خریدار
پاکستان کی چھ سیاسی جماعتوں نے تحریک تحفظ آئین پاکستان کے نام سے ایک سیاسی اتحاد بنا دیا ہے جو :
1۔ پختونخوا ملی عوامی پارٹی
2۔ پاکستان تحریک انصاف
3۔ جماعت اسلامی
4۔ سنی اتحاد کونسل
5۔ تحریک وحدت المسلمین
6۔ بلوچستان نیشنل پارٹی
پر مشتمل ہے۔ اس اتحاد کے بنیادی نکات جو 23 اپریل 2024 کو کوئٹہ پریس کلب میں ان جماعتوں کے سربراہان کے مشترکہ پریس کانفرنس میں سامنے آئے ہیں۔ اس کے مطابق ملک میں پارلیمان اور آئین کی بالا دستی، فوج اور تمام اداروں کا آئین کے مطابق اپنا کردار ادا کرنا اور سیاست سے دور رہنا اور فارم 47 کی بنیاد پر اسمبلی ممبران کے آنے کی مخالفت کرنا اور حقیقی جمہوریت کی بحالی شامل ہیں۔
دیکھا جائے تو ان نکات میں کوئی ایک بھی نکتہ ایسا نہیں جس کی دنیا بھر سمیت کوئی بھی پاکستانی سیاسی جماعت مخالفت کرے۔
اس اتحاد کی ضرورت یوں آن پڑی کہ ہمیشہ کی طرح 2024 کے الیکشن کے نتائج بھی متنازعہ تر رہے۔ اور الیکٹرانک میڈیا جو خصوصی انتخابی نشریات براہ چلاتے ہوئے لمحہ بہ لمحہ اطلاعات قوم کو دے رہی تھی۔ اس کے مطابق کئی بلکہ بہت سے امیدوار بڑی بڑی لیڈ سے جیت گئے تھے۔ سرکاری نتائج میں وہ شکست خوردہ ٹھہرائے گئے۔ اور الزام یہ ہے کہ فارم 45 کے نتائج تبدیل کیے گئے اور فارم 47 پر ہارے ہوئے اُمیدواروں کو کامیاب بنایا گیا۔ یوں پاکستانی عوام کی رائے اور سیاسی پارٹیوں کے مینڈیٹ کو دن دھاڑے چرایا بلکہ چھینا گیا۔ پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین تو واضح الزام لگاتا ہے کہ اس دھندے میں اربوں روپوں کا لین دین ہوا ہے۔
تحریک کے مطالبات اور مقاصد کو اگر دیکھا جائے تو اس میں بھی کوئی بات ایسی شامل نہیں جو غیر سیاسی، غیر پارلیمانی یا خدا نہ کرے ملک، آئین اور پارلیمانی نظام کے خلاف ہو۔ بلکہ اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو تمام حب الوطنی پر ہی مبنی ہیں۔ رہ گیا مینڈیٹ چوری کرنے یا چھیننے کا الزام تو بحیثیت پاکستانی ہر ایک کو انفرادی اور اجتماعی طور پر یہ حق حاصل ہے کہ جمہوریت کے راستے ملک اور حکومت کے انتظامات میں براہ راست شریک ہوں، اور اسی شرکت کے لیے دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی اربوں روپے خرچ کر کے الیکشن کرانے جاتے ہیں۔
ساتھ ہی اس مقدس فریضے کو نبھانے کے لیے باقاعدہ ایک حکومتی نہیں بلکہ آئینی ادارہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے نام سے تشکیل دیا گیا ہے۔ اب مینڈیٹ چوری ہونے کی ذمہ داری براہ راست الیکشن کمیشن پر آن پڑتی ہے۔ جبکہ سیاسی جماعتوں نے تو الزامات لگا کے انگلیاں بھی رکھ دی ہیں، دیکھنا یہ ہے کہ شفاف اور غیر جان دارانہ انتخابات کے انعقاد کی بنیادی ذمہ داری کس کی تھی اور ناکام کون اور کیوں ہوا ہے۔ جو واضح طور پر آئینی ادارے الیکشن کمیشن کے منہ پر طمانچہ ہے۔ اب یہ اس کی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری بنتی ہے کہ اپنے ماتھے سے یہ داغ مٹائے۔
جہاں تک اس تحریک کے کامیابی اور ناکامی کا سوال ہے۔ تو یہ تحریک اپنے آغاز ہی سے کامیاب ہو چکی ہے۔ گو کہ کئی لکھاری اتحاد اور اتحادیوں کی کمزوریوں اور مختلف حوالوں سے ایسی باتیں کر رہے ہیں۔ جیسے گلی کے نکڑ پر یا دکان کے ترے پر گلی محلے کی باتیں ہوتی رہتی ہیں۔ جبکہ پہلی کامیابی اس تحریک کی یہ ہے کہ اس کے اتحادیوں نے پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی کو نہ صرف اپنا رہنماء مقرر کیا بلکہ صدارتی الیکشن میں اپنا صدارتی امیدوار بھی نامزد کر دیا جس سے دنیا بھر میں اس عمل کونہ صرف پذیرائی ملی بلکہ اس تحریک کی حقانیت اور حیثیت کا بھی دیا کو پتہ چلا۔ کیونکہ اچکزئی صاحب وہ بندہ ہے جس کے بارے میں پاکستان ہی کے ایجنسیوں، سیاسی رہنماؤں اور دیگر شخصیات پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر براہ راست کہتے چلے آرہے ہیں کہ موصوف کا کردار ہر لحاظ سے شفاف ہے۔
ایسے حالات میں جبکہ ملک کی مین سٹریم پارٹیوں نے ایک دوسرے کے سامنے محض اس لیے گھٹنے ٹیک دیے کہ اقتدار کے مزے مل کے لوٹتے رہیں۔ تو بے چارے عوام جن پر آئے روز مہنگائی، ٹیکسوں اور ضمنی بجٹ کے بم گرائے جا رہے ہیں وہ بے چارے جائیں تو جائیں کہاں۔
البتہ تحریک تحفظ آئین پاکستان نے اپنی سیاسی، آئینی اور اخلاقی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے اپنی بساط کے مطابق اپنا فریضہ ادا کیا۔ اور حقیقت دنیا اور عوام کے سامنے رکھ دی ہے۔ جس طرح ضروری نہیں کہ ہر تحریک سو فیصد اپنے مقاصد کے حصول اور منطقی انجام تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔ اسی طرح یہ بھی لازم نہیں کہ مختلف عوامل کی وجہ سے اس تحریک کو سو فیصد کامیابی ملے۔ البتہ تحریک نے خود کو یوسف کے خریداروں میں شمار ضرور کرایا۔


