تونگری بہ دل است نہ بہ مال


دسمبر 1952 ء کا آخری عشرہ شروع ہو چکا تھا۔ سردی اپنے پورے جو بن پر تھی۔ فضل الہٰی صبح سویرے اذان کے وقت نیند سے بیدار ہوئے۔ یخ ٹھنڈے پانی سے وضو کیا اور نماز کی ادائیگی کے لیے مسجد پہنچ گئے۔ اُن دنوں عام لوگوں کو گھڑیوں اور الارم کی سہولیات کہاں میسر تھیں۔ مساجد میں بھی عصرِ حاضر کی طرح لاؤڈ سپیکروں کا رواج نہیں تھا اور اذان کی آواز بمشکل ہی مسجد کے باہر تک سنائی دیا کرتی تھی۔ اس دور کے بزرگوں کی جسمانی ساخت میں قدرتی طور پر ہی اوقات کے تعین کے لیے کوئی نہ کوئی ایسا نظام موجود تھا۔

جو انہیں صبح سویرے نماز کے وقت بیدار کرنے میں ممد و معاون ہوا کرتا تھا۔ اور وہ لوگ عین وقت پر نماز فجر کی ادائیگی مساجد میں جاکر باجماعت ادا کیا کرتے تھے۔ فضل الہٰی نماز کی ادائیگی کے بعد اپنی زمینوں پر چلے گئے جو گاؤں کے ساتھ ہی واقع تھیں۔ تاحد نگاہ کھیتوں میں رات کی سردی کے اثرات پوری شدت کے ساتھ غالب نظر آرہے تھے۔ شب گزشتہ پڑنے والی کہر نے کھیتوں میں موجود زیادہ تر فصلوں اور خاص طور پر گھاس پھونس کو سفید پیراہن میں ملبوس کر کے سپیدہ سحر سے ہم آہنگ کر دیا تھا۔

یہ صورت حال اُن کے لئے بڑی تشویش ناک تھی۔ کیوں کہ گاؤں میں پہلے ہی قحط سالی کی سی کیفیت تھی۔ پچھلے سال گندم کی فصل موسمی اثرات کی وجہ سے کچھ ایسی اچھی نہیں رہی تھی اور اکثر زمیندار گھرانوں کے پاس گندم کا ذخیرہ یا تو ختم ہو چکا تھا یا اختتام کے قریب تر پہنچ چکا تھا اور اب اس شدید موسم میں جانوروں کے چارے بر سیم کی فصل کے حالات بھی دگرگوں نظر آرہے تھے۔ گھروں میں موجود ڈھور ڈنگر اور کھیتوں میں موجود درخت زمیندار کے برے وقت کے ساتھی ہوا کرتے تھے۔

ایسے آڑے وقت میں ایک آدھ ڈھور ڈنگر یا کھیتوں میں موجود تیار درختوں کو فروخت کر کے وہ اپنی ضروریات کو پورا کر لیا کرتے تھے۔ فضل دین سیدھا سا دیہاتی تھا۔ جس نے ہندوستان کے ضلع فیروزپور کے ایک چھوٹے سے گاؤں قادر والا میں اپنی سکونت کے دوران قریب کے ایک پرائمری سکول سے پرانے وقتوں میں دو تین جماعتوں تک تعلیم حاصل کی ہوئی تھی۔ اور اسی بنا پر وہ اردو اور پنجابی زبان میں لکھی ہوئی کتب اور اخبارات کا مطالعہ بڑی سہولت اور آسانی کے ساتھ کر لیا کرتے تھے۔

قرآن حدیث فقہ اور دیگر اسلامی تعلیمات کے متعلق ان کی معلومات بس واجبی سی ہی تھیں۔ لیکن سچائی اور خدا ترسی کو آخری وقت تک اپنا شعار بنائے رکھا۔ اسی خدا ترسی کے وصف کی بدولت ان کے اہلِ خانہ کو ایک طویل عرصہ تک تنگ دستی اور مصائب کا سامنا رہا۔ احوال اس کا کچھ یوں ہے کہ اُن کے گاؤں قادر والا میں تمام گاؤں کی معیشت کا کنٹرول ایک ہندو کے پاس تھا۔ جس کی گاؤں کے چوک میں واحد دکان ہوا کرتی تھی۔ اس نے اسی گاؤں کے دوچار سرکردہ مسلمانوں کو ساتھ ملا کر پورے گاؤں میں سود در سود پر قرض دینے کا کچھ ایسا جال بچھا رکھا تھا۔

کہ بہت سے کسان گھرانے اس میں بری طرح پھنس چکے تھے۔ بھولے بھالے اور ان پڑھ دیہاتی حساب کتاب سے ناواقف جب ایک بار اس کے بچھائے ہوئے دام میں پھنس جاتے تو پھر سودی کتابوں میں اُن کے ذمہ واجب الادا قرض روز افزوں بڑھتا ہی چلا جاتا وہ پرانے حساب کتاب میں اُن کی اجناس کی تیار ڈھیریوں کو اٹھا لیتا اور پھر یہی جنس انہیں اپنی مرضی کے نرخ پر بیچ کر اس سے واجب الادا رقم کو سود کے کھاتے میں ڈال دیتا۔ ان بے چاروں کو اس بات کا بھی علم نہ ہوتا کہ انہوں نے کس قدر قرض لیا تھا۔

کس قدر واپس ہو گیا ہے اور کتنا واجب الادا ہے۔ اگر کوئی گھرانا ذرا سی بھی چوں چرا کرتا یا اس کے جمع تفریق کے حساب کتاب میں فرق پر معترض ہوتا تو اسی گاؤں میں موجود اس کے مسلمان گماشتے اسے ڈرا دھمکا کر سیدھا کر دیتے۔ فضل الہٰی دھیمے مزاج کا معقول انسان تھا اور اپنی چادر دیکھ کر ہی پاؤں پھیلاتا تھا۔ گاؤں میں چند ایکڑوں پر مشتمل چاہی زمین کا ایک زرخیز قطعہ اس کی ملکیت تھا۔ جہاں پر اس نے ایک رہٹ (کنویں ) کا انتظام بھی کر رکھا تھا۔

وہ بیلوں کی مدد سے رہٹ سے پانی نکال کر فصلیں کاشت کرتا اور اپنی زوجہ تین بیٹوں اور ایک بیٹی پر مشتمل خاندان کی بڑی سہولت اور آسانی کے ساتھ کفالت کر لیا کرتا تھا۔ اس نے اپنے خاندان کو بڑی سمجھداری اور کفایت شعاری سے ہندو بنیے کے سودی شکنجے سے بچا رکھا تھا۔ اس کا زیادہ تر وقت زمینوں پر ہی گزرتا۔ بعض اوقات تو زیادہ کام ہونے کی صورت میں وہ رات کو بھی کھوہ پر بنے ہوئے ایک کچے کوٹھے میں قیام بھی کر لیا کرتا۔

ایک دن وہ زمینوں سے گاؤں میں آیا۔ تو اس نے دیکھا کہ وینو کے گھر کے پاس بہت سے لوگ جمع ہیں اور باوردی پولیس والے اس کے گھر کا سامان اٹھا کر باہر پھینک رہے ہیں۔ وینو اور اس کے اہل ِ خانہ ایک طرف کھڑے رو رہے ہیں آہ و پکار کر رہے ہیں۔ لیکن گاؤں کے لوگ بے تعلقی سے ایک طرف کھڑے یہ تماشا دیکھ رہے ہیں۔ دریافت کرنے پر اُسے معلوم ہوا کہ ہندو بنیے نے اپنے قرض کی عدم ادائیگی کے سلسلہ میں عدالت سے اس کے گھر کی قرقی کا پروانہ جاری کروا لیا ہے اور مقامی پولیس کی مدد سے اب وینو کے گھر کا قبضہ ہندو بنیے کو دلوایا جا رہا تھا۔

فضل الہٰی بھلا آدمی تھا خدا ترس بھی اور تھوڑا بہت پڑھا لکھا ہونے کی بدولت اس نے تھانیدار سے اس سلسلہ میں بات چیت شروع کر دی کہ کیا اس مسئلے کا کوئی اور حل ممکن نہیں ہے۔ تھانیدار نے کہا کہ آپ اس کی ضمانت دے دیں کہ چھ ماہ کے بعد یہ اپنا واجب الادا قرض بے باق کر دے گا۔ تو ہم اسے چھ ماہ کی مہلت دے دیتے ہیں۔ لیکن اگر اس کے بعد بھی یہ قرض کی ادائیگی نہ کر سکا تو پھر آپ کی زمین اس قرضے کے عوض ہندو بنیے کے پاس رہن میں چلی جائے گی۔

اس سے وینو کے بچوں کا رونا دھونا دیکھا نہ گیا اور اس نے اپنی ضمانت پر وینو کے اہل خانہ کی وقتی طور پر گلو خلاصی کرا دی۔ چھ ماہ کا عرصہ بڑی تیزی سے گزر گیا۔ دونوں خاندان اپنی انتہائی کوشش کے باوجود بھی ہندو بنیے کا واجب لادا دو سو روپے کا قرض واپس نہ کرسکے اور حسب ِوعدہ فضل الہٰی کی زمین کا ٹکڑا جو اس خاندان کا واحد کفیل تھا ہندو بنیے کے پاس رہن میں چلا گیا۔ لیکن فضل الہٰی نے یہ کٹھن وقت بھی بڑے حوصلے کے ساتھ گزارا۔

اس کا بڑا بیٹا حالات کی سنگینی سے گھبرا کر گھر چھوڑ گیا۔ لیکن فضل الہٰی حسب استطاعت محنت مزدوری کر کے اپنے کنبے کا پیٹ پالتا رہا۔ اس نے اپنے بقیہ دونوں بیٹوں کو عزیزوں اور رشتہ داروں کی مخالفت کے باوجود قریبی گاؤں میں واقع ایک سرکاری سکول میں داخل کروا دیا۔ بڑے بیٹے عبدالغنی نے مڈل پاس کرنے کے بعد سیالکوٹ میں ایک چھوٹی موٹی ملازمت کر لی اس سے اس خاندان کو کچھ سہارا مل گیا۔ چھوٹا بیٹا محمد شفیع مڈل پاس کر کے فوج میں بھرتی ہو گیا۔

اب حالات کافی بہتر ہو گئے۔ ڈیڑھ دو سال کے عرصے میں ہی فضل الہٰی نے ہندو بنیے کے قرض کی ادائیگی کر کے اپنی رہن شدہ زمین اس سے واگزار کروا لی اور نسبتاً بہت بہتر حالات میں گزر بسر ہونے لگی۔ لیکن قدرت کو ابھی اور بھی امتحان لینا مقصود تھا۔ جلد ہی 14 اگست 1947 ء کو پاکستان معرض وجود میں آیا اور فیروزپور ہندوستان کا حصہ قرار پایا۔ اس خطے میں دنیا کی سب سے بڑی ہجرت وقوع پذیر ہوئی۔ فضل الہٰی بھی اپنے اہل خانہ کے ساتھ سکھ جتھوں سے لڑتے بھڑتے بالکل تہی دامنی کی حالت میں پاکستان پہنچے اور حاجی شیر کے قریب واقع ایک گاؤں میں قیام پذیر ہوئے۔

یہاں تک پہنچتے پہنچتے اُن کے تن کے کپڑے اور پاؤں کے جوتے بھی پھٹ چکے تھے۔ گویا کہ زندگی کا نئے سرے سے آغاز کرنا تھا۔ یہ گاؤں سکھوں کا تھا جو اسے چھوڑ کر ہندوستان جا چکے تھے۔ لیکن اُن کے جانے کے بعد اردگرد کے مقامی لوگوں نے یہاں پر وہ لوٹ مار مچائی کہ الامان والحفیظ سارے کے سارے ڈھور ڈنگر جنس اجناس اور بقیہ اشیائے ضروریہ کو بے دردی سے لوٹ کر لے گئے۔ کافی عرصے کے بعد حاجی شیر کے مقامی لوگ ہمیں بتایا کرتے تھے کہ جب لوٹیاں مچیں تھیں تو ہم لوگ آپ کے گاؤں سے فلاں فلاں چیزیں لوٹ کر لائے تھے۔

وہ آج بھی تقسیم کے اس عمل کو لوٹیاں مچنے کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ قصہ مختصر یہ کہ خالی گاؤں بھاں بھاں کر رہا تھا۔ ماں جی بتایا کرتے تھے کہ جب پہلی سردیاں آئیں تو اوڑھنے اور بچھونے کے لیے کچھ بھی موجود نہیں تھا۔ رات کو کمرے میں لکڑیوں کی آگ جلائی جاتی اور تمام اہل خانہ اس آگ کے اردگرد لیٹ جاتے۔ تپش زیادہ ہونے کی صورت میں آگ سے دور اور ٹھنڈ لگنے کی صورت میں آگ کے قریب ہوتے جاتے اور اسی طرح سوتے جاگتے رات کٹ جاتی۔

بہر حال فضل الہٰی نے یہاں بھی ہمت نہیں ہاری اور نئے سرے سے زندگی کی شروعات کیں۔ قریبی شہر سے انہیں ایک عدد بیل گاڑی دو عدد بیل اور دو تین بھینسیں مل گئی تھیں۔ گاؤں کے چاروں طرف جنگلات اور درختوں کی بھرمار تھی وہ اپنے دونوں بیٹوں کو لے کر درختوں کو کاٹ کر انہیں لکڑیوں کی شکل میں تبدیل کرتے اور ان لکڑیوں کو بیل گاڑی پر لاد کر قریبی شہر میں لے جاکر بیچتے اور اس کے عوض حاصل ہونے والی رقم سے غذائی اجناس اور دوسری اشیائے ضروریہ خرید لیتے۔

اس طرح زندگی کا پہیہ ایک بار پھر رواں دواں ہو گیا۔ کچھ عرصے بعد گاؤں کے قریب ہی چند ایکڑوں پر مشتمل زمین کا قطعہ انہیں ہندوستان میں چھوڑی ہوئی زمین کے عوض مل گیا اور انہوں نے زمیندارہ بھی شروع کر دیا۔ اُن کا چھوٹا بیٹا محمد شفیع ایس وی ٹی سینیر ورنیکلر ٹیچر کا کورس پاس کر کے قریب کے ایک سرکاری سکول میں ٹیچر لگا ہوا تھا اور بڑا بیٹا عبدالغنی بہاول نگر میں واقع نارمل سکول سے جے وی ٹی (جونیر ور نیکلر ٹیچر) کا کورس کر رہا تھا۔

گویا کہ اُن کے بیٹوں کی حاصل شدہ تعلیم ایک بار پھر اُن کے حالات کو بہتر بنانے میں اُن کی ممدود معاون بن رہی تھی۔ ہجرت کو پانچ سال کا عرصہ گزر چکا تھا۔ ان پانچ سالوں میں اپنی بقاء کے لئے بھرپور جدوجہد اُن کا طرۂ امتیاز تھی۔ گو حالات بتدریج بہتری کی طرف جا رہے تھے۔ لیکن مصائب اور مسائل کے انبار ابھی بھی اُن کو چاروں طرف سے گھیرے ہوئے تھے۔ وہ انہی سوچوں میں گم گھر میں داخل ہوئے تو انہیں گھر میں غیر معمولی نقل و حرکت کا احساس ہوا۔

گاؤں کی واحد دائی بیگاں چولہے میں آگ جلا کر پانی کا دیگچہ گرم کر رہی تھی۔ اُن کی اہلیہ نے انہیں اشارے سے اپنے پاس بلا کر بتایا کہ اُن کے بیٹے عبدالغنی کے ہاں نومولود بچے کی آمد کا وقت ہوا چاہتا ہے اور بیگاں اسی سلسلے میں تیاری کے عمل میں مصروف کار ہے۔ بیگاں نے اس معاملے میں اپنی ساری کی ساری تعلیم اور تربیت اسی چھوٹے سے گاؤں کے تمام گھرانوں میں ہونے والی زچگیوں کے تجربات کے میڈیکل کالج سے مکمل کی تھی۔

وہ اپنے اس کام میں اس قدر کہنہ مشق تھی کہ حاملہ عورت کی چال اور جسمانی ساخت کو دیکھتے ہوئے وہ نئے آنے والے مہمان کی آمد اور جنس کا بھی درست تعین کر دیا کرتی۔ اہل دیہہ کے پاس بھی اس کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن نہیں تھا کیوں کہ قریب ترین شہر یہاں سے کوسوں دور تھا اور وہاں پہنچنے کے لیے بیل گاڑی کے علاوہ کوئی دوسری سواری میسر نہیں ہوا کرتی تھی۔ جس کے لیے گھنٹوں وقت درکار تھا۔ اس لیے اُن کے پاس بھی بیگاں کا ہی واحد سہارا تھا جو ایسے مواقع پر بڑی تن دہی خلوص ِ نیت اور مہارت سے اپنا کام کیا کرتی تھی۔

فضل الہٰی بیٹھک میں بیٹھا ہوا حالیہ دنوں میں پڑنے والی شدید سردی کے مضمرات اور آنے والے دنوں کی سختی کے خدشات میں گم تھا کہ اچانک بچے کے رونے کی آواز سنائی دی۔ گویا کہ نومولود اپنی آمد کا اعلان بذات خود کر رہا تھا۔ اس کے تھوڑی دیر بعد ہی بیگاں تیز رفتاری کے ساتھ چلتی ہوئی فضل الہٰی کے پاس آئی اور انہیں پوتے کی پیدائش کی مبارک باد دی۔ اس نے جیب میں ہاتھ ڈالا اور اس میں موجود واحد روپیہ نکال کر انعام کے طور پر بیگاں کے ہاتھ پر رکھ دیا اور ساتھ میں ڈھیر ساری دعائیں بھی دے دیں۔

بیگاں کو ایسے حالات میں اس قدر بڑے انعام کی توقع نہیں تھی۔ واضح رہے کہ اُن دنوں ایک روپے میں من بھر کے قریب گندم آ جایا کرتی تھی۔ وہ خوش خوش دوڑی دوڑی واپس گئی اور نومولود بچے کو اُٹھا کر دوبارہ واپس آ گئی۔ روٹی کے گالوں جیسے سرخ و سفید اور صحت مند پوتے کو دیکھ کر داد کا دھیان اپنے بیٹے اور نومولود کے باپ عبدالغنی کی طرف چلا گیا۔ جو اس کڑے وقت میں بیٹے کی پیدائش سے بے خبر یہاں سے کوسوں دور بہاول نگر کے نارمل سکول میں جے وی ٹی کا کورس کر کے بدتر معاشی حالات کے خلاف جنگ لڑنے کی تیاری میں مصروف تھا۔

دو تین دنوں کے بعد سکولوں میں بڑے دنوں کی چھٹیاں ہو گئیں اور عبدالغنی بھی گھر پہنچ گیا اور بیٹے کو دیکھ کر اس کی بھی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی۔ کیوں کہ اُن دنوں یہ ضرب المثل زبان  زد عام ہوا کرتی تھی کہ جس بندے کو قدرت نے دوت اور پوت کی نعمتوں سے نواز دیا اُسے مزید کیا چاہیے۔ عقیقے میں پہلے سے ہی گھر میں رکھے ہوئے دو بکرے ذبح کیے گئے اور نومولود کا نام محمد خالق تجویز کیا گیا۔ کچھ عرصہ بعد ہی خالق کو تبدیل کر کے خالد کر دیا گیا اور پھر موصوف نے بڑے ہو کر اس نام کے ساتھ ایک اور لاحقہ کا اضافہ کر کے اُسے خالد جاوید بنا دیا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments