زندگی اور اس کے بدلتے ہوئے خوبصورت رنگ


زندگی بہت خوبصورت ہے ان لوگوں کے لیے جو اس کو جینے کا گُر جانتے ہیں۔ اگر ہماری سوچ مثبت ہے تو ہم آنے والے طوفانوں سے ٹکرا سکتے ہیں لیکن اس کے برعکس اگر ہماری سوچ منفی ہو تو چلنے والی ہلکی سی تیز ہوا بھی ہمیں اپنے ساتھ اڑا کر لے جاتی ہے۔

کہنے کو تو یہ زندگی بہت مختصر ہے لیکن اس چھوٹی سی زندگی میں ہم مختلف ادوار اور امتحانات سے گزرتے ہیں۔ یہ کسی کے لیے بھی آسان یا گلزار نہیں ہوتی۔ جب وقت گزر رہا ہوتا ہے تو مشکل لگتا ہے لیکن وقت کی خاصیت یہ ہے کہ جیسا بھی ہو گزر جاتا ہے۔ اکثر ہم کہتے ہیں اور سنتے بھی ہیں کہ وقت پلک جھپکتے ہی گزر گیا۔ بچے بڑے ہو گئے اور پتہ ہی نہیں چلا ’وقت کتنی جلدی گزر جاتا ہے۔

یہ بالکل سچ ہے کہ دن دیکھا نہیں اور رات ہو گئی۔ لیکن اگر اس کا بغور جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ کئی ادوار آ کر گزر جاتے ہیں جیسے موسم بدلتے ہیں بالکل ویسے ہی ہمارے حالات بدلتے ہیں۔ کبھی بھی کچھ بھی ایک جیسا نہیں رہتا بس فرق یہ ہوتا ہے کہ کچھ لوگ آنے والی تبدیلیوں کو بآسانی اپنا لیتے ہیں اور اپنی سوچ سے وقت کے ساتھ چلنے کا ہنر جان جاتے ہیں جبکہ کچھ لوگ اپنی فرسودہ سوچ کی وجہ سے اپنے اور دوسروں کے لیے مشکلات کھڑی کر دیتے ہیں۔

زندگی کے فلسفے کو سمجھنے کے لیے اگر ہم ایک نَومَولُود بچے کی مثال لیں تو وہ وقت بہت خوبصورت ہوتا ہے جب بچہ اس دنیا میں آتا ہے ’اردگرد ہر شخص اس کو گود میں لیتا ہے‘ پیار نچھاور کرتا ہے ’اس کی چھوٹی چھوٹی حرکتوں پر خوب ہنستا ہے۔ پھر وہ بچہ بڑا ہوتا ہے درجہ وار بیٹھنا‘ گھٹنوں کے بل چلنا ’انگلی پکڑ کر چلنا‘ دوڑنا ’بولنا سیکھتا ہے‘ اپنی پیاری باتوں سے دل موہ لیتا ہے۔ وقت کا پہیہ تھوڑا اور چلتا ہے اب وہی بچہ اسکول کی دہلیز پر قدم رکھتا ہے۔

اس کی زندگی کا ایک نیا دور شروع ہوتا ہے ’نیا ماحول ملتا ہے‘ نئے دوست بنتے ہیں ’اساتذہ ملتے ہیں‘ بچہ بہت کچھ نیا سیکھتا ہے۔ آہستہ آہستہ بڑا ہوتا ہے اور نئی سرگرمیاں شروع ہوتی ہیں۔ پڑھائی میں آگے بڑھنے کا عمل شروع ہوتا ہے۔ بچہ نصابی و غیر نصابی مقابلہ جات میں حصہ لیتا ہے۔ پھر پڑھائی کا دباؤ بھی بڑھنا شروع ہو جاتا ہے ’نمبروں کی دوڑ شروع ہو جاتی ہے۔ یہ وہ دور ہے جب فکریں گھیرنا شروع کر دیتی ہیں۔ میرٹ بنانا ہے‘ اچھے کالج و یونیورسٹی میں داخلہ پھر اچھی نوکری کی تلاش ’مستقبل‘ معاش کی فکریں انسان کو گھیر لیتی ہیں۔ گھر ’بچے اور رشتے نبھاتے‘ سنبھالتے زندگی کب ختم ہو جاتی ہے پتہ ہی نہیں چلتا۔

جوانی میں تو مصروفیت گھیرے رکھتی ہے۔ جو سوچ سب سے زیادہ تنگ کرتی ہے وہ یہ ہوتی ہے کہ اپنے اہداف کو کیسے حاصل کیا جائے ’وسائل کیسے بڑھائے جائیں‘ بچوں کا مستقبل کیسے بہتر اور محفوظ بنایا جائے اسی تگ و دو میں وقت کے گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوتا۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب گھر بھرا ہوتا ہے۔ ہر طرف ہلچل ’بچوں کی شرارتیں‘ چیخ و پکار ’رونا دھونا‘ بھاگنا ’دوڑنا لگا ہوتا ہے‘ چیزیں بکھری ہوتی ہیں اور مائیں چلاتی پھرتی ہیں کہ چیزیں ترتیب سے نہیں رکھتے ’ہر طرف سامان بکھرا ہوا ہے۔ کچھ خواتین ملازمت پیشہ بھی ہوتی ہیں ان کے لیے اپنی ملازمت کے ساتھ بچوں کی دیکھ بھال‘ تربیت ’گھر اور گھر والوں کا خیال رکھنا‘ رشتے ناتوں کو ایک مالا میں پرو کر رکھنا بہت دشوار ہو جاتا ہے۔

اکثر ماؤں کو یہ رونا روتے سنا اور دیکھا جاتا ہے کہ مجھے تو اپنے لیے بھی وقت نہیں ملتا میں سارا سارا دن کام میں لگی رہتی ہوں ’سکون کا ایک لمحہ نصیب نہیں ہوتا کبھی ایک بچے کو اسکول چھوڑو تو کبھی دوسرے کو اسکول و کالج سے لینے کا وقت ہو جاتا ہے۔ یہ وہ دور ہوتا ہے جب وقت بچوں کے اردگرد گھوم رہا ہوتا ہے۔ ان کی فرمائش پر ہی گھر میں مختلف پکوان پکتے ہیں حتٰی کہ اگر باہر سے بھی کھانا ہے تو انہی کی پسند کا آرڈر کیا جاتا ہے۔ کبھی کسی بچے کے امتحان تو کبھی کسی بچے کے امتحان چل رہے ہوتے ہیں دراصل وہ امتحان بچوں کے نہیں بلکہ ماں کے ہی ہوتے ہیں۔ دعائیں مانگنا‘ پریشان ہونا کہ بچہ ابھی تک گھر نہیں آیا ’فیس دینی ہے‘ دیگر اخراجات گھیرے رکھتے ہیں۔

زندگی کئی مراحل سے گزارتی ہے اور پھر وہی بچے جوان ہو جاتے ہیں ’پنکھ لگا کر ایک ایک کر کے گھر سے اڑنے لگتے ہیں وہی گھر جو بے ترتیب رہتا تھا‘ شور شرابا تھا اب اسی گھر میں ہر چیز ترتیب سے پڑی ہے نہ کوئی بولنے والا ہے نہ کوئی گند ڈالنے والا ہے ’نہ اب کوئی کام ہے کرنے کو‘ فرصت کے لمحات ہیں لیکن اب وہی فرصت کاٹ کھانے کو دوڑتی ہے۔

اب زیادہ تر وقت دیواروں پر ٹنگی یا البم میں لگی تصویریں دیکھتے گزرتا ہے۔ اب بچے ایک ساتھ شاذونادر ہی اکٹھے ہو پاتے ہیں زیادہ تر وقت ان کے آنے کے انتظار میں ہی گزر جاتا ہے پھر جب وہ آتے ہیں تو وقت پَر لگا کر اُڑ جاتا ہے۔

ہمارے معاشرے میں جوائینٹ فیملی سسٹم اس لحاظ سے بہت اچھا رہتا ہے کیونکہ بچے والدین کے ساتھ رہتے ہیں۔ اپنے بچوں کی اولاد ہوتے دیکھنا پھر ان کو پروان چڑھتے دیکھنا ’اس طرح والدین کو ایک نئی مصروفیت مل جاتی ہے اور زندگی بوجھ نہیں لگتی۔ اس کے برعکس جن کی صرف بیٹیاں ہوتی ہیں وہ اپنے فرض سے سبکدوش ہونے کے بعد اکیلے رہ جاتے ہیں۔ اب بیٹیاں اپنے گھر دُور‘ دوسرے شہر یا بیرونِ ملک ہوتی ہیں جس کی وجہ سے والدین سے ملاقات دیر سے ہو پاتی ہے تو ان کے لیے وقت گزارنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ بڑھاپا ’بیماریوں اور پھر تنہائی کا عذاب جھیلنا پڑتا ہے۔ پھر اگر دونوں میں سے کوئی ایک پہلے اس دنیا سے رخصت ہو جائے تو مشکلات میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔

دکھ سکھ ’پریشانیاں‘ آسانیاں ’مسائل سب چلتے رہتے ہیں۔ وقت کا پہیہ گھومتا رہتا ہے انسان جوانی سے بڑھاپے میں داخل ہو جاتا ہے۔ صحت کے لحاظ سے بھی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ مضبوط اعصاب کے مالک اب کمزور دل کے ہو جاتے ہیں اور زندگی کی دوڑ دھوپ آخرکار ان کو تھکا دیتی ہے۔

یہ ایک قدرتی عمل ہے جس سے ہم سب کو گزرنا پڑتا ہے۔ کامیابی ’عروج و زوال دیکھ کر ہم پھر سے اسی دور میں آ جاتے ہیں جہاں کسی دوسرے پر انحصار کرنے لگتے ہیں۔

یاد رہے کہ خوش اور مطمئن وہی ہوتے ہیں جو اپنی زندگی کے ہر دور کو مناسب حکمتِ عملی سے گزارتے ہیں ’مشکلات کا حل تلاش کرتے ہیں‘ باقی ماندہ ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ اپنی خواہشات اور خوابوں کو بھی پورا کرتے ہیں اور اپنے بڑھاپے کو بھی محفوظ کرتے ہیں۔

مسائل کا سب کو سامنا ہوتا ہے لیکن ان کا حل نکالنا اور اپنے اعصاب کو قابو میں رکھنا سب سے اہم ہے۔ جب ملازمت سے ریٹائر ہو جائیں تو خود کو مجبور و لاچار نہ سمجھیں بلکہ اپنے لیے نئی مصروفیات تلاش کریں ’فلاحی کاموں میں حصہ لیں۔ سوچ سوچ کر خود کو ہلکان نہ کریں‘ ڈپریشن اور دیگر بیماریوں کو خود دعوت نہ دیں بلکہ خود کو مختلف سرگرمیوں میں مصروف کر لیں ’خود کو لاچار ثابت کر کے اپنا بوجھ دوسروں پر ڈال کر ان کی زندگی کو مشکل نہ بنائیں۔ زندگی ایک بار ملتی ہے اس کے ہر رنگ میں رنگ جانا ہی کمال ہے۔

زندگی ایسے گزاریں کہ جب پیچھے مُڑ کر دیکھیں تو مسکرا دیں اور کہیں کہ یس آئی ڈڈ اِٹ ( میں نے کر دکھایا) اور کوئی پچھتاوا نہ رہے۔

ایک بھرپور اور خوشگوار زندگی گزارنے کے لیے مثبت سوچ اور رویہ بہت اہمیت کا حامل ہے۔ سب چیزیں ’مال و دولت‘ گھر ’گاڑیاں اسی دنیا میں رہ جاتے ہیں لہذا زندگی کو جی لیں اس سے لطف اندوز ہو لیں۔ اصل چیز ہمارا حسنِ اخلاق‘ اچھے اعمال ’دوسروں کے کام آنا‘ ان کے لیے آسانیاں بانٹنا ہیں جو ہمیں مطمئن اور پرسکون رکھتا ہے۔

اپنی اور دوسروں کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کریں ’خوش رہیں اور دوسروں کو بھی خوش رہنے کے مواقع فراہم کریں‘ اپنے کام سے کام رکھیں کوشش کریں کہ ہماری ذات سے دوسروں کو تکلیف نہ پہنچے اور اپنی زندگی کے ہر دور اور ہر رنگ سے لطف اندوز ہونے کی کوشش کریں۔

Facebook Comments HS