فضیلت بوا کا فیض اور ہماری اماں
یہ تحریر مجھے لکھنی تو ماؤں کے عالمی دن پر تھی مگر بس کیا کیجئے کہ آج کل جس کیفیت سے گزر رہی ہوں اس میں چیزوں اور وقت کا احساس ہی نہیں ہوتا۔
نورانی سفید چہرہ۔ چاندی کی طرح چمکتے سفید بالوں کی لمبی سی چٹیا جسے تیل لگا کر کس کے باندھ کر پیچھے ڈال دیا جاتا تھا۔ نماز کی طرح بندھا ہوا سفید براق دوپٹہ ہمیشہ خوبصورت دمکتے دودھیا سفید چہرے کے گرد ایک نورانی ہالہ بنائے رکھتا تھا۔
یہ تھیں فضیلت بوا جو ہمارے میکے یا پھر یوں کہیے کہ ہماری اماں کا پسندیدہ موضوع گفتگو ہوتی تھیں۔ فضیلت بوا نہ ہوئیں سمجھو ڈپٹی نظیر احمد دہلوی کا پورا ناول تھیں۔ مرۃ العروس کا حصہ دوم۔
کھانا پکا رہی ہیں تو پھر فضیلت بوا کے سلیقے کی کہانی۔ فضیلت بوا کھانا ایسے پکاتی تھیں ویسے پکاتی تھیں۔ یہ جو تم پتیلی پر چمچہ زور زور سے مارتی ہو فضیلت بوا کہتی تھٰیں کہ اس طرح کھانے کی برکت اٹھ جاتی ہے۔ اور یہ کیا تم کچلا کچلا آٹا تھوپ کر رکھ دیتی ہو فضیلت بوا کہتی تھٰیں کہ کمانے والے مرد کے لیے آٹا پہلے سے گوندھ کر رکھو تاکہ آٹے میں لوچ آئے اور روٹی نرم بنے۔ ورنہ مرد کا پیٹ خراب ہو جائے گا۔ خراب پیٹ کے ساتھ وہ کیا خاک محنت کرے گا اور کما کر لائے گا۔
یہ کیا تم پسے ہوئے مصالحے استعمال کرتی ہو فضیلت بوا ہم سے مصالحہ سل پہ پسواتی تھٰیں اور مجال ہے جو پھٹا پھٹا سا مصالحہ بنے ایسا سیلا مصالحہ پسواتی تھیں کہ آٹے کی لئی اس کے آگے شرمائے۔ اور سل پر مصالحہ پیستے ہوئے پٹرہ رکھ بیٹھا کرو۔ یہ ہل ہل کر مصالحہ پیسنا لڑکیوں کو زیب نہیں دیتا۔ سر پر دو پٹہ باندھ لیا کرو بال گرتے ہیں تو کھانے میں بال میں آنا بد سلیقگی کی نشانی ہے۔ عورت کا سلیقہ اس کے کھانے میں نظر آتا ہے بیٹا مرد کو رام کرنا ہے تو کھانا اچھا بناؤ۔ اس کے دل کا راستہ پیٹ سے ہو کر جا تا ہے۔ ہماری فضیلت بوا ہمیں مسور کی دال اور چاول ملا کر دے دیتی تھیں اور کہتی تھیں الگ الگ کرو اور ہم سب مل کر سارا دن علیحدہ کرتے اور شام کو وہ پھر ان کو ملا کر ہمیں کھچڑی بنا کر کھلا دیتی تھیں۔ اور ہم سب غصہ میں منہ بنا کر بیٹھ جاتے تو وہ پیار سے کہتیں بیٹا یہ تو تمھیں دال چاول بیننے کی تربیت کے لیے کیا تھا۔ تاکہ کل کو دوسرے گھر جاؤ تو تمھیں چاول دال بیننا آتے ہوں اور کوئی تمہیں پھوہڑ نہ کہے۔
ایسے وقت پر غصہ تو بہت آتا خاص طور پر گرمیوں کے دنوں میں اور ان کو ہم دل ہی دل میں بد دعا دیتے اللہ فضیلت بوا کو اٹھا لے۔ اماں دکھ سے کہتیں پھر آنکھوں میں آنسو بھر کو خود ہی کہتیں مگر ہم بعد میں اللہ سے تو بہ کرتے کہ وہ ہمیں پیار بھی تو بہت کرتی تھیں۔ میں جھاڑو دینے بیٹھتی تو اماں فوراً کہتی ہماری فضیلت بوا کہتی تھٰیں کہ عورت کا سلیقہ اس کے گھر سے جھلکتا ہے۔ کو نے کونے سے جھاڑو نکالو ورنہ کونے میں پڑا ہوا کوڑا گھر میں نحوست پیدا کرتا ہے۔
اور پھر وہ فضیلت بوا کی کئی بار سنائی ہوئی ایک کہانی ہمیں سناتیں کہ کس طرح ایک بادشاہ نے ملک میں منادی کر وادی کہ ہر گھر سے کوڑا لے کر آؤ۔ جتنا کوڑا اتنا انعام۔ لوگ اپنے گھروں سے بھر بھر کر کوڑا لے گئے اور واپسی پر سونے کے سکے لے کر آئے۔ ایک غریب سلیقہ مند لڑکی جو اپنے چھوٹے سے گھر کو روزانہ صاف کرتی تھی اس کے گھر تو کوڑا ہی نہ نکلا۔ جو تھوڑی بہت مٹی نکلی وہی اس نے اپنے باپ کے ہاتھ بھیج دی کہ تھوڑا ہی سہی کچھ تو انعام مل ہی جائے گا۔
بادشاہ نے دیکھا تو فوراً اس لڑکی کو بلا بھیجا اصل میں بادشاہ اپنے شہزادے کے لیے ایک سلیقہ مند دلہن ڈھونڈ رہا تھا اس طرح اس سلیقہ مند لڑکی کی قسمت کھل گئی۔ (اب کوئی پوچھے اماں سے کہ بادشاہ کو شہزادی سے کیا محل میں جھاڑو دلوانی تھی اور اب اس زمانے میں رشتے ایسے نہیں ہوتے اب تو مائیں پہلے سے کہ دیتی ہیں کہ میری بیٹی جھاڑو پونچھا نہیں کرے گی ماسی رکھ دینا)
میں روٹی پکانے بیٹھتی تو اماں فوراً چمٹا ہاتھ سے لے لیتیں اور کہتیں فضیلت بوا کہتی تھیں کہ لڑ کیوں کو بغیر چمٹے کے روٹی پکا نا بھی آنا چاہیے۔ ہاتھ جلتے مگر مجال ہے کہ اماں کو ترس آتا۔ (ویسے اپس کی بات ہے کہ یہ تربیت شادی کے پہلے ہفتے بڑے ہی کام آئی۔ جب کام کو ہاتھ لگایا اور روٹی پکانے بیٹھی تو گھر میں چمٹا ہی نہیں تھا کیونکہ بقول اماں فضیلت بوا نے کہا تھا کہ لوہے کی کوئی چیز جہیز میں نہیں دینا ورنہ لڑ کی اور اس کے سسرال کا دل لوہے کی طرح سخت ہو جاتا ہے۔ (جس کو سخت ہونا ہو وہ لوہے کی چیز دیے بغیر ہی ہو جاتا ہے ) خیر میاں جی سے بعد میں چمٹا منگوایا لیکن بغیر چمٹے کے روتی پکاتے ہوئے فضیلت بوا اور اماں بہت یاد آئیں ) ۔ شام میں ذرا بال کھول لیے اور اماں کا فضیلت بوا نامہ شروع۔ فضیلت بوا کہتی تھیں لڑکیاں عصر مغرب کے دوران بال کھو لیں تو جن عاشق ہو جاتے ہیں۔ (جن تو کوئی عاشق نہ ہوا۔ جو عاشق ہوا وہ بھی بھری دنیا میں تنہا چھوڑ گیا اب نہ اماں ہیں نہ فضیلت بوا کہ جن سے پوچھوں کہ اگر اپنا پیارا چلا جائے تو اس کے بغیر کیسے رہا جاتا۔ فضیلت بوا یہ بھی بتا جاتیں۔ )
اب آپ لوگ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ فضیلت بوا ہیں کون۔ جی جناب یہ ہماری اماں خدا ان کو غریق رحمت کرے ان کی استانی جی تھیں جن سے انھوں نے قرآن پڑھا تھا۔ بقول اماں نانی اماں نے جب فضیلت بوا کے پاس ان کو بٹھایا تو کہ دیا فضیلت ہڈی ہماری چمڑا تمھارا۔ شروع میں تو اماں بہت روئیں مگر پھر آہستہ آہستہ فضیلت بوا کی ایسی گرویدہ ہوئیں کہ اپنی شادی تک سارا دن بس انہی کے گھر رہتیں۔ اور اب ہم سارا دن ان کی کہانیاں سنتے تھے۔
بقول اماں فضیلت بوا جوانی میں ہی بیوہ ہو گئی تھیں بیوگی کے بعد سے بچیوں کو پڑھانا اور سلیقہ سکھانا ان کی واحد مصروفیت تھی۔ مائیں ”ہڈی ہماری چمڑا تمھارا“ کہ کر اپنی بیٹیاں ان کے حوالے کر جاتیں اور بقول اماں کیا سلیقہ سکھاتی تھیں کہ آج تک ان کی سدھائی ہو لڑکیاں گھر واپس نہ آئیں۔ ویسے بھی اس زمانے میں لڑکیوں کو یہ کہ کر ہی رخصت کیا جاتا تھا کہ بیٹا جا تو رہی ہو ڈولی میں واپس اس گھر سے جنازہ ہی نکلے۔
فضیلت بوا ہر وقت خود بھی مصروف رہتیں اور ساری لڑکیوں کو بھی مصروف رکھتیں۔ پڑھنے والی بچیاں ان کا سارا کام کرتیں۔ جھاڑو برتن، کھانا پکانا مصالحہ پیسنا۔ دال چاول بیننا۔ اچار چٹنیاں اور دوسری محفوظ کرنے والی چیزیں بنانا۔ یہ سب لڑکیاں ہی کرتیں۔ کھانا تمام بچیاں انھیں کے گھر کھاتیں اور مغرب سے پہلے اپنے گھروں کو سدھارتیں۔ فضیلت بوا شاید بے اولاد تھیں یا شاید ان کی کوئی ایک بیٹی تھی ٹھیک سے یاد نہیں مگر وہ شاید کوئی دور شہر بیاہی ہوئی تھی۔ ٓیہی لڑکیاں تھیں جن کو وہ اولاد کی طرح عزیز رکھتیں۔
خیر میرا اور میری چھوٹی بہن فردوس بانو کا بچپن فضیلت نامہ سنتے ہوئے ہی گزرا۔ روزانہ عصر کی اذان ہوتی اور اماں مصلے پر بیٹھ جاتیں۔ اور پھر اس دوران جو بھی تلاوت اور ذکر اذکار کرتیں اس کا پہلا ثواب رسول اللہ ﷺ کے وسیلے سے باقاعدگی سے فضیلت بوا کو پہنچایا جاتا۔ اور یہ صرف عصر مغرب کی نماز پر ہی موقوف نہ تھا بلکہ پانچوں نمازوں میں فضیلت بوا کی اخروی زندگی کے لیے دعا مانگنا اماں کا معمول تھا۔ ایک اور غیر معمولی معمول ان کا عصر اور مغرب کے دوران کچھ کھانے پینے اور بولنے سے مکمل پرہیز تھا۔
اس کی وجہ یہ تھی کی ان کے دو بچے (مجھ سے بڑے دو بہن بھائی) جو شیر خوارگی میں انتقال کر گئے تھے وہ ان کے بقول سارا دن جنت میں پھول چنتے ہیں تب کہیں جاکر شام کو فرشتے ان کو دودھ دیتے ہیں (عجیب منطق) بقول اماں اگر انھوں نے کچھ کھا لیا تو پھر فرشتے ان کو دودھ نہیں دیں گے۔ (واللہ اعلم) اس لیے وہ عصر مغرب میں کچھ نہیں کھاتی تھیں اور نہ ہی کسی سے بات کرتی تھیں۔ ان کو لاکھ سمجھایا کہ بھائی وہ اب اللہ میاں کے پاس ہیں اللہ میاں بڑے رحیم و کریم ہیں وہ تمھارے بچوں کو کیسے بھوکا رکھ سکتے ہیں مگر ان کی ایک ہی ضد کہ وہ کچھ نہیں کھائیں گی۔ ورنہ بچے بھوکے رہ جائیں گے (اللہ اللہ ماں کا پیار) ۔ شاید یہ بھی ان کی فضیلت بوا نے ہی کہا ہو گا۔
( میری ماں کی معصومیت) ہم دونوں بہنیں بچپن سے اس ان کے اشاروں کی زبان کو سمجھنے لگ گئے تھے اگر نہ سمجھ آتی تو پاس پڑی ہوئی ان کی جوتی ہر وقت ہماری خبر لینے کے لیے تیار رہتی تھی
اب ان کے بچوں کے ساتھ کیا ہوا وہ اللہ ہی جانے یقیناً اللہ بڑا رحیم ہے اس نے ان کو اپنی بہترین جنتوں میں رکھا ہو گا۔ مگر ایک بات یہ ہوئی کی جو اللہ نے کا وعدہ کیا ہے کہ تم مجھے صبح اور شام کے اوقات میں یاد رکھو تو تمھاری ضرورتوں کو میں پورا کروں گا۔ تو الحمد للہ اماں کو اپنی ضرورتوں کے لیے زندگی بھر کسی کا منہ نہ دیکھنا پڑا ان کی ساری ضرورتیں اللہ نے خود ہی پوری کیں کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ اور اماں کا یہ حال کہ نہ کبھی نماز چھوڑی نہ روزہ۔ پورا رمضان رات بھر جاگ کر اللہ کی عبادت کرتیں اور ہل ہل کر اپنی فضیلت بوا اور دوسرے مرحومین کے لیے دعائے مغفرت کرتیں۔
فضیلت بوا کی شاگرد اماں نے اپنی استاد کی روایت برقرار رکھی لانڈھی نمبر 4 کی کم از کم تین نسلیں پوری اور جو تھی نسل کی بھی کافی بچیوں کو انہوں نے نے بلا معاوضہ قرآن پڑھایا۔ مجھے اور میری بڑی بہن کو بھی انھوں نے پڑھایا۔ چھوٹی بہن تمام تر کوشش کے باوجود ان کے ہاتھ نہ آئی اس نے کسی اور خاتون سے قرآن پڑھا۔
آج ہمارے دور میں جب قرآن پڑھانا ایک کمر شل ایکٹیوٹی کی طرح ہے اور جگہ جگہ مدارس کھل گئے ہیں جہاں کی اکثر ہولناک کہانیاں بھی نظر سے گزرتی ہیں، نہ فضیلت بوا جیسی استانیاں ہیں نہ اماں جیسے شاگرد جو اپنی ماں سے زیادہ اپنی استانی کا ذکر کرتی تھیں۔ فضیلت بوا کا فیض اماں سے ہوتا ہوا ہم تک بھی پہنچا کہ ان کی تربیت کے کچھ پہلو میری زندگی پر بھی گہرا اثر چھڑ گئے ہیں۔ آج جب میں نے بیوگی کی چادر اوڑھی تو فضیلت بوا اور اماں بے طرح یاد آئیں کہ کیسے ان لوگوں نے قرآن پڑھا کر اپنی بیوگی کاٹی۔
شاید انہی جیسی استانیوں کو روحانی ماؤں اور روحانی باپ کا درجہ دیا جاتا تھا۔ اماں جس محبت سے فضیلت بوا کا ذکر کرتی تھیں بڑا دل چا ہتا ہے کہ کوئی ٹائم مشین ہو اور میں لکھنو کے اس محلے میں جہاں میری ماں کا بچپن گزرا تھا وہاں جاکر فضیلت بوا سے ملوں اور ان کے ہاتھ چوموں اور ان سے پوچھوں تم نے شوہر کے بغیر اس صبر کے ساتھ اتنی لمبی زندگی کیسے گزاری۔ صبر کی کوئی نصیحت مجھے بھی کر دیں کہ اپنے محبوب شوہر کے بغیر زندگی ابھی سے بڑی ویران سی لگنے لگی ہے باقی زندگی اللہ آرام سے گزار دے۔


