لڑکی راکٹ اور ایما سٹون


بالی وڈ فلم رانجھنا کا ڈائیلاگ ہے کہ ”ایک بات میں سمجھ گیا ہوں کہ لڑکی اور راکٹ آپ کو کہیں بھی لے جا سکتے ہیں“ ۔ یہ بات تو ہم بھی سمجھ گئے ہیں دیکھیے نا مریم صفدر۔ صفدر صاحب کو لے کر پہلے تو وزیراعظم ہاؤس پہنچ گئیں پھر انہیں جیل کا شکار کر دیا۔ سسرال کے سر پہ آپ جا تو بہت اونچائی پر سکتے ہیں مگر گرتے بھی اتنی اونچائی سے ہیں۔ صاحب! اونچائی پہ جانے کا عمل اتنا خوشگوار نہیں۔ جتنا کہ اونچائی سے گرنے کا عمل ناگوار ہے۔

اس لیے یہ ہی مشورہ دیا جاتا ہے کہ سسرال کہ سر پر نہیں، اپنے بازو کے زور پر آگے بڑھو۔ مگر کچھ احمقوں کا خیال ہو گا کہ سسر احمق ہے وہ بے وقوف بننے کو تیار بیٹھا ہے۔ بس اسے اپنی بیٹی کے لیے ایک لڑکا چاہیے اور وہ اس لڑکے کو اٹھا کہ اپنے سر پہ بٹھائے گا۔ ہمارے سماج کا المیہ یہی ہے کہ لڑکوں کو عجیب و غریب احمقانہ خوش فہمیوں کا شکار کر دیتے ہیں۔

ان میں ایک یہ ہے کہ

” اگر آپ کا باپ جرنیل یا وزیر نہیں ہے تو اس میں آپ کی کوئی غلطی نہیں۔ لیکن اگر آپ کا سسر جرنیل یا وزیر نہیں تو آپ مجرم ہیں“ ۔

اگر شادی لڑکی دیکھ کر کی جائے تو آپ دولھا بنیں گے۔ اگر سسر دیکھ کر کی جائے تو آپ بکرا بن جائیں گے۔ مگر میرے دوست ”و“ کا کہنا ہے کہ کچھ بھی کر لو شادی کا نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ آپ بکرا بن جاتے ہیں۔ نتیجہ تو خیر شادی کا اور بھی نکلتا ہے۔ پاکستان نے تو یہ نتیجے اس تیزی سے نکالے ہیں کہ آبادی کے اعتبار سے ہم دنیا کا چھٹا بڑا ملک بن چکے ہیں۔ اس نتیجہ سازی پہ ہم تو بہت خوش ہیں مگر اہل یورپ حیران و پریشان ہیں۔ ان کے نتیجے نہیں آ رہے۔ اور ہمارے ماشا اللہ نتیجے پہ نتیجے نکل رہے ہیں۔

اس امر پر بحث جاری ہے کہ اس قدر نتیجہ سازی کیسے ممکن ہے؟ کچھ حضرات کا خیال ہے کہ ہماری آبادی اتنی نہیں بڑھی، دراصل ہمارے ہاں افغانی بڑھ گئے ہیں۔ ان کا نعرہ ہے کہ ’افغانستان نیا پاکستان ہے‘ بالکل۔ ویسے ہی جیسے

”اورنج اذ دا نیو بلیک“

دیگر حضرات کا خیال ہے کہ یہ سب کچھ پولیو اور آئیوڈین ملے نمک کا کمال ہے۔ یہودیوں نے ہماری آبادی کم کرنے کی جو سازش کی تھی اس کے ردعمل کے طور پر ہم نے آبادی کی بمباری کر دی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پولیو ویکسین اور آئیوڈین ملے نمک میں مردانہ قوت اور تولیدی صلاحیت کم کرنے کی دوائی ہے۔ اہل الباکستان نے ثابت کر دیا ہے کہ ہم پہ کچھ دوائی اثر نہیں کرتی۔ وہی نمک کھا کھا کر ان شیروں نے بلڈ پریشر اور آبادی کو k۔ 2 کہ ہم پلہ کر دیا ہے۔ آبادی بڑھائے جاؤ اور ہارٹ اٹیک کرائی جاؤ۔

ہمارے ہاں دراصل دل بہلانے اور خوش ہونے کے زیادہ تر طریقے حرام ہیں۔ خوش ہوتا اور مسکراتا شخص دیگر لوگوں کے لئے پریشان کن ہوتا ہے۔ اگر آپ چوک میں کھڑے رو رہے ہوں گے، تو لوگ آپ کے آس پاس سے چپ چاپ گزر جائیں گے کہ ( بے چارہ اداس ہے ) ۔ ناں جی کون اداس نہیں ہے۔ لیکن اگر آپ قہقہے لگا رہے ہوں گے تو ہر کوئی آ کر ضرور پوچھے گا، ”یار خیریت ہے اتنے خوش کیوں ہو“ ؟ یا پھر عوام آپ کو پاگل قرار دے دے گی اور سنگسار کرنے کی کوشش کرے گی۔ ایسے نامساعد حالات میں اہل الباکستان کو غصہ نکالنے اور خوش ہونے کو یہ ہی طریقہ کار پلے پڑتا ہے کہ چپ چاپ نتیجہ سازی کی جائے۔

ایک محلے کی آبادی بہت تیزی سے بڑھی تو ایک محقق نے سوچا کہ اس کارنامے کی وجہ معلوم کی جائے۔ معلوم پڑا کہ رات دو بجے ایک گھنٹے کے لئے بجلی چلی جاتی ہے۔ اس ناگہانی آفت کی وجہ سے بچے تو نہیں جاگتے البتہ بڑے سو نہیں پاتے۔

بہرحال صاحب اگر آپ کو لڑکی بھی میسر نہ ہو اور راکٹ بھی نہ ملے تو صبر کریں۔ صبر کرنے والوں کو بار بار صبر ملتا ہے۔ دیکھا یہ ہی گیا ہے کہ اگر ایک دفعہ آپ صبر کی لائن میں لگ جائیں گے تو زندگی بھر اسی لائن میں لگے رہیں گے۔ صبر کا پھل بہت میٹھا ہوتا ہے، اور اس پھل کو ”مزید صبر“ کہتے ہیں۔

ورنہ جس نے کچھ حاصل کرنا ہوتا ہے وہ ”کام“ کرتا ہے اور ٹھیک وقت پر ٹھیک جگہ پر موجود ہوتا ہے۔

جب سے مووی زومبی لینڈ دیکھی ہے تب سے ایما سٹون ہماری پسندیدہ اداکارہ ہیں۔ ان کی ”ادا“ بھی خوب ہے اور ”کار“ تو خوب ہو گی ہی۔ کہ کاریں اہل یورپ کے پاس عمدہ ہوتی ہیں۔ وہ تو ہمارے ہاں کے حالات ہیں کہ ”کاریں“ ایسی ہیں جنہیں ”نا کاریں“ کہنے کو دل کرے۔ ہنڈا اور ٹیوٹا کے جو ماڈل ہمارے ہاں سپر ماڈل ہیں، انہیں اہل یورپ ٹیکسی بناتے بھی شرماتے ہیں۔

ایما 1988 کی پیدائش ہیں۔ چار سال کی عمر میں خاتون نے اداکاری شروع کر دی تھی۔ 2009 سے تو بے انتہا مقبول ہیں۔ نہ بڑے ہونے کا انتظار نہ ”پی ایچ ڈی“ کی فکر۔ ادھر ہمارے ہاں کوئی بچہ کچھ کرنا چاہے تو پہلے تو اسے کہا جاتا ہے کہ ”بڑے“ ہو جاؤ، پھر! بڑے ہو کر تو صرف شادی ہی ہو سکتی ہے باقی کے کام تو وہ چھوٹی عمر میں بھی کر سکتا ہے۔ مثالیں ہم سکندر اعظم اور محمد بن قاسم کی دیتے ہیں مگر عملاً نیکر یا دوپٹہ بھی بچہ یا بچی کو ماں باپ کی پسند کے ہی ملتے ہیں۔

ایما اور سٹیو جوبز میں یہ قدر مشترک ہے کہ دونوں نے کالج میں داخلہ لیا اور درمیان میں ہی چھوڑ کہ اپنے اصل کام ”پسندیدہ کام“ کا آغاز کر دیا۔ ایسے لوگوں کا یقین ہوتا ہے کہ اگر آپ کو معلوم ہے کہ آپ زندگی میں کیا کرنا چاہتے ہیں تو وہ کریں۔ کالج یا یونیورسٹی میں کاغذ کے اس ٹکڑے کا انتظار نہ کریں جو سوائے اس بات کے اور کسی بات کی ضمانت نہیں دیتے کہ آپ نے کچھ امتحان پاس کر لئے ہیں۔

ایما اور سٹیو میں اس کے علاوہ کوئی قدر مشترک نہیں۔ ایما سٹون کی مسکراہٹ دلکش ہے۔ مگر اس کی آواز دلکش ہے۔ اس کی آواز میں ہلکا سا ”پٹھا پن“ ہے اور اس کی آواز کا یہی پٹھنا ہمیں مار ڈالتا ہے۔ وہ جب جب کسی فلم میں نہیں آتی تو ہمیں بہت بھاتا ہے کیونکہ وہ جب بھی کسی فلم میں آتی ہے تو کسی کی بانہوں میں ہوتی ہے جو ہمیں بالکل نہیں بھاتا۔

ایما دلکش ہے جبکہ جوبز دل کی بات ماننے یعنی من مریدی کے قائل تھے اگر آپ اپنی زندگی میں ایک ایما لے آئیں تو زندگی گلزار ہو سکتی ہے۔ یعنی ایک ایسی لڑکی کا تخیل جو آپ کو مل تو نہ پائے مگر اس کو حاصل کرنے کی جستجو میں آپ زندگی پا جائیں۔ بے شک لڑکی اور راکٹ آپ کو کہیں بھی لے جا سکتے ہیں

Facebook Comments HS