مردے کی آنکھیں کھلیں تھیں (بقیہ) سلیم رضا ٹھاکر
بیٹا سائیکل نہ مل سکنے کی وجہ سے سال بھر روتا رہا، اس کے ہم عمروں کے پاس سائیکلیں تھیں، میری اوقات نہیں تھی، اس کو کیوں نہیں پتہ چلا؟ میں اس کے لیے ایک بے کار تھا، میرے جینے مرنے سے فرق نہیں پڑتا۔ اچھا چلو سمجھ جائے گا، وقت سمجھا دیتا ہے، ویسے بھی یتیموں کو جلدی سمجھ آ جاتی ہے۔
جتنے شیشم کے تنے سے لپٹے تھے، تقریباً اتنی ہی تعداد میں کچھ ایک ٹولی کی شکل میں منہ میں انگلیاں دبے گونگے بہرے بنے دھوپ سائے سے بے نیاز کھڑے تھے، کبھی ان کی آنکھیں تر ہو جاتیں، کبھی خشک، کسی نے انگلیوں میں ٹشو پیپر دبوچا ہوا تھا، کسی نے رومال اور کوئی ویسے ہی انگلیوں پوٹوں سے ہر تھوڑی دیر بعد آنکھوں کے کونے صاف کر لیتا تھا۔
اچھو نے پہچان لیا، وہ اس کے دوست تھے، اچھو نے دیکھا اس کے دوست اس کی لاش کو دیکھتے ہیں پھر اس کی نابالغ بیٹیوں کو ، (جن کو پتہ نہیں کہ یہ کیا ہوا ہے ) ، پھر آنکھوں کو صاف کرتے ہیں، اس نے دیکھا ان کی یہ مشق گھنٹوں سے جاری ہے۔
حواس خمسہ میں سے اچھو کے پاس صرف ایک ہی بچا تھا ”آنکھیں“ ۔ اس کی دیکھنے کی مہارت اتنی تیز ہو گئی کہ وہ ہونٹوں کی حرکت سے صحیح صحیح گفتگو سمجھنے لگا۔
دوستوں کے ہونٹوں کی حرکات سے اچھو کو پتہ چل گیا کہ وہ آپس میں کہہ رہے ہیں کہ اس کے والدین تو اب ویسے ہی مر جائیں گئے، چوٹ سخت ہے دوسرا عمر بھی۔ باقی لواحقین کا کیا بنے گا؟ بالغوں کی شادیاں، سکول والوں کی تعلیم۔ بیوی۔ گھر کے اخراجات؟ وغیرہ؟
ان کو نہیں پتہ کہ میں پہلے بھی ان کے اخراجات پورے نہیں کر رہا تھا، اگر کر رہا ہوتا تو مجھے پھانسی لینے کی کیا ضرورت تھی۔ چونکہ میں بہت زیادہ کام کرتا تھا اس لیے میرے دوست سمجھتے ہیں کہ میں سب کچھ پورا کر رہا تھا۔
” اچھو“ کی نظر تیسری قسم کے لوگوں پر پڑی، وہ تعداد میں بہت زیادہ تھے، ان میں سے اچھو بہت کم کو جانتا تھا، وہ سارے بٹر بٹر دیکھے جا رہے تھے، لاش کو بہت تھوڑا، اچھو کی نیم بے چادر بیوی اور جوان بیٹیوں کو زیادہ۔ وہ ساتھی مردوں سے اگر باتیں کرتے بھی تو نظروں کو اسی کام میں مصروف رکھتے جس کے لیے وہ یہاں آئے ہوئے تھے۔
جب تھوڑی دیر بعد تنے سے لپٹوں کے گلوں نے رونے سے انکار کر دیا تو خاموشی سی ہو گئی۔ اچھو نے کانا پھوسیوں کی طرف توجہ دینی شروع کردی۔ ہجوم کی باتوں سے اس نے ملا جلا ردعمل محسوس کیا۔ کوئی کہہ رہا تھا ”بے چارا حرام موت مرا، بیوی سے تنگ تھا، بڑی بیٹی سے شکایتں ہوں گی، ماں بیٹی منہ زور تھیں، طلاق دے کے جان چھڑا لیتا یہ نہ کرتا، بزدل نکلا، حرام کو گلے لگا لیا“ ۔ سننے والے ہر بات کے بعد بغیر سوچے سمجھے سر ہلا کر ہاں ہاں کر رہے تھے۔
کافی دیر بعد اچھو کی نظر ایک اور ٹولی پر پڑی، وہ چھے سات دھوپ میں چھوٹا سا دائرہ بنائے غمگین چہروں کے ساتھ بیٹھے تھے۔ وہ سارے اس کے گاؤں کے بھنگی پوستی تھے، چونکہ نشے کے سبب بھنگیوں کی صحت بنتی بگڑتی رہتی ہے اس لیے اچھو نے ان کو پہچاننے میں تھوڑی دیر لگائی۔ اچھو نے سنا وہ ایک دوسرے کو کہہ رہے تھے کہ اس کو نیچے اتارنا چاہیے۔ کسی نے رائے دی پولیس کے آنے تک یہ ممکن نہیں، وہ خاموش ہو گئے۔
پھر کسی نے پولیس کو فون کیا، فون کے کوئی دو گھنٹے بعد پولیس پہنچی۔ خود کشی کی وجہ سے کوئی پولیس والا آنا نہیں چاہتا ہو گا، ایسے موقعوں پر کون سا پیسے ملتے ہیں، جن جن کی ڈیوٹی لگی ہو گی انہوں نے محرر سے تکرار کی ہو گی، جہاں پیسے نہیں ملتے، وہاں ہماری ڈیوٹی لگا دیتے ہو، جہاں سے پیسے ملنے کا چانس ہوتا ہے وہاں اپنے چہیتوں کی، یہ زیادتی ہے، ان کو ہی یہاں بھی بھیجو۔
محرر نے سمجھایا ہو گا، پیسے کسی جگہ سے بھی نہیں ملتے، پیسے خود نکلوانے ہوتے ہیں۔ میں بتاتا ہوں، پیسے کیسے ملیں گئے۔ ”وارثوں کو بتانا ہے معاملہ بہت سنگین ہے، لگتا ہے کسی نے مار کے لٹکایا ہے، تفتیش ہو گی، بیوی بیٹیوں اور چچوں کی۔ بڑا لمبا کام ہے، ہسپتال جانا ہے، ڈاکٹر ملاحظے والا بہت مہنگا ہوتا ہے، دھاگا منگوانا پڑتا ہے، ایزی پیسے سے پیسے بھیجیں گئے، سارا سامان ڈسپوز ایبل استعمال ہوتا ہے۔ میں تو سارے ماہ کی تنخواہ لگاؤں تو بھی خرچہ پورا نہیں کر سکتا۔ میرے اپنے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں، بمشکل گزارا کرتا ہوں۔ پولیس اور گورنمنٹ کی نظر میں خود کشی بڑا جرم ہے، وہاں پہنچ کے غصے جیسا منہ بنا کے آرام سے بیٹھ جانا، جب وہ جلدی، کفنانے، دفنائے کے بارے فکر مند ہو جائیں تو آپ ان کو یہ ساری رام کہانی سنانے لگ جانا۔
جو سائل سے پیسے لیتے ہیں وہ سارے ایسی ہی کہانی سناتے ہیں؟
جی ہاں خوف زدہ ہوئے بغیر کوئی پیسے نہیں دیتا اور خوف زدہ کرنا پڑتا ہے۔ آمدن کی امید کے بعد روانگی درج ہو گئی۔
اچھا میں جاتا ہوں۔
’ اچھو‘ نے دیکھا، پولیس آ گئی، کچھ وردی اور کچھ بے وردی، مایا شایا میں۔
اہلکاروں نے محرر کے بتائے ہوئے سارے ہتھ کنڈے ابھی مکمل نہیں برتے تھے، ہجوم میں سے لوگوں کو سمجھ آنی شروع ہو گئی کہ معاملہ کیا ہے۔ خود کش کے ایک قریبی رشتہ دار نے پولیس کہانی کو روکتے ہوئے کہا کہ ”اس سارے عمل کے لیے جو بھی مشینری آپ نے درآمد کرنی ہے کروا لیں، میں پے منٹ کردوں گا، یہ لو کچھ ایڈوانس“ ۔
پولیس والے نے پیسے پکڑ لیے اور جیب میں ٹھونستے ہوئے کہا ”سر! میرا یہ مطلب تو نہیں تھا“ ۔ اسکے بعد پولیس والوں کو اچھو کے بوڑھے ماں باپ اور چھوٹے چھوٹے بچوں پر بہت سا ترس ایک ساتھ آنا شروع ہو گیا۔
اچھو نے دیکھا، پولیس والوں نے الٹی سیدھی لکیریں لگا کر نقشہ بنایا، جس کو کوئی ہوش مند سمجھ نہیں سکتا تھا، ساری تفصیلیں درج کیں یہ بھی لکھا کہ ”مردے کی آنکھیں کھلی تھیں“ ۔
وہاں پر موجود ہر قسم کے لوگوں کے بیان لیے، عورتوں مردوں میں سے کچھ کے صرف نام لکھے، بھنگیوں کے بیان لیے نہ نام لکھے۔ لکھت کی کارروائی مکمل کرنے کے بعد نعش کو نیچے اتارنے کے لیے کہا گیا، کوئی شیشم پر چڑے؟ رسہ کاٹے؟
ہجوم میں سے کوئی اس کام کے لیے اگے نہ آیا، ڈرے ہوئے تھے یا ضروری نہیں سمجھتے تھے، سوائے اچھو کے آٹھ سالہ بیٹے کے، بیٹے کو درخت ساتھ چمٹتے دیکھ کر بھنگی اور دو تین دوست دوڑتے ہوئے آئے، بیٹے کو یہ کہہ کر پیچھے ہٹا دیا ”تم بچے ہو، پیچھے ہٹ جاؤ، ہم کرتے ہیں“ ۔ ایک بھنگی اوپر چڑھا، چار نے چار پائی پکڑ کر اوپر کی، دوست دوڑے تاکہ نعش زمین پر نہ گرنے پائے۔
چارپائی گاڑی میں ڈال کر ہسپتال کو روانگی ہو گئی، پولیس والوں کے لیے الگ سے کار منگوائی گئی، ہسپتال مدد کے لیے ساتھ بندے چاہیے تھے، کوئی جانے کے لیے رضا مند نہیں تھا، بھنگیوں اور دوستوں میں سے چار میت والی گاڑی میں بیٹھ گئے، اچھوکا بیٹا جبراً گھس گیا۔
پولیس کی کار میت والی گاڑی کے دو گھنٹے بعد ہسپتال پہنچی، راستے میں کھانا کھانے لگ گئے تھے۔ چار پائی اتار کر برآمدے میں پہلے ہی رکھ دی گئی تھی۔ کوئی ایک گھنٹے بعد شفٹ کی تبدیلی کا وقت تھا، ڈاکٹر ٹال مٹول سے کام لینے لگے تاکہ تبدیلی شفٹ کا وقت ہو جائے اور یہ کام مجھے نہ کرنا پڑے۔
آخر کار ایک ڈاکٹر خرابی موڈ کے ساتھ تشریف لایا، اپنے انیسویں گریڈ سے بے نیاز پاؤں گھسیٹ رہا تھا، کھڑے کھڑے دستخط کیے، چیر پھاڑ والے سے کچھ کہا اور پاؤں گھسیٹتا ہوا چلا گیا۔
اب بال ملاحظہ خانے کے ملازم کے کورٹ میں تھا۔ ملاحظہ خانے کے ملازم کا کروفر ایسا کہ ڈاکٹر کا بھی اس کے سامنے تاب نہ لا سکے، ڈاکٹر کے جانے کے بعد وہی ڈاکٹر بن گیا۔ وہ تو لکڑ کے بنچ سے ہی نہیں ہلا جب تک کہ اسکی سامنے والی جیب میں ڈالے گئے نوٹوں کی حرارت نے اس کے سینے کو گرمائش فراہم نہیں کی۔ کوئی چار گھنٹوں بعد ملاحظے کی کارروائی شروع ہوئی۔
کیونکہ اچھوکی آنکھیں کھلی تھیں، اس نے دیکھا، ملاحظہ خانے میں ایک خون آلود لکڑی کا بنچ پڑا تھا، جمے خون کی تہوں سے لگتا تھا کہ بے چارے کو بننے کے بعد تادم کسی نے دھویا تو کیا ٹاکی بھی نہیں ماری، ملاحظے والے خون آلود ہتھیار جو بقول پولیس اہلکار ڈسپوز ایبل ہوتے ہیں وہ بھی بے ترتیبی کے ساتھ اسی بھٹے کے اوپر پڑے ہوئے تھے۔ گوشت خور مکھیاں بس اللہ معاف کرے، ایک دم اچھو پر جھپٹ پڑیں۔
چھت پر لٹکتے جالے ہر کسی کے سر سے الجھتے تھے سوائے مالک مردہ خانے کے، اس کو چھوٹے قد کا فائدہ مل رہا تھا۔ بھڑوں کا ایک بڑا سا چھتہ کھڑکی سے زیادہ صحن کی طرف اور تھوڑا سا اندر بھی موجود تھا۔
اچھو کو ساری زندگی گندگی اور بدبو سے سخت نفرت رہی تھی، مردہ خانے سے بھاگ جانا چاہتا تھا، بس وہ مجبور تھا تو صرف اس بات سے کہ اس کے پاؤں کے دونوں انگوٹھوں کو آپس میں ململ کی ٹاکی سے کسی نے شیشم سے اتارنے کے ساتھ ہی باندھ دیا تھا۔
مغرب سے کچھ گھڑیاں پہلے کھلی آنکھوں والی میت اپنے گھر واپس پہنچی، عیشاء کے فوراً بعد جنازے کا پروگرام بن گیا۔ اچھو کی موت کا پتہ چلنے کے بعد والی ساری نمازوں کے بعد اچھو کی حلال حرام موت پر سیر حاصل بحثیں ہوئیں، کچھ نے مشورہ دیا کہ جائز موت مرے ہووں کے قبرستان میں نہ دفنایا جائے۔ آخر کار جنازے کا وقت آ گیا، آنا ہی تھا، ہر ہر پل جو تیزی سے اسی کی طرف بڑھ رہا تھا۔
پیش امام نے یہ کہہ کر ”اچھو حرام موت مرا ہے، میں اس کا جنازہ نہیں پڑھاؤں گا، میں پہلے ہی گناہ گار و خطا کار انساں ہوں، مجھے مفت میں گناہ لینے کی ضرورت نہیں“ اہل خانہ پر ایک اور بم گرا دیا۔
اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے اچھو کی بیوہ نے گاؤں کے نمبردار کہ منت سماجت کی، بعض لوگ کہتے ہیں کہ ساتھ کوئی لارا لپا، وعدہ وعید بھی ہوا۔ نمبردار نے جنازہ پڑھوا دینے کی حامی بھر لی۔ یہ تو معلوم نہیں ہو سکا کہ کون سا نمبرداری نسخہ استعمال ہوا، جنازہ عیشاء کے بعد ہو گیا، ہونا ہی تھا کیونکہ امام صاحب نے انکار کرتے وقت بتا دیا تھا کہ ”مجھے گناہ مفت میں لینے کی ضرورت نہیں“ ۔
جنازے سے اگلی رات ’طالب‘ دکان دار اچھو کے گھر آیا، اچھو کی تعزیت سے فارغ ہو کر اس نے بتایا، رات دس گیارہ کے درمیان، اچھو مل سے واپس آیا، قریب بارہ بجے تک میرے پاس بیٹھا رہا، پہلے اس نے مجھے کہا، ”یہ میرے بل جمع کروا دو “ ، جب اٹھنے لگے تو اس نے کہا ”ایک کیک بھی دو ، بیٹی کی سالگرہ ہے“ ۔ کیک پکڑا اور اس نے اپنی گھڑی یہ کہتے ہوئے مجھے پکڑا دی ”اگر یکم کو تنخواہ ملی تو تمہیں پیسے دوں گا، ورنہ دس کو دے کر گھڑی لے لوں گا“ ۔ میں نے بہت منع کیا، مگر وہ نہیں مانا، یہ گھڑی آپ کی امانت واپس کرنے آیا ہوں، میں نے اپنے پیسے اچھو کو معاف کر دیے ہیں۔


