آج کا بچہ کل کا باپ


کہتے ہیں کہ پچھلی صدی کی سب سے بہترین اور بڑی ایجاد موبائل فون اور انٹرنیٹ ہے۔ کسی بھی ایجاد کو اس کا استعمال ہی اچھا یا برا بناتا ہے۔ موبائل اور انٹرنیٹ نے جہاں رابطوں کو آسان کیا ہے اور فاصلوں کو سمیٹا ہے۔ وہیں اس کے بے جا استعمال نے بہت سی مشکلات اور اخلاقی و نفسیاتی الجھنوں کو بھی جنم دیا ہے۔ بات تب مزید خطرناک ہو جاتی ہے جب چھوٹے چھوٹے بچوں کو بہلانے کے لیے مائیں اپنی محبت بھری لوریوں کی بجائے موبائل کی سکرین کا سہارا لے لیتی ہیں۔

چھوٹے بچے کا ذہن جس کے لیے ہر رنگ برنگی اور حرکت کرتی چیز کشش اور سکون کا باعث ہوتی ہے۔ وہ جلد اس کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے اور رفتہ رفتہ اس کا عادی ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ والدین بھی اس کو اپنے لیے سکون کا باعث سمجھتے ہیں اور بچے کو اس میں مصروف کر کے اپنی دیگر مصروفیات کو سمیٹ لیتے ہیں۔ یوں وہ خود اپنے بچے کے لیے ایک ایسا شکنجہ تیار کر لیتے ہیں جس سے نکلنا ناممکن تو نہیں مشکل ضرور ہے۔ رفتہ رفتہ اب یہ حالت ہو گئی ہے کہ بچے کو دودھ پلانا ہے یا کھانا کھلانا ہے یا چپ کرانا ہے تو پہلے اسے موبائل دینا پڑتا ہے۔

اور اس کی دلچسپی کے کارٹون دکھا کر اسے فیڈ کیا جاتا ہے۔ روتے بچے کو چپ کرانے کا واحد آسان حل اور علاج والدین کے لیے شاید اب یہ موبائل ہی رہ گیا ہے۔ جس کے مضر اثرات سے بے خبر مائیں اپنی شفقت بھری لوریاں بھولتی جا رہی ہیں یوں باپ بھی اپنی باتوں سے محبت کا اظہار بھی کر نہیں پاتے اور یہ بچے اپنی دادی، نانی، پھوپھی، خالہ یہاں تک کے سگے بہن بھائیوں سے بھی دور ہوتے چلے جاتے ہیں اور سب رشتوں سے بڑھ کر موبائل سے رشتہ جوڑ لیتے ہیں۔ انہیں ماں کی گود سے زیادہ موبائل میں زیادہ سکون ملنے لگتا ہے یہی صورتحال ہمارے لیے الارمنگ ہے۔

آج کل بچوں میں موبائل اور دیگر اسکرینوں مثلاً کمپیوٹر، لیپ ٹاپ، ٹی وی اور ٹیبلٹ وغیرہ کا استعمال بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ جسے سوشل میڈیا بھی کہا جاتا ہے۔ خاص طور پر کرونا وبا کے لاک ڈؤان کے دوران اس میں بہت اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ جس کی وجہ سے بچے ٹین ایجرز سے سکرین ایجرز بن چکے ہیں۔ جس سے ان بچوں کی عمومی زندگی بھی نہ صرف عدم توازن کا شکار ہو چکی ہے بلکہ ان کے غصے اور چڑچڑا پن میں اضافہ ہو رہا ہے۔ وہ ویڈیو گیمز دیکھ دیکھ کر لڑاکو مزاج بنتے جا رہے ہیں۔

رات رات بھر جاگنے سے نیند کی کمی کی وجہ سے ان میں سستی اور تھکان بڑھ رہی ہے جو انہیں نہ صرف پڑھائی سے دور کر ہی ہے بلکہ وہ دنیا کے ہر کام سے جی چرانے لگے ہیں۔ ان میں جسمانی ورزش ختم ہو رہی ہے۔ پلے سینٹر، میدان اور پارک خالی نظر آتے ہیں۔ تعلیم سے بے رغبتی سے ان کے تعلیمی نتائج بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ انٹرنیٹ سے فحش مواد تک رسائی ان بچوں کے لیے کسی زہر قاتل سے کم نہیں جس سے وہ اپنی طبعی عمر سے پہلے ہی جنسی ہیجان میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔

اسکرین سے بڑھتی ہوئی دلچسپی انہیں اپنے مذہب اور دین سے دور اور بیزار کر رہی ہے۔ گویا اسکرین اور انٹرنیٹ پر موجود مواد غیر محسوس طریقے سے رفتہ رفتہ ہماری مذہبی شناخت اور ساخت ختم کر رہا ہے۔ اسکرین اور انٹرنیٹ کی یہ لت والدین اور اساتذہ کے لیے بھی اب ایک لمحہ فکریہ بنتی چلی جا رہی ہے۔ اس حوالے سے والدین کو بہت زیادہ محتاط ہونے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہو چکی ہے۔ ہماری روزمرہ زندگی میں سوشل میڈیا اور انٹر نیٹ بچوں کے ساتھ ساتھ بڑوں کو بھی متاثر کر رہا ہے۔ مہنگے مہنگے موبائل فون اور ان کے ماہانہ بل ہماری زندگی کا حصہ بنتے جا رہے ہیں جو ہماری مالی مشکلات کا باعث بھی بنتے جا رہے ہیں۔

یہ بہت سنجیدہ معاملہ ہوتا جا رہا ہے اسے معمولی یا ہلکا نہ لیں۔ ہماری نوجوان نسل سارا وقت موبائل، لیپ ٹاپ، ٹی وی کو دے رہی ہے کل کو یہ والدین بنیں گے تو یہ بھی اپنے بچوں کو بھی کھلونوں کی جگہ موبائل میں کارٹون لگا کر ہی دیں گے۔ نہ کوئی تربیت نہ اخلاقیات آخر ان کا ہو گا کیا؟ ذرا غور کریں المیہ یہ نہیں ہے کہ آج کے نوجوان بگڑ رہے ہیں بلکہ المیہ یہ ہے کہ کل کے بچوں کو بگڑے ہوئے والدین ملیں گے۔ سوال یہ ہے کہ آج والدین اپنے بچوں کو موبائل اسکرین کی لت سے کیسے نجات دلائیں؟

بچوں کو ابتدائی عمر مین موبائل اور اسکرین سے دور رکھنا مشکل تو ہے مگر ناممکن بالکل نہیں ہے۔ بچوں سے موبائل چھین لینا یا پابندی لگانا کوئی حل نہیں ہے۔ ہم بچوں کو جدید ٹیکنالوجی سے زیادہ دیر دور نہیں رکھ سکتے البتہ ان کے قریب رہ کر ان کی نگرانی ان میں ڈسپلن اور دوسری دلچسپی پیدا کرنے سے اس کے استعمال میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ والدین رول ماڈل بنیں اور پہلے اپنے اوپر چیک اینڈ بیلنس رکھیں اور غیر ضروری طور پر خود بھی بچوں کے سامنے اس کے استعمال سے پرہیز کریں بچوں کو زیادہ سے زیادہ اپنے ساتھ گفتگو اور دیگر دلچسپ مشاغل میں مشغول رکھیں۔

ورزش، کھیل کے میدان اور پارک ان کو اپنے ساتھ شریک کریں۔ اپنے بچوں کو موبائل کے فوائد اور نقصانات سے مکالمے اور تحریروں سے آگاہ کرتے رہیں۔ گھریلو مصروفیات اور روٹین کے کاموں کے لیے ٹائم ٹیبل ترتیب دیں اور بچوں کو اپنے ساتھ شامل کریں خاص طور پر بچوں کو نماز کے لیے اپنے ساتھ مسجد ضرور لے جائیں۔ اسمارٹ فوں اور انٹرنیٹ کی لت میں کمی لانے کے لیے انہیں دیگر مشاغل، یا ان کی دلچسپی کی گیم کی جانب راغب کریں پالتو جانور، گھر کی باغبانی، ڈرائنگ اور آرٹ ورک میں ان کے ساتھ مل کر مشغول رہیں۔

گفتگو کا مطلب پیغام رسانی یا خیالات کا تبادلہ ہوتا ہے۔ گفتگو صرف زبانی ہی نہیں ہوتی آپ کے چہرے کے تاثرات اور باڈی لینگویج بی پیغام رسانی کا ذریعہ ہوتی ہیں۔ اپنے رویے اور تاثرات کے ذریعے اس بارے میں بچوں کو پیغام دیں۔ یقیناً ہم کافی حد تک اسکرین کے استعمال مین کمی لا سکتے ہیں۔ پچھلے دنوں چھپنے والی نئی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ سوشل میڈیا اور اسکرین کے استعمال کو روزانہ 15 منٹ تک کم کرنے سے صحت عامہ اور قوت مدافعت کو نمایاں طور پر بہتر بنایا جا سکتا ہے اور تنہائی اور ڈپریشن کی سطح کو کم کیا جا سکتا ہے۔

”جرنل آف ٹیکنالوجی ان بیہیوئیر سائنس میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جن لوگوں نے سوشل میڈیا اور اسکرین کا استعمال کم کیا ان کی قوت مدافعت میں اوسطا 15 ً فیصد بہتری آئی۔ ان کی نیند کے معیار میں 50 فیصد بہتری اور افسردگی کی علامات میں 30 فیصد کمی بھی ظاہر ہوئی ہے۔ سوانسیا یونیورسٹی کے سکول آف سائیکالوجی، برطانیہ کے پروفیسر فل ریڈ نے کہا کہ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ، جب لوگ سوشل میڈیا اور اسکرین کا استعمال کم کرتے ہیں، تو ان کی زندگی بہت سے طریقوں بشمول ان کی جسمانی صحت اور نفسیاتی بہبود کے فوائد کے اعتبار سے بہتر ہو سکتی ہے۔

یہ رائے قائم کرنا باقی ہے کہ آیا سوشل میڈیا اور اسکرین کے استعمال اور صحت کے عوامل کے درمیان تعلق براہ راست ہے، یا صحت مندی کے متغیرات میں تبدیلیوں، جیسے ڈپریشن، یا دیگر عوامل بھی شامل ہیں۔ امریکن سائیکولوجیکل ایسوسی ایشن کی طرف سے شائع ہونے والی ایک اور تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ جن نوجوانوں اور بالغوں نے صرف چند ہفتوں کے لیے اپنے سوشل میڈیا کے استعمال میں 50 فیصد کمی کی ان میں نمایاں بہتری دیکھی گئی ہے“ ۔

آج کل ڈیجیٹل فاسٹنگ (یعنی ڈیجیٹل روزے ) کی اصطلاح بھی بہت عام ہو رہی ہے۔ جس میں اپنی پر سکون زندگی کے لیے چند دن یا کچھ وقت کے لیے موبائل فون سے اپنے آپ کو بالکل الگ کر لیا جاتا ہے۔ موبائل کا یہ عارضی بائیکاٹ ہماری صحت اور ذہنی توانائی کا باعث بن رہا ہے۔ اس دوران دیگر متبادل سرگرمیوں پر توجہ دینے کا موقعہ بھی ملتا ہے۔

ہمیں اپنے معصوم بچوں کو اس نشے سے بچانے کے لیے متبادل سرگرمیوں کو فروغ دینے کی اشد ضرورت ہے دوسری جانب موبائل فون کمپنیز کو کڈز فرینڈلی موبائلز ایپ پر مزید بہتر کام کرنا چاہیے اور معصوم ذہنوں پر اچھے اثرات ڈالنے کی بھر پور کوشش کرنی چاہیے کیونکہ آج کے یہ بچے ہی کل کے باپ ہوں گے۔

Facebook Comments HS