ستاروں کا جہاں، آپ کا، ہمارا، سب کا


آسمان پر چمکتے ستارے
لگتے ہیں ہمیں کتنے پیارے
دل چاہتا ہے چھولوں میں انہیں
یا پھر من میں سما جائیں سارے

ایک چاند اور کئی ستارے، آسمان پر ان کے دم سے ہی رونق ہوتی ہے، ایک چاند پر تو بہت کچھ لکھا جا چکا ہے، اس کی خوبصورتی اور چمک نے کروڑوں محبت کرنے والے دلوں کو تسخیر کیا، چمکتے چاند کی چمک دمک سے شاعروں نے بھی اپنی شاعری کو چمکایا، کسی نے آدھے اور پورے چاند تو کسی نے چودھویں کے چاند کو اپنی شاعری کا حصہ بنایا، چاند میں اپنا محبوب نظر آیا اور اسے اپنے دکھ سکھ کا ساتھی بنایا۔

اردو ادب کے چاند اب انشاء نے کیا خوب کہا ہے
کل چودھویں کی رات تھی شب بھر رہا چرچا ترا
کچھ نے کہا یہ چاند ہے کچھ نے کہا چہرہ ترا
اب ذکر کرتے ہیں آسمان پر چمکتے دس کروڑ کے قریب ستاروں کی

چاند میں شعرا اور لکھاریوں کو اپنے محبوب کا عکس نظر آتا ہے مگر ستاروں کے ساتھ معاملہ کچھ مختلف ہے، کسی کو ستارے دیکھ کر انہیں گننے کا خیال آتا ہے تو کوئی ستاروں میں امید دیکھتا ہے، مگر اہمیت ان کی بھی کم نہیں، مستقبل میں کیا ہو گا، خوشی ملے گی یا غم، درست یا غلط مگر ستاروں کی چال سب بتاتی ہے

خبر کی سرخی کی خوبصورتی کے لیے بھی ستاروں کا استعمال کیا جاتا ہے، کسی کی ابدی جدائی کی خبر سنانی ہو تو کہتے ہیں فن و ثقافت کا روشن ستارہ ڈوب گیا، کسی کی تعریف کرنی ہو تو یوں لکھا جاتا ہے، اردو ادب کا درخشندہ ستارہ

یوں تو ستارے کروڑوں کی تعداد میں ہیں مگر رات تاریک اور آسمان صاف ہو تو ہماری آنکھیں لگ بھگ چھ ہزار ستاروں کو دیکھ سکتی ہیں

ستاروں کو فلمی شاعری میں خوب استعمال کیا گیا ہے
قتیل شفائی کا یہ گیت آج بھی کانوں میں رس گھولتا ہے
پریشاں رات ساری ہے ستارو تم تو سو جاؤ
سکوت مرگ طاری ہے ستارو تم تو سو جاؤ
انیس سو اڑسٹھ میں بھارتی فلم ”کنیا دان“ کے اس گیت میں بھی رات اور ستاروں کا خوب استعمال کیا گیا ہے
لکھے جو خط تجھے وہ تیری یاد میں ہزاروں رنگ کے نظارے بن گئے
سویرا جب ہوا تو پھول بن گئے، جو رات آئی تو ستارے بن گئے

خوبصورت ستاروں سے کئی خوبصورت محاورے بھی بنے ہیں، جیسے رات کو تارے گننا اور اس کا مطلب ہے رات جاگ کر گزارنا، انتظار میں رات گزارنا، بے چینی اور بے قراری

ستاروں سے اس جہاں میں رونق ہے مگر سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ مستقبل میں ایسا ممکن نہیں رہے گا، ان کا کہنا ہے کہ اگر آج رات کو انسانی آنکھ ڈھائی سو ستارے دیکھ سکتی ہے تو ہو سکتا ہے اٹھارہ برس کے بعد ان کی تعداد کم ہو کر صرف سو ہو جائے۔ سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ زمین پر روشنیوں کا جہاں ستاروں کی تعداد میں کمی کی وجہ ہے، اگر روشنیوں کا رخ زمین کی جانب رکھا جائے یا پھر روشنی کے اوپر چھتری نما رکاوٹ رکھی جائے یا سفید یا نیلی روشنیوں کی جگہ سرخ یا نارنجی روشنیاں استعمال کی جائیں تو کچھ فائدہ ہو سکتا ہے۔ دو ہزار سولہ کے بعد سے اب تک کرہ ارض کی ایک تہائی آبادی رات کو ملکی وے کا شاندار نظارہ دیکھنے سے محروم ہو چکی ہے۔ تقریباً ایک دہائی قبل امریکی سائنسدانوں نے کہکشاؤں سے باہر اربوں ستاروں کی موجودگی کا انکشاف بھی کیا تھا۔

ایک یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ آسمان پر چمکتے تارے زیادہ ہیں یا ساحلوں پر ریت کے ذرے، امریکی ماہر فلکیات کے خیال میں کائنات کے تارے، زمین کے تمام ساحلوں پر ریت کے ذروں سے زیادہ ہیں۔ ماہرین ضرب تقسیم کے بعد اسی نتیجے پر پہنچے ہیں کہ کائنات میں ستاروں کی تعداد ساحلوں پر ریت کے ذروں سے زیادہ ہے۔ آسمان پر تارے جتنے بھی ہوں مگر رات کی تنہائی میں انہیں گننے کا ایک الگ ہی لطف ہے۔

شاعر مشرق علامہ اقبال کا یہ شعر آج بھی حوصلے اور ہمت کی علامت ہے
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

چاند ہو یا ستارے، سب سے ہی اس جہاں کی رونق اور خوبصورتی ہے، انہیں ہم چھو تو نہیں سکتے مگر یہ دکھ سکھ میں ہمارے ساتھی اور ہمارے غم کم کرتے ہیں


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments