اسٹیبلشمنٹ اور جوڈیشری تصادم میں پسپائی کس کی ہوگی؟


گزشتہ چند سالوں سے ایسے لگ رہا ہے کہ پاکستان کوئی فلم سٹوڈیو بن چکا ہے۔ جہاں ہر ہفتے ایک فلم ریلیز ہوتی ہے ہفتے کا آخری دن ختم ہونے سے پہلے نئی فلم پھر ریلیز ہو جاتی ہے۔ ان فلموں کے موضوعات کچھ یوں ہوتے ہیں۔ ”ایک پیج، اینٹی اسٹیبلشمنٹ، نرم گرم مداخلت، حکومت اور اداروں میں ٹکراؤ، فوج اور جوڈیشری میں تناؤ، حکومت اور حزب اختلاف میں رسہ کشی، اداروں کی آپس میں جنگ، احتساب کے نام پر انتقام، میڈیا ٹرائل اور عدالتی پیشیاں، مہنگائی کے نئے نئے تحفے، آئی ایم ایف سیریل“ زیادہ تر سٹوڈیو سے انہی موضوعات پر مبنی فلمیں مارکیٹ میں ریلیز ہوتی ہیں جو بمشکل ایک ہفتے تک ہی سینما گھروں میں یعنی کہ ٹی وی سکرینوں پر اپنی جگہ بنا پاتی ہیں۔

ایک فلم کے ٹی وی سکرینوں کے سے اترتے ہی نئی فلم ریلیز ہو جاتی ہے۔ شائقین، تماشائی اور گھوڑے دوڑانے والے پہلے والی فلم سے اکتا جاتے ہیں اور اس کو بھول بھی جاتے ہیں ان کا تمام فوکس اگلے سات دن نئی فلم پر رہتا ہے اور ٹی وی سکرینوں پر بیٹھے کچھ فنکار ہر نئی فلم کی خوبیاں اور خامیاں 24 گھنٹے بیان کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار بیٹھے ہوتے ہیں۔ گزشتہ دو سال کے دوران ایسی درجنوں فلمیں مارکیٹ میں ریلیز ہوئی۔ زیادہ تر فلمیں آزادی سے غلامی تک کے موضوعات پر ہی مبنی رہی پھر اس دوران پارلیمنٹ اور جوڈیشری میں ایک خوفناک ٹکراؤ ہوا آخر کار فاتح پارلیمنٹ قرار پائی۔

اور آج کل اسٹیبلشمنٹ اور جوڈیشری میں خوفناک تصادم چل رہا ہے۔ یہ تصادم اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ بات ایک دوسرے کی پگڑیوں کے فٹ بال بنانے تک آ گئی ہے بظاہر نظر آ رہا ہے کہ دونوں فریق مکمل تیاری کے ساتھ اکھاڑے میں اترے ہیں۔ ہر روز نئے پینترے بدلے جا رہے ہیں۔ یوں لگ رہا ہے کہ میچ انیس بیس کے سکور پر چل رہا ہے۔ یہ بھی سب بخوبی جانتے ہیں کہ ہمیشہ سے فاتح اسٹیبلشمنٹ ہی قرار پاتی ہے اور جوڈیشری کو ہی پسپائی اختیار کرنی پڑتی ہے۔

اس کی بڑی وجہ ہر حکومت جوڈیشری کی بجائے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے۔ دو کے مقابلے میں یقیناً ایک کی طاقت کم ہوتی ہے اور اس کو سرنڈر کرنا پڑتا ہے لیکن اب صورتحال کچھ عجیب سی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اور جوڈیشری ایک قدم بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہے۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ کچھ مخصوص ججز ایک سیاسی لیڈر کہ نقش قدم پر چل رہے ہیں سب سے پہلے ان ججز کو اس تاثر کو زائل کرنا پڑے گا تو ہی عوام میں کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکیں گے۔

دوسری جانب اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کے پاس سب سے بڑا اور موثر ہتھیار میڈیا کا ہے۔ آج کل میڈیا پر دھڑا دھڑ ان مخصوص ججز کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہاں سب سے قابل غور بات یہ ہے کہ اس دنگل سے پاکستان کے عوام کو کیا حاصل وصول ہو گا؟ یا صرف یہ ایک تفریح ہے جس کو صرف ایک دنگل کے طور پر ہی انجوائے کیا جائے گا۔ پسپائی اختیار کرنے والا فریق اپنے اندر پائے جانے والی خامیوں کو بھی دور کرنے کی کوشش کرے گا۔

بہرحال یہ سب کچھ جو ہو رہا ہے یہ ملک کے لیے کسی صورت بھی قابل فخر اور فائدہ مند تو ہرگز نہیں ہے بلکہ یہ جگ ہنسائی کا باعث بن رہا ہے۔ باعث تعجب ہے کہ اس سارے ٹکراؤ کے دوران وزیراعظم شہباز شریف کا نام و نشان بھی نظر نہیں آ رہا۔ وزیراعظم ملک کا سربراہ ہوتا ہے اس کو ایک اچھے باپ کی طرح مصالحت کروانی چاہیے لیکن شہباز شریف ضرورت سے زیادہ شرافت کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہیں یہی شرافت ان کے گلے بھی پڑ سکتی ہے۔

کسی بھی ناگہانی آفت سے قبل پارلیمنٹ، جوڈیشری اور اسٹیبلشمنٹ کو اکٹھے بیٹھ کر غلط فہمیاں دور کرنی چاہیے، جو بھی مسائل ہیں ان کو بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہیے۔ جس ملک کے اداروں کا آپس میں ٹکراؤ ہو اس ملک میں کون سرمایہ کاری کرنے آئے گا اور کون سے ملک کا حکمران کوئی نئے معاہدے کرنے کا رسک لے گا۔ ہم ہر وقت کسی حادثے کے انتظار میں رہتے ہیں لیکن ماضی کے حادثات سے سیکھنے کی کوشش کیوں نہیں کرتے؟

Facebook Comments HS