شعرا دوستوں سے معذرت کے ساتھ


گویا یوں محسوس ہوتا ہے کہ ادبی کینوس میں اب شاعری کا رجحان نثر اور اس کی تمام جہتوں پر حاوی ہو چلا ہے۔ عوامی حلقے تو شاعری کے ہاتھوں پہلے ہی ہائی جیک ہیں مگر اب نثر کہنے اور سمجھنے والوں کو بھی سوشل میڈیا کی دوڑ میں مشاعرہ کلچر ہی خوب لُبھاتا ہے۔

گزشتہ چند سالوں میں ترقی پسند شاعری کے مقابل میں عامیانہ پاپولسٹ شاعری کا بڑھتا رجحان تو بہرکیف ایک مکمل تفصیلی بحث ہے۔ مگر فی الوقت نثر کی تمام اقسام کو بطورِ مجموعی تنزلی دیکھنی پڑ رہی ہے۔

60 سے 80 تک کی دہائی میں ریاستی بیانیے کے ترجمان ادیبوں کو حکومتی حمایت کے مرہونِ منت کچھ پذیرائی ضرور ملی تھی مگر اس دوران بھی مکمل دانستہ حکمتِ عملی کے تحت ترقی پسند اور روشن خیال ادب کو محدود و محصور رکھا گیا تھا۔ اب بھی نثر کے حصے آئے اس خسارے میں سب سے زیادہ نقصان غیر افسانوی نثر اور نثر نگار اٹھا رہے ہیں!

حالیہ ناول نگار اور چند افسانچے ادبی تناظرات سے وابستہ قارئین میں قدرِ شمار ہیں مگر غیر افسانوی تخلیق کاروں کی پذیرائی کو قارئین موجود ہیں اور نہ ایسی اعزاز و قدر دانی جو کسی بھی علم شناس معاشرت کے لیے انتہائی ضروری ہے!

گویا حالات تو یہاں تک دگرگوں ہوچکے ہیں کہ ہر چار گام پر ایک شاعر مل جاتا ہے اور نثر کے سنجیدہ تخلیق کار بھی پذیرائی فن کی حرص میں چھوٹی بحروں پر طبع آزمائی کر کے شاعر کہلوانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

جبکہ تہذیبوں کی تاریخ میں معاشرتی سطح پر نظریات کی تبدیلی سے لے کر ریاستی ڈھانچوں کی ترتیب و تفریق تک غیر افسانوی نثر بالخصوص سیاسی و سماجی لٹریچر نے کوکھ کا کام دیا ہے۔ شاعری سونے پر سہاگا کی تمثال کئی دیگر محرکات میں سے ایک پیش خیمہ تو ضرور رہی مگر سماج کی بُنت اور ارتقاء میں سب سے اہم اور بنیادی کردار نثر ہی کا ہے۔

سو قصہ مختصر یہ کہ عوامی حلقوں میں عامیانہ شاعری کی فراوانی و ستائش کی ریشہ دوانیاں اور نثر یا بالخصوص غیر افسانوی نثر کا زوال سماج کی سیاسی بصیرت اور فکری پیمانوں کے لیے ایک قابلِ غور سوال ہے!

Facebook Comments HS