جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے


پنجابی شاعری کے عظیم شاعر وارث شاہ کو پنجابی زبان کا شیکسپئر بھی کہا جاتا ہے۔ ان سے پہلے اور بعد میں کئی لوگوں نے ہیر رانجھے کا قصہ لکھا لیکن کسی کو وہ مقبولیت نہ ملی جو ہیر وارث شاہ کے حصے آئی۔ یہاں تک کہا جاتا ہے کہ پنجاب میں میں قرآن کے بعد سب سے زیادہ چھپنے والی کتاب ہیر وارث شاہ ہوا کرتی تھی۔ ہیر وارث شاہ کا آغاز ہی حمد سے ہوتا ہے اور اختتام بھی اور بعض ناقدین کے مطابق ان کی ہیر کے کردار تصوف کی علامتیں اور استعارے ہیں یہی وجہ تھی کہ ہیر لکھنے پہ وارث شاہ کے مرشد نے انہیں شاباش دے کر کہا تھا:

”واہ وارث! تم نے تو بھینس کے گلے کی میلی رسی میں قیمتی موتی پرو دیے ہیں۔“

یہاں دلچسپ بات یہ ہے کہ کچھ شدت پسند اور ناسمجھ وارث شاہ پہ فحش گوئی کا الزام لگاتے ہیں اور ثبوت کے طور پر ہیر کی رانجھے سے ملاقات کے بعد سہیلیوں کی چھیڑ چھاڑ اور یہ شعر پیش کرتے ہیں :

یارو وگی اندھیرڑی عشق والی اڈ شرم و حیا دی پگ گئی
وارث شاہ رب جوڑ دا جوڑیاں نوں کھب چھاپ اندر اج نگ گئی

یہ شعر ایک رومانوی شعر ہے جو قصے کی روانی کے لیے ضروری تھا ایسے اشعار ہر زبان اور ہر اچھے شاعر کے یہاں دیکھنے کو ملتے ہیں بھلے وہ قبل از اسلام کا عربی شاعر امرؤالقیس ہو یا اردو کا غالب اور اقبال۔

علی عباس جلالپوری جیسے بڑے ناقدین نے فحش گوئی کے اس اعتراض پہ وارث شاہ کا دفاع کیا ہے لیکن پھر بھی یہ بعض لوگوں کی طبیعت پہ ناگوار گزرتا ہے اور یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مصنف کو لکھتے وقت کن حدود کا پابند ہونا چاہیے؟

اس سلسلے میں مشہور عالمی شاعر گوئٹے لکھتے ہیں :

”فنکار کا مذہب اپنے فن میں جامعیت حاصل کرنا ہے۔ یہی ایک فنی تخلیق کا مقصد ہے، اخلاقیات کے نامہ نگار اس بات سے فکر مند رہتے ہیں کہ فن دوسروں پر کیا اثر چھوڑتا ہے، جس کے بارے میں فنکار اتنا ہی غافل رہتا ہے۔ جیسے فطرت اس بات میں کہ وہ خونخوار شیر کی تخلیق کرتی ہے یا کسی گانے والے پرندے کی۔“

ایک لکھنے والا عظیم تبھی ہوتا ہے جب اس کے لکھے میں بے ساختہ پن اور عالمگیریت ہو اور اس کے لیے اسے بہت سی حدود و قیود نظر انداز کرنا پڑتی ہیں۔ لیکن ہر پڑھنے والا لکھنے والے کی سطح کو نہیں پہنچ پاتا اور مصنف سے اپنی ناسمجھی کی بنا پہ اختلاف کرنے لگتا ہے۔ منٹو پہ مقدمہ ہو یا قرۃ العین حیدر کے ”آگ کا دریا“ پہ پروپیگنڈا یا پھر امر سنگھ چمکیلا اور سدھو موسے والا کا قتل۔ جو بھی ہمارے بنائے نام نہاد مذہبی، سیاسی اور سماجی دائروں کے لیے خطرہ بننے لگے اور ہم سے زیادہ طاقتور بھی نہ ہو تو اٹھا لیا جاتا ہے یا مار دیا جاتا ہے بقول احمد فرہاد:

وہ بے ادب، اس سے پہلے جن کو اُٹھایا گیا
یہ اُن کے بارے میں پوچھتا ہے، اسے اُٹھا لو
اسے کہا تھا جو ہم دکھائیں، بس اتنا دیکھو
مگر یہ مرضی سے دیکھتا ہے، اِسے اٹھا لو
اسے بتایا بھی تھا کیا بولنا ہے کیا نہیں
مگر یہ اپنی ہی بولتا ہے، اسے اٹھا لو

گزشتہ دنوں امر سنگھ چمکیلا فلم دیکھ کر بہت اچھا لگا کئی دن تک چمکیلا ہماری پلے لسٹ میں شامل رہا فلم میں بہت خوبصورتی سے دکھایا گیا ہے کہ آدمی کی شخصیت بچپن میں تعمیر ہوتی ہے اور بچپن میں پیش آئے واقعات انسان پہ گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ اس فلم کی موسیقی بہت جاندار ہے یاد رہے کہ یہ وہی موسیقی ہے جو آج بھی عوام میں مقبول ہے اور جسے آج بھی بعض لوگ فحش قرار دیتے ہیں مگر کیا یہی سب پنجاب کی روایت نہیں؟

جسمانی اعضاء کے نام گالیاں نہیں؟ عورتوں کو برا بھلا نہیں سمجھا جاتا؟ فحش گوئی کی بجائے دراصل چمکیلے کے دو اور قصور تھے جو اس کے قتل کی وجہ بنے، ایک لکھتے وقت منافقت کے ملمع سے کام نہ لینا اور دوسرا نچلی ذات سے اٹھ کر اونچی ذات والوں سے زیادہ عظیم ہو جانا۔ چمکیلے کو موت سے اتنا ڈرا دیا گیا تھا کہ اس کے اندر سے موت کا ڈر ہی ختم ہو گیا۔

یہ فلم یوں تو بہت پسند آئی لیکن بعض جگہ اینیمیشن اور پرانے کلپس کا بے جا استعمال بھی دیکھنے کو ملا۔ ایک حقیقی کلاکار کی زندگی پہ بنی یہ فلم ہمیں ضرور دیکھنی چاہیے اس سے یقیناً دلوں میں رواداری پیدا ہو گی اور ہم سمجھ سکیں گے کہ ایک فنکار ہونا آسان نہیں۔

Facebook Comments HS