دستوئیفسکی کا ایڈیٹ

ایک ادیب کی پھانسی کا تصور کیجیے اور سوچیے کہ اس پر اس وقت کیا بیتی ہوگی جب اسے اپنے انقلابی خیالات اور جاگیردارانہ سماج کے خلاف سچ گوئی پر سزائے موت کا حکم سنا دیا جائے اور طویل وقت کی قید و بند کے بعد ، تختہ دار پر لٹکے پھانسی کے پھندے تک لے جایا جائے۔ تب گلے میں پڑا موت کا پھندا اور نظروں کے سامنے تیزی سے گزرتے زندگی کے سبھی پل کیسے سوہانِ روح ہو جاتے ہوں گے۔ یہ کوئی کہانی نہیں، نہ ہی کسی داستان کا ٹکڑا ہے بلکہ اس حقیقت کا بیان ہے جو دستوفسکی جیسے روس کے مایہ ناز ادیب پر گزری۔
ایک نادار و مفلس گھرانے میں جنم لینے والا یہ مایہ ناز روسی ادیب جب زندگی کی تلخیوں سے فرار ڈھونڈنے کو تخلیقی ادب کی راہداریوں میں بھٹکا، تو دنیا کو ”ذلتوں کے مارے لوگ“ جیسا شاہکار ناول دیا۔ بعد ازاں انقلابِ روس کے خواہشمند نوجوانوں کے ایک سرگرم گروہ میں شامل ہونے اور ایک خفیہ سیاسی بیٹھک میں جاگیر دارانہ نظام و طبقاتی سماج کے خلاف ایک خط پڑھنے کی پاداش میں اس کے لیے سزائے موت کا حکم نامہ جاری کر دیا گیا۔ سزائے موت کے مجرموں کے ساتھ رہنا اور لحظہ لحظہ یوں زندگی کو اپنے ہاتھوں سے جاتا دیکھنا دستوفسکی کے لیے سوہانِ روح تھا۔
اور پھر عین اس وقت جب اسے پھانسی دینے کے لیے لے جایا گیا اور گلے میں پھندا تک ڈال دیا گیا، تبھی اس کی سزائے موت کو جلاوطنی میں بدل دینے کا حکم نامہ نازل ہوا۔ موت کو سانس کے اتنے قریب سے دیکھنا دستوئیفسکی کے لیے خوف و دہشت پر محیط لمحہ اور ایسا کڑا نفسیاتی امتحان تھا جو ساری زندگی اس کے حواس پر طاری رہا۔ بعد ازاں سزائے موت کے سبھی مجرموں کے ہمراہ جب اسے سائبیریا جلاوطن کیا گیا، تب بھی یہ اس کی زندگی کی ایک اور تلخ اور کڑوی یاد رہی۔
شاید یہی وجہ ہے کہ ”جرم و سزا“ جیسے شہرہ آفاق ناول میں اس نے جرم اور جرم کرنے والوں کی ذہنی نفسیات کا جس گہرائی سے جائزہ لیا ہے وہ مشاہدہ عام ادیبوں کے ہاں عنقا ہے۔ یہی نہیں بلکہ ایڈیٹ جیسے ناول میں بھی جب پرنس میشکن ناول میں کئی جگہوں پر سزائے موت پانے والے مجرموں کا دردناک احوال سناتا ہے، خصوصاً اس وقت جب وہ ان کے ذہن میں جاری موت کی شدید کشمکش اور دل میں دھڑکتے خوف، اذیت اور دہشت کو بیان کرتا ہے تو قاری کو وہاں دستوئیفسکی کا اپنا کرب صاف محسوس ہوتا ہے۔
اپنے شہرہ آفاق ناول ”ذلتوں کے مارے لوگ“ سے شہرت پانے والے روس کے مایہ ناز ادیب دستوئیفسکی کو عالمی ادب کے شائقین نے ہمیشہ اشتیاق سے پڑھا۔ انسانی نفسیات کی پیچیدگیوں اور سماجی زندگی کی ناہمواریوں کو جس گہرے اور باریک بین مشاہدے سے دستوئیفسکی نے بیان کیا ہے وہ درد شاید ہی کسی ادیب نے اس گہرائی سے دیکھا اور محسوس کیا ہو۔ ”جواری، جرم و سزا، ایڈیٹ اور برادرز کرامازوف“ جیسے شاہکار ناول عالمی ادب کو دان کر دینے والے دستوئیفسکی کے تخلیقی جوہر کو ٹالسٹائی، نطشے، میکسم گورکی، ولیم فاکنز، روزنبلوم جیسے عالمی ادب کے نابغوں نے بھی تسلیم کیا۔
اردو ادب پر دستوئیفسکی کے اثرات بیسویں صدی کے وسط سے ہی کئی نامور ادیبوں اور تخلیق کاروں کے ہاں نظر آنے شروع ہو گئے تھے۔ ادب میں جرم و سزا کی دنیا سے جڑے نادار کرداروں کی نفسیات کو دستوئیفسکی سے بہتر شاید ہی کوئی سمجھ پایا ہو۔ ایڈیٹ دستوئیفسکی کے اس تخلیقی ہنر کا ایس شاہکار ہے جس نے اپنی درد انگیزی کی اثر پذیری سے ایک بڑی دنیا کو اپنا دلدادہ بنایا۔ جس پر فلمیں بنیں، روسی ڈرامہ نگاروں نے اسے اقساط میں نشر کیا اور جس کی شہرت چہار دانگ رہی۔
دیکھا جائے تو ”ایڈیٹ“ اپنے اسلوبیاتی تنوع اور عمیق فکری موضوعات کے سبب دنیا بھر کے نامور لکھنے والوں پر اپنا اثر چھوڑ جانے والا اور دنیا کی بیشتر زبانوں میں ترجمہ ہونے والا ایسا دردناک ناول ہے جو اپنے واقعات، کردار اور پر اثر مکالموں کے سبب قارئین کے اذہان پر ایک عمر کے لیے ثبت ہو جاتا ہے۔ یہ ناول ایک ایسے کامل شخص کی داستان جسے اپنی سادگی، خلوص، دیانت داری اور شرافت کی بدولت ہر جگہ ایڈیٹ کا خطاب ملتا ہے، جو اپنی سادہ لوحی کے بل پر جہاں ایک طرف لوگوں کے دل جیتتا ہے تو وہیں دوسری طرف اپنی فطرت میں چالاکی، عیاری اور مکاری کے نہ ہونے کے سبب، سماج کے دوہرے رویوں اور زبان کی طعنوں سے گھائل اور زخمی ہوا جاتا ہے۔ ہمارے موجودہ سماجی ڈھانچے سے مماثلت رکھتا یہ قدیم روس کا ایسا ہوس زدہ معاشرہ ہے جو اپنی منافقت، زر پرستی اور ریاکاری کے سبب اخلاقی زوال کی گہرائیوں میں اترتا جا رہا ہے۔
کچھ برس قبل تصنیف حیدر صاحب کی ادبی دنیا پر، اپر پیننسولا، مشی گن سے تعلق رکھنے والی معروف ناقد و محققہ این رسکا کا مضمون ”مطالعہ ایڈیٹ ؛ کیوں اور کیسے؟“ پڑھا، جسے ان کی فرمائش پر اردو زبان کے معتبر مترجم، محترم عاصم بخشی صاحب نے بڑی مہارت سے اردو میں ترجمہ کیا تھا۔ یہ مضمون دستوفسکی کے ناول ایڈیٹ کے عمیق تنقیدی و غائر تجزیاتی جائزے پر مبنی تھا، جس میں اس ناول کے ہر رخ کو کھول کر سمجھنے کی سعی کی گئی تھی۔
یہ مضمون اتنا دلچسپ تھا کہ جس نے اس ناول کی ضخامت کو نظر انداز کرتے ہوئے اسے پڑھنے کی فوری تحریک دی۔ تب اس ناول کو پڑھتے ہوئے کئی مقامات پر اس کی مماثلت اپنے سماج سے اتنی زیادہ محسوس ہوئی کہ اختتام میں بالآخر ہمیں بھی اعراف کرنا پڑا کہ ایک مثالی انسان یا کامل شخص کا تصور اب ہماری موجودہ دنیا یا ہمارے سماج کے لیے ہر گز قابلِ قبول نہیں۔ یہاں وہی کامیاب ہے جسے منافقت، چرب زبانی، خوشامد و چالاکی میں مہارت ہو، ایک سادہ لوح انسان کا مقدر محض ظلم، تشدد، دھوکہ دہی اور اس سفاک سماج کی جانب سے دی گئی تکلیف اور آزردگی کے سوا کچھ نہیں۔
یہ ناول خود غرض، حریص، غیر منصفانہ، جاگیردارانہ، ابتر ناہمواریوں میں بٹے روسی سماج کے سرمایہ دارانہ نظام کا ایسا نوحہ ہے، جس میں ہر طرف دولت و جاہ پرستی ہے۔ کمزور طبقات اور معصوم لوگوں کے لیے یہاں کہیں کوئی جگہ نہیں۔ ناول میں موجود پرنس میشکن کا سادہ لوح کردار، توتسکی جیسا رئیس اوباش، نستاسیا فلپوونا جیسی خوبرو مگر ستم گزیدہ خاتون، بڑھاپے میں دولت کے بل پر عیش کرتا تین جوان بیٹیوں کا باپ جنرل یپان چین، معزز اور رئیس میشکن خاندان سے تعلق رکھنے والی اس کی سنجیدہ و باوقار بیوی اور تینوں حسین و طرار بیٹیاں، یہ سبھی اپنی اپنی جگہ سماجی سفاکیت، ظلم اور استحصال کے کہیں نمائندہ تو کہیں معتوب کر دار ہیں۔
اپنے اخلاقی زوال اور مادیت پرستی کے ساتھ منتشر ہوتے روسی سماج میں پرنس میشکن کے کردار کو ایک سادہ لوح ایڈیٹ کی شکل میں دوستوفسکی نے بڑی مہارت اور چابکدستی کے ساتھ پیش کیا ہے۔ پرنس میشکن کو پڑتے مرگی کے دورے، کہیں تشدد تو کہیں غیر اخلاقی جملے، بد تہذیبی و ناروا سلوک، یہ سب ناول جگہ جگہ رستے سماجی ناسوروں کا بیان ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پورا ہی ناول دستوئیفسکی نے ایک ایسے درد و کرب کی کیفیت میں ڈوب کر لکھا ہو، جو خود اس پر کبھی گزری ہو۔
ظ۔ انصاری کا روسی زبان سے براہِ راست اردو میں کیا گیا یہ عمدہ ترجمہ اتنا صاف، شستہ اور رواں ہے کہ ناول پڑھتے ہوئے کہیں احساس نہیں ہوتا کہ اسے ایک زبان سے دوسری میں منقلب کیا گیا ہے۔ حال ہی میں بک کارنر جہلم نے اس ناول کو ایسے خوبصورت و مستحسن پیرائے میں ”فرٹز آئشن برگ“ کے اس ناول کے لیے خاص بنائے گئے عالمی شہرت یافتہ خاکوں کے ہمراہ، نہایت دیدہ زیب طریقے سے ایسی عمدگی سے شائع کیا ہے کہ کتاب دیکھتے ہی قاری بے ساختہ داد دے اٹھے۔ عالمی ادب کے ایسے شاندار فن پارے کی اشاعت پر بک کارنر جہلم کو دلی مبارکباد اور محترم گگن شاہد صاحب اور محترم امر شاہد صاحب کے لیے بہت سی نیک تمنائیں۔


