جھونپڑے میں مکین ملکہ
بچوں کو صبح سویرے جگانا، نہلانا، سکول کے لیے تیار کرنا، ان کی پسند کا ناشتہ تیار کرنا، ان کے ٹفن تیا ر کرنا سکول بھیجنا، ان کے اتارے ہوئے کپڑوں کو سمیٹنا، دھونا، استری کرنا، دوپہر کا کھانا تیار کرنا۔ گھر کی صفائی کرنا غرض کہ اس قسم کے بیسیوں کاموں میں تمام دن خوشی خوشی مصروف رہتیں۔ ایک دو بار میں نے کوشش کی کہ ان کاموں میں تمہاری مدد کے لیے ایک آدھ جزوقتی ملازمہ رکھ دوں لیکن یقیناً میری کم مائیگی کے پیش نظر تم نے کسی کو بھی اس دلیل کے ساتھ ٹکنے نہ دیا۔ کہ آپ لوگوں کے یہ سارے کام کر کے دلی خوشی ہوتی ہے۔ خبردار اگر کسی نے مجھے اس سے محروم کرنے کی کوشش کی۔ ان تمام مصروفیات کے باوجود تمہاری توجہ میری ذات پر بھی اسی طرح ہی مرکوز رہتی جیسے بچوں پر تھی۔
ڈیوٹی پر جاتے وقت کپڑوں اور جوتوں کا انتخاب تم خود کرتیں۔ بنیان، جرابیں، رومال، گھڑی، عینک میری ضرورت کی ہر چیز تمہاری نظر میں رہتی۔ سردیوں میں سویٹر جرسی کوٹ کیا چیز پہننی ہے اور کون سی پہننی ہے۔ انتخاب تمہارا ہوتا بلکہ تم خود پہناتی۔ پھر چاروں طرف گھوم کر اچھے سے چیک بھی کرتیں کہ کوئی کمی کوتاہی رہ تو نہیں گئی۔ بعض اوقات کوٹ وغیرہ پر کوئی سلوٹ وغیرہ محسوس ہوتی تو اسی وقت اتروا کر اسے استری کی مدد سے درست کیا جاتا اور تیار ہو کر جب میں ڈیوٹی پر جانے کے لیے گھر سے نکلتا تو دروازے پر آ کر مجھے باقاعدہ رخصت کیا کریں اور مجھے جاتا ہوا دیکھتے دیکھتے تین بار آیت الکرسی پڑھ کر مجھے اپنے سوہنے اللہ کی حفظ و امان میں دینا کبھی نہ بھولتیں۔
ہماری شادی کے سینتیس سالوں کے بعد آج جب پہلی بار تمہارے روزمرہ کے کاموں کی فہرست مرتب کر رہا ہوں کہ تم اتنے سارے کام کس طرح کیا کرتی تھیں۔ اس قدر تھکا دینے والی معمول کی مصروفیات کے باوجود تم میرے جھونپڑا نما گھر میں ایک ملکہ کی سی طمانیت اور شادمانی سے چلتی پھرتی نظر آتیں۔ کبھی تمہاری زبان سے کام کی زیادتی اور اپنی کم مائیگی کے بارے میں کوئی گلہ، شکوہ یا شکایت سننے کی حسرت ہی رہی۔ تم میری بیوی، میرے بچوں کی ماں ہونے کے علاوہ میری دوست، ہمدرد، غم گسار اور خوشگوار سنگت کا احساس دلانے والی ساتھی تھیں۔
ہم دونوں صبح سویرے اٹھتے، نماز ادا کرتے اور سیر کرنے کے لیے نکل جاتے۔ گھر سے تھوڑی دور ہی سڑک کے ایک طرف لیڈیز پارک تھا اور دوسری طرف ایک گورنمنٹ سکول تھا۔ تم سیر کرنے کے لیے پارک میں چلی جایا کرتیں اور میں سکول میں چلا جاتا۔ یہاں پر آٹھ دس دوستوں پر مشتمل ایک پورا گروپ موجود ہوتا۔ سیر بھی کرتے اور ساتھ ہی ساتھ گپ شپ بھی ہوتی رہتی۔ اس گروپ کی تشکیل اور باقاعدگی کی بھی ایک داستان ہے۔ جب ہم نے شروع شروع میں سیر کا آغاز کیا۔
تو چار پانچ لوگوں پر مشتمل اس گروپ کا کبھی ایک رکن غیر حاضر ہوتا اور کبھی دو تسلسل ٹوٹنے سے وہ مزہ نہ رہتا۔ ایک دن میں نے اعلان کر دیا کہ کل سے گروپ میں سے جو رکن بغیر اطلاع کے غیر حاضر ہو گا اسی دن وہ باقی سبھی لوگوں کو گھر میں تیار کیے گئے پراٹھوں سے ناشتہ کروائے گا۔ تین چار دن گزر گئے۔ ایک رات کسی وجہ سے لیٹ سویا اور وقت پر آنکھ نہ کھل سکی۔ میں ابھی سویا ہوا ہی تھا کہ بیٹھک کا دروازہ دھڑ دھڑ کھٹکھٹایا جانے لگا۔
آنکھیں ملتے ہوئے دروازہ کھولا۔ تو پورا سیر گروپ باہر موجود پایا۔ وہ بغیر کوئی بات کیے اندر آ کر بیٹھ گئے۔ ایک صاحب فرمانے لگے۔ پراٹھے تیار کرواؤ۔ بڑی بھوک لگی ہے۔ تب مجھے لگ پتہ گیا۔ بہرحال جلدی جلدی پراٹھے تیار ہوئے۔ دہی اور اچار کے ساتھ مزے لے لے کر کھانے کے بعد پورا گروپ شکریہ ادا کر کے چلتا بنا۔ تم اب مجھے صبح سویرے دس منٹ پہلے ہی جگا دیتیں۔ جلدی سے نماز پڑھ لیں۔ پھر سیر کو چلتے ہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ناشتہ گروپ آ دھمکے۔
بہرحال رکن کے ہر گروپ کے ساتھ ایک آدھ بار یہ ہاتھ ہوا اس کے بعد تو سب بڑے باقاعدہ اور وقت کے پابند ہو گئے۔ اگر کسی کو کوئی کام ہوتا تو وہ ایک دن پہلے چھٹی کے لیے باقاعدہ درخواست گزارا کرتا۔ تقریباً ایک ماہ کے اندر اندر ہی سب لوگ اس قدر پابند ہو گئے کہ ناشتہ پروگرام تقریباً ختم ہوتا ہوا نظر آیا۔ چونکہ میں نے بذاتِ خود ہی اپنے آپ کو اس گروپ کی سربراہی پر تعینات کر لیا تھا اور اس کے جملہ امور کی تمام تر ذمہ داریاں اپنے کندھوں پر اٹھائی ہوئی تھیں۔
میں نے جب یہ نازک صورتحال دیکھی۔ تو میں نے کہا کہ یارو اتنی باقاعدگی بھی کوئی اچھی بات نہیں۔ ہفتے دو ہفتے بعد تو کہیں نہ کہیں سے ناشتے کا اہتمام بہت ضروری ہے چنانچہ یہ فیصلہ ہوا کہ دو ہفتے کے بعد باری باری ہر گھر سے صبح کے وقت ناشتہ کیا جائے گا۔ ایک ایک دو دو باریوں کے بعد تقریباً سبھی نے ہاتھ کھڑے کر دیے۔ اب یہ گروپ تو تقریباً بارہ چودہ افراد پر مشتمل تھا۔ صبح کے مصروف ترین وقت میں جب کہ بچوں نے بھی سکول جانا ہوتا تھا۔ خاتون خانہ کے لیے پچیس تیس تازہ تازہ پراٹھے پکانا آسان کام نہیں تھا۔ اس لیے اندرونِ خانہ اندیشۂ دنگا فساد کے سبب فیصلہ کیا گیا کہ کھاؤ پیو پروگرام کو صبح کے ناشتے کی بجائے رات کے کھانے میں تبدیل کر دیا جائے اور گھر میں پکانے کی کڑی شرط میں بھی نرمی کر کے بازاری کھانے کو بھی قابلِ قبول قرار دے دیا گیا۔ یہ پروگرام سالوں چلتا رہا۔ تقریباً آدھ پون گھنٹہ سیر کے بعد ہم سب لوگ درمیان والی سڑک کے چوک میں آ کر پانچ سات منٹ کی الوداعی میٹنگ کرتے اور اس کے بعد منتشر ہو کر اپنے اپنے گھروں کی راہ لیتے۔ اس کی بعد تم بھی پارک سے آ جاتیں اور ہم دونوں ساتھ ساتھ چلتے اور چھوٹی چھوٹی باتیں کرتے ہوئے گھر پہنچ کر معمول کی سر گرمیوں میں مشغول ہو جاتے۔


