مدثر نارو


Sohail Ahmad usa

شوہر کی تلاش میں مصروف صدف چغتائی ایک دن اچانک ہی خاموش ہو گئیں۔ وہ 2018 ء سے اپنے لاپتہ شوہر کی بازیابی کے لیے جدوجہد کر رہی تھیں کہ مئی 2021 ءمیں اچانک دل کا دورہ پڑنے سے ان کا انتقال ہو گیا اور ان کا چھ سالہ بیٹا دادی کے ساتھ باپ کی تلاش میں دائر مقدمے کی سماعت میں عدالتوں کی سخت اور نامہرباں راہداریوں کی خاک چھان رہا ہے۔ دنیا میں کہیں بھی سچ بولنا آسان نہیں ہوتا تاہم ایسے معاشرے جہاں پر جھوٹ بولنا ہی کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتا ہو وہاں سچ بولنے والوں کو ہمیشہ اس سچ کی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔ لاہور سے تعلق رکھنے والے صحافی، مصنف اور شاعر مدثر محمود نارو اپنی اہلیہ صدف اور اس وقت چھ ماہ کے بیٹے سچل کے ہمراہ ملک کے شمالی علاقوں میں گھومنے کی غرض سے گئے تھے۔ جہاں بالا کوٹ کے علاقے میں مدثر نارو اگست 2018 میں لاپتہ ہو گئے، تاحال ان کی موجودگی کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ملی۔

پولیس کی کارکردگی سے مایوس ہونے کے بعد مدثر نارو کے والد رانا محمود اکرام نے 1973 کے آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کی۔ جس میں انہوں نے بتایا کہ ان کا بیٹا صحافی، ترقی پسند شاعر، ادیب اور انسانی حقوق کا کارکن ہے۔ اس سے قبل وہ سما ٹی وی، ایکسپریس نیوز، جیو تیز اور جیو ٹی وی کے ساتھ کام کر چکے ہیں اور لاپتہ ہونے سے پہلے وہ لاہور ٹی وی سے منسلک تھے جہاں وہ مئی 2017 سے اپریل 2018 تک کام کر رہا تھے۔

انہوں نے لکھا کہ 2018 کے انتخابات کے چند روز بعد ان کو فون پر کہا گیا کہ وہ انتخابات میں ہونے والی مبینہ بدعنوانی کے بارے میں سوشل میڈیا پر تبصرہ کرنے سے گریز کریں۔ انہوں نے اپنی درخواست میں سارے حقائق بیان کیے کہ کب ان کا بیٹا اپنی بیوی اور چھ ماہ کے بیٹے کے ساتھ چھٹیوں پر کاغان گیا اور مہانتری کے ایک ہوٹل میں قیام کیا۔ اگلے دن ایک دوست سے ملنے گئے، جہاں دریا کے سامنے ایک آبشار تھی جس کے پاس وہ بیٹھے تھے اور مدثر وہاں جانا چاہتا تھا۔ دریافت کرنے پر کہ وہاں تک کیسے پہنچنا ہے، اسے کہا گیا کہ ایک پل پکڑ کر سیدھا آبشار تک جایا جائے گا۔ تجسس لیے مدثر نے اپنی بیوی کو بتایا کہ وہ آبشار کو دیکھنے جا رہا ہے اور اسے دریا کے کنارے انتظار کرنا چاہیے۔ جاتے ہوئے اس نے اپنا فون اور بٹوا اپنی بیوی کے پاس چھوڑ دیا۔

کافی دیر گزر گئی مدثر لوٹ کر نہیں آیا، ہر طرف سے مایوس ہونے کے بعد اس کی بیوی نے دوستوں کی مدد سے فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) کے اندراج کے لیے مقامی پولیس اسٹیشن سے رجوع کیا۔ اگرچہ پولیس نے تلاشی مہم چلائی (صرف دریا کے علاقے تک محدود کیونکہ ان کا قیاس تھا کہ وہ ڈوب گیا تھا) تاہم انہوں نے اغوا کی ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کر دیا۔ جس کے بعد اکتوبر 2018 میں، پٹیشنر نے اپنے بیٹے کی زندگی اور اس کے ٹھکانے کا پتہ لگانے اور ایف آئی آر کے اندراج کے لیے جبری گمشدگیوں کی انکوائری کے لیے کمیشن سے رجوع کیا اور کمیشن کی ہدایت پر، 22.11.2018 کو ایف آئی آر نمبر 208 / 2018 درج کی گئی۔

کمیشن میں اس کیس کی 30 نومبر 2018 سے 20 نومبر 2020 تک ریگولر سماعت ہوئی تاہم دو سال کی سماعت کے باوجود کمیشن مدثر کا پتہ لگانے میں ناکام رہا۔ پھر مدثر کے والد کی جانب سے ایک اور درخواست پر تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی تشکیل دی گئی تھی جبکہ دو ہزار انیس میں زبانی کارروائی کے دوران فیملی کو غیر رسمی طور پر مطلع کیا گیا کہ ان کا بیٹا شاید اپنی مرضی سے کہیں چلا گیا ہے۔ مزید برآں، نومبر 2020 میں سماعت کی آخری تاریخ کے دوران، درخواست گزار پر واضح کیا گیا کہ وہ تحریری حلف نامہ جمع کروا کر انکوائری کے طریقہ کار کے بارے میں اپنے خدشات کا اظہار کر سکتا ہے۔

جس پر درخواست گزار نے عدالت میں حلف نامہ جمع کرایا تھا۔ ساتھ ہی اس بات پر زور دیا کہ ان کا بیٹا ریاستی جبری گمشدگی کا شکار ہوا ہے۔ اس سلسلے میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جولائی دو ہزار اٹھارہ میں مدثر نارو کو دھمکی آمیز فون کال موصول ہوئی تھی۔ مزید برآں، جنوری 2019 کو یا اس کے آس پاس، نامعلوم افراد اس کی بیوی کے دفتر بھی گئے اور اس پر زور دیا کہ وہ اپنے شوہر کی گمشدگی کے معاملے کو اٹھانا بند کر دے (خاص طور پر سوشل میڈیا مہم کے ذریعے ) کیونکہ اس سے ”اس کے لیے مزید مشکل ہو جائے گی“ ۔

واضح رہے کہ 20 جولائی 2020 کو درخواست گزار اور ان کی اہلیہ نے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کو بھی خط لکھا تھا۔ جس میں ان کے بیٹے کو تلاش کرنے میں مدد کی درخواست کی گئی تھی، جس کے بارے میں انہیں خدشہ تھا کہ اسے اغوا کر لیا گیا ہے۔ اس خط میں درخواست گزار نے لکھا تھا کہ اگر اس کے بیٹے نے کوئی جرم کیا ہے تو اسے عدالت میں پیش کیا جائے۔ درخواست گزار کی طرف سے اس خط کے بھیجے جانے کے فوراً بعد ، اگست 2020 کے پہلے ہفتے میں وزارت داخلہ سے شہری لباس میں ملبوس دو اہلکاروں نے درخواست گزار سے ملاقات کی اور انہیں مطلع کیا گیا کہ اس کیس کے سلسلے میں ان سے دوبارہ رابطہ کیا جائے گا جو تاحال نہیں ہو سکا۔

اس کے کچھ دنوں کے بعد خاندان کو غیر رسمی طور پر مطلع کیا گیا کہ ان کا بیٹا زندہ ہے اور اسے ایبٹ آباد کے ایک حراستی مرکز میں دیکھا گیا تھا۔ مدثر نارو کے لاپتہ ہونے کے چھ سال کے بعد بھی خاندان کے دیگر افراد اس کی واپسی کا شدت سے انتظار کر رہے ہیں۔ جبری گمشدگیوں پر کمیشن آف انکوائری سے رجوع کرنے کے باوجود اس کے ٹھکانے کا پتہ لگانے کی کوئی جامع، مخلصانہ یا مناسب کوشش نہیں کی گئی۔ جس کے بعد مدثر نارو کے معاملے میں یہ بات کنفرم دکھائی دیتی ہے کہ اسے بغیر کسی قانونی جواز کے غیر قانونی طریقے سے غائب کر دیا گیا ہے۔ یہ آئین پاکستان، 1973 کے آرٹیکل 4 اور 9 کی خلاف ورزی ہے۔ یہ گمشدگی مدثر کی بطور صحافی فرائض کی انجام دہی سے براہ راست منسلک دکھائی دیتی ہے، اس لیے آئین کے آرٹیکل 19 کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔

مذکورہ بالا حقائق اس بات کی سختی سے تائید کرتے ہیں کہ مدثر نارو کے معاملے میں ملکی اور بین الاقوامی قوانین کی شدید ترین خلاف ورزی ہوئی ہے۔ دوسری جانب سپریم کورٹ آف پاکستان نے ”جبری گمشدگی“ کے رجحان کا سخت نوٹس لیتے ہوئے اسے ”انسانیت کے خلاف جرم“ قرار دیا تھا۔ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ پہلے سے قائم اور موجودہ بین الاقوامی قانون کے مطابق ہے جو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اعلامیہ کے آرٹیکل 1 میں درج ہے جب کہ جبری گمشدگیوں سے تمام افراد کے تحفظ، 1992 اور جبری گمشدگی سے تمام افراد کے تحفظ کے بین الاقوامی کنونشن کے آرٹیکل 5 میں درج ہے۔

‏جس کے تحت ریاست اور متعلقہ محکموں کو جبری گمشدگیوں کی کثرت کی وجہ سے اپنی قانونی اور آئینی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں ناکامی کا قصوروار ٹھہرایا جائے گا اور لاپتہ ہونے والوں کا پتہ لگانے میں ان کی نا اہلی ناقابلِ برداشت عمل قرار دی گئی تھی۔ تاہم پاکستان میں جبری گمشدگیوں کی تحقیقات کے فرائض میں جان بوجھ کر غفلت برتی جا رہی ہے۔ پاکستان میں انسانی حقوق کو درپیش سنگین ترین چیلنجز میں سے ایک لاپتہ افراد کا مسئلہ ہے۔

کمیشن اور کمیٹیاں بنیں مگر ماؤں کے جگر گوشے نہ لوٹ سکے۔ واضح رہے کہ کسی بھی جرم کو قانون سے باہر کوئی سزا نہیں دی جا سکتی جیسا کہ پاکستان کے آئین، 1973 کے تحت ضمانت بھی دی گئی ہے۔ تاہم اکثر ہم نے دیکھا اور سنا ہے کہ مطلوب کو اس کے یا اس کے خاندان کو لاپتہ ہونے کی کوئی وجہ بتائے بغیر غائب کر دیا جاتا ہے اور کسی بھی عدالت میں پیش کرنے کی زحمت نہیں کی جاتی جیسا کہ قانون کے تحت ضروری ہے۔ اس کے مطابق، کسی کا مسلسل لاپتہ ہونا آئین پاکستان، 1973 کے آرٹیکل 10 کے تحت درج حقوق کی مسلسل اور بار بار خلاف ورزی ہے۔

مدثر نارو کہاں ہے کس حال میں ہے اس کا اس کے پیاروں کو علم ہونا ضروری ہے دوسرے اگر اس نے کوئی سنگین نوعیت کا جرم کیا ہے تو اسے عدالت میں پیش کیا جائے اور عدالت کے ذریعے سزا دی جائے۔ واضح رہے کہ دو ہزار اکیس سے، حکومت پاکستان نے پاکستان میں جبری گمشدگیوں کے معاملات کی تحقیقات کے لیے ایک کمیشن قائم کیا۔ کمیشن کی رپورٹ کے مطابق اپنے قیام سے لے کر اب تک اسے جبری گمشدگی کے 7000 کیسز موصول ہوئے ہیں اور ان میں سے تقریباً 5000 کو حل کیا گیا ہے۔ جبری گمشدگیاں پاکستان کے انسانی حقوق کے ریکارڈ پر ایک طویل عرصے سے داغ ہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments