گرمی کی شدت اور پانی کا استعمال
انسانی جسم کو اپنے کام کو بہترین انداز میں میں پورا کرنے کے لئے جسم میں پانی کی موجودگی کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ جسمانی درجہِ حرارت کو یا پھر فشارِ خون کو قابو میں رکھنا ہو، خلیوں تک خوراک پہنچانا ہو یا آکسیجن اور نظامِ ہضم کا باقاعدگی سے کام کرنا سب کے لئے پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔
جسم میں پانی اور نمکیات کی کمی کو ڈی ہائیڈریشن کہا جاتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں جب پانی کا استعمال، اخراج سے کم ہو تو ڈی ہائیڈریشن ہوجاتی ہے۔
ایک صحت مند انسان کے جسم سے پانی کا اخراج، پیشاب (یورین)، پسینہ اور سانس میں بھاپ کی شکل میں ہوتا ہے۔ سخت جسمانی ورزش میں میں بھی پسینے کی شکل میں پانی جسم سے نکل جاتا ہے۔
ہیضہ، قے، کچھ مزید بیماریوں میں اور جب پیشاب کی زیادتی (diuretics) کروانے والی ادویات کا استعمال بھی پانی کی کمی کروا دیتا ہے۔
گرم موسم میں، خصوصاً ایسے علاقوں میں جہاں اوسطاً درجہِ حرارت گرمیوں کے مہینوں میں تیس سے زیادہ رہتا ہے وہاں پر ڈی ہائیڈریشن کا خطرہ بہت حد تک بڑھ جاتا ہے۔
اس کے علاوہ، ہیٹ سٹروک اور heat exhaustion کا خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے۔
گرم دھوپ کی وجہ سے انسانی جسم سے زیادہ پسینے کی وجہ سے جب زیادہ پانی جسم سے ضائع ہو جاتا ہے تو اس کو heat exhaustion کہتے ہیں۔
ہیٹ سٹروک جس کی وجہ جسم کا درجہِ حرارت بہت بڑھ جاتا ہے۔ پسینے کے ذریعے گرمی بھی خارج نہیں ہو سکتی اور درجہِ حرارت کنٹرول سے باہر نکل جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے چکر اور بے ہوشی طاری ہو جاتی ہے۔
گرمی کی شدّت اور تمازت سے بچاؤ کا طریقہ یہی ہے کہ پانی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کیا جائے۔ پانی کے زیادہ استعمال سے صحت مند انسان میں شاذ ہی کوئی پیچیدگی پیش آ سکتی ہے۔ اس لئے پانی کے زیادہ استعمال کر کے اپنے جسم کو گرمی کی شدت کی وجہ سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں سے بچانا چاہیے۔
پانی کے ساتھ ساتھ متبادل fluids کے لئے موسمی پھل جیسے تربوز بھی کمی کو پورا کر دیتا ہے۔ پھلوں کے جوس، دودھ، سوڈا یہ تمام پانی کے ساتھ ساتھ نمکیات اور الیکٹرولائٹس کی کمی کو پورا کر دیتے ہیں۔
روزانہ پانی کتنی مقدار میں لینا چاہیے اس کی کوئی خاص متعین مقدار نہیں ہے۔ ہر انسان کی جسمانی ضرورت، ورزش اور جسمانی مشقت کی بنا پر مختلف ہو سکتی ہے۔ انسٹیٹیوٹ آف میڈیسن کے مطابق مردوں کو 13 کپ جبکہ عورتوں 9 کپ پانی روزانہ پی لینا چاہیے۔


