پراسرار انکل
یونیورسٹی کے دنوں میں ہوسٹل کی شاموں کی گہما گہمی اپنے عروج پر تھی۔ صوبے کے طول و عرض سے آئے طلبہ اپنے ساتھ عادات، خیالات اور کمالات کا تنوع لے کر آئے تھے۔ سارا دن یونیورسٹی کے لیکچروں کے بعد ہر لڑکا اپنے مطابق شام کے اوقات بسر کرتا تھا۔ کچھ لوگ ساتھ میدان میں کرکٹ یا فٹ بال کھیلنے چلے جاتے۔ کچھ ہوسٹل کی اطراف میں پھیلے کمروں میں خوش گپیوں میں مصروف ہوتے۔ تھوڑے پڑھاکو ٹائپ اسائنمنٹ یا کوئز کی تیاری میں مگن ہوتے۔ کوئی ایک آدھا اکیلے وقت گزار کر زیادہ بہتر محسوس کرتا۔
ایک دن کھانے کی میز پر میرے روم میٹ عاقب نے بتایا: ”فٹ بال والے انکل پوچھ رہے تھے کہ آپ کے ہوسٹل میں کوئی شطرنج کھیلتا ہے؟ میں نے تمہارا بتا دیا۔“ میں نے عاقب کے اقدام کو سراہا کیونکہ مجھے بھی کسی ایسے پارٹنر کی تلاش تھی کہ جس کے ساتھ میں شطرنج کھیل سکوں۔ پھر ایک دو دن بعد عاقب بولا: ”انکل تمہارا پوچھ رہے تھے۔ میں نے انہیں مزید بتایا کہ تم کتابیں پڑھتے ہو اور مصوری بھی کرتے ہو۔ وہ تم سے ملنا چاہتے ہیں اور فلاں دن تمہیں ہوسٹل سے پک کریں گے۔“ اب میری بھی اس معاملے میں دلچسپی بڑھ رہی تھی۔
مقررہ دن فٹ بال والے انکل مجھے لینے جوہر ٹاؤن میں واقع میرے ہوسٹل آ گئے۔ ہمارے ایک دوسرے کو تعارف کرانے کے دوران کار فیصل ٹاؤن میں ان کے گھر کے باہر پہنچ گئی۔ ہم گھر کے اندر سے گزرتے ہوئے ان کے بیڈ روم میں چلے گئے۔ انہوں نے سائیڈ ٹیبل سے شطرنج نکال کر بیڈ پر رکھی۔ ہم نے ایک گیم لگا لی۔ انہوں نے شروعات کی۔ میں نے جواباً چال کھیلی۔ یوں کچھ دیر میں میدان سج گیا۔
”اچھا آپ کتابیں بھی پڑھتے ہیں!“ ”اچھا آپ کا تعلق کس شہر سے ہے؟“ وہ شطرنج کے کھیل کے ساتھ میرے بارے میں جان کاری بڑھا رہے تھے۔ میں ان کی شخصیت اور کمرے کا مشاہدہ کر رہا تھا: چالیس کے لگ بھگ عمر، کوئی چھ فٹ قد، سجا ہوا کمرہ۔ ایک شیلف میں ترتیب سے کچھ کتابیں رکھی ہوئی تھیں جن میں سائکالوجی کی ہینڈ بک اور افلاطون کی سمپوزیم نمایاں ہو رہی تھیں۔ کچھ دیر میں گیم کا فیصلہ نہیں ہو سکا تو وہ بولے کہ باہر کھانا کھانے چلتے ہیں۔
ہم واک کرتے ہوئے ساتھ ایک مارکیٹ میں آ گئے۔ وہیں ایک اے ٹی ایم سے انہوں نے ہزار کے کرارے کرارے نوٹ نکالے۔ میں ان کے اصرار پر بوتھ کے اندر چلا گیا تھا۔ وہاں سے بار بی کیو شاپ پر پہنچے۔ انہوں نے ملائی بوٹی اور کبابوں کا آرڈر دیا۔ ہم کھانے کا انتظار کرنے لگے اور گفتگو کا سلسلہ پھر سے شروع ہو گیا۔
”تو آپ کس طرح کی کتابیں پڑھتے ہیں؟“ وہ بات کو آگے بڑھاتے ہوئے بولے۔ ”ویسے تو میں کچھ بھی پڑھ لیتا ہوں۔ لیکن آج کل فلسفہ اور ادب زیادہ پڑھ رہا ہوں،“ میں نے جواب دیا۔ ”آپ کو کون سا فلسفی زیادہ پسند ہے؟“ ”برٹرینڈ رسل!“ میں نے حال ہی میں رسل کی ”تسخیر مسرت“ پڑھی تھی۔ اس سے پہلے ”لوگوں کو سوچنے دو“ اور ”میں کرسچن کیوں نہیں؟“ بھی پڑھ چکا تھا۔ سو میرے دماغ میں اس وقت کوئی اور نام نہیں آیا۔ میرے جواب سے انہوں نے ایسا تاثر دیا کہ ٹھیک بندہ ان کے ہاتھ لگا تھا۔ گرما گرم بار بی کیو آ گیا۔
ملائی بوٹی اور کباب ہماری زبان پر گھل رہے تھے۔ راحت بخش کولڈ ڈرنک حلق سے نیچے اتر رہی تھی۔ اور ہم زمین سے آسمان، مذہب سے سائنس، کائنات کی وسعتوں، خدا کا وجود الغرض ہر فلسفیانہ موضوع پر تبادلہ خیال کر چکے تھے۔ مجھے وہ اپنی باتوں سے محظوظ ہوتے نظر آرہے تھے کہ ہمارے اس روایتی معاشرے میں یہ شطرنج کھیلنے والا اور کتابیں پڑھنے والا نوجوان فلسفی کہاں سے آ گیا؟ ویٹر نے میز صاف کر دی۔ بل بھی ادا ہو گیا۔ انکل مجھے ابھی مزید گفتگو کے متمنی نظر آرہے تھے۔
”چلیں میں آپ کو ہوسٹل ڈراپ کر دیتا ہوں۔“ لیکن کار میرے ہوسٹل کی بجائے کینال بینک روڈ کی طرف مڑ گئی۔ ”آپ ادب میں کیا پڑھتے ہیں؟“ ”عالمی ادب!“ اب میں بھی رواں ہو چکا تھا۔ ”چیکو سلواکیہ کا میلان کنڈیرا، ترکی کا اورحان پاموک، کولمبیا کا گارسیا مارکیز، مصر کا نجیب محفوظ، اور جاپان کا ہروکی موراکامی۔“ کار کینال بینک کے ایک کے بعد ایک انڈر پاس سے گزر رہی تھی۔ اور ہمارے تخیل کی پرواز ایک کے بعد ایک براعظم سے۔
کار جوہر ٹاؤن کے خیابان فردوسی میں داخل ہوئی۔ اب فنون لطیفہ کی بات چل رہی تھی۔ کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ میں مصوری بھی کرتا ہوں۔ کار نے ہوسٹل کے گیٹ پر پہنچ کر بریک لگائی۔ ”آپ کو تو باہر ہونا چاہیے۔ اس ملک میں آپ کا کوئی مستقبل نہیں!“ گویا یہ ہماری ساری ملاقات کا نچوڑ تھا۔ ”میں آپ کے لیے کچھ دیکھتا ہوں۔ کوئی اسکالر شپ، گرانٹ وغیرہ۔“ میں اس اچانک پذیرائی پر پھولا نہیں سما رہا تھا۔ وہ مجھے چھوڑ کر چلے گئے۔ رات کا ایک بج رہا تھا۔ چاروں طرف اندھیرا تھا۔ میں ہوسٹل کے اندر چلا گیا۔
ہماری دوسری ملاقات جناح ہسپتال کے پارک میں ہوئی۔ وہ اپنے ساتھ شطرنج لے کر آئے تھے۔ کھیل تو ایک بہانہ تھا۔ شطرنج کی چالوں کے ساتھ ساتھ گفتگو کے داؤ پیچ چل رہے تھے۔ ”اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ نے بہت سا علم اکٹھا کر رکھا ہے۔ تھیوری میں آپ کے پورے نمبر ہیں۔ سو اب پریکٹیکل کا وقت ہے۔“ اوئی، میں ایک غلط چال چل کر اپنا وزیر کھو بیٹھا! ”میں آپ کو ایک اسائنمنٹ دینے لگا ہوں۔ ہماری اگلی ملاقات سے پہلے آپ نے یہ تین کام کرنے ہیں۔“ گیم میں اب ان کا پلڑا بھاری ہو چکا تھا۔ ”شراب، چرس اور جوا!“ چیک میٹ!
”مجھے جوئے سے سخت نفرت ہے!“ میں کف افسوس ملتے ہوئے انکل کی باتوں کے جواب میں اچانک بول پڑا۔ انہیں سن کر انکل نے میری طرف ایسی نظروں سے دیکھا کہ جیسے مجھ سے کوئی گستاخی ہوئی تھی۔ ”ایک انٹلیکچوئل کبھی نفرت کا لفظ استعمال نہیں کرتا! اسے ہر تجربے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ افلاطون نے سمپوزیم میں یہی لکھا ہے۔ سو سب سے پہلے آپ کو یہی کام کرنا ہو گا۔“ یہ کتاب میں ان کی بک شیلف پر دیکھ چکا تھا۔ ”شطرنج تو آپ کو آتی نہیں۔ چلیں اب ایک ایک کر کے یہ سب کام کیجیے۔ میری کہیں ضرورت ہو تو بتائیے گا۔“ انہوں نے شطرنج کی بساط لپیٹی اور وہاں سے چل دیے۔ میں ویگن میں بیٹھ کر ہوسٹل آ گیا۔
آج میری خود اعتمادی کا گراف ایک سو اسی ڈگری کے درجے سے نیچے آ گیا تھا۔ شکست خوردہ، میں آج کی ملاقات کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ کیا میں یہ اسائنمنٹ کر سکوں گا؟ یہ بھلا کیسی اسائنمنٹ ہے؟ اس کا فلسفے یا روشن خیالی سے کیا تعلق ہے؟ کیا کہتا ہے افلاطون؟ میرے دماغ میں بلبلوں کی طرح یہ سوال اٹھ رہے تھے۔ میں نے کچھ کمروں میں جھانکا تو زیادہ تر طلبہ یونیورسٹی کی اسائنمنٹ کرنے میں مصروف تھے۔ اور میں کس جھنجٹ کا شکار تھا، میں نے سوچا۔
اگلے روز میں نے اخلاقی مزاحمت کو کچھ دیر کے لیے ڈھیلا چھوڑ دیا۔ کم از کم تصور تو کر کے دیکھوں : ہوسٹل کے ڈائننگ روم میں قحبہ خانہ سجا ہوا، یار دوست پی رہے یا کسی کونے میں بیٹھے چرس کے نشے میں دھت۔ ”بل شٹ!“ میں نے اپنے خیالات کو لگام دینے کی کوشش کی۔
اب میں اسائنمنٹ کے خیال سے پیچھا چھڑانے لگا۔ مگر کچھ نہ کچھ ایسا ہو جاتا کہ انکل اور ان کی اسائنمنٹ میری آنکھوں کے سامنے آ جاتے۔ ”کیسی جا رہی ہے تمہاری شطرنج؟“ عاقب نے چٹکی بھری۔ ایک دن یونیورسٹی جاتے ہوئے انکل مجھے راستے میں مل گئے۔ انہوں نے بتایا کہ پاس ان کے ایک دوست کا رئیل اسٹیٹ کا دفتر تھا۔ وہ روز وہاں بیٹھتے تھے۔ مجھے جب بھی ان سے ملنا ہو وہاں آ جاؤں۔ اب میں روز یونیورسٹی جاتے ہوئے ڈرتے ہوئے انکل کے دوست کے دفتر میں جھانک لیتا۔ انکل دور سے کبھی ہاتھ اٹھا کر سلام کرتے گویا مجھے اسائنمنٹ کے بارے میں یاد کرا رہے ہوں۔ کبھی آنکھ اٹھا کر اشارہ کرتے گویا کام کی تکمیل کا پوچھ رہے ہوں۔
اس بات کو کئی مہینے گزر گئے۔ میں اسائنمنٹ میں بری طرح فیل ہو گیا۔ پریکٹیکل میں زیرو نمبر! انکل بھی نظر آنا بند ہو گئے۔ رئیل اسٹیٹ کا دفتر بھی شفٹ ہو گیا۔ ان کے بارے میں باتیں بھی دم دوڑ گئیں۔ گویا کہ ان کا وجود اسائنمنٹ کی ناکامی کے ساتھ ہی ہوا میں تحلیل ہو گیا۔ گویا ان کے آنے کا مقصد بس وہی تین کام تھے۔ مجھے اب ان سے کی ہوئی وہ چند ملاقاتیں پراسراریت کی دھند میں ڈوبا ہوا خواب معلوم ہوتی ہیں۔


