ابراہیم رئیسی کے عہد صدارت پر ایک نظر


ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کو لے جانے والا ہیلی کاپٹر گزشتہ روز آذربائیجان کی سرحد پر ڈیم کی افتتاحی تقریب سے واپس آتے ہوئے موسم کی خرابی کے باعث گر کر تباہ ہو گیا جس کے نتیجے میں ایرانی صدر اور وزیر خارجہ، سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے ترجمان سمیت مشرقی آذربائیجان کے گورنر ملک رحمتی اور عملہ کے نو ارکان شہید ہو گئے ہیں۔

اس وقت پوری دنیا ایک ہی سوال کر رہی ہے کہ کیا ایرانی صدر کے طیارے کو حادثہ ہی پیش آیا ہے یا ان کو بھی اسی طرح ٹارگٹ کیا گیا ہے جیسے ماضی میں کئی ورلڈ لیڈرز کو کیا جاتا رہا ہے؟ صدر ابراہیم رئیسی ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے قریبی ساتھی اور ان کے جانشین سمجھے جاتے تھے۔ اس سے قبل جنرل قاسم سلیمانی بھی جو آیت اللہ خامنہ ای کے جانشین تھے وہ بھی امریکی ڈرون حملے میں جاں بحق ہو گئے تھے۔

ابراہیم رئیسی نے جب حکومت سنبھالی اسی وقت ایران میں مظاہرے پھوٹ پڑے جس کی وجہ سے ان کو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر سخت چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن انہوں نے اندرون ملک سخت گیر رویہ اپنایا اور ریاست کی رٹ قائم کی جبکہ غیر ملکی سطح پہ رئیسی نے کامیاب سفارت کاری کی اور تین سالہ دور اقتدار میں ایران کا نقشہ بدل کر دیا۔ ایران امریکی پابندیوں کے بعد کئی دہائیوں سے سفارتی تنہائی کا شکار تھا، لیکن رئیسی نے سفارتی تنہائی اور امریکی پابندیوں کے شکار ملک کو تجارتی معاہدوں کے ساتھ خطے کے ایک اہم ملک کے طور پہ سامنے لانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔

خاص طور پر سعودی عرب کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر بنانے میں کوششیں شروع کیں۔ سعودی عرب اور ایران خطے کے دو اہم ممالک ہیں جن کے درمیان ایک دہائی سے تعلقات منقطع تھے، مارچ 2023 ابراہیم رئیسی اور سعودی ولی عہد نے تعلقات معمول پہ لانے کا اعلان کیا جس کے بعد ایران اور سعودی عرب کے مابین سفارتی تعلقات میں کچھ گرمجوشی پیدا ہوئی، چین نے ان دونوں ممالک کے درمیان ثالث کا کردار ادا کیا۔ ریاض اور تہران کے مابین ایک سفارتی معاہدہ اور تعلقات میں بحالی ہونا شروع ہوئی۔ جو رئیسی کے سیاسی کریئر کا ایک اہم باب ثابت ہوا اس میں ان کے وزیر خارجہ کا کردار بھی قابل ستائش تھا۔

ایرانی صدر امریکی پابندیوں کے باوجود سفارتی سطح پہ ایکٹو تھے اور پوری دنیا کے ساتھ تجارتی معاہدے کر رہے تھے۔ ایرانی صدر نے جنوری 2022 میں روس کا دورہ کیا جہاں انہوں نے صدر پیوٹن کے ساتھ ملاقات کی جو ایران کے لئے گیم چینجر ثابت ہوئی جس کے بعد دونوں ممالک میں تجارت اور سیکورٹی کے اہم ترین اور سٹریٹجک معاہدوں پہ دستخط کیے گئے۔

اس کے علاوہ مئی 2023 میں ایرانی صدر نے خانہ جنگی کے شکار شام کا دورہ کیا۔ جہاں انہوں نے شام کے صدر بشار الاسد کے ساتھ ملاقات کی اور گیارہ سالوں سے معطل تجارت کو دوبارہ بحال کرنے کا اعلان کیا اور دو طرفہ معاہدوں پہ دستخط کیے۔ ابراہیم رئیسی نے روس اور شام کے ساتھ تجارتی اور دفاعی معاہدوں کے بعد یورپ اور لاطینی امریکہ کے دوروں کا اعلان کیا۔ اسی دوران امریکہ نے مزید پابندیوں کا اعلان کیا لیکن ایران نے ان کی پرواہ نہیں کی اور ابراہیم رئیسی لاطینی امریکہ کے کیوبا، وینزویلا اور نِکرا گوا کا دورہ کیا جہاں انہوں نے 20 سالہ مدت کے تاریخی و تجارتی معاہدے کیے، اور تجارت کا حجم 20 ارب ڈالر تک لے جانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ یہ معاہدے ابراہیم رئیسی کی سفارتی جیت تھی جس کے بعد ان کا اگلا ٹارگٹ افریقی ریجن تھا اور جولائی 2023 میں ایرانی صدر نے افریقہ کا تاریخی دورہ کیا جہاں انہوں نے یوگنڈا، کینیا، اور زمبابوے کے اعلی حکام کے ساتھ ملاقاتیں کیں اور ان تینوں ممالک کے ساتھ ملین ڈالرز کے تجارتی معاہدے سائن کیے۔

رئیسی نے 2023 میں چائنہ کو وزٹ کیا جہاں دونوں ممالک نے مل کر کر ساتھ چلنے کا اعلان کیا یہ دورہ بھی گیم چینجر ثابت ہوا، اس دورے میں تجارت، زراعت اور سیکورٹی سمیت 20 معاہدوں پہ سائن کیے گئے۔ مئی 2023 میں ابراہیم رئیسی نے انڈونیشیا کا دورہ کیا جہاں انہوں نے 257 ملین ڈالر کا تجارتی معاہدہ سائن کیا۔

اس کے بعد ایرانی صدر نے 16 اپریل 2024 معاشی بحران میں گھرے سری لنکا کا دورہ کیا اور 120 میگا واٹ کے ہائیڈرو پاور پلانٹ کا افتتاح کیا، جس کی لاگت 529 ملین ڈالر بنتی ہے۔ ایرانی صدر نے اپنے مختصر دور اقتدار میں بہت بڑے بڑے ٹارگٹ حاصل کیے ۔

ایرانی صدر نے امریکی پابندیوں کے باوجود پاکستان کا وزٹ کیا جہاں انہوں نے مختلف تجارتی معاہدوں پہ دستخط کیے تھے، دونوں ملکوں کی دوطرفہ تجارت کو 10 ارب ڈالر تک لے جانے کا عزم کیا گیا، ایرانی صدر نے پاکستان کے بڑے شہروں کے بھی وزٹ کیے اور یہاں پہ عوامی اجتماع کے ساتھ خطاب کرنے کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔

ابھی چند روز قبل ہی ایران نے انڈیا کے ساتھ اپنے تجارتی معاہدے کو وسعت دی اور چاہ بہار کا کنٹرول دس سال کے لئے انڈیا کے حوالے کر دیا جس پہ امریکہ نے شدید ردعمل دیا لیکن ایران اور انڈیا نے اس کی پرواہ نہیں کی۔

اسرائیل اور حماس کے درمیان ہونے والی غزہ کی جنگ نے علاقائی کشیدگی کو بڑھا دیا، ایران نے ایک بڑا قدم اٹھایا اور دنیا کے نقشے پر موجود بڑی طاقتوں کی پرواہ کیے بغیر اس نے حماس کی مدد کی جس کے رد عمل میں اسرائیل نے شام میں ایران کے سفارتخانے پہ حملہ کیا، جس میں ایران کے سفارتی اور ملٹری اتاشی مارے گئے، ایران نے بھی اس حملے کا جواب دیا اور اسرائیل پہ ڈرونز کے ساتھ حملہ کر کے بھرپور جواب دیا، اسرائیل نے بھی ایران پہ حملہ کیا لیکن دونوں اطراف زیادہ نقصان نہ ہونے کی وجہ سے دونوں ممالک میں مزید کوئی کارروائی نہیں کی، لیکن اسرائیل نے کہا تھا کہ وہ ان حملوں کا مزید بدلہ لیں گے جگہ اور وقت کا تعین بھی وہ خود ہی کریں گے۔

صدر ابراہیم رئیسی نے مختصر دور حکومت میں ایران کو خطے کا اہم ملک بنا دیا، ایشیا، یورپ، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے کامیاب دورے جنہوں نے ایران کی معیشت بدل کر رکھ دی، اگر کہا جائے کہ ابراہیم رئیسی ایرانی تاریخ کے کامیاب صدر اور سفارتکار تھے تو یہ غلط نہ ہو گا، رئیسی نے اپنے دور حکومت میں تقریباً پچاس ارب ڈالر کے معاہدے کر کے تاریخ رقم کی اور ایرانی قوم انہیں ایک کامیاب صدر اور سفارت کار کے طور پہ یاد رکھے گی

Facebook Comments HS

One thought on “ابراہیم رئیسی کے عہد صدارت پر ایک نظر

  • 22/05/2024 at 10:59 شام
    Permalink

    Informative

Comments are closed.