عوامی انقلاب اور تمبر کی لاٹھیاں


( آزاد کشمیر میں آٹے اور بجلی کی قیمتوں کو لے کر ”منعقد“ کئیے گئے عوامی احتجاج کے مثبت اثرات بدستور جاری  ہیں۔ ایک عجیب بات عوام کے اس احتجاج کے دوران سامنے آئی ہے، کہ چاہے آپ کھلے عام مجمع کے سامنے جتنی چاہے اشتعال انگیز، نفرت انگیز اور زہر آلود تقاریر کریں، اس ملک اس کے وجود، اس کے اداروں کے خلاف سٹیج سے عوام کو تشدد تک پر اکسائیں، اپنے ”ملک دشمن مقاصد“ کا کھل کر اظہار کریں، توہین آمیز لہجے میں اداروں کو چیلینج کریں، اس نفرت انگیزی کی سوشل میڈیا پر منظم تشہیر بھی کریں، آپ کو بالکل کوئی نہیں پوچھے گا، لیکن صرف اتنا خیال رکھئیے گا کہ کہیں کسی شکایت یا ناراضگی پر مبنی شاعری نہ کیجئیے گا، یہ ناقابل معافی ہے، ملک کی کسی بدنامی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے، آپ کو اٹھا کر ”غائب“ کر دیا جائے گا، پھر انسانی حقوق کے اداروں، سول سوسائٹی اور اہل ادب کے شدید احتجاج، عدالتوں کی احکامات کے باوجود آپ کی آزادی ممکن نہ ہو سکے گی، شاید ”کسی“ نے یہ مصرعہ سن لیا ہے کہ ”سنگ مقید اور سگ آزاد“ تو سمجھے، کہ ایسا ہی کرنا ہوتا ہے، کہ سب پتھر چن کر شہر سے دور کہیں پھینک آؤ، اور بھونکنے والوں کو کھلا چھوڑے رکھو۔

آزاد کشمیر میں سب حکومتی سروسز عوام پر بوجھ بن چکی ہیں، افسر ان سرکاری گاڑیوں میں عیاشیاں اور سیریں کرتے پھرتے ہیں، سرکاری دفاتر میں دن دیہاڑے ”پنکھے“ چلا کر کام کے بہانے آرام کرتے ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام کے ”حاصل کردہ تازہ ترین“ شعور ”کے تقاضے اور“ خوف ”کے پیش نظر جملہ بلکہ تمام سرکاری محکمہ جات جیسے پی ڈبلیو ڈی، محکمہ صحت، محکمہ برقیات، محکمہ تعلیم و تدریس، پولیس، محکمہ مال، اور انتظامیہ بلکہ عدلیہ و دیگر تمام فضول اور بے کار محکموں کے تمام ملازمین و افسر ان کو مکمل طور پر اپنی نوکریوں سے فارغ کر دیا جانا چاہیے، تاکہ وہ“ جس جس ملک ”سے آئے ہیں وہیں تشریف لے جائیں، اور عوام کو رضاکارانہ طور پر یہ سب انتظامات خود سنبھال لینے چاہئیں۔ تو بہت “بہتری” آ سکتی ہے۔ بجٹ کی رقم کو تنخواہوں اور دیگر فضول ترقیاتی کاموں میں ضائع کرنے کے بجائے براہ راست کل آبادی پر تقسیم کر کے ہر شخص کے حصے میں آنے والے ستر ہزار سالانہ اس کے حوالے کر دیے جانے چاہئیں۔ ایسے گھٹا ٹوپ اور گرد آلود ماحول میں کچھ مثبت بھی سننے میں (یا تصور میں) آ رہا ہے۔ سنا ہے وفاقی حکومت ہر صوبے / علاقے کو بجلی اپنے لیے خود پیدا کرنے اور ان صوبوں /علاقوں میں تعمیر شدہ منصوبوں پر واجب الادا قرضوں کی عالمی اداروں کو واپسی بھی، ان صوبوں / علاقوں کی ہی ذمہ داری قرار دینے والی ہے، کسی بھی صوبے کے لیے بجلی یا کوئی بھی دوسری چیز کسی دوسرے صوبے کو دینے پر مکمل پابندی لگا دی جائے گی۔

بلکہ یہ بھی سننے آ رہا ہے، کہ تمام صوبوں / علاقوں کو خطوط لکھے جا رہے ہی کہ وہ اپنے صوبوں سے گزر کر یا بہہ کر آنے والے دریاؤں کے“ اپنے ”پانی کو اپنے اپنے علاقہ میں ہی فوری طور پر مکمل اور مستقل روک دینے کا انتظام کریں، ورنہ اگر یہ پانی بہہ کر دوسرے صوبوں کے علاقوں میں گیا تو جہاں سے یہ پانی آ رہا ہو گا اس علاقے / صوبے کو اس کا کرایہ دینا پڑے گا، اور ان دریاؤں میں سیلاب آنے سے اگر زیریں کسی دوسرے صوبے یا علاقہ میں کوئی بھی نقصان ہوا، تو اس کا ذمہ دار اسی علاقے کو ٹھہرایا جائے گا، جہاں سے یہ پانی بہہ کر زیریں علاقے میں آیا ہو گا۔

یوں کرائے کے علاوہ ہوئے نقصان کا بھی ہرجہ و خرچہ بالائی علاقے کو ہی ادا کرنا پڑے گا۔ اس کے علاوہ ایک علاقے / صوبے سے دوسرے علاقے تک اجناس و پیداوار سمیت ہر قسم کی نقل و حمل اور آزادانہ آمدو رفت پر مکمل پابندی لگا دی جائے گی، صرف پیشگی تحریری اجازت اور مقررہ فیس ادا کرنے کے بعد ہی کسی دوسرے صوبے / علاقے میں افراد تک کے داخلے کی محدود اور مشروط اجازت دی جایا کرے گی۔ تاکہ ہر علاقہ خود اپنے پیروں پر کھڑا ہو، اور کوئی صوبہ یا علاقہ کسی دوسرے کے وسائل پر ڈاکا نہ ڈال سکے، ایک دوسرے سے لاحق شکایات کا خاتمہ ہو سکے، اور ہر علاقہ اپنے وسائل اور پیداوار کے لحاظ سے خود کفیل و خود مختار و خود اختیار بن سکے۔

یہ تجاویز نافذ العمل ہونے کے بعد عوام کو درپیش اکثر مسائل“ خودبخود ”مکمل طور پر ختم ہو جائیں گے۔ اور راوی چین کی بانسری بلکہ ڈھول بجائے گا، اور بجاتا ہی رہے گا۔ آزاد کشمیر کے علاقے میں مہنگائی اور“ دیگر ”معاملات کے بارے میں عوامی احتجاج کے بعد حاصل شدہ عوامی بیداری اور شعور کے مثبت اثرات علاقے میں نظر آنے شروع ہو چکے ہیں، سڑک سے گزرتی ہر سرکاری گاڑی میں سوار افسر یا عملے کو عوام کی طرف سے“ مثبت ”قسم کی گھیرا بندی اور پوچھ گچھ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، ضرورت مگر یہ ہے کہ اس کام کو اب ذرا“ منظم ”انداز میں عمل میں لایا جائے، اور ان شعور سے ابلتی، شعور کے چھینٹے اڑاتی عوامی ٹولیوں کو اس کام لیے ان حالیہ احتجاجی اجتماعات کے شعلہ بیان مقررین کی طرف سے SOPs ( سٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز) جاری کئیے جائیں۔

گو کہ“ غاصب ”سرکاری افسران کو اب سرکاری گاڑی میں ڈیوٹی کے دوران بھی سفر کرنے پر عوام کی طرف سے“ جائز ”طور پر“ باز پرس ”کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، اور ان کو ہجوم کو تفصیل سے یہ بتانا پڑ رہا ہے، کہ وہ کہاں سے کتنے فاصلے سے آ رہے ہی، کہاں اور کیوں، کتنے فاصلے تک کتنی دیر کے لیے جا رہے ہیں، اور اگر فلاں جگہ، فلاں روڈ یا فلاں کام پر جا رہے ہیں تو فلاں روڈ یا فلاں کام پر کیوں نہیں جا رہے، گاڑی میں پیٹرول کتنا اور کہاں سے ڈالا ہے، اس کی رسید کہاں ہے، (اس رسید کی عوام کی طرف سے اسی وقت متعلقہ پیٹرول پمپ سے تصدیق بھی کی جائے گی، افسر کے بال کتنے لمبے ہیں، اس نے بالوں میں یہ کنگھی کیوں کر رکھی ہے۔ اور اگر اس کے بال نہیں تو اس کی“ چندیا ”کیوں اتنی چمک رہی ہے، کہیں۔! گاڑی میں موجود بریف کیس میں کیا ہے، اس معاملے میں افسر کے بیان پر اعتبار کرنے کے بجائے بریف کیس کھول کر اس کے بیان کی تصدیق ضروری ہے، یہ جو فائلیں گاڑی کے ڈیش بورڈ پر پڑی ہیں ان میں کیا لکھا ہے، اور کیوں لکھا ہے؟ ان تمام اہم معاملات کی اس افسر سے مکمل وضاحت حاصل کی جانی چاہیے، اس افسر یا اہلکار نے اتنے صاف استری شدہ کپڑے کیوں پہنے ہوئے ہیں، اس بات کی بھی اس سے تسلی بخش وضاحت لی جانی چاہیے، اور اگر یہ سب امور درست بھی پائے جائیں، تب بھی اس افسر یا اہلکار کو جانے کی اجازت دینے سے پہلے ہجوم میں سے کوئی جذباتی، نوجوان اس افسر یا اہلکار کے چہرے پر ایک تھپڑ ضرور رسید کرے، تاکہ اس سرکاری ملازم کو یاد رہے کہ وہ دراصل عوام کا ہی نوکر/ ملازم (پبلک سرونٹ) ہے۔

اگلے چوک پر بیدار شعور شدہ عوام کی ایک اور ٹولی یہی سارا عمل اور پوچھ گچھ دوبارہ سے دہرائے، اتنا ضرور یقینی بنایا جانا چاہیے کہ تھپڑ مارنے والا کم از کم ایک نوجوان ضرور ہر ایسی ٹولی میں ضرور موجود ہو، بلکہ اس سارے عمل کو اتنی بار دہرایا جانا چاہیے، کہ وہ اہلکار کچھ ہی فاصلے پر اپنی سرکاری گاڑی سڑک پر ہی چھوڑ کر پیدل ہی روتا ہوا اپنے فرض کی تکمیل کے لیے روانہ/ فرار ہو جائے۔ اسی طرح اسی جذبے سے سرشار، شعور سے ابلتی عوام کی ٹولیاں مختلف دفاتر میں جا کر نہ صرف اہلکاران و افسران کی حاضریاں چیک کریں، بلکہ تمبر کی لاٹھیاں ان کی میزوں پر بجا بجا کر، ان کی“ کارکردگی پر بھی باز پرس کریں۔

یہ ضرور چیک کیا جائے کہ کہیں دفتر کا کوئی پنکھا نہ چل رہا ہو، تاکہ عوامی وسائل کا زیاں ممکن نہ رہ سکے۔ ایسے ضروری اقدامات کی فہرست تو بہت طویل ہے، جس کی متقاضی یہ مختصر تحریر کسی طرح نہیں ہو سکتی، لیکن اتنا یقینی ہے کہ اس طرح ریاست کو ان فضول اور ”خزانے“ پر بوجھ افسران، کام چور ملازمین اور اہلکاران، بلکہ اس سارے ”سسٹم“ سے بھی نجات ضرور مل جائے گی۔ عوام کی حکومت، عوام کے لیے ، عوام کے ذریعے، تمبر کی لاٹھیوں کی مدد سے!

Facebook Comments HS