پاکستان میں تعلیمی زوال اور حاکم طبقات کے رویے!


چند روز قبل گورنمنٹ کالج لاہور سے وابستہ اپنے ایک دوست کی رائے جاننے کے لئے ایک علمی مقالہ بھیجنے کا اتفاق ہوا جس کے نتیجے میں معلوم ہوا کہ وہ دوست جو پہلے کبھی علم و ادب اور کتابوں کے بڑے رسیا تھے اور گھنٹوں ادبی مباحث اور مطالعہ میں صرف کرتے تھے، اب نوکری ملنے کے بعد بہت ”پریکٹیکل“ ہو گئے ہیں اور ”جمع تفریق“ کے علاوہ ان کی دیگر تمام علوم میں دلچسپیاں ماند پڑ گئی ہیں۔ علم ایک انتہائی آسان چیز بھی ہے اور انتہائی مشکل بھی لیکن شاید اب علم اور عالم صرف آن لائن ہی اچھے لگتے ہیں، وقت گزارنے کے لئے یا پھر تفریح کے لئے کیونکہ اب حالت یہ ہے کہ کئی برسوں سے ہر چینل پہ ”عالم“ ’آن لائن ہے مگر علم کا معلوم نہیں کہ وہ کہاں گیا۔

ہم جو مسلمان ہونے کا دعوی کرتے ہیں علم ہمارے لیے بہت خصوصیت کا حامل ہے کیونکہ ہمیں حکم ہے کہ علم حاصل کرنے کے لئے چین بھی جانا پڑے تو روانہ ہو جانا چاہیے۔ دوسرے لفظوں میں چائنہ کی قدیم وزڈم سے لے کر آج کی سیاسی جستجو تک شروع ہی سے چین کے ساتھ ہمارے مفادات بہت وابستہ رہے۔ لیکن علم کے لئے بھی حکم یہی تھا کہ وہ آخری حد نہیں ہے۔ غزوہ بدر میں گرفتار کافروں سے جو کہا گیا کہ وہ زر فدیہ کے طور پر مسلمانوں کو علم سکھا دیں۔

عقل رکھنے والوں کے لئے اس میں بہت نشانیاں ہیں کہ وہ کفار بہرحال علوم شریعت کے ماہر تو نہ تھے۔ اس وقت ہمارے ہاں حقیقی صورتحال یہ ہے کہ ہم نہ صرف علم سے بلکہ فن سے بھی دور ہو چکے ہیں۔ ہمارے غیر مہذب ہو نے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے علم کو ترک کیا، فنون کو فقط ذریعہ عیاشی سمجھا، لہٰذا ہم 21 ویں صدی میں دور قدیم کی جاہلیت کی طرف لوٹ کر جا رہے ہیں۔ تہذیب و تمدن ہمارے نزدیک لا حاصل سی چیز ہے۔

ہم نہ صرف ایک دوسرے پہ ہاتھ ڈال رہے ہیں بلکہ ایک دوسرے کا خون بھی پی رہے ہیں، جیسے میں آج کل کے علامہ حضرات کا معترف ہوں اسی طرح اس جانور پن کے لئے میں سیاست آن لائن اور آرمی آن لائن کا بھی بہت معترف ہوں، خاص طور پہ ضیاء صاحب کے زمانے میں کہ (موصوف اہل علم اور دانشوروں کو سیم اور تھور سے تشبیہ دیتے تھے ) جو قتل علم اور فنون کا ہوا، وہ علم اور فن اسی دور میں شہادت کا رتبہ پا چکے تھے۔ راہ علم میں علم کا بہت بڑا وسیلہ لکھا ہوا لفظ ہے۔

لفظ کی تکریم و تحریم کے بارے میں بہت سی باتیں کی جاتی ہیں۔ لفظ کے معتبر ہونے کے بارے میں ہمیں یقین دلایا جاتا ہے۔ لیکن جب الفاظ بار بار دہرائے جائیں اور ان کے پیچھے عمل نہ ہو تو وہ کلیشے  بن جاتے ہیں اور ان لفظوں میں وہ قوت نہیں رہتی کہ وہ آپ کو ہلا سکیں اور آپ میں کوئی جذبہ پیدا کر سکیں۔ یہ تو ہے ہمارے علم اور ہمارے پڑھنے لکھنے کی دنیا کا حال۔ ایک وقت تھا جب سیاسی جماعتوں میں سٹڈی سرکل ہوا کرتے تھے۔

پیپلز پارٹی کے جیالوں میں بھٹو صاحب کی وجہ سے جو سب سے طاقتور عنصرتھا وہ پڑھے لکھے لوگوں کا تھا، دانشوروں کا تھا، سوچ رکھنے والوں کا تھا، فنکاروں کا تھا، ادیبوں کا تھا، طلباء کا تھا جو کہ لمحہ بہ لمحہ علم کی پیاس بجھانے کے لئے تڑپتے تھے اور ایک طاقت بھٹو صاحب کی اس بات میں بھی تھی جو سوچ رکھتا تھا، جو کمٹمنٹ رکھتا تھا آج کل کے حالات کے برعکس اس کی پارٹی میں ایک اہمیت ہوتی تھی۔

لیکن جیسا کہ ہم جانتے ہیں زمانہ بہت بے درد چیز ہے۔ کتاب مہنگی کر دی گئی۔ کاغذ بہت مہنگا کر دیا گیا۔ کتاب اب ہمارے ہاتھ سے نکل چکی ہے۔ بہت اچھا زمانہ تھا جب ہلاکو خان قسم کے لوگ اور ذہن جو تھے وہ لائبریریاں جلا دیا کرتے تھے۔ سرے سے معاملہ ہی ختم ہو جایا کرتا تھا۔ اب تکلیف دہ بات یہ ہے کہ کتاب کے ہوتے ہوئے کتاب ہمارے ہاتھ سے چھین لی گئی ہے۔ مہنگائی کی وجہ سے اور حاکم طبقوں کی جان بوجھ کے بہت بڑی سوچی سمجھی سازش کی وجہ سے کیونکہ اگر علم پھیل جائے گا تو پھر حاکم طبقے، حاکم طبقے نہیں رہیں گے۔

پھر علم اپنی طاقت کی بنا پر تمام جھوٹے پن کو ، تمام جنگلی پن کو ، تمام کرپشن کو ، تمام وہ لوگ جو طاقت کا غلط استعمال کرتے ہیں ان کے سینے میں ہاتھ ڈال کے انھیں تخت سے اتار دے گا۔ لہٰذا علم دشمنی جو ہے وہ آج کے دور کا چلن نہیں ہے بلکہ ہمارے حاکم طبقوں کی انتہائی ضرورت بھی ہے۔ میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اور محسوس کیا ہے کہ لوگوں کا حافظہ تکلیف دہ باتوں کو بھول جانے کی کوشش کرتا ہے۔ کتاب مہنگی ہے چھاپی نہیں جا سکتی اور اس پہ مستزاد یہ کہ چھاپنے والے کے اپنے کمرشل انٹرسٹ ہوتے ہیں۔

آج کے دور میں کتابیں لکھنا اور چھاپنا اور پھر پڑھنا ایک بہت بڑا کام ہے۔ آج کی کمرشل دنیا میں علم کی شمع جلائے رکھنا بذات خود ایک جہاد ہے۔ ہم سب کو اور خاص طور پر وہ پڑھے لکھے افراد جنھوں نے اس ملک سے بہت کچھ حاصل کیا ہے اور وہ تعداد میں کم نہیں ہیں وہ بہت بڑی بڑی باتیں لکھنا چاہیں گے جو انھوں نے معاشرے سے سیکھی ہیں تو ہمیں ان کی حوصلہ افزائی کرنا چاہیے۔ لیکن یہ بھی ایک بہت بڑی رکاوٹ ہے حاکم طبقوں کی سازش کی جو ہمیں علم سے دور رکھنا چاہتے ہیں، ہمیں اس کا بھی مقابلہ کرنا ہے۔

ایک اور کام جو ہم نے کرنا ہے اور جس کی ضرورت ہے وہ تاریخ کی درستگی ہے جس پر ہندوستان کے تاریخ سازوں اور ہماری طرف کے تاریخ سازوں کو بہت کام اور بہت بڑی جد و جہد کی ضرورت ہے۔ کوئی ایسی چیز جو ہم ایک دوسرے کے لئے کر سکیں جس سے ہم تاریخی طور پر ایک دوسرے کے قریب آ سکیں تاکہ اس خطے کے کروڑوں محروم افراد کی محرومیوں کا ازالہ ہو سکے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ آج تک بالواسطہ یا بلا واسطہ جس نظام کو ہم اپنا خون پسینہ پلاتے رہے ہیں اب اس نظام کے خلاف بغاوت پکڑنی پڑے گی ورنہ جمہوریت کا رونا بھی روتے رہیں گے اور اسٹیبلشمنٹ کی طاقت کے حوالے سے بھی چلاتے رہیں گے۔

دیکھا جائے تو ہمارے حکمران طبقے ہمیں جاہل رکھنے میں کامیاب ہو چکے ہیں کیونکہ سقراط نے جو علم کی تعریف کی تھی کہ یہ سچائی کی تلاش کا نام ہے اس کو اب ”جس میں دم اور خم ہے صرف اسے ہی جینے کا حق ہے“ (theory of the survival of the fittest) میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اور چونکہ دم اور خم کی تعریف ہمارے ہاں پیسہ اور پاور ہے چنانچہ اب ہر چیز کو کمرشل کر دیا گیا ہے اور مجموعی طور پر آدھی سے زیادہ آبادی جبکہ خواتین کی 80 % آبادی کو زندگی کے مقابلے کی دوڑ سے ہی باہر کر دیا گیا ہے کیونکہ ان کے پاس آگے بڑھنے کے وسائل یا مواقع ہی نہیں ہاں مگر حاکموں سے اگر بھیک میں کوئی وظیفہ مل جائے تو ۔

تعلیم کی کمرشلائزیشن کا حاکم طبقات کو بہت فائدہ ہوا ہے کہ اب اچھے اور مہنگے تعلیمی اداروں میں صرف انھیں کے بچے تعلیم افورڈ کر سکتے ہیں۔ اب خواہ کوئی نیم خواندہ ہو یا پی ایچ ڈی اسے تعلیم سے زیادہ تعلیم کے کمرشل انٹرسٹ میں دلچسپی ہے۔ ذرا کچھ پڑھے لکھے خواتین و حضرات سے گفتگو کر کے تو دیکھیں یا پھر فیس بک، ٹویٹر اور دیگر سوشل میڈیا پر ہمارے پڑھے لکھے افراد کے کمنٹس پڑھ لیں۔ یہ نہیں تو پھر اپنے دوستوں، عزیزوں یا اپنے بچوں کو دیکھیں کہ کتنوں نے موبائل پیکج حاصل کر رکھے ہیں اور کس ”نیک مقصد“ کے لئے؟

تربیت کے بغیر تعلیم جہالت ہے۔ اب کتاب کی بجائے لوگ جوتا خریدنا یا فیس بک سٹیٹس لکھنا یا پڑھنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔ یہ تعلیمی زوال ہی ہے کہ آج ہمارا سماج پہلے سے زیادہ خونخوار اور گلا کاٹ ہو چکا ہے اور کمرشل ازم کے دیو نے سماجی اخلاقیات کو کھڑکی سے باہر پھینک دیا ہے۔ وہ دن گئے جب یہ مٹی اقبال، قائد اعظم، فیض، جالب، فراز، اشفاق حسین، واصف علی واصف اور عبداللہ حسین جیسے لوگ پیدا کرتی تھی کیونکہ نئی سیلفی جنریشن لکھنا تو کجا پڑھنا بھی پسند نہیں کرتی ہاں مگر صرف اپنے کمرشل انٹرسٹ کے لئے۔

مبارک ہو کہ تعلیمی ادارے جہالت کی فیکٹریوں میں بدل چکے ہیں اور کاغذی ڈگریاں اور کاغذی گریڈز علم اور شعور کا نعم البدل ٹھہرے ہیں۔ تعلیم، شعور اور عقل کا گلہ گھونٹنے سے حکمران طبقات اور ان کی اولادوں کے حکمران بننے کے راستے کی تمام رکاوٹیں دور ہو گئیں۔ مبارک ہو کہ جہالت پہ جہالت کی حکمرانی مستحکم ہو گئی۔ پاکستان میں اس درجہ کے تعلیمی زوال پر سرمایہ دارانہ نظام کے پروردہ حاکم طبقوں کو میری طرف سے بہت زیادہ۔ ”بدھائی“ ہو۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments