زوال، کمال اور مولانا


اہل علم کا خیال ہے کہ مسلمانوں کے زوال کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یا تو وہ حرام کی طرف مائل ہو چکے ہیں اور یا ان کے اعمال اس قسم کے ہیں کہ گناہ اور تذلیل میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ اس کے جواب میں میرے عزیز دوست شیخ از پیر یعنی شیخ ناشپاتی کا کہنا ہے کہ گناہ اور تذلیل میں تو یہودی اور عیسائی بھی ڈوبے ہوئے ہیں۔ جس قدر عیاشی اٹلی، سپین اور فرانس کے ساحلوں پہ یا ڈانس کلبوں میں ہو رہی ہے اتنی تو شاید برصغیر پاک و ہند کے تمام شہروں میں پچھلے ہزار سال میں مل کے بھی نہیں ہوئی ہوگی یا لاس ویگس میں ہی دیکھ لیجیے۔

وہاں کا تو یہ حال ہے کہ شاید کشش ثقل زمین سے نکل کے آسماں میں چلی گئی ہے۔ تمام نسوانی جوتوں کا رخ آسمان ہی کی طرف ہوتا ہے۔ لاس ویگاس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ شاید دنیا میں ہی جنت کا ایک حصہ ہے۔ اگر کوئی مرد لاس ویگاس جا رہا ہو تو اسے مشورہ دیا جاتا ہے کہ جیب بھاری رکھے اور اگر کوئی خاتون لاس ویگاس کا رخ کر رہی ہو، تو اسے مشورہ دیا جاتا ہے کہ اپنا جوتا بھاری رکھے کیونکہ وہاں جیب سے پیسہ اور پیروں سے جوتے اترتے دیر نہیں لگتی۔ لاس ویگس دنیا کی شاید واحد جگہ ہے کہ جہاں ایمان، جیب اور عزت تینوں ہی خطرے میں ہوتے ہیں ؛ مگر پھر بھی لوگ وہاں بھاگے بھاگے جاتے ہیں۔ شاعر نے کیا خوب کہا ہے :۔

دل کی بستی بھی عجب بستی ہے
لوٹنے والے کو ترستی ہے

ہم نے ایمان کو بتایا کہ تم ہرگز لاس ویگاس نہ جانا، کہ تم وہاں خطرے میں ہوگی۔ کچھ دن بعد وہاں سے اس کی کال موصول ہوئی کہ میں میں نے تو لاس ویگاس کا چپہ چپہ چھان مارا، کہیں بھی میں مجھے خطرہ درپیش نہ ہوا۔ میں نے حیران ہو کے اس سے پوچھا کہ اگر ایمان کو لاس میں خطرہ ہے، تو آخر تم وہاں گئی ہی کیوں؟ اس نے جواب دیا کہ خطرہ ہے تبھی تو یہاں آئی! صاحب آج کل یہی حالات ہیں۔ جہاں ایمان کو خطرہ ہوتا ہے، لوگ وہیں کھچے چلے جاتے ہیں۔ جہاں حلال کمانے میں خطرہ ہوتا ہے، لوگ اسی طرف چھلانگ مارتے ہیں۔

ان تمام گناہوں، عیاشی اور زنوب کے باوجود، ہم نے یورپ اور امریکہ پہ زوال آتا نہیں دیکھا۔ نہ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ وہ باقی دنیا سے پیچھے رہ گئے ہوں۔ نہ ہم کو امریکہ اور یورپ میں جہالت دکھتی ہے، نہ ترقی میں کمی دکھتی ہے، بلکہ یہی دکھتا ہے کہ ایک طرف وہ خلا میں جا رہے ہیں، تو دوسری طرف ہر قسم کی بیماریوں کا علاج بھی کر رہے ہیں اور جدید تحقیق کے ذریعے روز بروز انسانیت کو بہتری سے بہتری کی طرف لے کے جا رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سائنسی ترقی، عسکری قوت اور دوسری قوموں پہ حاوی ہونے کا ذریعہ مذہب یا نظریہ نہیں ؛ بلکہ سائنسی اور علمی تحقیق، اداروں کی مضبوطی، بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی اور تعلیم کے ذریعے دماغوں اور ذہنوں کی بہتری ہے۔

خدا تعالی کی ذات کے ہاں تین قسم کے قوانین ہیں۔
ا۔ قوانین فطرت :

یہ وہ قوانین ہیں جن کے تحت کائنات اور فطرت کام کرتی ہے۔ سورج کے گرد سیارے گھومتے ہیں۔ بیج جو کہ مٹی میں پڑا ہو، اس میں سے پودا نکلتا ہے۔ یہ تمام عوامل، قوانین فطرت کے تحت کام کر رہے ہیں۔

دوسرے الفاظ میں ان کو سائنسی قوانین بھی کہا جا سکتا ہے۔ کائنات انہی قوانین فطرت یا سائنسی قوانین کے تحت کام کر رہی ہے۔ اللہ تعالی ان قوانین میں کسی قسم کا رد و بدل یا مداخلت نہیں فرماتے۔ اگر ایک شخص چھت سے نیچے چھلانگ لگائے گا، تو کشش ثقل کے تحت وہ نیچے گرے گا اور ممکن ہے کہ اس کی ہڈی ٹوٹ جائے۔ اللہ تعالی اس کے لیے کشش ثقل کو ختم نہیں فرمائیں گے۔

ب۔ قوانین اقوام اور معاشیات :

یہ قوانین بھی تقریباً اٹل ہیں۔ ہر چند کہ ان کا تعلق انسانی سماجیات اور انسانوں کی فطرت سے ہے، مگر قوموں کے عروج اور زوال، معیشت کی بہتری یا خرابی اور نظام کی چلنے یا نہ چلنے کا تعلق ان قوانین سے ہے۔ اگر ان قوانین پر عمل کیا جائے گا، تو اقوام نظام معیشت اور تہذیب بہتری کی طرف جائیں گی اور اگر ان قوانین پہ عمل نہیں کیا جائے گا تو قومیں تباہ ہو جائیں گی۔ اس کا تعلق بھی دعاؤں یا بددعاؤں سے نہیں ہے۔ بے شک علماء دعا کرتے رہیں کہ کفار کی توپوں میں کیڑے پڑ جائیں یا کفار تباہ و برباد ہو جائیں، اگر کفار ان قوانین کو بہتری کی طرف لے کے جا رہے ہیں اور ان پہ عمل کر رہے ہیں، تو ان کی قوم عروج کی طرف جائے گی۔

ان کی تہذیب ترقی کی طرف جائے گی اور ان کی معیشت بہتری کی طرف جائے گی۔ ان قوانین میں بھی اللہ تعالی مداخلت نہیں فرماتے۔ بلکہ قوموں پہ چھوڑتے ہیں کہ اگر انسان اپنے اعمال کو ان قوانین کے مطابق رکھیں گے تو وہ ترقی کرتے جائیں گے مثلاً جو قوم بددیانتی سے دور رہے گی، دیانت داری کی وجہ سے ان کی معیشت بھی بہتری ہوگی۔ ان کے ہاں انویسٹمنٹ بھی زیادہ آئے گی۔ اسی طرح جو قوم اپنے مجرموں کو سزا دے گی، ان کے ہاں جرائم کم ہوتے جائیں گے۔ جبکہ جو قوم سفارش، اقربا پروری یا قانون کی امیر اور غریب کے مطابق مختلف عملداری پہ یقین رکھے گی یقیناً وہ زوال کی طرف جائے گی۔

پ۔ مذہبی اور اخلاقی قوانین اور اصول :

تیسری نوعیت کے اصول اخلاقی نوعیت کے ہیں۔ ان پہ اگر اپ عمل کریں گے، تو قوم کا اخلاق اور مذہبی کردار بہتر ہوتے چلے جائیں گے۔ ان کا تعلق زیادہ تر ترقی یا عسکری مضبوطی سے نہیں ہوتا۔

مسلمانوں کے زوال پہ بہت ساری کتابیں لکھی گئی ہیں۔ کچھ اس کا ذمہ دار منگولوں کو ٹھہراتے ہیں۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ مسلمانوں کے زوال کی اصل وجہ یہودیوں کی سازش ہے، جبکہ دیگر اسے محض بدقسمتی قرار دیتے ہیں۔ زوال کی وجہ تو ہم کو بھی معلوم نہیں۔ مگر حکیم بدایونی صاحب فرماتے ہیں کہ کمال یہ تھا کہ مسلمان بادشاہوں کے حرم میں سینکڑوں اور بعض دفعہ ہزاروں خادمائیں اور خواتین موجود ہوتی تھیں۔ حکیم صاحب صبح شام یہی غور فرماتے رہتے ہیں کہ آخر وہ کون سے ایسے کشتہ جات تھے، کہ جن کے زور پر ان تمام خواتین کو خوش و خرم رکھا جاتا تھا۔

حکیم کا کہنا ہے کہ ہم سے تو ایک عورت خوش نہیں ہو رہی۔ جسمانی طور پہ خوش ہوتی ہے، تو ذہنی طور پہ غیر آسودہ ہو جاتی ہے۔ ذہنی طور پہ خوش ہو جائے، تو ہماری ساس یا اس کی ساس کوئی ایسی جگت مار دیتی ہے یا ایسی شدید جلتی ہوئی بات کہہ دیتی ہے، کہ جس کے بعد کئی دن تک خاتون خانہ نہ خوشی رہتی ہے۔ اور خاتون خانہ نہ خوش ہو، تو شوہر نامدار تو مزید ناخوش ہوتا ہے۔ میرا حکیم کو مشورہ ہے کہ عورتوں کو خوش کرنے کا طریقہ علماء کرام سے پوچھیں۔

ہمارے محلے کے مولانا صاحب کا قول ہے کہ عورت کو خوش رکھنا ہے تو پیٹ کو خوش رکھیں، اور پیٹ کو خوش رکھنا ہے تو حلوہ تناول فرمائیں۔ مولوی صاحب کے مطابق حلوے میں تین خصوصیات لازمی ہیں۔ ایک یہ کہ زیادہ ہو۔ دوسرا یہ کہ میٹھا اتنا ہو کہ یوں لگے جیسے حلوہ نہیں پکا، چینی پکی ہے اور حلوہ اس پہ چھڑک دیا گیا ہے۔ جبکہ تیسری خصوصیت یہ ہے کہ کھانے والا میں اکیلا ہوں۔ ہمیں مولوی صاحب سے یہی گلہ ہے کہ جنت، حلوہ اور جلوہ تینوں چیزیں صرف اپنے لیے چاہتے ہیں، دوسروں کو اس سے باہر ہی رکھتے ہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments