کینیڈا کے لوگ کیسے رہتے ہیں؟

کینیڈا ایک کثیر الثقافتی (ملٹی کلچرل) ملک ہے۔ ایک جائزہ کے مطابق یہاں کے 95 فیصد لوگ یا تو خود امیگرنٹ ہیں یا ان کے باپ دادا امیگرنٹ تھے۔
مختلف ممالک سے ترکِ وطن کر کے آنے والے لوگ یقیناً مختلف رسم و رواج اور عادات و خصائل رکھتے تھے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ لوگ آپس میں اس طرح گھل مل گئے کہ اب کینیڈین معاشرے کا اپنا ایک علیحدہ اور مجموعی تشخص قائم ہو چکا ہے۔ بطور قوم آپ کینیڈین عوام میں خوش اخلاقی، بے تکلفی، دھیما پن اور قانون کے احترام جیسی چیزیں پائیں گے۔
جب ہم پہلی دفعہ کینیڈا آئے اور ائر پورٹ پر اترے تو امیگریشن اور کسٹم تک تو ٹھیک تھا کہ وہ ہمیں کسی بھی نام سے پکاریں لیکن جب ہوٹل میں ٹھہرنے گئے اور استقبالیہ کا ؤنٹر پر موجود خاتون نے میرے نام سے مخاطب کیا۔ کیا بدتمیزی ہے مسٹر وغیرہ کچھ نہیں۔ مجھے تو بڑا غصہ آیا۔ بعد میں اندازہ ہوا کہ کینیڈا کے لوگ عموماً لوگوں کو ان کے پہلے نام سے پکارتے ہیں۔
کینیڈین عمومی طور پر خوش مزاج، مددگار، ایمان دار اور با اخلاق ہیں اور میل ملاپ کے آ داب کا پوری طرح خیال رکھتے ہیں۔ یہ لوگ بات کرتے وقت چہرے کے تاثرات، آواز کا اتار چڑھاؤ، اور ہاتھ پاؤں کو بھی گفتگو کے ساتھ ساتھ پوری طرح متحرک رکھتے ہیں۔ شروع میں تو ایسا لگتا تھا کہ ہر شخص اداکاری کر رہا ہے
ابتداء میں مجھے دفتری نظام بھی بڑا عجیب سا لگا۔ نہ کوئی چپراسی نہ کوئی چائے پلانے والے، نہ دربان نہ چوکیدار نہ سرکاری ڈرائیور نہ سرکاری گاڑی۔ بڑے سے بڑا باس بھی اپنا آفس کا بیگ خود ہی اٹھاتا ہے مجھے سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ یہاں افسری کس طرح چلتی ہے۔ باس کے بچوں کو سکول کون چھوڑتا ہے؟ بیگمات کس طرح شاپنگ کرتی ہیں؟ چل چکی افسری
کینیڈا میں کافی کو وہی اہمیت حاصل ہے، جو وطنِ عزیز میں چائے کو حاصل ہے۔ کام پر جاتے یا کام شروع کرنے سے پہلے اور کام کے دوران بھی عام طور سے لوگ کافی پینا پسند کرتے ہیں۔ کافی کی دکان میں پتہ ہی نہیں چلتا کہ باس کون ہے اور بلڈنگ کی صفائی کرنے والا کون ہے؟ ایک ہی میز پر بیٹھے ہیں۔ ایک دوسرے کو نام سے پکار رہے ہیں۔ لوگوں کے کام بھی باآسانی ہو جاتے ہیں ’چائے پانی‘ کا بھی کوئی مطالبہ نہیں۔
کینیڈا میں لوگ کھانے پینے کے بہت شوقین ہیں۔ کثیر الثقافت ملک ہونے کے سبب یہاں اطالوی، انگریز، پرتگیزی، جاپانی، چینی، عربی اور ساوتھ انڈین غرض کہ ہر ملک اور قوم کے کھانے دستیاب ہیں اور اسی شوق سے کھائے جاتے ہیں۔ کھانوں کے علاوہ بھی آپ کو لوگ ہر وقت کچھ نہ کچھ کھاتے اور مختلف مشروبات سے لطف اندوز ہوتے نظر آئیں گے۔ سنیک بار، ریستوران اور ہوٹل وغیرہ کے علاوہ گرمیوں میں آپ کو سڑکوں کے کنارے مخصوص جگہوں پر کیبن وغیرہ بھی نظر آئیں گے جہاں اس طرح کی چیزیں فروخت ہوتی ہیں
قانوناً یہاں رنگ، نسل، مذہب، زبان اور ثقافت میں کسی قسم کا کوئی امتیاز نہیں برتا جاسکتا۔ یہاں ہر شخص کو اپنے اپنے مذہب کو اور اپنی مذہبی تقریبات کو منانے کی پوری آزادی ہے۔ ایسی آزادی کہ آپ کسی دوسرے کی آزادی میں خلل انداز نہ ہوں۔
کینیڈا امن وامان کے حوالے سے بھی ایک مثالی ملک ہے، یہاں جرائم کی شرح بہت کم ہے۔ قانون مضبوط ہے اور اس کا نفاذ مضبوط تر۔ برطانیہ کی پولیس کو پوری دنیا میں کارکردگی کے حوالے سے ایک منفرد حیثیت حاصل ہے لیکن کینیڈا کی پولیس بھی کارکردگی کے حوالے سے کسی لحاظ سے کم نہیں ہے جو شہریوں کی مدد کے لئے ہر وقت کمربستہ رہتی ہے۔ چھوٹے چھوٹے بچوں کو اسکول میں پولیس کا نمبر یاد کرایا جاتا ہے تاکہ کسی بھی ناگہانی صورت حال میں پولیس ان کی مدد حاصل کرسکیں۔
اور پولیس ان کی ٹیلیفون کال پر ان کی مدد کو آتی ہے۔ کسی بھی جانی خطرہ کی صورت میں یہاں ایمرجنسی امداد ملنے کے دورانیہ کا اوسط فقط آٹھ منٹ ہے۔ یوں تو قانون بھی بہت سخت ہے لیکن ویسے بھی ایک عام کینیڈین لڑائی جھگڑے اور مارپیٹ سے دور ہی رہتا ہے۔ روز مرّہ کی زندگی میں آپ شاذونادر ہی لوگوں کو آپس میں برسرِپیکار یا گتھم گتھا دیکھیں گے
کینیڈین، دیگر مغربی اقوام کی طرح نظم و ضبط کا بہت خیال رکھتے ہیں۔ چاہے وہ بینک کا کا ؤنٹر ہو، کیش رجسٹر پر رقم کی ادائیگی ہو، لاٹری کا ٹکٹ ہو، غرض ہر جگہ لوگ قطار بنائے اپنی باری کا انتظار کرتے نظر آتے ہیں۔ قطار کی پابندی نہ کرنے والوں کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا ہے۔ آپ یہاں بسوں اور ریل کے ٹکٹ گھر پر ، سنیما گھر پر ، بینک میں لوگوں کی لمبی لمبی قطاریں دیکھیں گے لیکن لوگ سکون سے کھڑے ہیں۔ کوئی کسی کو دھکا نہیں دے رہا ہے، آگے نکلنے کی کوشش نہیں کرتا، کاؤنٹر والے پر پیچ و تاب نہیں کھا تا، اور نہ اس پر آوازے کستا ہے۔ کاؤنٹر پر بیٹھا ہوا شخص بھی نہایت اطمینان سے اپنی ذمہ داری نبھا تا ہے۔ اگر آپ قطار میں کھڑے ہیں تو قطار توڑ کر کوئی آپ سے آگے کھڑے ہونے کی ہمت نہیں کر سکتا، چاہے وہ کتنا ہی طاقت ور، امیر کبیر، ذی حیثیت سیاسی شخص، بھلے وہ ملک کا وزیرِ اعظم ہی کیوں نہ ہو۔
کینیڈا میں روزمّرہ کے معمولات، ویک ڈیز (پیر سے جمعہ) اور ویک اینڈ (ہفتہ اتوار) کے درمیان تقسیم رہتے ہیں۔ پہلے تو مجھے ویک اینڈ والے معاملات تو ڈھکوسلہ اور چونچلے ہی لگے۔ لیکن وقت کے ساتھ اس کی افادیت نظر آنے لگی۔ پورے ہفتہ کام کرنے کے بعد ویک اینڈ کے دو دن سودا سلف، لانڈری، تفریحات اور میل ملاقات کے لئے وقف کرنے سے ہی کام بنتا ہے۔
جمعہ کی شام سے ہی لوگوں، سڑکوں اور شہروں کا مزاج بدلنے لگتا ہے۔ ویک اینڈ پر بازاروں خاص طور سے سپر مارکیٹ وغیرہ میں رش بہت بڑھ جاتا ہے۔ چھٹی کے موڈ کے باعث ٹریفک اور لوگ بھی بے ہنگم ہونے لگتے ہیں تو پولیس بھی زیادہ چوکس ہو جاتی ہے۔ اسی مناسبت سے پیر کا دن لوگوں پر کافی بھاری ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ زیادہ تر نروس بریک ڈاؤن اور ہارٹ اٹیک پیر کے ہی دن ہوتے ہیں۔ دروغ بر گردنِ را وی۔
کتابیں، رسالے اور اخبار پڑھنا ایک قومی عادت ہے۔ بسوں، ٹرینوں، انتظار گاہوں اور اکثر قطاروں میں کھڑے ہوئے افراد بھی آپ کو کچھ نہ کچھ پڑھتے ہوئے نظر آئیں گے۔ صبح اور شام کے مفت اخباروں کے علاوہ لوگ اخبار خرید کر بھی پڑھتے ہیں۔ اکثر جگہوں پر سڑک کے کنارے اور فٹ پاتھ پر اخباروں اور رسالوں کے ڈبے لگے ہوتے ہیں۔ سیل فون کے بڑھتے ہوئے استعمال سے اب کتابیں اور خاص طور سے اخبار پڑھنے کا رجحان کچھ کم ہوتا نظر آ رہا ہے۔
کینیڈین، دوسری مغربی اقوم کی طرح وقت کے بہت پابند ہیں۔ کسی جگہ دیر سے پہنچنے کوایک قسم کی نا اہلی یا غیر اخلاقی تصور کیا جاتا ہے۔ لیکن پابندی وقت کا خیال کرنے والی اس قوم کے بہت کم افراد کے ہاتھوں پر آپ کو گھڑیاں نظر آئیں گی۔ اگر آپ گھڑی لگائے ہیں اور کسی پبلک مقام پر ہیں تو اس وقفے میں کئی لوگ آپ سے وقت پوچھ لیں گے۔ وقت پوچھنے کا بھی ان کا ایک منفرد سٹائل ہے۔ یہ آپ سے پوچھیں گے
Do you have time?
ایک نو وارد اس کا یہ مطلب بھی نکال سکتا ہے کہ کیا آپ کے پاس کچھ فالتو وقت ہے؟
ایک عام کینیڈین روزمرہ زندگی میں پہننے اوڑھنے کے معاملے میں بہت زیادہ رکھ رکھاؤ کا قائل نہیں ہے۔ لیکن یہی کینیڈین جب کسی کھیل کود وغیرہ یا فقط جاگنگ ہی کے لئے باہر نکلا ہو تو پھر آپ اس کی تیاری دیکھیں۔ آنکھوں پر چشمہ بھی لگا ہوا ہے، موسیقی کے لئے ہیڈ فون کانوں میں لگا ہوا ہے، اچھے ٹریک سوٹ میں ملبوس، صاف ستھرے جاگرز، ایک طرف پانی کی بوتل بھی لٹکی ہوئی ہے۔ غرض کہ اس وقت اس کی تیاری قابل دید ہوتی ہے۔ شاید ہی آپ کبھی کسی کینیڈین کو عام چپلوں اور گھر کے لباس میں جاگنگ کرتے دیکھیں
کینیڈا میں لوگوں کو جانور، خاص طور سے کتے پالنے کا بہت شوق ہے۔ لیکن انہیں اپنے اپارٹمنٹ میں جانور رکھنے کے لئے باقاعدہ لائسنس حاصل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ادھر ہمارا حال یہ ہے کہ کتا دیکھتے ہی حالت غیر ہو جاتی ہے، چاہے کتنا ہی چھوٹا کتا کیوں نہ ہو، کتا بہرحال کتا ہے۔ اسے کیا معلوم اس کا سائز کتنا چھوٹا ہے۔ پھر کتابوں میں بھی کہیں نہیں لکھا ہے کہ کس سائز کے کتے سے ڈرنا چاہیے؟
خبروں اور ان ڈور تفریحات کے لئے کینیڈین زیادہ تر ٹیلی ویژن اور ریڈیو پر انحصار کرتے ہیں۔ ریڈیو کا زیادہ تر استعمال دو رانِ سفر اور کار میں ہوتا ہے۔ اب آہستہ آہستہ سیل فون اس کی جگہ لے رہا ہے۔
وطنِ عزیز میں ہر طرف وی آئی پی ہی وی آئی پی ہیں۔ ائرپورٹ پر وی آئی پی لاؤنج، کسی بنک یا ادارہ میں جائیں، آپ لائن میں سوکھ رہے ہیں، وی آئی پی صاحب کا کام کا ؤنٹر کے پیچھے سے ہو رہا ہے، سڑک پر ہٹو کی آوازیں، پولیس والوں نے راستہ روک رکھا ہے، کیا بات ہے؟ کسی وی آئی پی کا قافلہ جا رہا ہے۔ کینیڈا میں ایسا نہیں ہے۔ نہ راستہ رکتا ہے، نہ ٹریفک روکی جاتی ہے۔ وزیراعظم بھی گزر رہا ہو تو کوئی خاص اہتمام دیکھنے میں نہیں آتا۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کینیڈا میں وی آئی پی نہیں ہیں۔ یہاں بھی وی آئی پی ہیں لیکن دوسری قسم کے۔ آئیے ہم آپ کو ان کی ایک جھلک دکھاتے ہیں۔
سامنے فٹ پاتھ کے قریب گھاس پر سکول جانے والے چھوٹے بچے اپنے ماں باپ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ سکول کی نارنجی رنگ کی بس آ گئی۔ ڈرائیور بس کو فٹ پاتھ کے ساتھ ملا کر کھڑا کرے گی (یہاں زیادہ تر سکول بس ڈرائیور خواتین ملیں گی) ۔ بس کے اوپر لگے ہوئے سرخ رنگ کی جلتی بجھتی سگنل کی بتی جلائے گی، اور بس کے بائیں ہاتھ پر سرخ رنگ کا سٹاپ کا بورڈ باہر نکل آئے گا۔ اب دونوں طرف کا ٹریفک رک گیا ہے۔ مجال نہیں کہ کوئی طرم خان بس کے آگے یا پیچھے سے گاڑی نکالنے کی ہمت کر لے، اس طرح کی خلاف ورزی کا فقط جرمانہ ہی دو ہزار ڈالر ہے۔
بس کا دروازہ کھل گیا ہے، ایک ایک کر کے بچے سوار ہو رہے ہیں۔ ڈرائیور اس بات کو یقینی بنائے گی کہ سب بچے بس میں آ گئے ہیں اور اب بس چلا نا محفوظ ہے۔ وہ بس کا دروازہ بند کرے گی، اوپر جلتا بجھتا سرخ سگنل بند کرے گی، سٹاپ سائن والا بورڈ اندر کرے گی، اب اس کے پیچھے اور سامنے سے آنے والا ٹریفک رواں ہو سکتا ہے۔
سکول کی حدود میں تمام سڑکوں پر ٹریفک کی رفتار کی حد زیادہ سے زیادہ چالیس کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔ اسی طرح صبح اور دوپہر سکول لگنے اور دوپہر میں ختم ہونے کے وقت سکول کی حدود میں تمام سگنلز پر بچوں کو سڑک پار کرانے کے لئے مخصوص لباس میں سٹاپ سائن لئے ہوئے لوگ نظر آئیں گے۔ تو جناب یہ ہیں کینیڈا کے وی آئی پی۔ معذور افراد بھی وی آئی پی کا درجہ رکھتے ہیں۔
کینیڈا میں جہاں وی آئی پی ہیں وہاں اچھوت بھی ہیں! حیران نہ ہوں، اس کی بھی ایک جھلک ملاحظہ فرما لیں۔
بلڈنگ گرم ہے لیکن لوگوں کا ایک گروہ باہر سردی میں سکڑ رہا ہے۔ پہلے میری سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ یہ کون لوگ ہیں اور اس سردی میں باہر کیا کر رہے ہیں؟ بعد میں پتہ چلا یہ کینیڈا کے اچھوت ہیں، یعنی سگریٹ نوش خواتین و حضرات۔ قانوناً یہ بیچارے بند جگہوں خاص کر عمارتوں میں کہیں بھی سگریٹ نوشی نہیں کر سکتے۔ یہاں پر بسوں، عمارتوں، لفٹوں اور ریستوران وغیرہ میں بھی تمباکو نوشی پر مکمل پابندی ہے۔ بلڈنگ کے اندر کسی بھی جگہ یہاں تک کہ عوامی واش روم میں بھی سگریٹ نوشی پر دو ہزار ڈالر تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ آپ میں ہمت ہے تو اس کی خلاف ورزی کر کے دیکھیں۔ یہ ایک اچھا قانون ہے اور لوگ اس کی پاسداری کرتے ہیں غالباً ایک اچھا شہری ہونے کی حیثیت سے نہ کہ جرمانہ کے ڈر سے۔ انیس سال سے کم عمر لوگوں کے ہاتھ سگریٹ فروخت کرنا بھی قانوناً جرم ہے۔ اس لحاظ سے سگریٹ کے دلدادہ لوگوں کے لئے کینیڈا ایک مشکل ملک ہے
وطنِ عزیز میں ہر تقریب اور تہوار کھانے سے شروع ہو کر کھانے پر ہی ختم ہوتا ہے۔ رمضان کی دعوتِ افطار، عید کی سویاں، بقرعید پر تکے، شب دیگ، حلیم، پائے، نہاری، شادی بیاہ، عقیقہ اور سالگرہ جیسی تقریبات تو چھوڑیں، سوئم کا کھانا، چالیسویں کا کھانا، برسی پر کھانا، محرم کا شربت، شب برات کا حلوہ، نیاز کی جلیبیاں۔ کسی کے گھر جائیں تو مٹھائی لے جائیں۔ بیمار کی عیادت کو جائیں تو پھل وغیرہ لے جائیں۔ معمول کی دعوتیں الگ، سلطنتِ مغلیہ اسی کھانے پینے کے چکر میں نکل گئی۔ طعنے بہرحال انگریزوں کو ہی دیے جاتے ہیں، جب کہ ان بیچاروں کا تعلق شاہی حلیم اور مغل بریانی سے اتنا بھی نہیں تھا، جتنا ہمارا جارج پنجم سے ہے۔
کینیڈین کا معاملہ ذرا مختلف ہے، ان کے سارے تہوار اور اہم دن شاپنگ سے شروع ہو کر شاپنگ پر ہی ختم ہوتے ہیں۔ کرسمس ہو، ویلنٹائین، ہیلو ان، نیا سال ہو، کوئی اہم دن ہو سیل اور شاپنگ اس کا ایک اٹوٹ انگ ہے
خوشی اور غمی کے موقعوں پر بھی کینیڈین پھول اور کارڈ بھیج کر اپنی سماجی ذمہ داری سے سبکدوش ہو جاتے ہیں۔ کھانے پینے کی چیزیں بھیجنا روایات حصہ نہیں ہے۔ کینیڈین سوسائٹی کا یہ پہلو بہت ہی روکھا، بھوکا اور سوکھا ہے۔ خیر سانو کی



