ترک کہانی: بابائے چرند و پرند

یہ کہانی ہے ایک 58 سالہ جوتے مرمت کرنے والے ترگت قلیچ کی۔ ترکیہ کے شہر اق سرائے کے تاج محلہ کے قدیم صنعتی علاقے میں کئی عشروں سے جوتیوں کی مرمت کی دکان چلانے والے ترگت قلیچ گزشتہ 45 سال سے مسلسل پرندوں کو کھانا اور پانی ڈال رہا ہے۔ انہیں ان کی اس نیکی کی وجہ سے ”بابائے چرند و پرند“ بھی کہا جاتا ہے۔
ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان نے ترگت قلیچ کو اس سال یکم مئی کو ترکیہ کی وزارت مذہبی امور کا سب سے اعلیٰ ایوارڈ ”ایوارڈ برائے نیکی و اچھائی“ سے نوازا ہے۔ ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان نے انہیں خصوصی طور پر دارالحکومت انقرہ کے صدارتی محل میں بلا کر ان کی نہ صرف سرکاری سطح پر مہمان نوازی کی بلکہ حوصلہ افزائی بھی کی اور ایوارڈ سے بھی نوازا۔
ترگت قلیچ کے والد محمت قلیچ جو کہ ایک لوہار تھے، ان کا ایک حادثے کی وجہ سے انتقال ہو گیا۔ باپ کی اس اچانک اور ناگہانی موت کے بعد 13 سالہ ترگت قلیچ کو سکول مڈل سیکشن میں ہی ادھورا چھوڑنا پڑا اور انہوں نے جوتیاں مرمت کرنے کا کام یعنی موچیوں کا کام شروع کر دیا اور آج تک بغیر کسی چھٹی اور وقفے کے یہ کام کر رہے ہیں۔
وہ صبح صبح اپنے گھر سے اپنی دکان پر سائیکل پر جاتے ہوئے راستے سے کوڑا کرکٹ میں پھینکی ہوئی روٹیاں اور دیگر کھانے کا سامان جو قابل استعمال ہو، اکٹھا کرتے ہیں اور اپنی دکان کے قریب خالی اراضی اور پلاٹ میں پرندوں کو ڈالتے ہیں۔ پھر تازہ اور صاف پانی برتنوں میں ڈالتے ہیں جسے دیکھ کر ہزاروں پرندے وہاں آ جاتے ہیں اور اپنا پیٹ بھرتے ہیں۔
پرندوں کو دانہ پانی ڈالنے کا یہ کام وہ گزشتہ 45 سال سے باقاعدگی سے کر رہے ہیں۔
گزشتہ دنوں ان کے اس کام کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی جسے لاکھوں لوگوں نے دیکھا، پسند کیا اور آگے پھیلا دیا۔ ان کی ویڈیو اور کام کو دیکھ کر ان کے شہر اق سرائے کے ناظم ڈاکٹر ایورن دنچر نے انہیں اپنے دفتر بلایا۔ ان کی عزت افزائی کی۔ انعام و اکرام سے نوازا اور ان کے ساتھ ایک ویڈیو بنا کے وائرل کر دی جو دیکھتے ہی دیکھتے پوری ترکیہ میں پھیل گئی اور ان کی وجہ شہرت صدارتی محل تک پہنچ گئی۔ صدر رجب طیب ایردوان نے انہیں خصوصی طور پر صدارتی محل میں بلایا اور یکم مئی کو ترکیہ کے نیکی اور اچھائی کے اعلیٰ ایوارڈ سے نوازا۔
دو بچوں کے باپ ترگت قلیچ اب ترکیہ سمیت دنیا بھر میں خاصے مشہور ہو رہے ہیں۔ لوگ ان کے کام اور چرند و پرند کے ساتھ نیکی کے جذبے کو پسند کر رہے ہیں۔
ترگت قلیچ کو اپنے اس کام پر فخر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی اس چھوٹی سی نیکی کی وجہ سے ہزاروں پرندوں کی زندگیاں قائم و دائم ہیں جس سے انہیں روحانی خوشی ملتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ پرندوں کو دانہ پانی ڈال کر وہ بہت خوش ہوتے ہیں اور ان کے لیے یہ خوشی اور مسرت کا سبب ہے۔
ترگت قلیچ ایک رحم و نرم دل، شفیق اور درد دل رکھنے والے انسان ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں اپنے اس کام پر فخر ہے اور ان کا مقصد صرف اور صرف رضائے الٰہی ہے۔



