عزت، پہلوانی اور دودھ کی لسی۔


ہمارے دوست شیخ از پیر یعنی شیخ ناش پاتی نے ایک دن تھڑے پہ چائے پیتے ہوئے، گولڈ لیف کا ایسا لمبا کش کھینچا کہ سگرٹ نے ہاتھ جوڑے کہ بھیا سانس تو لینے دو ۔ پھر شیخ گویا ہوئے کہ تمام عمر میں یہی سمجھتا رہا کہ عزت دوسروں سے ملتی ہے۔ اسی لیے میں دوسروں سے عزت کی بھیک مانگتا رہا ہوں۔ دھوپ میں بال سفید کیے تو سمجھ آئی کہ دوسروں سے تو چَونی بھی نہیں ملتی، عزت کیا خاک ملے گی! شیخ فلسفی بن رہا تھا۔ تو کیسے ملتی ہے عزت؟ میں نے چائے کے کپ کے کنارے بیٹھی مکھی اڑاتے ہوئے پوچھا۔ عزت کے بارے تیرے بھائی کے تین ہی اصول ہیں۔ شیخ بولا

ا : عزت نہ تو مانگی جاتی ہے نہ دوسروں سے اس کی امید لگائی جاتی ہے
ب: جب تک اپ خود اپنی عزت نہیں کریں گے اپ کو بے عزتی ہونے کا احساس ہی نہیں ہو گا
ج: بے عزتی کا واحد حل یہ ہے کہ جس جگہ یا جن لوگوں میں اپ کی کو بے عزتی محسوس ہو اپ فوراً وہاں سے قطع تعلق کر لیں اور شدید ترین مگر پر امن احتجاج کریں

شیخ فلسفی سے ایک قدم آگے بڑھ کے انقلابی ہونے کا ثبوت بھی دے رہا تھا۔ آپ فکر نہ کریں، سگرٹ ختم ہونے کے پانچ منٹ بعد شیخ دوبارہ عام آدمی بن چکا تھا۔

عزت مالٹے کے رس کی مانند ہے۔ مالٹے کے اندر اگر رس نہیں ہے تو جتنا نچوڑ لیں، جرمن یا جاپانی جوسر میں ڈال لیں، رس نہیں نکلنا چاہے مالٹے کا ملیدہ نکل جائے۔

کہتے ہیں کہ امریکی، جرمن، عربی اور پاکستانی بیٹھے گپیں ہانک رہے تھے۔ فیصلہ ہوا کہ جس کی کم عزت ہے وہ کمرے کی صفائی کرے گا۔ امریکی بولا کہ ہمارے ہاں ماں باپ اور خاندان بچپن سے ہمیں عزت دیتے ہیں۔ اس وجہ سے ہمارے اندر بھرپور خود اعتمادی ہوتی ہے۔ جرمن بولا کہ ہماری حکومتیں ہمیں اتنی عزت دیتی ہیں کہ کوئی دوسرا ملک یا قوم ہمیں بے عزت کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ عربی کہنے لگا کہ ہماری عورتیں ہمیں پلکوں پہ بٹھاتی ہیں گھر جاتے ہی ہمارے جوتے اتار کے خدمت بجا لاتی ہیں، کوئی عربی خاتون کسی عرب مرد کی بے عزتی نہیں کر سکتی۔ پھر تینوں نے پاکِستانی کی طرف دیکھا، تو پاکستانی کرسی سے کھڑا ہو کے بولا

پہلے ہی کہہ دیتے کہ تو کمرے کی صفائی کر اتنی تمہید باندھنے کی کیا ضرورت تھی!

عزت مچھلی کی زندگی کی سی ہے۔ مچھلی پانی میں جتنا بھی رہے خوش رہتی ہے، سکون سے رہتی ہے۔ وہی مچھلی خشکی پر ایک سیکنڈ ایک لمحے میں پھڑک اٹھتی ہے اور تڑپ کے واپس پانی میں چلی جاتی ہے۔ آپ بھی مچھلی بن جائیں بے عزتی، عزت نفس کو زک اور خود اعتمادی پہ ہلکی سی دب، آپ کو ناقابل قبول ہو۔ تمام منفی صورتحال، عزت ذات پہ قدغن سے دور رہیں۔ کہتے ہیں پورس، سکندر سے ہارا تو سکندر کے پوچھنے پہ بولا کہ میرے ساتھ وہی سلوک کیا جائے جو بادشاہ بادشاہ کے ساتھ کرتا ہے۔

شکست میں بھی اس نے اپنی عزت رکھی۔ اور سکندر نے اس کی عزت رکھ کے اپنی عزت بڑھائی۔ کہا جاتا ہے کہ پورس کو بڑے علاقے کا گورنر بنا دیا گیا۔ یہ اور بات ہے کہ ہمارے تاریخ دان کو عزت نفس کی کمی محسوس نہ ہوئی۔ ہمیں آج تک یہ بات سمجھ نہ آ سکی کہ پورس کی شکست دراصل شمال مغربی ہندوستان یعنی آج کے پاکستان کی شکست تھی۔

تب کی شروع ہوئی غلامی اور عزت نفس کو پہنچی زک، آج تک ویسے ہی موجود ہے۔ تبھی شیخ ناشپاتی کہتا ہے کہ اگر کبھی عزت محسوس ہوئی ہو، تو بے عزتی بھی محسوس نہیں ہوتی۔

کہتے ہیں کہ اندرون لاہور کے ایک حضرت کو دودھ دہی اور لسی کا جنون تھا۔ مگر جیب اور گھر والے دونوں ہی سد راہ تھے۔ کسی نے مشورہ دیا کہ پہلوانی شروع کر دو اکھاڑے والے سب کچھ دیں گے۔ حضرت بہت خوش ہوئے اور پہلوانی اپنا لی۔ کچھ عرصہ تو خوب لسی پی کر خوش ہوئے۔ پھر ایک دن لوگ جمع ہوئے اور حضرت کو کشتی کے لیے مقابل آنے کا حکم دے دیا گیا۔ حضرت پہلوان یہ کہتے ہوئے بھاگ کھڑے ہوئے کہ ”ایسی لسی پہ ہزار لعنت ہے جس کے لیے لڑنا پڑے“ ۔

بات بھی درست ہے اگر لڑنا ہی ہے تو لسی کیوں پی جائے۔ لسی کی تو تاثیر ہی ٹھنڈی اور نیند آور ہے۔ دوستو پہلوان دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک لڑنے والے اور دوسرے دودھ لسی والے۔ فرق پیٹ کا ہے۔ لڑنے والے کا پیٹ نہیں ہوتا اور دودھ والے اپنے پیٹ میں ہی گم ہوتے ہیں۔ اندرون لاہور کے ایک لسی والے پہلوان جی دکان پہ بیٹھتے تھے تو ایک پیڑھا خاص طور پر ان کے پیٹ کے اگے دھر دیا جاتا تھا تاکہ پیٹ محفوظ قائم اور با سہارا رہے۔ پہلوان جی کہا کرتے تھے کہ اچھا پہلوان کھا کھا کے مخالف کو ہرا دیتا ہے۔ جوانی میں ہی دو قدم چل کے چار منٹ بیٹھے رہتے تھے، کہ سانس بحال ہو۔ پہلوان بن کے بھی دودھ لسی والی پہلوانی کرنا بھی عزت خود کا ایک اعلی مقام ہے۔

کڑوا سچ کہوں تو یہی ہے کہ جو لوگ اپنی ذات کی عزت کرتے ہیں وہ خود بخود دوسروں کو عزت دینا کم کر دیتے ہیں یعنی عزت خود آپ کو دوسروں کی عزت کرنے سے آزاد کر دیتی ہے۔

Facebook Comments HS

One thought on “عزت، پہلوانی اور دودھ کی لسی۔

  • 02/06/2024 at 12:56 صبح
    Permalink

    Beautifully written well done

Comments are closed.