لندن تا برمنگھم (2)۔
چار بندوں کا قافلہ لندن سے برمنگھم کی جانب رواں دواں ہے۔ چاروں کے چار اپنی اپنی دُھن میں مگن ہیں۔ درون کا ماحول یہ ہے کہ ایک بندہ ڈرائیونگ کے عمل کے ساتھ موسیقی کی سُریلی دُنیا میں منہمک ہے۔ دورانِ انہماک بقراطی انداز بناتے ہوئے فرماتے ہیں : ”موسیقی سُننے یا گنگنانے کے لئے کھانے کی طرح کوئی اوقات متعین نہیں، یہ تو ایک چلتی پھرتی کیفیت ہے جو جسم کو انرجی، فکر کو تازگی اور روح کو بالیدگی فراہم کرتی ہے۔ یہ عمل چلتے رہنا چاہیے، تا آنکہ انسان پر غنودگی غالب اور بیداری مغلوب ہو جائے، ایسے میں دل۔“ تاہم، ہم فوری طور پر اُس کی بات کی روانی میں خلل ڈال کر لقمہ دیتے ہیں کہ ڈرائیونگ کے دوران بیداری کا دامن پکڑ کر آگے جانے میں ہی خیر و عافیت ہے۔
کار کی پچھلے سیٹ پر براجمان دوسرے دو گُرو، موبائل کی دُنیا میں ڈوبے اپنی ’چاپیرچل‘ سے بے نیاز ہیں۔ باقی رہ گئے ہم جو موسیقی کے سات سُروں کے ساتھ حرکات و سکنات کا بیلنس برقرار رکھے، بیرون میں قدرت کے دلآویز نظاروں سے بھی نظریں مسرور کر نے پر مامور ہیں۔ موٹر وے ایم 40 کے دونوں اطراف میلوں میلوں سرسوں اور گندم کی فصلیں عین عالمِ شباب میں کھڑی یوں لہلہا رہی ہیں، ایسی سرسرا رہی ہیں، گویا ہماری آمد کی خوشی میں پا بہ رقصاں ہوں۔
گہرے سبز اور نیلے رنگوں کی اکٹھ نے رونق، صرف زمین کو نہیں بخشی بلکہ فضا کو بھی عجیب ’دلبرانہ‘ سا بنا دیا ہے، جس کی ریفلیکشن ساتھیوں کے متجسس مکھڑوں سے بھی ہویدا ہے، جو نیلی چھتری والے کی اِس وسیع و عریض کائنات کی قریب قریب آٹھ ارب آبادی، نصف جس میں مبلغ چار ارب خواتین بنتی ہیں، کی جھرمٹ میں، اپنے اکیلے پن پر رنجیدہ ہیں۔ جب ہم اپنی نظریں آگے دوڑاتے ہیں تو کہیں کہیں دل کش و پُرسکون دیہات درختوں میں ڈھکے ہوئے، انواع و اقسام کے برٹش نیشنلٹی ہولڈرز پرندے جیسے کبوتر، کوئل اور لال چڑیاں، اپنی ہم نواؤں کے ساتھ چونچیں ملانے کی آرزو دِل میں لئے چھیڑ خوانی کے لئے ابتدائی موڈ بنا رہی ہیں۔
جگہ جگہ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت شاداب چراگاہیں اور سرسبز گھاس کے میدان ہیں جو الگ سے بھیڑ بکریوں کے ڈیکلیئرڈ خودمختار سلطنت ہیں۔ جہاں وہ ’ڈیورنڈ لائن‘ کے خود ساختہ خد و خال کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ’میری ارضی میری مرضی‘ کی زندگی اپنے انداز میں جی رہے ہیں، جس پر رشک کرنے کو جی چاہتا ہے۔ دِل برداشتہ دِل تو دھڑکتے ہوئے یہ بھی دباؤ ڈالتا ہے کہ طبقۂ انسانی سے فوری طور پر بھاگ، چلتی گاڑی سے فوری چھلانگ مار اور اِن ہی آراستہ و پیراستہ گرین گراؤنڈز میں دُنبوں کے طبقہ میں نقل مکانی کر اور فوری طور پر اُن کے ساتھ خرمستیوں کی داغ بیل ڈال۔ سوال مگر یہ ہے کہ کیا یہ چار پائے ہمیں اپنے ساتھ شامل کرنے پر رضامند بھی ہوں گے؟
یہ ناہنجار گورے نہ صرف یہ کہ مال مویشیوں اور چرند پرند پر مہربان ہیں بلکہ ہر جان دار کا خیال رکھنا وہ اپنا فرض ِاوّلین سمجھتے ہیں۔ کُتّوں اور بلیوں کے ساتھ تو اتنی محبت کرتے ہیں جتنا گھر کے کسی فرد سے۔ وہ تو زور سے زمین پر بھی پاؤں نہیں رکھتے مبادا کہیں چیونٹی پیر تلے نہ آ جائے۔ یہاں پر حیوانات کی فلاح و بہبود اور حقوق کی تنظیمیں بڑی بیدار اور سرگرم ہیں۔ ہر دوسرے تیسرے گھر کے کھلے حصے میں پرندوں کے دانہ پانی کا اہتمام کرنا شہری اپنی اخلاقی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔
ذرائع نقل و حمل کی بات ہو تو اس شعبہ میں برطانیہ کا ثانی نہیں۔ یہاں کے ہائی ویز، ایکسپریس ویز، موٹر ویز، ریل ویز، سب ویز، انڈر گراؤنڈ ٹنلز اور بری و بحری راستوں نے پورے ملک کے باسیوں کو باہمی طور پر منظم، مربوط اور متحرک بنا دیا ہے۔ ہر لحظہ، ہر لمحہ، دن رات، صبح شام، ماہ و سال، کسی تعطل کے بغیر یہاں کی زندگی پوری طرح چوکس اور متحرک رہتی ہے اور یہی اُن کی ترقی کا راز ہے۔ برصغیر میں برٹش راج کے دوران بھی گوروں نے جن شعبوں کو خصوصی طور پر فوکس کیا، وہ ریل، میل اور جیل تھے۔
طائرانہ نظر دوڑا کے دیکھیں، اپنے وطن کے طول و عرض میں اُس دَور کا ریل نیٹ ورک، پوسٹل سروسز اور جیلوں کا ایک موثر انفراسٹرکچر اب بھی موجود ہے۔ بے شک اس میں ان کی اپنی مصلحتیں بھی ہوں گی لیکن زیادہ تر فائدہ تو یہاں کے لوگوں کو ہوا۔ انھوں نے پاکستان بھر میں ریل کی پٹڑی کے ساتھ اتنی زمین رکھ چھوڑی تھی کہ ایوب خان کے دورِ حکومت میں چینیوں نے پیش کش کی کہ اگر ریلوے کی زمین اُن کو ٹھیکے پر دی جائے تو وہ خوردنی اجناس میں پاکستان کو خود کفیل بنا سکتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ہماری افسر شاہی و پالیسی ساز اس تجویز کو ماننے کے لئے تیار نہ تھے کہ وہ امریکہ بہادر کی مرضی کے خلاف پتا بھی نہیں ہلا سکتے۔ دوم درآمدات کی مد میں اُن کے جاری واروں نیاروں کا قلع قمع ہونے کا اندیشہ تھا۔
ڈاک کا نظام دیکھیں تو دور کیوں جائیں ہمارے صوبے کے گورنر ہاؤس کے پچھواڑے میں پوسٹل سروسز کے بڑے بڑے عالی شان دفاتر اور رہائشی کالونیاں ہیں، اس کے عقب میں ریلوے کا اسٹیشن اور ریلوے ملازمین کی کالونی ہے۔ یوں آدھا کینٹ اُن کے قبضے میں ہے۔ یونی ورسٹی ٹاؤن جیسے پشاور کے دل میں محکمہ ڈاک کے افسران کے لئے مخصوص بڑے بڑے محل نما گھر اِن گوروں کے دَور کی نشانیاں ہیں۔ 1884 ء میں بنا دیوہیکل پشاور جیل کی حدود اربعہ کا حساب کر لیں۔
ہمارے درگئی، مردان، چارسدہ اور صوابی جیسے علاقوں کی زمینیں اگر سونا اُگل رہی ہیں اور ایک چوتھائی پاکستان رات کی تاریکیوں میں روشن رہتا ہے تو یہ دریائے سوات کی اُس ٹنل کے مرہونِ منت ہے جو بٹ خیلہ سے درگئی تک اِن گوروں نے بنائی تھی۔ الغرض کوئی سرپھرا اِن کے منصوبوں کی جانچ پڑتال اگر کرانا چاہیں تو بہ قولِ کلدیپ نائر، اِس کے لئے ’ایک زندگی کافی نہیں۔ ‘
کیا کسی بھی پاکستانی حکم ران میں اتنا دَم خم ہے کہ ایسے معجزے بپا کر سکے۔ دہ مولانا بجلی گھر خبرہ، ہائے شرمیدلو۔ واہ فیض۔
ضبط کا عہد بھی ہے شوق کا پیمان بھی ہے
عہد و پیماں سے گزر جانے کو جی چاہتا ہے
درد اتنا ہے کہ ہر رگ میں ہے محشر برپا
اور سکوں ایسا کہ مر جانے کو جی چاہتا ہے
گاڑی کے نرم گرم گود میں ایویں اٹکھیلیاں سوجھتے سوجھتے اور اپنے یتیم و یسیر وطن کا رونا روتے روتے ہماری بے زار آنکھیں نیم باز ہوجاتی ہیں۔ ہم ایک اور زاویے سے سوچنے لگ جاتے ہیں۔ آج جس سُکڑی ہوئی سلطنت میں ہم گھوم گھام رہے ہیں، یہ کبھی اپنی وسعت کے اعتبار سے دنیا میں تاریخ کی سب سے بڑی سلطنت ہوا کرتی تھی۔ ایک عالمی طاقت کے گُھمنڈ میں نتھنوں نتھنوں سرشار۔ تاریخ کے صفحات کھنگالنے کی ضرورت نہیں، پتا پتا بوٹا بوٹا جانتے ہیں کہ ایک صدی پہلے اس ملک کی طاقت اور وسعت کتنی تھی۔
33 ملین مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلی اس عظیم سلطنت کی آبادی تب 50 کروڑ کے لگ بھگ تھی، یعنی دنیا کی دو ارب آبادی میں ایک چوتھائی کے حصہ دار۔ کہتے ہیں کہ یہ سلطنت دنیا کے پانچوں آباد براعظموں میں حصہ بقدرِ جثہ کے موجود تھی۔ اسی لئے تو کہا جاتا تھا کہ سلطنت برطانیہ میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا۔ یہ سارا کیا دھرا ایسٹ انڈیا کمپنی کی آمد سے جوڑا جاتا ہے، جو پانچ صدی پہلے ملکہ الزبتھ اوّل کے دور میں ایک تجارتی کمپنی کے روپ میں ہندوستان میں لنگر انداز ہوئی۔
تب مغل سلطنت کی زبوں حالی سے جو خلا پیدا ہوا اُسے اِس کمپنی نے پورا کیا۔ یوں 1857 ء کو برصغیر مکمل طور پر سلطنتِ برطانیہ کا حصہ بن چکا تھا۔ اس کے اصل باسی خود کو دنیا کا مختارِ کل سمجھتے تھے اور ہم جیسے تھرڈ ورلڈ کے جان دار اُن کی کالونی۔ خیر، ہم کو تو ہمارے برائے نام ’بڑے‘ بھی بلڈی سویلینز کہہ کر پکارتے ہیں تو بے چارے گوروں سے کیا گلہ۔
آج برطانیہ کا رقبہ ہمارے پنجاب کے برابر یعنی دو لاکھ چوالیس ہزار مربع کلومیٹر کے لگ بھگ اور آبادی پنجاب کے نصف کے برابر ہے۔ اب اپنے سکڑے ہوئے ملک کو انہوں نے چھوٹے چھوٹے اضلاع میں تقسیم کیا ہے۔ ہر ضلع میں ایک لاکھ سے کم آبادی ہے۔ یہاں ضلعی حکومتیں ہیں جو اپنے علاقے کے معاملے خود سلجھاتی ہیں۔ خود ہی کونسلز فنڈز کے لئے ضرورت کے مطابق ٹیکس کی وصولی کرتی ہیں۔ مرکز بھی فنڈز کی فراہمی میں دل کھول کر اپنا حصہ ڈالتا ہے۔
لوکل کونسل عوامی خدمات کی فراہمی کے لئے ہر وقت ریڈ الرٹ پر رہتی ہے۔ اس مقصد میں وہ کہاں تک کامیاب ہیں، اس بارے میں جاننے کے لئے اُن کو ہمارے سرخ فیتے کی طرح کوئی پریزینٹیشن کی ضرورت ہے، نہ ملٹی میڈیا پر لابنگ کی بلکہ ضرورت ہے کہ گھر کی چار دیواری سے باہر نکلیں اور یہاں کی اقوام عالم کے مربوط اور منظم نظامِ زندگی کا احوال بہ چشمِ خود دیکھیں۔
لو جی، اِدھر ہم سکون سے بیٹھے بلکہ سیٹ پر آدھے لیٹے، نیم فلسفی بنے، نیم وا آنکھوں سے مملکتوں کے درمیان تقابلی جائزہ لینے کے عمل میں مصروف ہیں، اُدھر موبائل فونز کی گھنٹیاں ہیں جو مسلسل بج رہی ہیں، وہی برمنگھم کے بے چین بندے کی آنکھیں ہماری راہ دیکھ رہی ہیں۔ کیا فرماتے ہیں فراز بیچ اِس منجدھار کے :
سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں
سو اس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں
یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں
رُکے تو گردشیں اُس کا طواف کرتی ہیں
چلے تو اُس کو زمانے ٹھہر کے دیکھتے ہیں
بس اِک نگاہ سے لُٹتا ہے قافلہ دل کا
سو راہ رواں تمنّا بھی ڈر کے دیکھتے ہیں
(مزید دل چسپ احوال پڑھنے کے لئے اگلی قسط کا انتظار کیجئے )


