عینک کے استعمال میں تساہل
میں دسویں جماعت میں تھا جب مجھے اس بات کا علم ہوا کہ میری ایک آنکھ کی نظر اس قدر کمزور ہے کہ عینک بھی اس میں بہتری لانے سے قاصر ہے۔ ڈاکٹر نے مجھے بڑا کہا کہ تم عینک لگوا لو ورنہ دوسری آنکھ کی نظر بھی کمزور ہو جائے گی لیکن میرا ذاتی خیال تھا کہ عینک میری شخصیت کی ہیروانہ مقناطیسیت کو کم کر دے گی۔ کیونکہ اُن وقتوں کے فلمی ہیروز میں عینکیں لگانے کا رواج عام نہیں تھا۔ اسی احمقانہ سوچ کی تحت مدتوں تک سب کو ایک ہی آنکھ سے دیکھتا رہا۔
وہ ڈاکٹر بھی کم بخت سیانا تھا اس کی پیشن گوئی حرف بہ حرف سچ ثابت ہوئی اور جب میں نے سکول میں پڑھانے کا کام شروع کیا تو پتہ چلا کہ اب عینک لگوائے بغیر کام نہیں چلے گا تو مجبوراَ لگوانا ہی پڑی۔ چور چوری سے جائے ہیرا پھیری سے نہ جائے کے مصداق عینک تو میں نے مجبوراً لگوا ہی لی لیکن ساتھ ہی عینک میں ایک بار یک اور خوبصورت سے زنجیر بھی ڈلوا لی۔ جب پڑھنے لکھنے کا کام ہوتا تو عینک ناک پر رکھ لیتا اور اس کے بعد زنجیر کی مدد سے گلے میں لٹکا لیتا۔
دماغ سے ستر سال کی عمر میں بھی وہ خیال ابھی تک نہیں نکل سکا۔ جو جوانی کی عمر سے ہی وہاں جم کر بیٹھا ہوا ہے۔ پڑھنے لکھنے کے علاوہ کسی فرد کو پہچاننے کا کام اندازے اور تیر تُکے سے ہی چلایا جاتا جو اکثر غلط نکلتا۔ لیکن اس کے باوجود میں مستقل طور پر عینک لگائے رکھنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ ایک دن جب تم پارک سے باہر آئیں تو میں نے تمہیں بغور دیکھا۔ اتفاقاً اس دن گلے میں عینک ڈالنا بھول گیا تھا۔ تم خاموشی سے پاس سے گزر گئیں میں کچھ دیر تمہارے پیچھے پیچھے چلا پھر رُک گیا۔
کچھ دیر رُک کر پھر چل پڑا۔ تمہیں شاید میری کیفیت کا اندازہ ہو چکا تھا۔ تم نے رُک کر مجھے آنے کا اشارہ کیا اور پوچھا کیا بات ہے۔ اس وقت میں نے تمہیں بتایا کہ تمہارے باہر آنے سے پہلے میں نے ایک اور خاتون کو غلطی سے تم سمجھ لیا تھا۔ لیکن جلد ہی اس غلطی کا احساس ہو گیا جب اس خاتون نے چلتے چلتے اچانک پیچھے مڑ کر غصیلی نظروں سے گھورتے ہوئے کچھ بڑبڑاہٹ سی کی۔
تمہیں میری نظر کی کمزوری کا بخوبی اندازہ تھا۔ اس لیے اب تم نے مجھ پر پابندی لگا دی کہ اپنے طور پر یہاں اب تم نے نہ ہی مجھ سے بات کرنی ہے اور نہ ہی میرے پیچھے آنا ہے۔ جب تک میں خود تم سے بات نہ کر لوں کیونکہ آج تو تم بچ گئے ہو۔ ضروری نہیں کہ بار بار اسی طرح قسمت تمہارا ساتھ دے۔ اب تم پارک سے باہر آ کر مجھ سے مخاطب ہو کر کہتیں۔ آؤ انجم چلیں اور ہم دونوں چل پڑتے اور کبھی کبھار شرارتاً تم منہ پھیر کر میرے پاس سے گزر جاتیں۔ بعض اوقات تو میں پہچان کر ساتھ ہو لیتا اور بعض اوقات متذبذب سا کھڑا رہتا۔ بصورت دیگر تم تھوڑی دور جا کر اپنی مخصوص آواز دیتیں۔ آؤ انجم چلیں۔
ہم مہینے کے آغاز میں ہی مہینے بھر کی ضرورت کی اشیاء کی باقاعدہ ایک لسٹ بنا کر خرید لاتے۔ اس کے علاوہ اگر کہیں بازار جانے کی ضرورت محسوس ہوتی تو تم اکثر میرے ساتھ جایا کرتیں۔ اگر راستے میں کہیں چھلی بھوننے والی ریڑھی نظر آتی تو بچوں کی طرح ضد شروع کر دیتیں۔ چھلی لوں گی چھلی لوں گی۔ ہم وہاں سے حسبِ ضرورت بھنی ہوئی چھلیاں لے لیتے۔
ایسے وقت میں تم اکثر جتایا کرتیں۔ انجم میری خواہشیں بڑی ہی سادہ سی ہیں۔ چھلی، شکرقندی، بھنے ہوئے دانے، گُڑ، گنا سب سستی اشیاء ہیں۔ میں تمہیں کسی بھی معاملے میں کبھی تنگ نہیں کرتی۔ میرے سنگھار ریکس کے لیے سرسوں کا تیل میری ماں گھر کی دیسی سرسوں سے نکلوا کر بھجوا دیتی ہے۔ سرمہ بھی وہ پیس کر بھجوا دیتی ہے اور چار چھ آنے کی اخروٹ کی چھال خرید کر میں اس سے اپنے دانت بھی صاف کر لیتی ہوں اور اسی سے ہونٹ رنگ کر لپ اسٹک کا کام بھی چلا لیتی ہوں اور انہی تین اشیاء سے میرا سنگھار مکمل ہو جاتا ہے۔ شاید اسی وجہ سے ساٹھ سال کی عمر میں بھی تمہارے سر کے تمام بال ابھی تک سیاہ تھے۔ اکثر عورتیں پوچھتیں کہ بالوں میں کون سا رنگ لگاتی ہو۔ جب تم یہ بتایا کرتی کہ میں کوئی رنگ استعمال نہیں کرتی بلکہ یہ قدرتی رنگت ہے تو اس جواب کی بابت اکثر کے ذہنوں میں شکوک و شبہات پیدا ہو جایا کرتے۔


