جنریشن گیپ


بچپن میں ایک جملہ سنا تھا کہ، دادا پوتے کا پہلا دوست ہوتا ہے جب کہ پوتا اپنے دادا کا آخری دوست ہوتا ہے۔ یہ بات بھی زندگی میں سنی جانے والی بے شمار دیگر فلسفیانہ باتوں کی طرح کبھی سمجھ نہیں آئی اور کہیں دماغ کے نہاں خانوں میں جا ٹھہری۔ وقت گزرتا گیا، ماہ و سال بدلتے گئے لیکن اس بات نے جو سوال معصوم دماغ میں پیدا کیے تھے وہ ہمیشہ تشنہ ہی رہے اور یہ گتھی کبھی نہ سلجھ سکی۔ یہ بات سمجھ میں نہ آئی کہ ایک 3۔ 4 سال کا بچہ اور 60۔ 70 سال کا بزرگ ایک دوسرے کے دوست کیسے ہو سکتے ہیں۔

جب بڑے ہونے کے بعد عملی زندگی میں قدم رکھا اور زمانے کے سرد و گرم سے حقیقی معنوں میں واسطہ پڑا تو پھر بہت سی باتوں کی خود بخود سمجھ آنا شروع ہو گئی۔ بچپن میں دادا جان کے کندھوں پر بیٹھ کر کھیلتے ہوئے یا ان کے پاؤں دباتے ہوئے ان کی زبان سے جو کہانیوں سنی تھیں اس وقت وہ صرف دلچسپی کا سامان پیدا کرتی تھیں اور ہم صرف سن کر خوش ہوتے تھے لیکن جب حقیقی معنوں میں شعور کی منزل تک پہنچے تو ان کہانیوں میں پوشیدہ وہ سبق اور تجربات بھی نظر آنا شروع ہو گئے جو کہ نہ تو کسی سکول، کالج میں پڑھائے جاتے ہیں اور نہ ہی انٹرنیٹ پر دستیاب ہیں۔

یہ ہر گھر کی کہانی تھی اور اس طرح نہ صرف بزرگ اپنے چھوٹے بچوں کو کہانیاں سناتے تھے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اپنے تجربات بھی ان کے ساتھ بانٹتے تھے اور اس طرح ایک غیر محسوس انداز میں یہ تجربہ اور علم نسل در نسل منتقل ہوتا رہتا تھا اور آنے والی نسلیں اپنے بزرگوں کے علم سے فائدہ اٹھاتی تھیں۔

لیکن پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نسلوں کے درمیان یہ قربت ختم ہونے لگی۔ بچوں اور نوجوانوں کے مشاغل اور دلچسپی کے سامان بدل گئے انہیں بوڑھے بزرگ بورنگ اور آؤٹ ڈیٹڈ لگنے لگے۔ جنریشن گیپ کی اصطلاح عام ہو گئی جس کے نتیجے میں بزرگ تنہائی کا شکار ہو گئے اور ان میں سے اکثر ڈپریشن کے مریض بن گئے۔

”جنریشن گیپ“ سے مراد دو نسلوں کے درمیان اقدار، عقائد، رائے اور طرز عمل میں فرق کا ہونا ہے۔ اس کی عمومی وجوہات میں عام طور پر والدین اور بچوں یا دادا دادی اور پوتے پوتیوں کے درمیان ثقافت، ٹیکنالوجی، سیاست، تعلیم، کیریئر کے انتخاب اور طرز زندگی جیسے مختلف امور پر غلط فہمیاں اور ایک دوسرے کے نظریات سے اختلافات شامل ہیں۔

پاکستان میں بڑھتے ہوئے جنریشن گیپ کی چند وجوہات درج ذیل ہیں :

ثقافتی تبدیلیاں : پاکستان کی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری اور میڈیا ملک کی حقیقی ثقافت کی تصویر پیش کرنے میں یکسر ناکام رہے ہیں جس کے نتیجے میں نوجوان نسل کو مغرب اور ہمسایہ ملک بھارت کی ثقافت نے اپنی طرف متوجہ کیا ہے اور وہ بتدریج لباس اور شادی بیاہ کی رسومات میں ان کی تقلید کرنا شروع ہو چکے ہیں۔

ٹیکنالوجی کی ترقی: گزشتہ دو دہائیوں میں ٹیکنالوجی، بالخصوص انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں ہونے والی ترقی نے بات چیت اور ملاقات کے معنی مکمل طور پر بدل کر رکھ دیے ہیں۔ نوجوان اس ترقی سے بہت خوش ہیں اور انہوں نے اسے کھلے دل سے قبول کیا ہے لیکن بزرگ اس تیز رفتار ترقی سے نہ توہم آہنگ ہو سکے ہیں اور نہ ہی اسے کھلے دل سے قبول کر پائے ہیں۔

تعلیم اور کیریئر کی امنگیں : پاکستان میں تعلیمی نظام وقت کے ساتھ ساتھ ترقی کر رہا ہے، نئی نسلیں زیادہ متنوع اعلی تعلیم اور کیرئیر کا انتخاب کر رہی ہیں۔ اب نوجوان ایسی فیلڈ (میوزک، کوکنگ، فیشن، سپورٹس) میں کیرئیر بنانے سے بالکل بھی نہیں ہچکچاتے جن کو کچھ عرصہ پہلے تک معیوب تصور کیا جاتا تھا۔ جب کہ پرانی نسلوں کی ترجیح ابھی تک روایتی کیریئر ہی ہیں، جس کی وجہ سے ملازمت کے انتخاب اور پیشہ ورانہ ترقی کے بارے میں مختلف توقعات پیدا ہوتی ہیں۔

سماجی تبدیلی اور گلوبلائزیشن: آج کی نسل عالمی رجحانات اور سماجی تحریکوں سے زیادہ واقف ہے۔ وہ انسانی حقوق، خواتین کو با اختیار بنانے اور ماحولیاتی خدشات جیسے مسائل پر گہری نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ ان پر کھل کر بات کرتے ہیں اور ان مسائل کے حل کے لیے اپنی آواز بلند کرتے ہیں۔ جب کہ اکثر بزرگوں کے مطابق یہ غیر ضروری ہے اور ان کے خیال میں ان مسائل کا براہ راست یا اس کے اثرات کا پاکستان کے حالات سے کوئی خاص تعلق نہیں ہے۔

مذہبی تشریح: پاکستان مذہبی طور پر متنوع ملک ہے مسلمان اکثریت میں ہیں لیکن دیگر مذاہب کے پیروکار بھی موجود ہیں۔ نوجوان دیگر مذاہب کے بارے میں زیادہ لبرل نظریات کا اظہار کرتے ہیں جو بعض اوقات اختلاف کا سبب بنتا ہے۔

سیاسی وابستگی اور نظریات: سیاسی نظریات مختلف نسلوں میں مختلف ہوسکتے ہیں، پرانی نسلیں بعض اوقات روایتی یا قدامت پسند سیاست پر عمل پیرا ہوتی ہیں جبکہ نوجوان زیادہ ترقی پسند یا اصلاح پسند نظریات کی حمایت کرتے ہیں وہ ذات برادری یا لسانیت سے بالاتر ہو کر قومی سیاست پر یقین رکھتے ہیں۔ جس کی وجہ سے انہیں اکثر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور ان پر بزرگوں کی بات نہ ماننے کا الزام لگتا ہے۔

پاکستان میں نسلوں کی دوری یا جنریشن گیپ ایک بڑھتا ہوا رجحان ہے جو کہ باعث فکر ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان اختلافات کو حل کرنے کے لئے فریقین باہمی احترام اور کھلے دل کے ساتھ بات چیت کریں اور ایک دوسرے کو اپنا نقطہ نظر دلیل کے ساتھ سمجھائیں۔ اس طرح کی بات چیت سے بہت سی غلط فہمیوں کا ازالہ ہو گا، اور رشتوں کی خوبصورتی کو ایک نئے سرے سے محسوس کرنے کا موقع ملے گا۔

Facebook Comments HS

3 thoughts on “جنریشن گیپ

  • 29/05/2024 at 9:41 صبح
    Permalink

    ماشااللہ بہت خوب

  • 29/05/2024 at 10:26 صبح
    Permalink

    Masha Allah excellent article furthermore need of the day to sensitize our youth

  • 29/05/2024 at 11:07 صبح
    Permalink

    good words and mashallah good written by you sir

Comments are closed.