جرمن آئین کی پچھتر ویں سالگرہ۔


جرمن کے دارالحکومت برلن میں، رائیخس تاگ یعنی جرمن نیشنل اسمبلی اور چانسلری کے درمیان، کھلے اسمان تلے اور (فوجی) بینڈ باجے کے بغیر، جرمن آئین، جو جرمن زبان میں Grundgesetz یعنی بنیادی قانون کہلاتا ہے، کی پچھتر ویں سالگرہ، حکومتی سطح پر، نہایت دھوم دھام سے منائی گئی۔ یہ بنیادی قانون، پہلے صرف مغربی جرمنی پر لاگو ہوتا تھا اور 35 سال قبل مشرقی جرمنی میں پرامن انقلاب کے بعد ، اب متحدہ جرمنی کا بھی آئین ہے، یہ 23 مئی 1949 کو جرمنی کے عارضی دارالحکومت بون میں لکھا گیا اور ایک دن بعد نافذ العمل ہوا تھا۔

اس آئین کے Praeambel یعنی تمہیدی بیانیہ کا اُردو ترجمہ یہ ہے کہ ”خدا اور عوام کے سامنے اپنی ذمہ داری کا احساس، متحدہ یورپ میں بطور مساوی رکن، دنیا میں امن قائم کرنے کی خدمت کی خواہش سے متاثر ہو کر، اپنی آئینی

طاقت کی بنیاد پر، خود (جرمنی ) کے لئے یہ بنیادی قانون بنا ہے۔ ”
جرمنی کا قانون انسانوں کے ناقابل تسخیر وقار پر مرکوز ہے
، اس میں مذہبی آزادی، میڈیا کی آزادی، شخصی آزادی رائے

سفری آزادی اور آزادی اجتماع شامل ہیں۔ ان کے علاوہ یہ ”بنیادی قانون“ قانون سازی کے لئے بنیادی ڈھانچے کا کام کرتا ہے۔ حکومت اور عدلیہ کے دائرہ اختیار کا تعین کرتا ہے اور وفاقی، صوبائی اور بلدیاتی سطح پر ان کے نمائندگان کے فرائض کی ادائیگی کی وضاحت کرتا ہے۔

سالگرہ کا جشن، عوام کے لئے ایک میلے کی مانند، بروز جمعہ سے ہفتہ تک، مورخہ 24 مئی سے 26 مئی تک منایا گیا۔ جبکہ جمعرات کے روز، جرمنی کے صدر جناب سٹائین مائر کی افتتاحی تقریر، چانسلر شولس بشمول کابینہ، اکثریتی صوبائی وزراء اعلیٰ، پارلیمان اور مختلف اداروں کے

نمائندگان کی موجودگی میں تقریباً 1100 لوگ سن رہے تھے۔ اس تین روزہ جشن میلے میں سرکاری اور غیر سرکاری تنظیموں کی نمائندگی بھی تھی جنہوں نے اپنے اپنے ”معلوماتی سٹالز“ بھی لگا رکھے تھے۔

ہفتے کے روز کھلے میدان ہی میں، جرمن چانسلر کی طرف سے، ایک سوال۔ جواب سیشن کا اہتمام کیا گیا۔ چانسلر شولس، مائیک ہاتھ میں لئے، ایک عام شخص کی طرح ادھر اُدھر گھوم رہے تھے اور اپنے چاروں طرف کھڑے سامعین کے سوالوں کے جواب دے رہے تھے۔ اس سیشن کا انعقاد، بغیر کسی رکاوٹ یعنی پولیس، رینجرز کی موجودگی کے بغیر، ہوا تھا۔ وہاں موجود سوالات کرنے والوں میں ایک، حال ہی میں جرمنی آئے ہوئے، بیس سالہ ہونہار پاکستانی نوجوان بھی شامل تھے۔ بہت سے لوگوں نے چانسلر شولس کے ساتھ تصاویر بھی اتروائیں۔

موجودہ جرمنی نے اپنے ماضی سے سبق سیکھا ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے چار سال بعد ، اس بنیادی قانون کی شکل میں، جرمنی میں حالیہ جمہوریت کی پیدائش اور فاشزم کی موت واقع ہوئی تھی۔ اس جمہوری آئین کے نتیجے میں ایسی جمہوری روایات سامنے آئیں جنہوں نے جرمن تاریخ کے سیاہ ترین باب، جو نسلی ذہنیت، جس میں نیلی آنکھوں اور سنہری بالوں والی جرمن نسل کی قبولیت اور باقی تمام دنیا کے خلاف اجتماعی محاذ، یعنی صرف جرمن نسل اور قوم پرستی پر مبنی معاشرے کا قیام شامل تھا، اور جس کے نتیجے میں 60۔ 70 ملین نفوس کا ضیاع ہوا تھا، کو پس پردہ ڈال دیا ہے،

اس آئین کو لکھنے والی، جرمن صوبوں کے نمائندگان پر مشتمل، پارلیمانی کونسل میں 77 شخصیات بشمول 4 خواتین شامل تھیں۔ چند لوگ سابقہ نازی جماعت سے بھی منسلک رہے تھے۔ اور کچھ ہٹلر کے حراستی کیمپوں سے بچ جانے والے یا جرمنی چھوڑنے پر مجبور اور پھر واپس آنے والے بھی شامل تھے۔

جرمن جمہوری تناظرات میں، سابقہ جرمن چانسلر محترمہ انگیلا میرکل نے، 700 صفحات پر مشتمل اپنی سیاسی سوانح حیات لکھی ہے۔ اس کتاب کا خوبصورت عنوان ”Freiheit“ ( آزادی: 1954 سے 2021 تک کی یادیں ) ہے۔

پبلشرز کے مطابق، یہ کتاب 26 نومبر 2024 کو منظر عام پر آئے گی۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments