سانحہ سرگودھا: چراغ سب کے بجھیں گے


ہم جس مذہب کے پیروکار ہیں اس کے متعلق ہم اپنے بڑے بزرگوں سے سنتے آئے ہیں ” کہ یہ امن و آشتی کا مذہب ہے“. معزز علمائے کرام جمعہ و عیدین اور مختلف ٹی وی چینلز پر اس بات کا اکثر و بیشتر چرچا بھی کرتے رہتے ہیں۔

جس نے ایک انسان کو قتل کیا گویا اس نے پوری انسانیت کو قتل کر دیا اور جس نے ایک جان بچائی گویا اس نے پوری انسانیت کی جان بچائی۔ مومن وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے محفوظ رہیں۔ کیا واقعی میں ایسا ہے؟

ہم ان فرامین کو سنتے سنتے بڑے ہوئے ہیں لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان جملوں کی عملی تفسیر آج تک دیکھنا نصیب نہیں ہو پائی۔ ہم نے تو ہر طرف جنونیت، وحشت یا جذباتیت کا راج دیکھا ہے اور جنونیوں کے ہاتھوں انسانیت کی تذلیل ہوتے دیکھی ہے۔ روز بروز پر تشدد قسم کے رونما ہونے والے واقعات اور جنونیوں کی ہجومی عدالتیں ان ابتدائی جملوں کی نفی کرتی دکھائی دیتی ہیں۔

آخر یہ کون لوگ ہیں جو کسی بھی واقعہ کی چھان بین کیے بغیر بربریت پر اتر آتے ہیں؟ سرگودھا میں رونما ہونے والے المناک واقعہ نے پھر سے ماضی میں ہونے والے دلخراش واقعات کی یاد تازہ کر دی اور حسب سابق ایک بار پھر ہم نے دنیا پر ظاہر کر دیا کہ ہمیں خدائی طاقت کو اپنے ہاتھ میں لینے سے کوئی نہیں روک سکتا اور ہمیں ایسا کرنے میں کوئی عار بھی محسوس نہیں ہوتی۔ امن و پیار کے داعی اس قدر سفاک اور پتھر دل کیسے بن جاتے ہیں کہ ایک جیتے جاگتے انسان کو پہلے بے دردی سے مارتے ہیں، اس کے جسمانی اعضاء کو اینٹوں، پتھروں اور ڈنڈوں کے وار سے چھلنی کرتے ہیں اور آخر میں لاش تک کو بھی آگ لگا دیتے ہیں۔

سیالکوٹ میں ہونے والی بربریت کو بھلا کیسے بھلایا جا سکتا ہے؟ جس میں ایک سری لنکن شہری پریانتھا کمارا کو جذباتی ہجوم نے بلاسفیمی کے الزام پر آگ لگا دی تھی، دل پر ہاتھ رکھیں اور دماغ سے سوچنے کی زحمت گوارا کریں کہ جب پریانتھا کی جلی ہوئی لاش سری لنکا پہنچی ہوگی تو وہاں کی عوام کے ذہنوں میں ہمارے متعلق کیا تصور قائم ہوا ہو گا؟ عوام کو تو چھوڑیں اس کی فیملی کے افراد یا اہل خانہ ہمارے متعلق کیا سوچتے ہوں گے؟ انہوں نے سوال تو اٹھایا ہو گا کہ یہ کون سے مذہب کے پیروکار ہیں جو انسانوں کی بجائے اپنے جنون کو فوقیت دیتے ہیں اور امن و سلامتی کا دعویٰ کرنے والے اس قدر حیوانیت پر کیسے اتر سکتے ہیں؟

سوال یہ پیدا ہوتا ہے
کہ کیا سچائی کو اپنا وجود تسلیم کروانے کے لیے کسی سہارے کی ضرورت پڑتی ہے۔
کیا واقعی سچائی کی توہین ہوتی ہے؟ اگر ہوتی ہے تو پھر یہ کیوں کہا جاتا ہے کہ سانچ کو آنچ نہیں؟
کیا حقائق تسلیم کیے جانے کے محتاج ہوتے ہیں؟
کیا سچائی کو اپنی حیثیت برقرار رکھنے کے لیے محافظین کی ضرورت ہوتی ہے؟
کیا حقیقت اور سچائی کا انکار کرنے سے حقائق بدل جاتے ہیں؟ کیا مذہب انسانیت سے بڑھ کر ہوتا ہے؟

ایک انسان اپنی سچائی کے خمار میں اس قدر بدمست کیسے ہو سکتا ہے کہ اسے اپنے سچ کے آگے دنیا بھر کی سچائیاں جھوٹ یا ہیچ لگنے لگیں؟ یہ اطمینان کا کون سا درجہ ہے کہ محض اپنے سچ کے تحفظ کی خاطر آپ دوسروں کی بلا خوف و خطر جان لے لیں اور پشیماں بھی نہ ہوں؟ خود کو کامل و اکمل اور ہر لحاظ سے برتر جاننے اور سمجھنے والا سپیرئیرٹی کمپلیکس کا شکار ہو جاتا ہے اور اپنے فکر و فلسفہ کے تحفظ کی خاطر دوسروں کی جان تک لینے کا جذبہ و جنون یا خمار ان کے ذہنوں میں جگہ بنا لیتا ہے؟

امن و آشتی کے دعویدار اس قدر سفاکیت اور بربریت پر کیسے اتر سکتے ہیں؟
کچھ عرصہ پہلے تلمبہ میں ایک ذہنی مریض مشتاق احمد جس کے نفسیاتی علاج کی ایک طویل ہسٹری بھی موجود تھی کو ہجوم نے دھر لیا اور بلاسفیمی کے الزام میں اسے قتل کر کے درخت پر لٹکا دیا تھا۔ مشال خان کا دردناک واقعہ جسے بھلانا بھی چاہیں تو نہیں بھلایا جا سکتا، اس کے بوڑھے باپ کا صبر، بہن کی چیخیں اور ماں کا لاش کے ٹکڑوں کو دیکھ کر یہ کہنا کہ ” کہ ظالموں نے میرے لال کے وجود کا کوئی حصہ بھی سلامت نہیں چھوڑا“ یہ درد بھلا کہاں چین لینے دیتا ہے؟

سوال پیدا ہوتا ہے کہ دنیا بھر میں اتنے سارے اسلامی ممالک ہیں آخر وہاں اس قسم کے واقعات رونما کیوں نہیں ہوتے؟ ہماری سرزمین بربریت کے لیے اتنی زرخیز کیوں ہے؟

لنچنگ کرنے والے ہجوم میں معمولی درجے کے غریب غرباء ہی کیوں پائے جاتے ہیں؟ آخر یہ جذباتی مٹیریل کہاں سے آتا ہے؟ اور کون ان کو اکساتا ہے، اس جذباتی مٹیریل کو ایندھن میں کون تبدیل کرتا ہے؟ اس میٹریل کے ذہن سازوں کا مقتدرہ کو بڑے اچھے سے پتا ہے لیکن وہ خود ان کے سامنے بے بس ہو چکے ہیں۔
لیکن یاد رکھیں کہ اس آگ میں سب جلیں گے کوئی محفوظ نہیں رہے گا۔ جب آگ بھڑکتی ہے تو کسی کو بھی نہیں چھوڑتی۔

Facebook Comments HS