ایک جھیل کی کہانی


اس جھیل کی کوئی کہانی نہیں۔ اس پہ کوئی پری نہانے آتی ہے نہ اس پہ کوئی دیو پہرہ دیتا ہے۔ اس جھیل سے کوئی رومان وابستہ ہے۔ نہ ہی کسی لشکر کے پڑاؤ کا کوئی تذکرہ۔ ہاں مگر یہ جھیل خود ایک کہانی ہے۔ ایک ایسی کہانی جس میں جانے کتنی آہیں، کتنی چیخیں، کتنی ہی سسکیاں دفن ہیں۔ کتنے ہی ارمان، امیدیں، ارادے اور کتنی ہی خواہشیں اس کی تہہ میں بیٹھ چکی ہیں۔ یہ جھیل ان آنکھوں سے بھی زیادہ حسین ہے، جن پر شعر کہے جاتے ہیں۔

ایک جانب جنگل کا سبزہ باہیں پھیلائے کھڑا ہے۔ تو دوسری جانب سفیدی مائل ریت کے گبھرو اور جوان ٹیلے اپنی ننگی پیٹھ کیے بیٹھے ہیں۔ بیچ میں ان دونوں کے رنگوں کا امتزاج یوں ہچکولے لے رہا ہے جیسے اپنے آپ میں گم کوئی خود پسند حسینہ کسی آرام کرسی پر بیٹھی ہوئی ہو۔ روشنی کے ساتھ ساتھ رنگ بدلتا اس جھیل کا پرسکون پانی جب یہاں تک پہنچنے کا سفر کر رہا تھا تو اتنا حسین تھوڑی تھا۔ اس پر سیاہی مائل گہرے مٹیالے رنگ کی ایسی وحشت چھائی ہوئی تھی کہ اللہ کی پناہ۔

اور آواز۔ اپنے رنگ سے بھی بڑھ کر وحشت ناک۔ کہاں وہ مترنم آبشار اور جھرنوں والا پانی۔ اور کہاں یہ دہشت ناک پانی۔ یہ پانی جن بادلوں سے برسا تھا وہ بھی کسی دیو کی طرح کالے اور غضبناک تھے۔ یہ جب سامنے کے پہاڑ سے پھسل کر اتر رہا تھا، تب بھی میں نے دیکھا تھا۔ کسی بدمست سنگدل لشکر کی طرح اپنی زد میں آنے والے جنگل، میدان، کھیت، کھلیان، بازار، دکان، گھر اور سائبان کو روندتے ہوئے اپنی جنم بھومی یعنی سمندر کی طرف ملنے کے لئے دوڑ پڑا تھا۔ جیسے اس بات کا غصہ تھا کہ اسے وہاں سے کیوں نکالا گیا؟ لیکن یہاں سرہندہ کے مقام پر پہنچا تو اس کا مقابلہ ریت کے انہی گبھرو ٹیلوں سے ہوا۔ بس کچھ قدم کے فاصلے پر وہ اپنی جنم بھومی یعنی سمندر سے وصال کی جنگ ہار گیا۔ اس کی ساری وحشت اس میدان میں ڈھیر ہو کر گر پڑی۔ کون کہتا ہے کہ ریت کی دیوار مضبوط نہیں ہوتی۔ ریت کے یہ ٹیلے سمندر کو زمین کے ایک سیم زدہ ٹکڑے سے الگ کرتے ہیں۔ جس پہ اس وقت یہ جھیل بنی ہوئی ہے۔
اس کے بعد جنگل ہے۔ جس کے بیچ سے کراچی سے کوئٹہ جانے والی سڑک گزرتی ہے۔ یہ جنگل دوسری جانب اتنی دور تک جاتا ہے کہ ہانپتے ہانپتے ایک سرمئی پہاڑ کے قدم چھو کر وہیں سستانے لگتا ہے۔ اس کے کچھ منچلے درخت البتہ پہاڑ پہ چڑھ کر شیطانیاں کرتے نظر آتے ہیں۔ جنگل کے دامن میں بلوچستان کا سب سے بڑے ضلع لسبیلہ کا شہر اوتھل آباد ہے۔ ریت کے یہ ٹیلے کہ جن کی مضبوط پشت نے حد نگاہ تک پھیلے ہوئے سیلابی پانی کو روک رکھا ہے۔ دوسری جانب ان کے سینے پہ مچھیروں کی ایک بستی سر رکھے کئی صدیوں سے لیٹی ہوئی ہے۔ جس کا نام ”بڑہ“ ہے۔ یہ بستی نشیب میں سے اترتی ہوئی ان کشتیوں کے پاس آ کر ختم ہوتی ہے جو سمندر کے کنارے دم لینے کو یہاں آن ٹھہرتی ہے۔ ان گھروں کے دروازے نہیں ہیں۔ ہاں مگر چھت اور دیواریں لکڑی کی بنی ہوئی ہیں۔ اور ان کے صحن ان جالوں سے بنے ہوئے ہیں جو مچھلیاں پکڑ پکڑ کر بوڑھے ہو جاتے ہیں تو پھر ان سے گھر کی نگہبانی کا کام لیا جا رہا ہے۔
ویسے ہی جیسے کوئی بوڑھا گھر کی دہلیز پار کرتا ہے تو مکین خود کو محفوظ سمجھتے ہیں۔ وہ بوڑھا کوئی دیوار نہیں ہوتا۔ بس ایک لکیر ہوتا ہے۔ جس کی بزرگی کا کوئی چور احترام نہ کرے تو چار دیواری کا تقدس پامال ہونے پر اس کا زور بازو اسے نہیں بچا سکتا۔ یہ جال بھی ویسے ہی چار دیواریاں ہیں۔ تقدس اور احترام کی لکیریں۔ بستیوں میں پردے کی یہی روش ہوتی ہے۔ جب تک کسی مسجد کے لاؤڈ اسپیکر سے پردے کی کسی نئی روایت کا فتویٰ جاری نہ ہو۔
لکڑی کی یہ دیواریں گھر کے مکینوں اور اردگرد کے ہمسایوں کے لئے کینوس کا کام بھی دیتی ہیں۔ جس کا دل چاہے ان پر خطاطی اور مصوری کی ٹھرک مٹا سکتا ہے۔ اس لئے وہ بستی مل ملا کر خود ایک abstract painting کی صورت میں جیسے آویزاں ہو گئی ہو۔ معلوم نہیں بارشوں نے اس کینوس کو بھی کتنا دھو ڈالا ہو گا۔ میں نے بہت عرصے سے جا کر نہیں دیکھا۔ اس لئے کہ وہاں تک جانے والی بیچاری سڑک بھی اس جھیل کے پیٹ میں چلی گئی ہے، جس کا پانی کئی سڑکوں اور پلوں کو مسمار کر کے یہاں تک پہنچا۔
اس بستی کے پہلو میں ایک اور بزرگ بھی آنکھیں موندھے دم سادھے نجانے کتنی صدیوں سے ایک مزار کی صورت میں بیٹھا ہوا ہے۔ جس کا نام حاجی پیر ہے۔ جھیل نے زائرین کا زمینی راستہ کاٹ دیا تو کنارے پر کشتیاں آ کر کھڑی ہو گئیں۔ انہی میں سے ایک کشتی ناخدا حیات کی ہے۔ حیات 65 سال تک سمندر کے سینے پر اچھل کود کرنے کے بعد ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہا تھا۔ اس لئے نہیں کہ اس کے بازوؤں میں جال ڈالنے کا دم نہیں رہا تھا بلکہ اس لئے کہ وہ اب اس ظلم کا حصہ نہیں بننا چاہتا تھا جو سمندر میں غیر قانونی ٹرالنگ کی صورت میں ہو رہا تھا۔ باہر کے ٹرالر کسی قزاق کی طرح ممنوعہ جالوں سے سمندر کی گود اجاڑنے میں لگے ہوئے تھے۔ جو حیات سے کسی صورت برداشت نہیں ہوا۔ اس لئے وہ چھوڑ آیا، لیکن سمندر سے نکل کر سمندر کے اس بیٹے کو گھر کی مٹی بھی سمندری نمک کی طرح چاٹ رہی تھی۔ اس سے پہلے کہ وہ بھی گھر والوں کو کاٹنے لگتا۔ یہ جھیل بن گئی۔ اور حیات کو کم سے کم ٹہلنے کے لئے ایک میدان مل گیا۔
میں بھی کبھی کبھی حیات کے ساتھ اس کی چھوٹی سی کشتی میں اس نئی نویلی جھیل کی سطح پہ ٹہلنے نکلتا ہوں۔ جس کو میری طرح اور بہت سارے لوگ دیکھنے کے لئے آتے ہیں۔ حیات وقت گزاری کے لئے ایک چھوٹا سا جال بھی ڈال دیتا ہے۔ جس میں کبھی کبھی مچھلیوں کے ساتھ کوئی ایسی چیز بھی نکل آتی ہے جو اس جھیل کے خوبصورت چہرے کے لئے دھبہ بن جاتی ہے۔ تب اس کا سکوت ایک خونخوار سی چنگھاڑ بن کر مجھے ان دنوں کی یاد دلاتا ہے جب لسبیلہ میں سیلاب کا پانی لٹھ لے کر دوڑ رہا تھا۔ میدانوں، جنگلوں، بازاروں گلی کوچوں اور ان کے اندر بنے گھروں میں لوگ چیختے ہوئے جان بچانے کے لئے بھاگ رہے تھے۔ اپنے سنوارے ہوئے گھر، اپنے پالے ہوئے جانور اور اپنی بھری ہوئی دکانیں چھوڑ کر۔ اس بھگدڑ میں جو کمزور نکلا وہ لٹھ کی لپیٹ میں آ گیا۔ بقول حیات کے اس جھیل میں اب بھی نجانے کتنی لاشیں ہیں۔ اور اس کے بعد حیات کی آواز رندھ جاتی ہے۔ ایک جانب سفید ریت اور دوسری جانب سبز جنگل کے بیچ میں ہچکولے کھاتی ہوئی یہ جھیل جب شام کی گود میں اپنا سر رکھتی ہے تو اتنے رنگ بدلتی ہے کہ ہر رنگ دل کش ہوتا ہے۔ اور اگر سورج کی روشنی چاندنی کی صورت میں دوسری جانب سے طلوع ہو جائے تو روشنی اور نور کا ایسا امتزاج بنتا ہے کہ اس جھیل میں ڈوب جانے کو دل کرتا ہے۔
سرہندہ جھیل کو دیکھ کر پتہ نہیں کیوں ایک کافرانہ سا خیال میرے دل میں ہچکولے کھاتا ہے۔ کہ کیا قدرت کے ہر خوبصورت منظر کے پیچھے اتنی ہی بے نیازی کارفرما ہوتی ہے۔ ایسے ہی سنگدل سیلاب، زلزلے اور قدرتی آفات ان دلکش نظاروں کو جنم دیتے ہیں۔ لسبیلہ میں 2022 کے بعد وحشت ناک سیلابی پانی کے ریلے جس طرح سے تباہیاں مچا کر یہاں پہنچے اور اب رنگ بدل کر جس سکون سے یہاں لیٹے ہوئے ہیں اس سے تو یہی کافرانہ سوچ جنم لیتی ہے۔ میں کیا کروں۔!

Facebook Comments HS