نواز شریف اور یوم تکبیر


11 مئی 1998 ء کو اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف قازقستان کے دورہ پر تھے۔ الماتے قازقستان کا آب و ہوا کے لحاظ سے پاکستان کا مری ہے۔ 1997 تک یہ قازقستان کا دارالحکومت رہا ہے۔ کانفرنس کے اختتام پر نواز شریف مشاہد حسین کے ہمراہ الماتے کی ٹھنڈی ہواؤں سے لطف اندوز ہو رہے تھے کہ انہیں پیغام ملا کہ ان کا ملٹری سیکریٹری بار بار فون کر رہا ہے اور ان سے اہم بات کرنا چاہتا ہے۔ موبائل فون کی سہولت نہ ہونے کے باعث دیر سے رابطہ ہوا جوں ہی انہیں معلوم ہوا بھارت ایٹمی دھماکے کر کے ایٹمی کلب کا رکن بن گیا ہے تو نواز شریف نے فوری طور پر الماتے سے آستانہ پہنچنے کا فیصلہ کیا انہوں نے دفاع پاکستان کو ناقابل تسخیر بنانے کے لئے اسی وقت بھارت کے ایٹمی دھماکوں کا دو ٹوک جواب دینے کا فیصلہ چند گھنٹوں میں کر لیا کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ اگر پاکستان نے اپنی ایٹمی قوت کا کھلے عام اظہار کرنے میں ذرا بھی تاخیر کی تو پھر اسے کبھی بھی نہ موقع مل سکے گا۔

یہ نواز شریف ہی جرات مند اور بہادر لیڈر تھے جنہوں نے عالمی دباؤ قبول نہ کیا کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ پاکستان نے ایٹمی دھماکے نہ کیے تو خطے میں بھارت کی عسکری بالا دستی قائم ہو جائے گی اور پھر پاکستان بھارت کے سامنے کبھی سر اٹھا کر کھڑا نہ ہو سکے گا۔ الماتے میں مشاہد حسین سید نے نواز شریف کو کڑاکے نکال دینے کا مشورہ دیا نواز شریف نے وطن واپسی سے قبل اسی دن قازقستان سے چیف آف آرمی سٹاف جہانگیر کرامت اور دیگر حکام کو کم از کم وقت 17 ایام میں ایٹمی دھماکے کرنے کا ٹاسک دے دیا پھر پوری دنیا نے دیکھا 28 مئی 1998 ء کی سہ پہر سوا تین بجے ایٹمی دھماکوں سے چاغی کا پہاڑ سرمئی رنگ میں تبدیل ہو گیا ایٹمی دھماکوں کی گونج پوری دنیا کے ایٹمی توانائی کے مراکز میں سنی گئی امریکہ سے لے کر بھارت تک کے ایٹمی توانائی کے مراکز نے پاکستان کے دنیا کی ساتویں ایٹمی قوت بننے کی تصدیق کر دی امریکہ دنیا کی پہلی سپر طاقت تھی جس نے ایٹمی قوت بننے کے جرم میں پاکستان کے خلاف پابندیاں عائد کر دیں امریکی صدر کلنٹن کی پانچ ٹیلی فون کالز خاطر میں نہ لاتے ہوئے نواز شریف نے بھارت کے 5 ایٹمی دھماکوں کے مقابلے 6 ایٹمی دھماکے کر کے اپنی تکنیکی برتری بھی ثابت کر دی میں ان چند اخبار نویسوں میں شامل ہوں جنہیں چاغی پہاڑ کو دیکھنے کا موقع ملا ہے۔

جہاں ایٹمی تجربہ (ہارڈ ٹیسٹ) کیا گیا یہ انتہائی خطرناک تجربہ تھا۔ ناکامی کی صورت میں پورا خطہ تباہی کا شکار ہو سکتا تھا۔ میں چاغی پہاڑ کا ٹکڑا اپنے ساتھ اٹھا کر لانے لگا تو پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن کے سائنس دانوں نے اس پر ایٹمی تابکاری کے اثرات زائل کر کے مجھے بھجوا دیا جو اب بھی میرے پاس محفوظ ہے۔

ہر سال 28 مئی ہمیں جہاں پاکستان کے ایٹمی قوت بننے کی یاد دلاتا ہے۔ وہاں پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے والے کرداروں کی تعظیم میں ہمارے سر جھک جاتے ہیں۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا خواب ذوالفقار علی بھٹو نے دیکھا لیکن انہیں اس جرم کی سزا موت کی صورت میں دی گئی جنرل ضیا الحق نے کمال راز داری سے ایٹمی پروگرام کو جاری رکھا اور امریکہ کی تمام تر توجہ افغان جنگ پر مرکوز رکھی ڈاکٹر عبد القدیر خان نے 1984 میں کولڈ ٹیسٹ کر کے پاکستان کے ایٹمی قوت بننے کی نوید سنا دی تھی لیکن جنرل ضیا الحق سمیت کسی حکمران عالمی استعمار کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ایٹمی دھماکہ کرنے کی جرات نہیں ہوئی لیکن جب بھارت نے 11 مئی 1998 کو ایٹمی دھماکے کر دیے ہیں تو پاکستان کو بھی بھارت کے جواب میں ایٹمی دھماکے کرنے کا حوصلہ پیدا ہو گیا اتنا بڑا فیصلہ صرف نواز شریف جیسا جرات مند اور بہادر لیڈر ہی کر سکتا تھا جب ایٹمی دھماکے کرنے کا فیصلہ ہوا تو راجہ محمد ظفر الحق ہی تھے جنہوں نے بھرپور انداز میں ایٹمی دھماکہ کرنے کی حمایت گوہر ایوب نے ان کے موقف کی تائید کی جب کہ بیشتر وزراء نے خاموشی اختیار کیے رکھی تاہم مجموعی طور پر نواز شریف کے قریبی ساتھیوں نے انہیں ایٹمی دھماکے کرنے کے منفی اثرات سے ڈرایا دھمکایا لیکن نواز شریف نے نتائج کی پروا کیے بغیر ایٹمی دھماکے کرنے کا فیصلہ کر لیا اور کسی سپر پاور کی دھمکی کی پروا نہیں کی۔

27 مئی 1998 ء میری زندگی کا اہم دن ہے۔ ڈاکٹر اے کیو خان لیبارٹریز سے پیغام آیا کہ ڈاکٹر اے کیو خان یاد کر رہے ہیں۔ میں ڈیفنس رپورٹر سہیل عبدالناصر کے ہمراہ ڈاکٹر اے کیو خان کے آفس میں پہنچا میں نے ڈاکٹر عبد القدیر خان کو پہلی بار اتنا پریشان دیکھا انہوں نے انکشاف کیا کہ کل ( 28 مئی ) سہ پہر پاکستان ایٹمی دھماکے کر نے جا رہا ہے لیکن ایٹمی توانائی کمیشن میں بیٹھے کچھ لوگ ان سے ایٹم بم بنانے کا کریڈٹ چھیننے کے لئے انہیں دھماکے کے وقت چاغی پہاڑ سے دور رکھنا چاہتے ہیں۔ اس لئے انہیں چاغی جانے کے لئے ہوائی جہاز فراہم نہیں کیا جا رہا لیکن اس دوران ڈاکٹر خان کو اطلاع موصول ہو گئی کہ انہیں چاغی لے جانے لئے جہاز کا انتظام ہو گیا ہے۔

نواز شریف حکومت نے قوم کے ذہنوں میں ایٹمی قوت کے تصور اجاگر رکھنے کے لئے اسلام آباد سمیت مختلف شہروں میں چاغی پہاڑ کے کے ماڈل نصب کیے ایک بڑا ماڈل فیض آباد میں نصب کیا گیا جو پاکستان کی عسکری قوت کی علامت کا اظہار تھا۔ یہ ماڈل کچھ ممالک کی آنکھوں میں چبھتا تھا۔ لہذا یہ ماڈل اسلام آباد ہائی وے کی کشادگی کی بھینٹ چڑھ گیا اب یہ ماڈل فاطمہ جناح پارک کی زینت بنا دیا گیا ہے۔ نواز شریف حکومت نے 28 مئی 1998 ء کو ایٹمی قوت بننے کے تاریخ ساز دن کو ہر سال منانے کے اس کا نام تجویز کرنے کے لئے قومی سطح پر مقابلہ کرایا تو یوم تکبیر کا نام تجویز کرنے پر محترمہ زہرہ جبیں کو سند اعزاز عطا کی۔

1984 ء میں چاغی کے پہاڑ میں ایٹمی دھماکہ کرنے لئے سرنگ تیار کر دی گئی کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی۔ پاکستان کے ایٹمی دھماکوں کا کریڈٹ حاصل کرنے کی بات وہ لوگ بھی کرتے ہیں جو دھماکے روز ایٹمی تبا کاریوں کے خوف سے پاکستان سے دوبئی بھاگ گئے تھے۔ اس وقت کے آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت سمیت کئی مسلم لیگی لیڈروں نے نواز شریف کو ایٹمی دھماکوں کے بعد کی صورت حال کی سنگینی سے ڈرایا تھا جنرل جہانگیر کرامت نے نوا شریف سے کہا کہ ایٹمی دھماکوں کے نفع نقصان کو دیکھ لیں بہر حال فوج آپ کے فیصلہ کے ساتھ کھڑی ہو گی۔

نواز شریف کی قوت فیصلہ انتہائی مضبوط تھی جب ایک بار انہوں انہوں نے ایٹمی دھماکے کرنے کا فیصلہ کر لیا تو پھر کوئی بین الاقوامی دباؤ قبول نہ کیا پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن نے اپنی بساط کے تحت ایٹم بم بنائے میں اپنا رول ادا کیا وہاں پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے میں ڈاکٹر عبد القدیر خان نے انہوں نے پوری زندی پاکستان کے ایٹمی پرو گرام کے لئے وقف کر دی اور پوری زندگی ہل رو اسلام آباد میں رہائش گاہ (جو عملاً قید خانہ تھا۔ ) میں گزار دی حفاظت کے نام پر ان کی آزادی کا حق چھین لیا گیا (جاری ہے۔ ) ۔

 

Facebook Comments HS