ایک بھولی بسری محبت کی کہانی


یہ ایک سرد اور خاموش شام تھی۔ احمد اور اس کی بیوی، سارہ، آفس کے سالانہ ڈنر کے لیے تیار ہو رہے تھے۔ احمد کی ماں، جو زندگی کے طویل سفر سے تھکی ہوئی تھی، ایک کونے میں بیٹھی اپنے گھٹنوں کے درد سے کراہ رہی تھی۔ ”بیٹا، میری پین کلرز اور درد کی کریم نہیں مل رہیں اور میرے گھٹنوں میں کئی دنوں سے شدید درد ہو رہا ہے،“ اس نے نقاہت بھری آواز میں کہا۔

احمد نے گھڑی کی طرف دیکھا اور جواب دیا، ”ماں، ہمیں دیر ہو رہی ہے، میں کل صبح دیکھوں گا۔“ اس کی نظریں دروازے کی طرف تھیں، جیسے وہ فرار کی راہ ڈھونڈ رہا ہو۔

سارہ، جو آئینے کے سامنے کھڑی اپنا میک اپ درست کر رہی تھی، نے قدرے نرم لہجے میں کہا، ”امی، بچوں کے لیے کھانا بنایا ہوا ہے۔ آپ انہیں کھلا دیں، اور سلا دیں۔ کل میں اسکول یونیفارم تیار کروا دوں گی۔“

احمد نے کبھی یہ نہیں پہچانا کہ اس کی ماں نے اس کے لیے کتنی قربانیاں دی تھیں۔ وہ راتوں کو جاگ کر اس کی تیمارداری کرتی تھی، خود تکلیف میں رہ کر احمد کے سکون کا خیال رکھتی تھی۔ وہ اس کے ذرا سے درد سے بے چین ہوجاتی تھی، ہر روز اس کے پسندیدہ کھانے بناتی، اور اس کے خوابوں کو پورا کرنے کے لیے اپنی خواہشات کو قربان کر دیتی۔ مگر آج، احمد کی زندگی میں اس کی ماں کی جگہ صرف ایک بوجھ بنکر رہ گئی تھی۔

احمد کے بچپن میں اس کی ماں نے ہر دکھ اور مشکل کا سامنا کیا تھا۔ اس نے اپنے شوہر کی وفات کے بعد اکیلے ہی احمد کی پرورش کی تھی۔ احمد کو اعلیٰ تعلیم دلانے کے لیے اس نے دن رات محنت کی۔ جب احمد بیمار ہوتا، تو وہ ساری رات اس کے پاس بیٹھ کر دعائیں کرتی اور اس کی تیمارداری کرتی۔

سارہ، جو بظاہر بے حس لگتی تھی، خود بھی اندرونی پریشانیوں سے گزر رہی تھی۔ اس کی اپنے والد بھی بیمار تھے اور دور رہتے تھے۔ سارہ اپنے دل میں احمد کی ماں کے لیے ہمدردی محسوس کرتی تھی، مگر اپنی مصروفیات اور زندگی کی مشکلات میں اس کا اظہار نہیں کر پاتی تھی۔

اگلی صبح، احمد دفتر میں بیٹھا اپنے کام میں مصروف تھا کہ اچانک اس کی ماں کی باتیں یاد آئیں۔ اسے احساس ہوا کہ اس نے اپنی ماں کی کتنی قربانیوں کو نظرانداز کیا ہے۔ احمد پر ذمہ داریوں کا بوجھ دن بہ دن بڑھتا جا رہا تھا، بچوں کی بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ ان کے خرچ اور ان کے مستقبل کی فکر بھی بڑھ رہی تھی۔ احمد پر ذہنی دباؤ اور جسمانی تھکاوٹ طاری ہونے لگی تھی۔ اس نے جلدی سے گھر فون کیا، ”امی، آپ کی سی ہیں؟ میں آج جلدی گھر آؤں گا اور آپ کے ساتھ وقت گزاروں گا۔“

احمد کی ماں، جو شاید احمد سے یہ الفاظ سننے کی منتظر تھی، خوشی سے رونے لگی۔ احمد نے سارہ سے بھی بات کی اور دونوں نے مل کر فیصلہ کیا کہ وہ اپنے والدین کا زیادہ خیال رکھیں گے۔

مختلف ثقافتوں میں والدین کی دیکھ بھال

مغربی معاشروں میں، والدین کے لیے کیئر ہومز کا انتظام کیا جاتا ہے، جہاں انہیں ضروری دیکھ بھال ملتی ہے مگر وہ جذباتی طور پر تنہا رہ جاتے ہیں۔ مشرقی معاشروں میں، جہاں کبھی والدین کو سب سے زیادہ احترام دیا جاتا تھا، اب وہاں بھی والدین کی اہمیت کم ہوتی جا رہی ہے۔ مگر کچھ گھرانے اب بھی والدین کو سب سے زیادہ عزت دیتے ہیں اور ان کی خدمت کو اپنا فرض سمجھتے ہیں۔

والدین کا عالمی دن

ہر سال جون کی پہلی تاریخ کو والدین کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ یہ دن ہمیں یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم اپنے والدین کی محبت اور محنت کو سراہیں۔ مگر کیا ہم واقعی اپنے والدین کی قربانیوں کا اعتراف کرتے ہیں؟ ہمیں اپنے والدین کی قربانیوں کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ ہمیں ان کی محبت اور احترام کا حق ادا کرنا چاہیے، تاکہ وہ اپنی زندگی کے آخری دن سکون اور محبت کے ساتھ گزار سکیں۔

ہمیں اپنے والدین کی قربانیوں کو یاد رکھنا چاہیے اور ان کی محبت اور احترام کا حق ادا کرنا چاہیے۔ احمد کی کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اگر ہم اپنے والدین کی محبت اور قربانیوں کا احترام کریں، تو ہم ایک بہتر اور محبت بھری دنیا بنا سکتے ہیں۔

احمد نے اپنے رویے میں تبدیلی لائی اور اپنی ماں کے ساتھ وقت گزارنے لگا۔ سارہ نے بھی اپنی ساس سے بات کی اور ان کے تعلقات میں بہتری آئی۔ ان کی کہانی امید اور محبت کی ایک مثال بن گئی، جس نے ان کے بچوں کو بھی سکھایا کہ والدین کی عزت اور محبت کا کیا مطلب ہے۔

کیا حقیقت میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے؟ کیا آج کوئی احمد اپنی ماں کو یہ یقین دلا سکتا ہے کہ وہ بھی اس کے لیے اتنا ہی بیقرار ہے جتنا وہ اس کے لیے ہوا کرتی ہے؟ کیا آج کوئی سارہ ایک بیمار ساس کو ماں کا درجہ دی سکتی ہے؟ اگر ہاں تو پھر ہم بھی والدین کے عالمی دن پر سب والدین کو خوشی اور مسرت کا پیغام سناتے ہیں۔

Facebook Comments HS