نواز شریف کا متبادل کوئی نہیں


آج کی نوجوان نسل پاکستان کے ایٹم بم اور پاکستان کے ایٹمی قوت بننے کا اکثر مذاق اڑاتی ہے۔ شاید ان کو معلوم نہیں کہ پاکستان نے کن حالات میں ایٹم بم بنایا اور کس قسم کی عالمی دھمکیوں کے حصار میں ایٹمی دھماکے کیے۔ ایٹم بم بنانے کا پروگرام شروع کرنے والے ذوالفقار بھٹو اور ڈاکٹر قدیر تو آج زندہ نہیں ہیں لیکن نواز شریف زندہ ہیں ان سے پوچھیں کہ پاکستان نے ایٹم بم کیسے بنایا اور کن حالات میں ایٹمی دھماکے کیے۔

آپ کو حقیقت معلوم ہو جائے گی کہ پاکستان کے لیے ایٹمی قوت بننا ہمالیہ کی چوٹی سر کرنے کے مترادف تھا۔ نواز شریف آج بلا وجہ نہیں سینہ تان کر کہتے کہ میں نے امریکہ کی پانچ ارب ڈالر کی آفر ٹھکرائی اور عالمی پابندیاں لگانے کی دھمکیوں کو بھی خاطر میں نہیں لائے۔ کچھ لوگوں کی نظر میں نواز شریف کی باتیں سیاسی پوائنٹس سکورنگ ہیں لیکن اس کا اندازہ صرف نواز شریف کو ہی ہے کہ انہوں نے کس قسم کے عالمی دباؤ کے باوجود بھارت کے پانچ ایٹمی دھماکوں کے مقابلے میں چھ دھماکے کیے۔

آج بھی پاکستان اسلامی دنیا کا واحد ملک ہے جو ایٹمی قوت کا حامل ہے۔ پاکستان کو ایٹمی قوت بنے 24 سال سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے اس کے باوجود بھی 54 اسلامی ممالک میں سے ایک بھی ملک ایٹم بم بنانے کی صلاحیت حاصل نہیں کر سکا۔ عالم اسلام میں آج بھی پاکستان کو جو برتری حاصل ہے اس کا کریڈٹ صرف نواز شریف کو جاتا ہے۔ ایٹم بم بنانے میں بہت سارے لوگوں کے قربانیاں اور جدوجہد شامل ہے لیکن یہ سہرا صرف نواز شریف کے ہی سر سجا۔

انہیں اللہ تعالی نے یہ جرات اور ہمت عطا فرمائی کہ وہ دنیا عالم کے دباؤ کو یکسر مسترد کرتے ہوئے ارض پاک کے تحفظ اور قوم کی شان اور سر بلندی کی خاطر ایٹمی دھماکے کریں۔ اگر نواز شریف کے دل میں کوئی لالچ ہوتا تو وہ امریکہ سے پانچ ارب ڈالر وصول کرتے اور پاکستان کو معاشی طور پر ایک سہارا مل جاتا لیکن دوسری جانب ہمیشہ کے لیے نواز شریف قوم کی نظروں میں گر جاتے لیکن نواز شریف نے تمام دباؤ اور آفرز کو سائیڈ پر رکھ کر پاکستانی قوم کا سر فخر سے بلند کیا۔

پاکستان ایٹمی قوت بن گیا بھارت کے مقابلے میں پاکستان کا ہاتھ نیچے سے اوپر آ گیا۔ ان حالات میں بھی نواز شریف نے ایک بار پھر بھارت سے اچھے تعلقات قائم کرنے کے لیے پریکٹیکلی کام کر کے دکھا دیا۔ بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی خود چل کر لاہور آئے۔ مینار پاکستان پر اعلان لاہور کے نام سے ایک معاہدہ طے پایا۔ جس میں سر فہرست مسئلہ کشمیر کا پرامن حل تھا لیکن ایک طرف یہ سب کچھ نواز شریف ملک کے لیے کر رہا تھا دوسری طرف چار کا ٹولا نواز شریف کے خلاف ایک نئی سازش تیار کر رہا تھا۔

وہ سازش ناکام کارگل آپریشن کی صورت میں سامنے آئی اس آپریشن میں قوم کے کئی بیٹوں کی جانوں کے نذرانے پیش کیے گئے۔ خون جما دینے والی سردی میں قوم کے بیٹوں کو ان کے والدین کی نظروں سے پوشیدہ رکھ کر کارگل کی برف پوش پہاڑیوں میں بھیج دیا گیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان کو اپنے کئی بہادر بیٹوں کی قربانی دینی پڑی اور اس چار کے ٹولے کو ذلت اور رسوائی سے بچانے کے لیے پھر نواز شریف نے ہی قدم آگے بڑھایا اور امریکہ میں جا کر معاملات طے کر کے پرامن طریقے سے اپنے شہداء کی میتیں کارگل سے اٹھانے کا موقع اس چار کے ٹولے کو دیا۔

بدلے میں نواز شریف کو کیا ملا؟ ان کی حکومت کا پہلے تختہ الٹایا گیا پھر ان پر چار کے ٹولے کے سر گناہ کا طیارہ ہائی جیک کرنے کا مقدمہ بنایا گیا۔ اس مقدمے میں نواز شریف کو 27 سال کی سزا سنائی گئی۔ ہم اپنے محسنوں کے ساتھ یہ سلوک کرتے ہیں۔ نواز شریف آج اگر بار بار اپنے دکھ قوم کے ساتھ شیئر کر رہا ہے تو اس کی بھی بہت ساری وجوہات ہیں۔ نواز شریف نے پاکستان کو کیا نہیں دیا۔ پاکستان کو سب سے پہلی موٹروے نواز شریف نے دی، پاکستان کو سی پیک جیسا پروجیکٹ نواز شریف نے دیا، ایٹمی قوت نواز شریف نے بنایا، اس طرح کی درجنوں مثالیں ہیں جو میں آپ کو دے سکتا ہوں۔

مختصر مریم نواز ایک مخصوص فقرہ اکثر دہراتی ہیں کہ اگر نواز شریف کے پروجیکٹ نکال دیے جائیں تو پاکستان میں پیچھے صرف کھنڈرات ہی بچتے ہیں۔ نواز شریف کو اس ملک کی فوج، عدلیہ اور قوم سے بے شمار گلے شکوے ہیں۔ نواز شریف نے جتنا پاکستان کی فوج اور دفاع کو مضبوط کیا کسی اور وزیراعظم تو دور کسی فوجی حکمران نے بھی پاکستان کے دفاع کو اتنا مضبوط نہیں کیا جتنا نواز شریف نے کیا۔ پھر بھی نواز شریف کے ساتھ بار بار دھوکہ کیوں ہوتا ہے۔ اس کا جواب دینے والا کوئی بھی نہیں ہے اگر کوئی ہے تو کسی میں اتنی جرات نہیں ہے کہ وہ نواز شریف کا سامنا کر سکے۔ کل تک جو نواز شریف کے وظیفہ خوار تھے وہ بھی اب نواز شریف کے ہم پلہ لیڈر بننے کے دعوے کرتے ہیں۔ نواز شریف پاکستان میں ایک ہی ہے اس کا کوئی متبادل نہیں اور نہ ہی اس کی کوئی جگہ لے سکتا ہے۔

Facebook Comments HS