محمد حفیظ خان کا ناول : ہر ایک جنم کی جانما
حال ہی میں شائع ہونے والا محمد حفیظ خان کا ناول ”ہر ایک جنم کی جانما“ ایک تاریخی ناول ہے۔ اردو میں تاریخی ناول نگاری کی تاریخ اگرچہ پرانی ہے مگر ماضی قریب میں اس کا چلن ہمیں نسیم حجازی، ڈاکٹر وحید احمد (زینو) ، خوشونت سنگھ (ٹرین ٹو پاکستان) اور امرتا پریتم (پنجر) کے ہاں نظر آتا ہے۔ موجودہ دور میں اس روایت کو حفیظ خان نے زندہ رکھا ہوا ہے۔ اس سے قبل ان کا ناول ”انواسی“ تاریخی ہونے کے ساتھ ساتھ ادبی بُنت میں اپنی مثال آپ ہے۔
”ہر ایک جنم کی جانما“ کی کہانی کا تاریخی دورانیہ 1825 سے 1857 ہے۔ اس کا پلاٹ ریاست بہاولپور ہے۔ پلاٹ کے اہم مقامات بہاولپور (شہر) ، قلعہ ڈیراور، احمد پور (شرقیہ) ، اور ڈیرہ نواب ہیں۔ بانو قدسیہ کے ناول: ’راجہ گدھ‘ اور ترک لکھاری ایلف شفق کے ناول : ”دا فارٹی رُولز آف لَو“ کی طرز پر اس ناول میں بھی دو کہانیاں متوازی چلتی ہیں۔
پہلی کہانی ریاست کے تین نوابینِ بہاولپور کے عرصہ اقتدار کے دوران ان کے طرز حکمرانی، طرز زندگی اور محلاتی سازشوں کی رُوداد ہے۔ جس میں محلاتی زندگی کے بیچ نوابوں کے لیے قائم کردہ ’حرم‘ جس کو مقامی زبان میں ’کوٹ‘ کہا جاتا تھا، ناول کے پلاٹ کا اہم مقام ہے۔ مصنف نے اپنی یہ کتاب کوٹ کی انہی خواتین کے نام ان الفاظ میں منسوب کی ہے :
”نوابوں کے حرم میں ذلتوں کی اسیر ان باندیوں کے نام جن کا حسُن ہی ہر دور میں ان کی حرماں نصیبی کا سبب ہوا۔“ (صفحہ 2 ) ۔
کوٹ کا نقشہ ان الفاظ میں کھینچا گیا ہے :
”کوٹ میں گزر چکے نوابوں کے وقت سے اپنی مرضی سے موجود ادھیڑ عمر باندیوں کے علاوہ تین درجوں کی عورتیں موجود تھیں۔ پہلے درجے کی خواتین کی تعداد بہت تھوڑی تھی کہ جن سے نواب نے خلوتِ ثانی تو کی لیکن انھیں بیگمات کا درجہ نہ مل سکا۔ دوسرے درجے پر وہ خواتین تھیں کہ جن سے ایک بار خلوت ہوئی مگر دوسری کی نوبت نہ آ سکی۔ یہ تعداد میں زیادہ تھیں۔ جب کہ دس کے قریب ایسی دوشیزائیں تھیں جو نواب کی حیات کے آخری برسوں میں کوٹ میں داخل تو ہوئیں مگر مگر نہ تو خلوت سے فیض یاب ہوئیں اور نہ انہیں کبھی رُوبرو پیش کیا گیا۔“ (صفحہ 208 )
دوسری کہانی بہاولپور کی ایک دخترِ خوش گِل ’یاسمین‘ اور چولستانی روہیلہ نوجون ’ہوّت‘ کے افلاطونی عشق (فقط ایک بار دیکھا ہے ) کی رُوداد بیان کرتی ہے۔ یاسمین محبت تو ہوّت سے کرتی ہے مگر اس کا حُسن اور بد قسمتی دونوں مل کر اس کو نواب آف بہاولپور کے حرم (کوٹ) میں لے جاتے ہیں۔ کوٹ کے اندر یاسمین پر اور محل کی دنیا سے باہر اس کے عاشق پر کیا گزرتی ہے۔ یہ ایک خوبصورت رُومانوی داستان ہے۔
انسانی تہذیب کی تاریخ شاہد ہے کہ زرخیز زمینوں پر قبضے کر کے اپنی سلطنت کو وسعت دینا، لوٹ مار کے نتیجے میں ہاتھ آئی خوبصورت عورتوں کو اپنے حرم میں لانا اور ہیرے و جواہرات کے انبار لگانا طاقتور حکمرانوں کا شیوہ رہا ہے۔ ان تینوں کے حصول کے لیے جہاں فوجی یلغار، جنگ و جدل، اور سیاسی سازشیں بطور ہتھیار استعمال ہوئیں وہاں پر مذہب کا بھی بے دریغ استعمال کیا گیا۔ بالخصوص مسلم حکمرانوں کی تاریخ ہوسِ اقتدار میں اقرباء کے خون سے آلودہ ہے۔
بہاولپور کے نوابوں کو بھی اس سے استثنٰی نہیں تھا۔ جس سیاسی ماحول کی منظر کشی ناول میں کی گئی ہے اس زمانے میں برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی ہندوستان پر مکمل قبضے کے آخری مراحل میں داخل ہو چکی تھی۔ اس زمانے میں پنجاب پر مہاراجہ رنجیت سنگھ کی حکومت تھی۔ جب رنجیت سنگھ نے ریاست بہاولپور کے ساتھ کیے گئے معاہدے پر عمل نہ ہونے وجہ سے ریاست پر چڑھائی کرنے کا منصوبہ بنایا تو نواب بہاول خان سوئم نے انگریزوں سے مدد مانگی۔
گورا صاب نے کمک تو دے دی مگر ساتھ ساتھ کچھ ایسی شرائط رکھ دیں جن پر عمل درآمد سے ریاست کی خود مختاری پر سمجھوتہ ہو گیا۔ انگریزوں کی بے جا مداخلت ولی عہد حاجی خان کو قبول نہیں تھی۔ ایسا معلوم ہونے پر انگریز سرکار کی پرزور ایما ءپر ولی عہد کو معزول کر کے قید میں ڈال دیا گیا جب کہ دوسری بیگم کے رحم سے پیدا ہوئے بیٹے کو ولی عہد بنا دیا گیا۔ مگر ریاست کے جنوبی حصے کے رؤسا اور امرا جو انگریزوں کے مخالف تھے، نے معزول ولی کے ساتھ مل کر نواب کے خلاف ریشہ دوانیاں شروع کر دیں۔
نواب اس دُکھ اور غم میں اس جہان سے کوچ کر گیا۔ نامزد ولی عہد سعادت یار خان نے عنان حکومت سنبھال لی مگر نہ تو اس کو جہاں بانی کا تجربہ تھا اور نہ دلچسپی۔ اس کا زیادہ وقت کوٹ میں گزرتا تھا۔ وہاں اس کو یاسمین پیش کی جاتی جس کے حسن کا گرویدہ ہو کر نواب اس سے شادی رچا لیتا ہے۔ آگے کیا ہوتا ہے۔ اس کے لیے ناول پڑھا جائے تو بہتر ہے۔
مصنف کی سرائیکی زبان پر مکمل دسترس ہے۔ وہ سرائیکی زبان کی اصطلاحات بہت مہارت اور خوبی سے استعمال کرتے ہیں۔ سرزمینِ وسیب کا بیٹا ہونے کے ناتے ان کا زبان و بیاں ’وسیب‘ کی ثقافت میں گندھا ہوا ہے۔ ان کے کردار اور ان کے نام بھی نہایت موزوں ہوتے ہیں۔ حتیٰ کہ ان کے استعارات بھی بہت دلچسپ اور پر ُمعنی ہوتے ہیں۔ اور بہت فطری محسوس ہوتے ہیں :
”روپیہ پیسہ وافر ہوا تو تو تنہائی کا عذاب کچھ زیادہ ہی محسوس ہونے لگا اس نے آخری بار ’رامتو‘ کی منت کی، وہ پھر بھی شہر آنے پر آمادہ نہ ہوئی تو اس نے شہر ہی میں ایک دو جگہ بات چلائی اور ایک دہلی دہلائی کم عمر لڑکی سے شادی کر لی۔ عاشقے کی زندگی میں نیا سورج طلُوع ہوا تھا۔ سب کچھ بدل بدلا سا، نواں نکور۔ حیرت تھی کہ کوئی عورت اتنی چٹی چٹور، اتنی خوُشبو دار اور لذیذ بھی ہو سکتی ہے کہ جیسے حسینہ تھی۔ بالکل اس کھیرنی کی طرح کا ذائقہ تھا کہ جسے اس کی ماں، پوہ ماگھ کی سرد راتوں میں کھانڈ اور کیوڑہ ڈال کر گائے کے ملائی والے دودھ میں بناتی اور ساری رات باہر چھکے میں لٹکا کر صُبح صُبح اسے کھانے کو دیتی۔“
مصنف کو بہاولپور ریاست کی تین سو سالہ تاریخ پر عبور حاصل ہے۔ ناول میں انہوں نے کردار اگرچہ فرضی استعمال کیے ہیں مگر تاریخی واقعات سچ پر مبنی ہیں۔ انگریزوں کی بلیک میلنگ اور ریاستوں کو نہایت شاطرانہ طریق سے اندرونی طور پر کمزور کر کے اپنا دستِ نگر بنانے کی اُنھوں نے رُوداد کو فطری انداز میں بیان کیا ہے۔
کہانی بہت روانی سے فطری انداز میں آگے بڑھتی ہے اور اختتام پذیر ہوتی ہے۔ مگر دو حوالوں سے ایک تشنگی سی رہ جاتی ہے۔ اوّل یہ کہ کچھ کرداروں کا انجام نامعلوم رہتا ہے جن میں سے ایک کردار ست بھرائی کا ہے۔ دوسرے یہ کہ کہانی کا انجام حفیظ خان کی دیگر کہانیوں کی طرح یہ کہانی بھی کسی خوشگوار موڑ پر اختتام پذیر نہیں ہوتی۔ اگرچہ سچ یہی ہے کہ اس زمانے میں زندگی دُکھوں بھری تھی مگر کوئی تو سُکھ اور سکون کا پہلو بھی ہوتا ہو گا۔ دو سو بہتر صفحات پڑھتے ہوئے قاری کچھ توقعات باندھ لیتا ہے کہ آخر میں کچھ اچھا ہو گا۔ بہر حال یہ مصنف کا طرز بیان ہے اور میں اس کا احترام کرتا ہوں۔
کتاب کی اشاعت کا معیار مایوُس کن ہے۔ کتاب کا کاغذ سب سے سستا، یعنی اخباری کاغذ ہے اور صفحے بچانے کے لیے نہ صرف فونٹ چھوٹا رکھا گیا ہے جو کتاب پڑھتے ہوئے آنکھوں پر بوجھ ڈالتا ہے، بلکہ یہ خیال بھی نہیں رکھا گیا کہ ہر باب نئے صفحے سے شروع کیا جائے۔ یعنی جس صفحے پر ایک باب ختم ہوا اسی صفحے سے دوسرا باب شروع ہو جاتا ہے۔ جو اشاعتی آداب کے منافی ہے۔ جب کہ دو سو بہتر صفحات پر مشتمل کتاب کی قیمت 1400 روپے رکھی گئی ہے جو عام قاری کی پہنچ سے باہر ہے۔
بد قسمتی سے پاکستان میں ہمارے اشاعت گھر ادب کے فروغ کی بجائے پیسہ بنانے کے کارخانے بن چکے ہیں۔ ان کے گھناؤنے کاروبار سب سے زیادہ متاثر مصنف ہوتا ہے جس کو اعزازیہ دینے کا کوئی رواج نہیں ہے۔ ہر بزنس مین کو پیسہ کمانے کا حق حاصل ہے کیونکہ وہ بزنس ہی اس لیے کرتا ہے۔ مگر پیسے کے لالچ میں اگر مصنفین کی حوصلہ افزائی نہیں ہوگی تو ادب کیسے تخلیق ہو گا۔ اگر صارفین کتاب خرید ہی نہیں سکیں گے تو ادب فروغ کیسے پائے گا؟
اس تناظر میں حکومتِ پاکستان کو چاہیے کہ وہ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کی طرز پر ’پبلشنگ ہاؤسز ریگولیٹری اتھارٹی‘ بنائے تاکہ ملک میں موجود اشاعت گھروں کے لیے بھی کوئی قاعدے اور ضوابط وضع کیے جائیں۔ مگر میں سلام پیش کرتا ہوں اپنے تخلیق کاروں کو، کہ وہ معاوضے کی پرواہ کیے بغیر ادب تخلیق کر رہے ہیں۔ محمد حفیظ خان کا ناول ہر ”ایک جنم کی جانما“ بلاشبہ اردو ادب میں ایک اہم اضافہ ہے۔ میں ان کی اس کاوش پر ان کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔


