چین عرب تعاون


چین عرب ممالک تعاون فورم (سی اے ایس سی ایف) 2004 میں چین اور عرب ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون، سیاسی مکالمے اور ثقافتی تبادلوں کو فروغ دینے کے لئے قائم کیا گیا تھا۔ فورم کا مقصد تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، انفراسٹرکچر، ٹیکنالوجی اور ثقافت جیسے مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانا ہے۔ یہ دونوں فریقوں کو مشترکہ چیلنجوں اور مواقع پر تبادلہ خیال کرنے، مضبوط تعلقات اور باہمی فوائد کو فروغ دینے کے لئے ایک پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔

سی اے ایس سی ایف چین اور عرب ریاستوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے، علاقائی اور عالمی استحکام اور ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس فورم نے نے حالیہ برسوں میں اہم سنگ میل حاصل کیے ہیں۔ جن میں چین اور عرب ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری میں اضافے کے ذریعے اقتصادی تعاون میں اضافہ شامل ہے۔ فورم نے بنیادی ڈھانچے کی ترقی، توانائی کے منصوبوں اور تکنیکی تبادلوں کو فروغ دینے کے لئے مختلف معاہدوں اور شراکت داریوں پر دستخط کرنے میں سہولت فراہم کی ہے اور ثقافتی تبادلوں اور لوگوں کے درمیان رابطوں کو فروغ دیا گیا ہے، جس سے دونوں خطوں کے درمیان گہری تفہیم اور دوستی کو فروغ ملا ہے۔ چین اور عرب ممالک کے درمیان تجارتی معاہدوں کی کچھ مخصوص مثالوں میں چین۔ مصر سوئز اقتصادی اور تجارتی تعاون زون، چین۔ متحدہ عرب امارات صنعتی صلاحیت تعاون زون، اور چین۔ سعودی عرب ہائی ٹیک انڈسٹریل پارک شامل ہیں۔

سال 2024 میں اس فورم کا وزارتی اجلاس چین کے دارالحکومت بیجنگ میں 30 مئی کو ہو رہا ہے۔ صدر شی جن پھنگ افتتاحی تقریب میں شرکت کریں گے اور چین عرب ممالک تعاون فورم کے 10 ویں وزارتی اجلاس میں کلیدی تقریر کریں گے، جو 2004 سے دو طرفہ تعلقات کو آگے بڑھانے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ اس فورم میں توقع ہے کہ 2024 میں چین عرب ممالک تعاون فورم میں اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے، سرمایہ کاری کے مواقعوں کو فروغ دینے اور تجارت، ٹیکنالوجی اور ثقافت جیسے مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

یہ چین اور عرب دونوں ریاستوں کو مشترکہ چیلنجوں اور مواقع پر تبادلہ خیال کرنے، باہمی فوائد اور علاقائی ترقی کو فروغ دینے کے لئے ایک پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔ فورم کا مقصد گزشتہ برسوں کی کامیابیوں کی تعمیر جاری رکھنا اور دونوں خطوں کے درمیان تعاون کی نئی راہیں تلاش کرنا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ توقع ہے کہ اس تقریب سے چین اور عرب تعلقات کی اعلی سطح کی راہ ہموار ہوگی اور اس سال فورم کی 20 ویں سالگرہ دو طرفہ تعاون کے لئے ایک نیا سنگ میل بن جائے گی۔

سنہ 2022 میں شی جن پنگ نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں عرب ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ پہلے چین عرب ممالک کے سربراہ اجلاس میں شرکت کی تھی، جس میں تعلقات کی ترقی کے لیے ایک جامع خاکہ تیار کیا گیا تھا۔ سعودی عرب میں چین کے سفیر چانگ ہوا نے حال ہی میں کہا ہے کہ گزشتہ سال کے اختتام سے قبل چین نے تمام 22 عرب ریاستوں اور لیگ آف عرب ریاستوں کے ساتھ مشترکہ طور پر بیلٹ اینڈ روڈ کی تعمیر پر دوطرفہ تعاون کی دستاویزات پر دستخط کیے ہیں۔ چین عرب تجارت کا سالانہ حجم 2004 میں 36.7 ارب ڈالر سے بڑھ کر گزشتہ سال 398.1 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔

انفرادی سطح پر بڑے ممالک کا چین کے ساتھ تجارتی حجم دیکھا جائے تو چین اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعاون حالیہ برسوں میں پھلا پھولا ہے، چین مسلسل متحدہ عرب امارات کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ 2023 ء میں دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارت کا مجموعی حجم تقریباً 95 ارب ڈالر تک پہنچا۔ چین اور متحدہ عرب امارات دونوں اپنے اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں اور تجارتی تبادلے کو 2030 تک 200 ارب ڈالر تک بڑھانا چاہتے ہیں۔ بین الاقوامی تجارت پر اقوام متحدہ کے ڈیٹا بیس کے مطابق، 2023 کے دوران سعودی عرب کو چین کی برآمدات 42.86 بلین امریکی ڈالر تھیں۔ مصر اور چین کے مابین تجارتی تبادلہ 2023 میں 15.7 بلین ڈالر تک پہنچا جس میں مصر کی چین کو برآمدات 881 ملین ڈالر ریکارڈ کی گئیں۔

چین مشرق وسطیٰ کی جغرافیائی سیاست میں ایک اہم اسٹیک ہولڈر ہے، جہاں زیادہ تر عرب ممالک ہیں، کیونکہ یہ خطہ پانچ اہم آبی گزرگاہوں کو جوڑتا ہے اس لئے تاریخ میں میدان جنگ رہا ہے اور قدیم شاہراہ ریشم پر چین اور یورپ کے درمیان پل کا کام کرتا رہا ہے۔ اپنی انتہائی اہم جغرافیائی حیثیت کی بدولت عرب خطہ چین اور امریکہ اور یورپ کے درمیان بفر بھی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں عربی تہذیب، چین کی کنفیوشس تہذیب اور یورپ اور امریکہ کی نمائندگی کرنے والی مغربی عیسائی تہذیب مل کر عالمی تہذیبوں کی عظیم مثلث کہلاتی ہے۔

ترقی پذیر دنیا اور غیر وابستہ تحریک کے ایک اہم حصے کی حیثیت سے، مشرق وسطی کے ممالک نے چین کی سفارت کاری اور کثیر الجہتی تعلقات کی ترقی میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے اور کر رہے ہیں۔ حالیہ برسوں میں چین اور عرب ممالک انسانی حقوق، بین الاقوامی تعلقات کی جمہوریت اور کثیر قطبی عالمی نظام کی تعمیر جیسے معاملات پر بہت سے اتفاق رائے پر پہنچے ہیں۔ جہاں تک چین کے بنیادی مفادات کی بات ہے تو مشرق وسطیٰ کے ممالک میں کتنے ہی اختلافات کیوں نہ ہوں، چار بڑے ممالک، ترکی، اسرائیل اور ایران نے ہمیشہ چین کے موقف کو سمجھا ہے اور اس کی حمایت کی ہے، جو اس خطے کو بین الاقوامی سطح پر چین کی بنیاد بناتا ہے۔

Facebook Comments HS